اہم سال کا بدلنا نہیں بلکہ آپ کا بدلنا ہے

  Click to listen highlighted text! ٹرین تیزی سے اپنا سفر طے کر رہی تھی اور یونیورسٹی کے شعبہ فلاسفی کے لڑکے اور لڑکیاں خوش گپیوں میں مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ باہر کے حسین وجمیل مناظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ٹرین کے ہال میں بیٹھ کر ہر کوئی ہیپی نیو ایر کے موقع پر ہونے والے اپنے اپنے ملکوں میں ہونے والی تقریبات, ہلہ گلہ، آتشبازی، گاڑیاں سٹرکوں کے درمیان کھڑی کر کے ٹریفک جام کرنا، سائلنسر کے بغیر موٹرسائیکل کے شور شرابہ وغیرہ جیسی ثقافت کو بیان کررہاتھا۔کہ اچانک یونیورسٹی کے پروفیسرنے کھڑے ہو کر تالی بجائی اور مسکرا کر ایک سوال کیا؟ *کیا یہ 2020 کاسال آپ کا ہے یا اس زمین کا؟ یعنی آپ کا سال مکمل ہوا ہے یا زمین کا؟ سوال نے ایک دفعہ سب اسٹوڈنٹس کے ذہنوں کو گھما دیا اورسب تعجب کے ساتھ پروفیسر کی طرف دیکھنے لگے۔ پروفیسر نے اسٹوڈنٹس کے چہروں کا مطالعہ کیا اور کہا کہ اگر دیکھا جائے تو یہ زمین ہے جو اپنے مرکز کے گرد جب 365 دنوں میں ایک چکر مکمل کرتی ہے تو کہتے ہیں کہ نیا سال شروع ہو گیا۔ پس یہ تو زمین کا ہیپی نیو ایر ہوا نہ کہ میرا یا تمہارا۔اب سب کو تھوڑی تھوڑی بات سمجھ آنے لگی۔ ایک بچے نے سوال کیا: تو سر پھر ہم کب ہیپی نیو ایر منا سکتے ہیں؟ پروفیسر نے کہا: جب ہم بھی اپنے مرکز حقیقی یعنی کتابِ مقدس کے اردگرد پورا چکر لگائیں گے تو پس ہم سب کا بھی ہو جائے گا”ہیپی نیو ایر“۔ پروفیسر نے زور دیکر کہا اگر میں ۰۵سال کا ہوں تو گویا ۰۵ مرتبہ زمین نے سورج کے گرد چکر لگایا ہو گا تب میں ہوا پچاس سال کا۔لیکن اگر میں نے ان پچاس سالوں میں علم و شعور کے پچاس (۰۵) قدم بھی نہ اٹھائے تو پھرگویا میں ۰۵سال کا ایک بچہ ہوا کیونکہ میں وہی بچوں والی سوچ اور توقعات کا مالک ہوں۔ ”بڑا ہونا اپنی حرکت کیوجہ سے ہے نہ کہ زمین کی حرکت کیوجہ سے“ پروفیسر کی بات سن کر سب بچوں نے خوشی سے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔اسٹوڈنٹس کو خوش ہوتا دیکھ کر پروفیسر نے اپنی بات کو آگے بڑھایا اور کہا کہ زمین کی حرکت، زمین کا مدار و مرکز اور اس کا راستہ زمین کے اختیار میں نہیں ہے۔ لیکن انسان کی حرکت، اس حرکت کی کیفیت، اپنے مرکز و مدار کا انتخاب خود ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ اور یہ اختیار انسان کو فرشتوں سے بالاتر یا جانوروں سے پست تر بنا سکتا ہے۔کچھ لوگ اپنی خواہشات شہوات کے مرکز کے اردگرد چکر لگاتے رہتے ہیں لیکن کچھ لوگ عقل و شعور اور وحی کے گرد گھومتے ہیں۔ عام لوگ اس سیکنڈ اور لحظہ کے منتظر ہوتے ہیں جب سال بدلتا ہے؛ جبکہ عظیم لوگ اس سیکنڈ اور وقت کے منتظر ہوتے ہیں جب وہ خود بدلتے ہیں۔”مہم سال کا بدلنا نہیں بلکہ آپ کا بدلنا ہے“ آپ نے غور کیا کہ دو کام یکے بعد دیگرے ہو رہے ہوتے ہیں، نیا سال آتا ہے تو پہلے والا سال جاتا ہے یہی تو ہے لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ سب لوگ ایک دوسرے کونیاسال مبارک کی مبارکباد تو دیتے نظر آتے ہیں لیکن گذشتہ سال کے حساب کتاب یا احتساب کی دعوت دیتے نظر نہیں آتے۔حالانکہ ایک کامیاب تاجر پہلے سابقہ حساب کتاب چیک کرتا ہے پھر آگے کی پلاننگ کرتا ہے۔ سب بچوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور پروفیسر رابرٹ کے افکار کی تعریف کی۔ لیکن پروفیسر رابرٹ کی اگلی بات سے سب حیران ہو گئے جب پروفیسر نے کہا یہ سب مطالب علمی میرے نہیں بلکہ ایران کے ایک بہت برے مفکر، فلاسفر اور مفسرِ قرآن کے ہیں۔سب اسٹوڈنٹس حیرت اور تعجب کی تصویر بن گئے اور پھر تجسس کے ساتھ پوچھا سر پلیز ہمیں بھی انکا نام بتائیے تا کہ ہم بھی انکے افکار سے فائدہ حاصل کر سکیں۔پروفیسر مسکرائے اور ادب سے بولے ”آیت اللہ جوادی آملی“۔

