راہ کربلا راہ وحدت اور صراط مستقیم ہے

اربعین عربی زبان میں چالیس کو کہا جاتا ہے اور امام حسینؑ کی شہادت کے چالیسویں روز کی مناسبت سے 20 صفر کو اربعین کہا جاتا ہے۔ 61 ھجری میں اسی دن جابر بن عبداللہ انصاری امام حسین علیہ السلام کی قبر اطہر پر پہنچے تھے۔ اسی طرح بعض مآخذ کے مطابق اسیران کربلا بھی شام کے زندان سے رہا ہوکر اسی دن امام حسینؑ کی زیارت کیلئے کربلا پہنچے تھے، اس لئے اربعین کے موقع پر کربلا کی طرف پیدل چل کر سیدالشہداءؑ کی زیارت کیلئے جانا صدیوں سے عاشقان امام کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ وقت کیساتھ ساتھ مشی (کربلا واک) اہم ترین اور عظیم ترین مراسمات میں شامل ہو گیا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی مذہبی تہواروں میں شامل ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان “إن الحسین مصباح الهدی و سفینة النجاة” کے عین مطابق بلاشبہ امام حسین علیہ السلام ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں اور راہ ہدایت کی تلاش اور نجات پانے کیلئے زائرین امام پورا سال جوق در جوق زیارت کیلئے کربلا جاتے رہتے ہیں اور خصوصاً اربعین کے موقع پر بین الاقوامی میڈیا اداروں کے مطابق یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والے دیوانہ وار کربلا کا رخ کرتے ہیں۔ اگرچہ زائرین کربلا میں زیادہ تعداد شیعیان کی ہوتی ہے لیکن اہلسنت برادران بھی بڑھ چڑھ کر زیارات کیلئے کربلا کا رخ کر رہے ہیں۔ شاید سوشل میڈیا کی مہربانی ہے جس کی وجہ سے ان اہلسنت برادران کی زیارات کا اب پتہ چلنے لگا ہے۔ ورنہ نبی پاک کے اس فرمان کہ “حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں” کے مطابق کون مسلمان ہے جو حسین علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہونا نہیں چاہے گا۔

نتیجتاً اس سال بین الحرمین کربلا میں وحدت المسلمین کا ایک انتہائی خوبصورت پیغام دیکھنے میں آیا جب کارڈز اٹھائے ہوئے ہزاروں افراد نے انتہائی خوبصورتی سے “وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌” کو ایسے منظم طریقے سے خوبصورت شکل میں ترتیب دیا اور ظاہر کیا کہ جب ڈرون کیمرے نے بلندی سے شوٹ کیا تو یہ کسی ماہر خطاط کا خوبصورت شاہکار دکھائی دینے لگا۔ یقیناً کائنات کے مصور کو بھی اپنے محبوب کیلئے عشاق کی یہ عشق بھری کاوش حسین لگی ہوگی۔ کیونکہ اس کی محبوب ہستیوں سے محبت اس کی نظر رحمت کا سبب بنتی ہے۔ کربلا کی سرزمین پر یہ وحدت کا خوبصورت عملی مظاہرہ بھی تھا۔ زائرین نے بین الحرمین سے جہاں اس دلکش شاہکار کے ذریعے پوری دنیا کے مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے میں نہ پڑنے کا پیغام دیا بیک وقت دشمنان اسلام کو بھی تنبیہ کیا کہ تم جتنا مرضی ہم مسلمانوں کی صفوں میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کرو گے یاد رکھو ہم شیعہ ہوں یا سنی ھم مسلمان ہیں ھم حسینی ہیں اور ان شاء اللہ اس حسینی وحدت کو ختم کرنے میں یزیدیت کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔

