واقعہ کربلا میں بچوں کا کردار

  Click to listen highlighted text! بچوں! 61 ہجری میں میدان کربلا میں رونما ہونے والا واقعہ اس لحاظ سے دنیا کی تاریخ میں اہمیت کا حامل ہے کہ یہ اپنی نوعیت میں بہت ہی سادہ مگر مفہوم اور معانی کے لحاظ سے بہت بھرپور واقعہ تھا۔واقعۂ کربلا جہاں بہت سے اور پہلوؤں کا حامل ہے وہاں اس کا یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ اس میں بچوں سے لے کر بوڑھوں تک اور مردو عورت سب نے حصہ لیا ہے جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔اس لحاظ سے یہ صرف ایک جنگ یا معرکہ نہیں تھا، کیونکہ جنگوں میں عام طور پر صرف فوجیں لڑتی ہیں جو مردوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ آپ کو بہت کم معرکے ایسے ملیں گے جن میں شیر خوار بچوں ، نونہالوں، بوڑھی خواتین یاضعیف افراد نے دشمن کی فوج سے مقابلہ کیا ہو۔حضرت امام حسین ؑ کے اصحاب باوفا میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے، ان میں وہ بچے بہت نمایاں ہیں جنہوں نے تین دن کی پیاس اور گرمی کی شدت کے باوجود میدان میں دشمن کے سپاہیوں سے مقابلہ کیا اور اپنے سے زیادہ کئی گنا طاقتور لوگوں کو قتل کرنے کے بعد جام شہادت نوش کیا۔امام حسن ؑ کے فرزند حضرت قاسم ؑ کی عمر13سال تھی، جنہوں نے اپنے جدامجد حضرت علی ؑ کی طرح شجاعت دکھائی، حضرت زینب (س) کے دو کم سن بیٹوں عون ؑ و محمد ؑ کی عمر اس سے بھی کم تھی جو بہادروں کی طرح لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔حضرت علی اصغر ؑ صرف چھ ماہ کے تھے جو امام حسین ؑ کی گود میں دشمن کے تیر لگنے سے شہید ہوئے، اسی طرح بعض اور بچوں کا بھی ذکر ملتا ہے جو کربلا میں شہید ہوئے تھے۔شہادت امام حسین ؑ کے بعد اہلبیت رسولؐ کے بچے اور خواتین کو، کوفہ اور شام اسیر کرکے لے جایا گیا، ان کے ساتھ حضرت امام زین العابدین ؑ تھے جو کربلا میں شدید بیمار رہے۔کوفہ و شام کے اسیروں نے مقصد شہادت امام حسین ؑ کی خوب تشہیر کی، اگر ان کی تبلیغ نہ ہوتی تو آج دنیا والے امام عالی مقام ؑ کی تحریک سے اتنا زیادہ واقف نہ ہوتے۔انقلاب کربلا کے اس مرحلے میں بھی بچوں نے بہت ہی موثر کردار ادا کیا، بلکہ یہ مرحلہ ہی بچوں کی تبلیغ کا مرحلہ تھا، چنانچہ یتیم، بے سہارا اور ظلم کے مارے کمزور بچوں کی حالت دیکھ کر جہاں جہاں سے اسیران کربلا کا قافلہ گزرا لوگوں کے دل میں حکومت وقت کے خلاف نفرت کے جذبات ابھرے اور لوگ اصل حقیقت سے آگاہ ہوگئے۔ان بچوں میں امام حسین ؑ کی چہیتی بیٹی حضرت سکینہ (س) کا نام زیادہ نمایاں ہے جو شام کی قید خانے میں مظلومیت کے عالم میں فوت ہوگئی تھیں، آپؑ کا مزار بھی دمشق میں ہے۔

بچوں! 61 ہجری میں میدان کربلا میں رونما ہونے والا واقعہ اس لحاظ سے دنیا کی تاریخ میں اہمیت کا حامل ہے کہ یہ اپنی نوعیت میں بہت ہی سادہ مگر مفہوم اور معانی کے لحاظ سے بہت بھرپور واقعہ تھا۔واقعۂ کربلا جہاں بہت سے اور پہلوؤں کا حامل ہے وہاں اس کا یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ اس میں بچوں سے لے کر بوڑھوں تک اور مردو عورت سب نے حصہ لیا ہے جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔اس لحاظ سے یہ صرف ایک جنگ یا معرکہ نہیں تھا، کیونکہ جنگوں میں عام طور پر صرف فوجیں لڑتی ہیں جو مردوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ آپ کو بہت کم معرکے ایسے ملیں گے جن میں شیر خوار بچوں ، نونہالوں، بوڑھی خواتین یاضعیف افراد نے دشمن کی فوج سے مقابلہ کیا ہو۔حضرت امام حسین ؑ کے اصحاب باوفا میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے، ان میں وہ بچے بہت نمایاں ہیں جنہوں نے تین دن کی پیاس اور گرمی کی شدت کے باوجود میدان میں دشمن کے سپاہیوں سے مقابلہ کیا اور اپنے سے زیادہ کئی گنا طاقتور لوگوں کو قتل کرنے کے بعد جام شہادت نوش کیا۔امام حسن ؑ کے فرزند حضرت قاسم ؑ کی عمر13سال تھی، جنہوں نے اپنے جدامجد حضرت علی ؑ کی طرح شجاعت دکھائی، حضرت زینب (س) کے دو کم سن بیٹوں عون ؑ و محمد ؑ کی عمر اس سے بھی کم تھی جو بہادروں کی طرح لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔حضرت علی اصغر ؑ صرف چھ ماہ کے تھے جو امام حسین ؑ کی گود میں دشمن کے تیر لگنے سے شہید ہوئے، اسی طرح بعض اور بچوں کا بھی ذکر ملتا ہے جو کربلا میں شہید ہوئے تھے۔شہادت امام حسین ؑ کے بعد اہلبیت رسولؐ کے بچے اور خواتین کو، کوفہ اور شام اسیر کرکے لے جایا گیا، ان کے ساتھ حضرت امام زین العابدین ؑ تھے جو کربلا میں شدید بیمار رہے۔کوفہ و شام کے اسیروں نے مقصد شہادت امام حسین ؑ کی خوب تشہیر کی، اگر ان کی تبلیغ نہ ہوتی تو آج دنیا والے امام عالی مقام ؑ کی تحریک سے اتنا زیادہ واقف نہ ہوتے۔انقلاب کربلا کے اس مرحلے میں بھی بچوں نے بہت ہی موثر کردار ادا کیا، بلکہ یہ مرحلہ ہی بچوں کی تبلیغ کا مرحلہ تھا، چنانچہ یتیم، بے سہارا اور ظلم کے مارے کمزور بچوں کی حالت دیکھ کر جہاں جہاں سے اسیران کربلا کا قافلہ گزرا لوگوں کے دل میں حکومت وقت کے خلاف نفرت کے جذبات ابھرے اور لوگ اصل حقیقت سے آگاہ ہوگئے۔ان بچوں میں امام حسین ؑ کی چہیتی بیٹی حضرت سکینہ (س) کا نام زیادہ نمایاں ہے جو شام کی قید خانے میں مظلومیت کے عالم میں فوت ہوگئی تھیں، آپؑ کا مزار بھی دمشق میں ہے۔