ٹرین تیزی سے اپنا سفر طے کر رہی تھی اور یونیورسٹی کے شعبہ فلاسفی کے لڑکے اور لڑکیاں خوش گپیوں میں مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ باہر کے حسین وجمیل مناظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
ٹرین کے ہال میں بیٹھ کر ہر کوئی ہیپی نیو ایر کے موقع پر ہونے والے اپنے اپنے ملکوں میں ہونے والی تقریبات, ہلہ گلہ، آتشبازی، گاڑیاں سٹرکوں کے درمیان کھڑی کر کے ٹریفک جام کرنا، سائلنسر کے بغیر موٹرسائیکل کے شور شرابہ وغیرہ جیسی ثقافت کو بیان کررہاتھا۔کہ اچانک یونیورسٹی کے پروفیسرنے کھڑے ہو کر تالی بجائی اور مسکرا کر ایک سوال کیا؟
*کیا یہ 2020 کاسال آپ کا ہے یا اس زمین کا؟
یعنی آپ کا سال مکمل ہوا ہے یا زمین کا؟
سوال نے ایک دفعہ سب اسٹوڈنٹس کے ذہنوں کو گھما دیا اورسب تعجب کے ساتھ پروفیسر کی طرف دیکھنے لگے۔
پروفیسر نے اسٹوڈنٹس کے چہروں کا مطالعہ کیا اور کہا کہ اگر دیکھا جائے تو یہ زمین ہے جو اپنے مرکز کے گرد جب 365 دنوں میں ایک چکر مکمل کرتی ہے تو کہتے ہیں کہ نیا سال شروع ہو گیا۔ پس یہ تو زمین کا ہیپی نیو ایر ہوا نہ کہ میرا یا تمہارا۔اب سب کو تھوڑی تھوڑی بات سمجھ آنے لگی۔
ایک بچے نے سوال کیا: تو سر پھر ہم کب ہیپی نیو ایر منا سکتے ہیں؟
پروفیسر نے کہا: جب ہم بھی اپنے مرکز حقیقی یعنی کتابِ مقدس کے اردگرد پورا چکر لگائیں گے تو پس ہم سب کا بھی ہو جائے گا”ہیپی نیو ایر“۔
پروفیسر نے زور دیکر کہا اگر میں ۰۵سال کا ہوں تو گویا ۰۵ مرتبہ زمین نے سورج کے گرد چکر لگایا ہو گا تب میں ہوا پچاس سال کا۔لیکن اگر میں نے ان پچاس سالوں میں علم و شعور کے پچاس (۰۵) قدم بھی نہ اٹھائے تو پھرگویا میں ۰۵سال کا ایک بچہ ہوا کیونکہ میں وہی بچوں والی سوچ اور توقعات کا مالک ہوں۔
”بڑا ہونا اپنی حرکت کیوجہ سے ہے نہ کہ زمین کی حرکت کیوجہ سے“
پروفیسر کی بات سن کر سب بچوں نے خوشی سے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔اسٹوڈنٹس کو خوش ہوتا دیکھ کر پروفیسر نے اپنی بات کو آگے بڑھایا اور کہا کہ زمین کی حرکت، زمین کا مدار و مرکز اور اس کا راستہ زمین کے اختیار میں نہیں ہے۔ لیکن انسان کی حرکت، اس حرکت کی کیفیت، اپنے مرکز و مدار کا انتخاب خود ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔
اور یہ اختیار انسان کو فرشتوں سے بالاتر یا جانوروں سے پست تر بنا سکتا ہے۔کچھ لوگ اپنی خواہشات شہوات کے مرکز کے اردگرد چکر لگاتے رہتے ہیں لیکن کچھ لوگ عقل و شعور اور وحی کے گرد گھومتے ہیں۔
عام لوگ اس سیکنڈ اور لحظہ کے منتظر ہوتے ہیں جب سال بدلتا ہے؛ جبکہ عظیم لوگ اس سیکنڈ اور وقت کے منتظر ہوتے ہیں جب وہ خود بدلتے ہیں۔”مہم سال کا بدلنا نہیں بلکہ آپ کا بدلنا ہے“
آپ نے غور کیا کہ دو کام یکے بعد دیگرے ہو رہے ہوتے ہیں، نیا سال آتا ہے تو پہلے والا سال جاتا ہے یہی تو ہے لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ سب لوگ ایک دوسرے کونیاسال مبارک کی مبارکباد تو دیتے نظر آتے ہیں لیکن گذشتہ سال کے حساب کتاب یا احتساب کی دعوت دیتے نظر نہیں آتے۔حالانکہ ایک کامیاب تاجر پہلے سابقہ حساب کتاب چیک کرتا ہے پھر آگے کی پلاننگ کرتا ہے۔
سب بچوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور پروفیسر رابرٹ کے افکار کی تعریف کی۔ لیکن پروفیسر رابرٹ کی اگلی بات سے سب حیران ہو گئے جب پروفیسر نے کہا یہ سب مطالب علمی میرے نہیں بلکہ ایران کے ایک بہت برے مفکر، فلاسفر اور مفسرِ قرآن کے ہیں۔سب اسٹوڈنٹس حیرت اور تعجب کی تصویر بن گئے اور پھر تجسس کے ساتھ پوچھا سر پلیز ہمیں بھی انکا نام بتائیے تا کہ ہم بھی انکے افکار سے فائدہ حاصل کر سکیں۔پروفیسر مسکرائے اور ادب سے بولے ”آیت اللہ جوادی آملی“۔