مذاکرات میں اہم رکاوٹ امریکا کی دوغلی پالیسی ہے، ایران

  Click to listen highlighted text! تہران : ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللهیان نے کہا ہے کہ ایٹمی مذاکرات میں اہم رکاوٹ امریکا کی دوغلی پالیسی ہے، اپنے سوئٹزر لینڈ کے ہم منصب ایگنازیو سے ٹیلی فونک گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایران ایک اچھے سمجھوتے کے حصول میں سنجیدہ ہے تاہم مذاکرات میں اہم رکاوٹ امریکا کی دوغلی پالیسی ہے۔ حسین امیرعبداللهیان نے اس ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ ایک جانب امریکا مذاکرات کے حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے اور دوسری جانب اس نے گزشتہ ہفتے ایران کی کئی اہم شخصیات اور کمپنیوں پر پابندی عائد کی جو امریکہ کی دوغلی پالیسی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے یمن کے بحران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، یمن کے خلاف جاری محاصرے اور جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے۔سوئٹزر لینڈ کے وزیر خارجہ نے اس ٹیلی فونک گفتگو میں افغانستان میں ایک وسیع البنیاد قومی حکومت کی تشکیل سے متعلق ایران کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے افغانستان کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے اور افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر ایران کی قدردانی کی۔

تہران : ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللهیان نے کہا ہے کہ ایٹمی مذاکرات میں اہم رکاوٹ امریکا کی دوغلی پالیسی ہے، اپنے سوئٹزر لینڈ کے ہم منصب ایگنازیو سے ٹیلی فونک گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایران ایک اچھے سمجھوتے کے حصول میں سنجیدہ ہے تاہم مذاکرات میں اہم رکاوٹ امریکا کی دوغلی پالیسی ہے۔ حسین امیرعبداللهیان نے اس ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ ایک جانب امریکا مذاکرات کے حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے اور دوسری جانب اس نے گزشتہ ہفتے ایران کی کئی اہم شخصیات اور کمپنیوں پر پابندی عائد کی جو امریکہ کی دوغلی پالیسی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے یمن کے بحران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، یمن کے خلاف جاری محاصرے اور جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے۔سوئٹزر لینڈ کے وزیر خارجہ نے اس ٹیلی فونک گفتگو میں افغانستان میں ایک وسیع البنیاد قومی حکومت کی تشکیل سے متعلق ایران کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے افغانستان کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے اور افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر ایران کی قدردانی کی۔