کربلا کی طرف روانہ ہونیوالے ایران کے اہلسنت علماء و مشائخ کے ایک قافلے سے بات چیت کی گئی تو برادران اہلسنت کے احساسات انتہائی خوبصورت تھے ان علماء کے نزدیک امام حسین علیہ السلام عالم اسلام کے اتحاد کا محور ہیں۔ یہ قافلہ ایران کے مختلف صوبوں سے اربعین حسینی کی تقریب میں شرکت کیلئے اکٹھا ہوا تھا۔اس کاروان میں شامل ایک عالم کا کہنا تھا کہ “یقیناً امام حسینؑ کا راستہ امت اسلامیہ کیلئے منفرد تھا۔” شریک کاروان ایک عالم کا کہنا تھا۔ ہم اہلسنت ہیں، بے ساختہ ارمیہ میں اکٹھے ہوئے اور ایک کارواں تشکیل دیا، ہم بے ساختہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔ ایک اور عالم کا کہنا تھا اہلسنت کی اہلِبیت علیھم السلام سے محبت و الفت کی بنیاد دو مشترک اصولوں پر ہے، ایک کتابِ خدا تو دوسرا سنتِ رسولؐ ہے۔ ایک عالم کا کہنا تھا کہ آئمہ اطہار اور اہلبیت اطہار دینی طبقے کی توجہ کا مرکز اور تمام اسلامی مذاہب کا مشترکہ نقطہ ہیں۔ ایک اہلسنت برادر کا خوبصورت جملہ تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں تو ہمارے لیے پھر اور کیا رہ جاتا ہے؟ ایک اور عالم نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا کہ امام حسین علیہ السلام کیلئے ان کا خاص احترام ہے۔ غیر سنی کی عقیدت بھی کسی شیعہ بھائی سے کم نہیں۔

ایک برادر کے خوبصورت کلمات کچھ اس طرح سے تھے کہ “میں جو بھی تھا، جو بھی ہوں، کسی سے تعلق نہیں رکھتا، میں نے اپنے مہربان امام کی پناہ لی ہے۔ ان شاء اللہ ہم آگئے ہیں، حضرت حسین ؑ ہمارا خیال رکھیں گے اور قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے”۔ اس قافلے میں 240 سنی علماء کرام کربلا کے لیے کردستان سے روانہ ہوئے تھے۔ اور یہ صرف ایک جگہ یا ملک کی نہیں بلکہ ملکوں کی داستان ہے۔ پوری دنیا کے شہر شہر  نگر نگر سے لوگ قافلوں کی صورت میں اس وقت کربلا پہنچے۔ ایک فارسی نوحہ خواں کے کیا خوبصورت اشعار ہیں۔
این حسین کیست که عالم همه دیوانه اوست
این چه شمعی است که جان‌ها همه پروانه‌ اوست
یہ حسین کون ہے جس کیلئے ساری دنیا دیوانی ہے؟
یہ کیسی شمع ہے کہ تمام روحیں اس کا پروانہ ہیں
واقعی حسین علیہ السلام ہدایت کی ایسی شمع ہیں کہ سارا عالم ان کا پروانہ ہے دیوانہ ہے۔ جس جگہ امام عالی مقام نے صرف 72 رفقا کیساتھ قیام فرمایا تھا اور “ھـــل من ناصـــر ینصـــرنا” کی صدا بلند کی تھی وہ صرف کربلا تک محدود نہیں تھی بلکہ آج کروڑوں لوگ اس پر لبیک کہتے ہوئے کربلا کی طرف لپکتے ہیں۔ یا امام آپ کو کیا زبردست فتح حاصل ہوئی ہے کہ آج مسلمان تو کیا ہر قوم حسین حسین پکار رہی ہے اور اسی طرح یزید ملعون کو کیا بری شکست ہوئی ہے۔ جس کا آج نام لیوا کوئی نہیں اور وہ صرف ایک لعنت بن کر رہ گیا۔

