آیت اللہ سعید الحکیم کی وفات عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے، مولانا سید ضیاءالحسن نجفی

  Click to listen highlighted text! لاہور : جامعہ المنتظر ماڈل ٹاؤن لاہور میں حوزہ علمیہ نجف اشرف کے مجتہد آیت اللہ العظمی سیدمحمد سعید الحکیم کے ایصال ثواب کے لیے مجلس ترحیم کا اہتمام کیا گیا۔ مجلس سے خطاب میں مولانا سید ضیاءالحسن نجفی نے کہا کہ سید سعید الحکیم مرحوم کی علمی اور دینی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ بلند پایہ عالم اور فقیہ تھے۔ جنہوں نے صدام آمریت میں قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اسلامی حکومت کے خلاف کسی اقدام سے انکاری رہے۔مرحوم مجتہد کی وفات عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا سید سعید الحکیم 60 کے عشرے میں شیعہ مسلک کے واحد مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ سید محسن الحکیم کے نواسے اور شاگرد تھے۔سید سعید الحکیم نے عراق پر قابض کمیونسٹ بعث پارٹی کے ظالمانہ دور حکومت میں اسلامی معارف کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔1983ءمیں ایران سے جنگ کے دوران صدام نے سید سعید الحکیم سے ایران کی اسلامی حکومت کے خلاف بیان دلوانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جرآت و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کیا جس پر انہیں خاندان سمیت قید و بند میں ڈال دیا گیا جہاں وہ 8 سال قیدرہے۔انہوں نے کہا کہ صدام کی بعثی حکومت نے دیگر سینکڑوں شیعہ، سنی علماءکو قتل کرنے کے علاوہ فقط آ یت اللہ محسن الحکیم کے خاندان کے 16 افراد کو شہید کیا جن میں زیادہ تر علماءتھے۔

لاہور : جامعہ المنتظر ماڈل ٹاؤن لاہور میں حوزہ علمیہ نجف اشرف کے مجتہد آیت اللہ العظمی سیدمحمد سعید الحکیم کے ایصال ثواب کے لیے مجلس ترحیم کا اہتمام کیا گیا۔ مجلس سے خطاب میں مولانا سید ضیاءالحسن نجفی نے کہا کہ سید سعید الحکیم مرحوم کی علمی اور دینی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ بلند پایہ عالم اور فقیہ تھے۔ جنہوں نے صدام آمریت میں قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اسلامی حکومت کے خلاف کسی اقدام سے انکاری رہے۔مرحوم مجتہد کی وفات عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا سید سعید الحکیم 60 کے عشرے میں شیعہ مسلک کے واحد مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ سید محسن الحکیم کے نواسے اور شاگرد تھے۔سید سعید الحکیم نے عراق پر قابض کمیونسٹ بعث پارٹی کے ظالمانہ دور حکومت میں اسلامی معارف کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔1983ءمیں ایران سے جنگ کے دوران صدام نے سید سعید الحکیم سے ایران کی اسلامی حکومت کے خلاف بیان دلوانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جرآت و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کیا جس پر انہیں خاندان سمیت قید و بند میں ڈال دیا گیا جہاں وہ 8 سال قیدرہے۔انہوں نے کہا کہ صدام کی بعثی حکومت نے دیگر سینکڑوں شیعہ، سنی علماءکو قتل کرنے کے علاوہ فقط آ یت اللہ محسن الحکیم کے خاندان کے 16 افراد کو شہید کیا جن میں زیادہ تر علماءتھے۔