حکومت عزاداری کیخلاف منفی اقدامات کو واپس لے ورنہ احتجاج کاراستہ اختیار کرینگے، شیعہ علماء کونسل

  Click to listen highlighted text! لاہور : شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے ،ملک میں مہنگائی، لاقانونیت اور بے روزگاری نے عوام سے سکھ چین چھین لیا ہے ۔ وطن عزیز پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف مہنگائی اپنے عروج پر ہے تو دوسری طرف ملک میں لاقانونیت کا راج ہے جبکہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث انسانی بنیادی شہری حقوق بری طرح سے پامال ہو رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرشیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی ، مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری جنرل علامہ سیدناظر عباس تقوی اورمرکزی سیکریٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ بھی موجود تھے ۔ علامہ شبیر میثمی نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ ایک مثبت انداز میں آئین ، دستور اور قانون کے مطابق حل ہونا چاہیے اور اس میں تاخیر نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ امید ہے انشاءا للہ لاپتہ افراد جلد اپنے گھر والوں سے ملیں گے۔ ان کی فیملیز ہمارے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کے اس اہم مسئلے پر آواز اٹھائیں۔ عزاداری سید الشہداءؑ پر ایف آئی آرز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں ملک کے بیشتر مقامات پر منعقدہ مجالس و جلوس عزاءپر ایف آئی آرز کا اندراج عوام کے بنیادی شہری حقوق سلب کرنے کی واضح مثال ہے۔ ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کا غم منانا آئینی شہری حق ہے اور عوام کو ان کے بنیادی شہری حقوق سے محروم کرنا حکومت ، انتظامیہ اور پولیس کا غیر آئینی، غیر قانونی و غیر اخلاقی اقدام ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم بارہا متنبہ کر چکے ہیں کہ ایسے غیر قانونی اقدامات سے باز رہنا چاہیے جو عوام میں اضطراب کا باعث ہوں ہم ایسے اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یاد رکھیے کہ ایف آئی آرز اور فورتھ شیڈولز کیلئے گفتگو کے باب بند ہوتے جارہے ہیں اور احتجاج کے باب کھلنا شروع ہورہے ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ عزاداری کے سلسلے میں ہر منفی قدم کو واپس لے اور پاکستان کے آئین و دستور کے مطابق تمام عزاداران حسینی کو حق ملے کہ وہ آزادی کے ساتھ عزاداری سید الشہداءؑ انجام دیں۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت کے غلط اقدامات کی وجہ سے عزاداران حسینی کے پیمانے چھلک جائیں۔انہوں نے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں شرکت کیلئے تیار رہیں ۔جس کے باعث شہریوں میں بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اہل بست و کشاد ہوش کے ناخن لیں اور عزاداری سید الشہداءپر کی گئی ایف آئی آرز کو فوری واپس لیں اور آئندہ ایسے اقدامات سے بھی گریز کریں۔

لاہور : شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے ،ملک میں مہنگائی، لاقانونیت اور بے روزگاری نے عوام سے سکھ چین چھین لیا ہے ۔ وطن عزیز پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف مہنگائی اپنے عروج پر ہے تو دوسری طرف ملک میں لاقانونیت کا راج ہے جبکہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث انسانی بنیادی شہری حقوق بری طرح سے پامال ہو رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرشیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی ، مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری جنرل علامہ سیدناظر عباس تقوی اورمرکزی سیکریٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ بھی موجود تھے ۔ علامہ شبیر میثمی نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ ایک مثبت انداز میں آئین ، دستور اور قانون کے مطابق حل ہونا چاہیے اور اس میں تاخیر نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ امید ہے انشاءا للہ لاپتہ افراد جلد اپنے گھر والوں سے ملیں گے۔ ان کی فیملیز ہمارے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کے اس اہم مسئلے پر آواز اٹھائیں۔ عزاداری سید الشہداءؑ پر ایف آئی آرز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں ملک کے بیشتر مقامات پر منعقدہ مجالس و جلوس عزاءپر ایف آئی آرز کا اندراج عوام کے بنیادی شہری حقوق سلب کرنے کی واضح مثال ہے۔ ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کا غم منانا آئینی شہری حق ہے اور عوام کو ان کے بنیادی شہری حقوق سے محروم کرنا حکومت ، انتظامیہ اور پولیس کا غیر آئینی، غیر قانونی و غیر اخلاقی اقدام ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم بارہا متنبہ کر چکے ہیں کہ ایسے غیر قانونی اقدامات سے باز رہنا چاہیے جو عوام میں اضطراب کا باعث ہوں ہم ایسے اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یاد رکھیے کہ ایف آئی آرز اور فورتھ شیڈولز کیلئے گفتگو کے باب بند ہوتے جارہے ہیں اور احتجاج کے باب کھلنا شروع ہورہے ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ عزاداری کے سلسلے میں ہر منفی قدم کو واپس لے اور پاکستان کے آئین و دستور کے مطابق تمام عزاداران حسینی کو حق ملے کہ وہ آزادی کے ساتھ عزاداری سید الشہداءؑ انجام دیں۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت کے غلط اقدامات کی وجہ سے عزاداران حسینی کے پیمانے چھلک جائیں۔انہوں نے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں شرکت کیلئے تیار رہیں ۔جس کے باعث شہریوں میں بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اہل بست و کشاد ہوش کے ناخن لیں اور عزاداری سید الشہداءپر کی گئی ایف آئی آرز کو فوری واپس لیں اور آئندہ ایسے اقدامات سے بھی گریز کریں۔