آج یہ کربلا کا راستہ صراط عظیم ہے، صراط مستقیم ہے۔ اس راستے پر چلتے ہوئے بظاہر اور بے شک عشق حسین سے ہم سرشار ہیں لیکن اس بات کی کوشش اور اپنا محاسبہ بھی ضرور کریں اور اپنے آپ کو اس کسوٹی پر پرکھتے رہیں کہ کیا ہم اس امام مظلوم کی مرضی کے مطابق بھی چل رہے ہیں یا نہیں۔ کیا ہم نے اپنی زندگی کو عملی طور پر حسینیت کے راستے کے مطابق ڈھال رکھا ہے یا نہیں۔ کیونکہ یہی راستہ نجات کا راستہ ہے۔ امام کی پکار “ھـــل من ناصـــر ینصـــرنا” کی دعوت، ان کی جانب سے مدد کی توقع اور ان کے پیغام کو جو آج کے دور میں مظلومین مدد کے طالب، کی صورت میں موجود ہیں پوری طرح اہمیت دی ہے یا نہیں۔

یہ راستہ دنیا کے مظلومین کی مدد کا راستہ ہے، قدس کی آزادی کا راستہ بھی اسی کربلا سے گزر کر آئے گا۔ اس عظیم راستے پر ایک خوش آئند بات تو یہ ہے کہ یہ وحدت کا بھی راستہ ہے۔ کربلا کے اس راستے پر مسلمان متحد ہو رہے ہیں۔ بے شک عشق حسین ایک عظیم سعادت ہے لیکن اپنے کردار کو اس طرح ڈھالنے کی ضرورت ہے کہ اگر مر گئے تو حسینی کردار ادا کیا ہو اور اگر زندہ ہیں تو ہمارا کردار زینبی کردار ہونا چاہیئے۔ جس کا کردار نہ حسینی ہو اور نہ زینبی، وہ یزیدی کردار ہی کہلائے گا۔ یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ حسینی بن کر امر ہو جائیں ورنہ یزیدیت تو مٹ جانے کا نام ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ جب تک زندہ ہیں راہ کربلا پر صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور مرنے کے بعد امام حسین علیہ السلام کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

  Click to listen highlighted text! تحریر: شبیر احمد شگری اربعین عربی زبان میں چالیس کو کہا جاتا ہے اور امام حسینؑ کی شہادت کے چالیسویں روز کی مناسبت سے 20 صفر کو اربعین کہا جاتا ہے۔ 61 ھجری میں اسی دن جابر بن عبداللہ انصاری امام حسین علیہ السلام کی قبر اطہر پر پہنچے تھے۔ اسی طرح بعض مآخذ کے مطابق اسیران کربلا بھی شام کے زندان سے رہا ہوکر اسی دن امام حسینؑ کی زیارت کیلئے کربلا پہنچے تھے، اس لئے اربعین کے موقع پر کربلا کی طرف پیدل چل کر سیدالشہداءؑ کی زیارت کیلئے جانا صدیوں سے عاشقان امام کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ وقت کیساتھ ساتھ مشی (کربلا واک) اہم ترین اور عظیم ترین مراسمات میں شامل ہو گیا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی مذہبی تہواروں میں شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان “إن الحسین مصباح الهدی و سفینة النجاة” کے عین مطابق بلاشبہ امام حسین علیہ السلام ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں اور راہ ہدایت کی تلاش اور نجات پانے کیلئے زائرین امام پورا سال جوق در جوق زیارت کیلئے کربلا جاتے رہتے ہیں اور خصوصاً اربعین کے موقع پر بین الاقوامی میڈیا اداروں کے مطابق یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والے دیوانہ وار کربلا کا رخ کرتے ہیں۔ اگرچہ زائرین کربلا میں زیادہ تعداد شیعیان کی ہوتی ہے لیکن اہلسنت برادران بھی بڑھ چڑھ کر زیارات کیلئے کربلا کا رخ کر رہے ہیں۔ شاید سوشل میڈیا کی مہربانی ہے جس کی وجہ سے ان اہلسنت برادران کی زیارات کا اب پتہ چلنے لگا ہے۔ ورنہ نبی پاک کے اس فرمان کہ “حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں” کے مطابق کون مسلمان ہے جو حسین علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہونا نہیں چاہے گا۔ نتیجتاً اس سال بین الحرمین کربلا میں وحدت المسلمین کا ایک انتہائی خوبصورت پیغام دیکھنے میں آیا جب کارڈز اٹھائے ہوئے ہزاروں افراد نے انتہائی خوبصورتی سے “وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌” کو ایسے منظم طریقے سے خوبصورت شکل میں ترتیب دیا اور ظاہر کیا کہ جب ڈرون کیمرے نے بلندی سے شوٹ کیا تو یہ کسی ماہر خطاط کا خوبصورت شاہکار دکھائی دینے لگا۔ یقیناً کائنات کے مصور کو بھی اپنے محبوب کیلئے عشاق کی یہ عشق بھری کاوش حسین لگی ہوگی۔ کیونکہ اس کی محبوب ہستیوں سے محبت اس کی نظر رحمت کا سبب بنتی ہے۔ کربلا کی سرزمین پر یہ وحدت کا خوبصورت عملی مظاہرہ بھی تھا۔ زائرین نے بین الحرمین سے جہاں اس دلکش شاہکار کے ذریعے پوری دنیا کے مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے میں نہ پڑنے کا پیغام دیا بیک وقت دشمنان اسلام کو بھی تنبیہ کیا کہ تم جتنا مرضی ہم مسلمانوں کی صفوں میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کرو گے یاد رکھو ہم شیعہ ہوں یا سنی ھم مسلمان ہیں ھم حسینی ہیں اور ان شاء اللہ اس حسینی وحدت کو ختم کرنے میں یزیدیت کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ کربلا کی طرف روانہ ہونیوالے ایران کے اہلسنت علماء و مشائخ کے ایک قافلے سے بات چیت کی گئی تو برادران اہلسنت کے احساسات انتہائی خوبصورت تھے ان علماء کے نزدیک امام حسین علیہ السلام عالم اسلام کے اتحاد کا محور ہیں۔ یہ قافلہ ایران کے مختلف صوبوں سے اربعین حسینی کی تقریب میں شرکت کیلئے اکٹھا ہوا تھا۔اس کاروان میں شامل ایک عالم کا کہنا تھا کہ “یقیناً امام حسینؑ کا راستہ امت اسلامیہ کیلئے منفرد تھا۔” شریک کاروان ایک عالم کا کہنا تھا۔ ہم اہلسنت ہیں، بے ساختہ ارمیہ میں اکٹھے ہوئے اور ایک کارواں تشکیل دیا، ہم بے ساختہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔ ایک اور عالم کا کہنا تھا اہلسنت کی اہلِبیت علیھم السلام سے محبت و الفت کی بنیاد دو مشترک اصولوں پر ہے، ایک کتابِ خدا تو دوسرا سنتِ رسولؐ ہے۔ ایک عالم کا کہنا تھا کہ آئمہ اطہار اور اہلبیت اطہار دینی طبقے کی توجہ کا مرکز اور تمام اسلامی مذاہب کا مشترکہ نقطہ ہیں۔ ایک اہلسنت برادر کا خوبصورت جملہ تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں تو ہمارے لیے پھر اور کیا رہ جاتا ہے؟ ایک اور عالم نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا کہ امام حسین علیہ السلام کیلئے ان کا خاص احترام ہے۔ غیر سنی کی عقیدت بھی کسی شیعہ بھائی سے کم نہیں۔ ایک برادر کے خوبصورت کلمات کچھ اس طرح سے تھے کہ “میں جو بھی تھا، جو بھی ہوں، کسی سے تعلق نہیں رکھتا، میں نے اپنے مہربان امام کی پناہ لی ہے۔ ان شاء اللہ ہم آگئے ہیں، حضرت حسین ؑ ہمارا خیال رکھیں گے اور قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے”۔ اس قافلے میں 240 سنی علماء کرام کربلا کے لیے کردستان سے روانہ ہوئے تھے۔ اور یہ صرف ایک جگہ یا ملک کی نہیں بلکہ ملکوں کی داستان ہے۔ پوری دنیا کے شہر شہر  نگر نگر سے لوگ قافلوں کی صورت میں اس وقت کربلا پہنچے۔ ایک فارسی نوحہ خواں کے کیا خوبصورت اشعار ہیں۔ این حسین کیست که عالم همه دیوانه اوست این چه شمعی است که جان‌ها همه پروانه‌ اوست یہ حسین کون ہے جس کیلئے ساری دنیا دیوانی ہے؟ یہ کیسی شمع ہے کہ تمام روحیں اس کا پروانہ ہیں واقعی حسین علیہ السلام ہدایت کی ایسی شمع ہیں کہ سارا عالم ان کا پروانہ ہے دیوانہ ہے۔ جس جگہ امام عالی مقام نے صرف 72 رفقا کیساتھ قیام فرمایا تھا اور “ھـــل من ناصـــر ینصـــرنا” کی صدا بلند کی تھی وہ صرف کربلا تک محدود نہیں تھی بلکہ آج کروڑوں لوگ اس پر لبیک کہتے ہوئے کربلا کی طرف لپکتے ہیں۔ یا امام آپ کو کیا زبردست فتح حاصل ہوئی ہے کہ آج مسلمان تو کیا ہر قوم حسین حسین پکار رہی ہے اور اسی طرح یزید ملعون کو کیا بری شکست ہوئی ہے۔ جس کا آج نام لیوا کوئی نہیں اور وہ صرف ایک لعنت بن کر رہ گیا۔ آج یہ کربلا کا راستہ صراط عظیم ہے، صراط مستقیم ہے۔ اس راستے پر چلتے ہوئے بظاہر اور بے شک عشق حسین سے ہم سرشار ہیں لیکن اس بات کی کوشش اور اپنا محاسبہ بھی ضرور کریں اور اپنے آپ کو اس کسوٹی پر پرکھتے رہیں کہ کیا ہم اس امام مظلوم کی مرضی کے مطابق بھی چل رہے ہیں یا نہیں۔ کیا ہم نے اپنی زندگی کو عملی طور پر حسینیت کے راستے کے مطابق ڈھال رکھا ہے یا نہیں۔ کیونکہ یہی راستہ نجات کا راستہ ہے۔ امام کی پکار “ھـــل من ناصـــر ینصـــرنا” کی دعوت، ان کی جانب سے مدد کی توقع اور ان کے پیغام کو جو آج کے دور میں مظلومین مدد کے طالب، کی صورت میں موجود ہیں پوری طرح اہمیت دی ہے یا نہیں۔ یہ راستہ دنیا کے مظلومین کی مدد کا راستہ ہے، قدس کی آزادی کا راستہ بھی اسی کربلا سے گزر کر آئے گا۔ اس عظیم راستے پر ایک خوش آئند بات تو یہ ہے کہ یہ وحدت کا بھی راستہ ہے۔ کربلا کے اس راستے پر مسلمان متحد ہو رہے ہیں۔ بے شک عشق حسین ایک عظیم سعادت ہے لیکن اپنے کردار کو اس طرح ڈھالنے کی ضرورت ہے کہ اگر مر گئے تو حسینی کردار ادا کیا ہو اور اگر زندہ ہیں تو ہمارا کردار زینبی کردار ہونا چاہیئے۔ جس کا کردار نہ حسینی ہو اور نہ زینبی، وہ یزیدی کردار ہی کہلائے گا۔ یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ حسینی بن کر امر ہو جائیں ورنہ یزیدیت تو مٹ جانے کا نام ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ جب تک زندہ ہیں راہ کربلا پر صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور مرنے کے بعد امام حسین علیہ السلام کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین