استقامتی محاذ صیہونیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دے گا، اسماعیل ہنیہ

  Click to listen highlighted text! بیروت : حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ مسجد الاقصی کی آزادی قریب ہے اور پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں ڈیڑھ سو میزائلوں کی بارش صیہونی حکومت کو تباہ کردے گی۔ بیروت میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ فلسطین کی مکمل آزادی تک شمشیر قدس کو نیام میں نہیں رکھیں گے۔ بیت المقدس اور غرب اردن پر گذشتہ برسوں میں استقامت ترک کرنے اور اپنی زمین کو چھوڑنے کے لئے بہت دباؤ تھا۔ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ سازشی عناصر اور مسئلہ فلسطین سے خیانت کرنے والے مسجد الاقصی کی آزادی کو دور دیکھ رہے ہیں مگر غزہ پٹی بری، بحری اور فضائی لحاظ سے محاصرے میں ہے، اسکے باوجود اسرائیل کے مقابلے میں اُس نے شمشیر قدس اٹھا لی اور استقامتی محاذ اور فلسطینی عوام ایک اسٹریٹیجک جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسجد الاقصی میں صیہونیوں اور صیہونی آبادکاروں کی کوئی جگہ نہیں ہے اور استقامتی محاذ، صیہونیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دے گا۔اسماعیل ہنیہ نے لبنان کے قدرتی ذخائر پر صیہونی حکومت کی دست درازی کے مقابلے میں لبنان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ صیہونی حکومت کو لبنانی سمندروں میں کوئی حق حاصل نہیں ہے، جس طرح فلسطین میں اس کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

بیروت : حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ مسجد الاقصی کی آزادی قریب ہے اور پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں ڈیڑھ سو میزائلوں کی بارش صیہونی حکومت کو تباہ کردے گی۔ بیروت میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ فلسطین کی مکمل آزادی تک شمشیر قدس کو نیام میں نہیں رکھیں گے۔ بیت المقدس اور غرب اردن پر گذشتہ برسوں میں استقامت ترک کرنے اور اپنی زمین کو چھوڑنے کے لئے بہت دباؤ تھا۔ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ سازشی عناصر اور مسئلہ فلسطین سے خیانت کرنے والے مسجد الاقصی کی آزادی کو دور دیکھ رہے ہیں مگر غزہ پٹی بری، بحری اور فضائی لحاظ سے محاصرے میں ہے، اسکے باوجود اسرائیل کے مقابلے میں اُس نے شمشیر قدس اٹھا لی اور استقامتی محاذ اور فلسطینی عوام ایک اسٹریٹیجک جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسجد الاقصی میں صیہونیوں اور صیہونی آبادکاروں کی کوئی جگہ نہیں ہے اور استقامتی محاذ، صیہونیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دے گا۔اسماعیل ہنیہ نے لبنان کے قدرتی ذخائر پر صیہونی حکومت کی دست درازی کے مقابلے میں لبنان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ صیہونی حکومت کو لبنانی سمندروں میں کوئی حق حاصل نہیں ہے، جس طرح فلسطین میں اس کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