غاصب صہیونی رژیم کے ہاتھوں صحافیوں کے قتل میں امریکہ کا کردار

  Click to listen highlighted text! تحریر: علی احمدی حال ہی میں مقبوضہ فلسطین میں الجزیرہ نیوز چینل کی سینیئر خاتون صحافی جن کا اپنا تعلق فلسطین سے ہی تھا صہیونی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئی ہیں۔ ان کا نام شیرین ابوعاقلہ تھا اور وہ گذشتہ تقریباً چند عشروں سے صحافت کے پیشے سے وابستہ تھیں۔ شیرین ابوعاقلہ پہلی صحافی نہیں جو غاصب صہیونی فورسز کی جانب سے شہید کی گئی ہیں بلکہ گذشتہ چار عشروں میں اب تک تقریباً 80 کے قریب صحافی مقبوضہ فلسطین میں صہیونی فورسز کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔ سیاسی ماہرین کی نظر میں صہیونی رژیم کے اس مجرمانہ اقدام کی ایک بڑی وجہ اپنے غیر انسانی اقدامات اور مظلوم فلسطینی شہریوں کے خلاف ظلم و ستم پر پردہ ڈالنا ہے۔ مقبوضہ فلسطین میں غاصب صہیونی فورسز نے شیرین ابوعاقلہ کو شہید کرنے کے بعد ان کی نماز جنازہ کو بھی شدید جارحیت اور بربریت کا نشانہ بنایا ہے۔ شیرین ابوعاقلہ کی شہادت کے بعد ایک بار پھر رائے عامہ کی توجہ امریکی حکومت کی جانب مرکوز ہو گئی ہے جو ابتدا سے ہی غاصب صہیونی رژیم کی غیر مشروط حمایت اور مدد کرتی آئی ہے۔ اگرچہ خود امریکہ میں ہی غاصب صہیونی رژیم کے نسل پرستانہ اور مجرمانہ اقدامات کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے اور کئی حلقوں کی جانب سے امریکی حکومت پر صہیونی رژیم کی غیر مشروط مدد ختم کرنے کیلئے دباو بھی ڈالا جا رہا ہے لیکن امریکی حکومت اپنی پرانی ڈگر پر گامزن ہے۔ حتی بعض اوقات صہیونی رژیم کا غیر انسانی اقدام اس قدر واضح اور بھیانک ہوتا ہے کہ خود امریکی حکومت اس کی مذمت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے لیکن یہ صرف ظاہری حد تک ہوتا ہے اور صہیونی رژیم کی غیر مشروط حمایت اور مدد جوں کی توں باقی رہتی ہے۔ شیرین ابوعاقلہ کی شہادت کے بعد صہیونی فورسز کی جانب سے ان کی نماز جنازہ پر بھی جارحیت انجام دینے کا اقدام ایسی ہی ایک مثال ہے جس نے امریکی حکومت کو بھی اعتراض کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جمعہ 13 مئی کے دن امریکہ کی وزارت خارجہ نے شیرین ابوعاقلہ کی نماز جنازہ پر صہیونی فورسز کی یلغار کو “تشویش ناک” قرار دیا اور اس خاتون صحافی کے قتل کے بارے میں تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی مقبوضہ فلسطین میں صہیونی فورسز کے ہاتھوں اس خاتون صحافی کے قتل کی خبر سن کر اس کی تفصیلات سے لاعلمی کا اظہار کیا اور مذمت کرنے سے گریز کیا۔ امریکہ میں مقیم صہیونی مخالف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے تشویش کا اظہار کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور وہ بدستور اس ظالم رژیم کی مدد کرنے میں مصروف ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی کابینہ میں شامل سینیئر حکومتی عہدیدار بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو فراہم کی جانے والی سالانہ 3.8 ارب ڈالر پر مبنی مالی امداد میں نہ تو کوئی کمی لائیں گے اور نہ ہی اسے کسی چیز سے مشروط کریں گے۔ “عرب امریکن اینٹی ڈسکریمینیشن کمیٹی” نامی ادارے کی رکن جینان ڈنا اس بارے میں کہتی ہیں کہ شیرین ابوعاقلہ فلسطینی نژاد امریکی شہری تھیں اور وہ مقبوضہ فلسطین میں صہیونی فورسز کے ہاتھوں قتل ہونے والی دوسری امریکی صحافی ہیں۔ اس سے پہلے امریکی شہریت کے حامل 78 سالہ صحافی عمر اسد بھی جنوری میں مغربی کنارے میں صہیونی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد پراسرار انداز میں قتل کر دیے گئے تھے۔ یاد رہے خود جینان ڈنا بھی فلسطینی نژاد امریکی شہری ہیں۔ جینان ڈنا کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی جب اپنے اہلخانہ اور قریبی رشتہ داروں سے ملنے مقبوضہ فلسطین جاتی ہیں تو انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ان کی حکومت ان کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: “ہم امریکی شہری ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن ہم سے وصول کیا گیا ٹیکس ہمارے ہی اہلخانہ اور فلسطینیوں کے خلاف ان کی سرزمین پر ظلم و ستم کیلئے خرچ کیا جاتا ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر افراد اس سال فلسطین جانے سے خوفزدہ ہیں۔” جمعہ کے روز صہیونی فورسز نے شیرین ابوعاقلہ کی نماز جنازہ پر بھی رحم نہیں کیا اور اس میں شامل افراد کو جارحیت کا نشانہ بنایا۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلینکن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس واقعے کی ویڈیو دیکھی ہے اور اسے دیکھ کر انہیں شدید دکھ ہوا ہے۔ مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل نامی ناجائز ریاست کی تشکیل کے آغاز سے ہی امریکہ اس کا اصلی ترین اور اسٹریٹجک اتحادی رہا ہے۔ اسی طرح امریکی حکومت نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطی میں اسرائیل اس کا اصلی ترین اتحادی ملک ہے۔ ہر آنے والا امریکی صدر اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت اور مدد جاری رکھے گا۔ واشنگٹن میں امریکن عرب فاونڈیشن نامی تھنک ٹینک کی ڈائریکٹر مایا بیری اس بارے میں کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ میں ایک بے طرف اور منصف کھلاڑی نہیں ہے۔ انہوں نے الجزیرہ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا: “امریکی حکام نے اس ظلم و ستم میں مصروف اسرائیل کی بھرپور حمایت کا عہد کر رکھا ہے۔”

تحریر: علی احمدی

حال ہی میں مقبوضہ فلسطین میں الجزیرہ نیوز چینل کی سینیئر خاتون صحافی جن کا اپنا تعلق فلسطین سے ہی تھا صہیونی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئی ہیں۔ ان کا نام شیرین ابوعاقلہ تھا اور وہ گذشتہ تقریباً چند عشروں سے صحافت کے پیشے سے وابستہ تھیں۔ شیرین ابوعاقلہ پہلی صحافی نہیں جو غاصب صہیونی فورسز کی جانب سے شہید کی گئی ہیں بلکہ گذشتہ چار عشروں میں اب تک تقریباً 80 کے قریب صحافی مقبوضہ فلسطین میں صہیونی فورسز کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔ سیاسی ماہرین کی نظر میں صہیونی رژیم کے اس مجرمانہ اقدام کی ایک بڑی وجہ اپنے غیر انسانی اقدامات اور مظلوم فلسطینی شہریوں کے خلاف ظلم و ستم پر پردہ ڈالنا ہے۔ مقبوضہ فلسطین میں غاصب صہیونی فورسز نے شیرین ابوعاقلہ کو شہید کرنے کے بعد ان کی نماز جنازہ کو بھی شدید جارحیت اور بربریت کا نشانہ بنایا ہے۔

شیرین ابوعاقلہ کی شہادت کے بعد ایک بار پھر رائے عامہ کی توجہ امریکی حکومت کی جانب مرکوز ہو گئی ہے جو ابتدا سے ہی غاصب صہیونی رژیم کی غیر مشروط حمایت اور مدد کرتی آئی ہے۔ اگرچہ خود امریکہ میں ہی غاصب صہیونی رژیم کے نسل پرستانہ اور مجرمانہ اقدامات کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے اور کئی حلقوں کی جانب سے امریکی حکومت پر صہیونی رژیم کی غیر مشروط مدد ختم کرنے کیلئے دباو بھی ڈالا جا رہا ہے لیکن امریکی حکومت اپنی پرانی ڈگر پر گامزن ہے۔ حتی بعض اوقات صہیونی رژیم کا غیر انسانی اقدام اس قدر واضح اور بھیانک ہوتا ہے کہ خود امریکی حکومت اس کی مذمت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے لیکن یہ صرف ظاہری حد تک ہوتا ہے اور صہیونی رژیم کی غیر مشروط حمایت اور مدد جوں کی توں باقی رہتی ہے۔

شیرین ابوعاقلہ کی شہادت کے بعد صہیونی فورسز کی جانب سے ان کی نماز جنازہ پر بھی جارحیت انجام دینے کا اقدام ایسی ہی ایک مثال ہے جس نے امریکی حکومت کو بھی اعتراض کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جمعہ 13 مئی کے دن امریکہ کی وزارت خارجہ نے شیرین ابوعاقلہ کی نماز جنازہ پر صہیونی فورسز کی یلغار کو “تشویش ناک” قرار دیا اور اس خاتون صحافی کے قتل کے بارے میں تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی مقبوضہ فلسطین میں صہیونی فورسز کے ہاتھوں اس خاتون صحافی کے قتل کی خبر سن کر اس کی تفصیلات سے لاعلمی کا اظہار کیا اور مذمت کرنے سے گریز کیا۔ امریکہ میں مقیم صہیونی مخالف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے تشویش کا اظہار کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور وہ بدستور اس ظالم رژیم کی مدد کرنے میں مصروف ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی کابینہ میں شامل سینیئر حکومتی عہدیدار بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو فراہم کی جانے والی سالانہ 3.8 ارب ڈالر پر مبنی مالی امداد میں نہ تو کوئی کمی لائیں گے اور نہ ہی اسے کسی چیز سے مشروط کریں گے۔ “عرب امریکن اینٹی ڈسکریمینیشن کمیٹی” نامی ادارے کی رکن جینان ڈنا اس بارے میں کہتی ہیں کہ شیرین ابوعاقلہ فلسطینی نژاد امریکی شہری تھیں اور وہ مقبوضہ فلسطین میں صہیونی فورسز کے ہاتھوں قتل ہونے والی دوسری امریکی صحافی ہیں۔ اس سے پہلے امریکی شہریت کے حامل 78 سالہ صحافی عمر اسد بھی جنوری میں مغربی کنارے میں صہیونی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد پراسرار انداز میں قتل کر دیے گئے تھے۔ یاد رہے خود جینان ڈنا بھی فلسطینی نژاد امریکی شہری ہیں۔

جینان ڈنا کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی جب اپنے اہلخانہ اور قریبی رشتہ داروں سے ملنے مقبوضہ فلسطین جاتی ہیں تو انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ان کی حکومت ان کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: “ہم امریکی شہری ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن ہم سے وصول کیا گیا ٹیکس ہمارے ہی اہلخانہ اور فلسطینیوں کے خلاف ان کی سرزمین پر ظلم و ستم کیلئے خرچ کیا جاتا ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر افراد اس سال فلسطین جانے سے خوفزدہ ہیں۔” جمعہ کے روز صہیونی فورسز نے شیرین ابوعاقلہ کی نماز جنازہ پر بھی رحم نہیں کیا اور اس میں شامل افراد کو جارحیت کا نشانہ بنایا۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلینکن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس واقعے کی ویڈیو دیکھی ہے اور اسے دیکھ کر انہیں شدید دکھ ہوا ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل نامی ناجائز ریاست کی تشکیل کے آغاز سے ہی امریکہ اس کا اصلی ترین اور اسٹریٹجک اتحادی رہا ہے۔ اسی طرح امریکی حکومت نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطی میں اسرائیل اس کا اصلی ترین اتحادی ملک ہے۔ ہر آنے والا امریکی صدر اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت اور مدد جاری رکھے گا۔ واشنگٹن میں امریکن عرب فاونڈیشن نامی تھنک ٹینک کی ڈائریکٹر مایا بیری اس بارے میں کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ میں ایک بے طرف اور منصف کھلاڑی نہیں ہے۔ انہوں نے الجزیرہ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا: “امریکی حکام نے اس ظلم و ستم میں مصروف اسرائیل کی بھرپور حمایت کا عہد کر رکھا ہے۔”