معاہدہ توڑا نہیں جاتا

گرمی کے موسم میں ایک دن ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی دھوپ میں ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے تھے دن بہت گرم تھا دھوپ پیغمبر اسلام کے سر اور چہرہ مبارک پر پڑ رہی تھی پیغمبر اسلام کی پیشانی سے پسینہ ٹپک رہا تھا گرمی کی شدت سے کبھی اپنی جگہ سے اٹھتے اور پھر بیٹھ جاتے اور ایک جانب نگاہ کرتے کہ گویا کسی کے انتظار میں بیٹھے ہیں پیغمبر اسلام کے اصحاب کا ایک گروہ اس نظارے کو دور سے بیٹھ کر دیکھ رہا تھا وہ جلدی سے آئے تاکہ دیکھیں کہ کیا وجہ ہے سامنے آئے سلام کیا اور کہا! یا رسول اللہ اس گرمی کے عالم میں آپ کیوں دھوپ میں بیٹھے ہوئے ہیں رسول خدا نے فرمایا! صبح کے وقت جب ہوا ٹھنڈی تھی تو میں نے ایک شخص کے ساتھ وعدہ کیا کہ میں اس کا انتظار کروں گا وہ یہاں آجائے۔ اب بہت دیر ہوگئی ہے اور میں یہاں اس کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں دھوپ ہے اور آپ کو تکلیف ہورہی ہے۔ وہاں سایہ کے نیچے چل کر بیٹھئے اور اس کا انتظار کیجئے پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ میں نے اس آدمی سے یہاں کا وعدہ کیا ہے میں وعدہ خلافی نہیں کرتا اور اپنے پیمان کو نہیں توڑتا جب تک وہ نہ آئے میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا۔
پیارے بچو! ہمارے پیغمبر اسلام عہد و پیمان کو بہت اہمیت دیتے تھے اور پیمان کو توڑنا بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے اور ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص عہدو پیمان کی وفا نہ کرے دیندار نہیں ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ مسلمان اور مومن انسان ہمیشہ اپنے عہدوپیمان کا وفادار ہوتا ہے اور کبھی اپنے پیمان کو نہیں توڑتا اور یہ بھی فرماتے تھے کہ جو انسان سچا امانتدار اور خوش اخلاق ہواور اپنے عہد و پیمان کی وفا کرے تو آخرت میں مجھ سے زیادہ نزدیک ہوگا قرآن بھی تمام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے عہدو پیمان کی وفا کریں کیونکہ قیامت کے دن عہد اور وفا کے بارے میں سوال و جواب ہوگا۔
مذاق اڑانا
دوستو! اگر آپ کا کوئی مذاق اڑائے تو آپ کی کیا حالت ہوگی۔ کیا آپ ناراض ہوں گے؟
اگر آپ درس پڑھتے وقت کوئی غلطی کریں اور دوسرے آپ کا مذاق اڑائیں اور آپ کی نقل اتاریں تو کیا آپ ناراض ہوتے ہیں کیا آپ کو یہ برا لگتا ہے کیا اسے ایک بے ادب انسان شمار کرتے ہیں دوسرے بھی آپ کی طرح مذاق اڑائے جانے پر ناراض ہوتے ہیں اور تمسخر و مذاق اڑانے والے کو دوست نہیں رکھتے اور خدا بھی مذاق اڑانے والے کو دوست نہیں رکھتا اور اسے سخت سزا دیتا ہے۔ خداوند عالم قرآن مجید میں انسانوں کو مذاق اڑانے اور مسخرہ کرنے سے منع کرتا ہے اور فرماتا ہے:
”اے انسانو! جو خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو خبردار تم میں سے کوئی کسی دوسرے کا مذاق نہ اڑائے کیونکہ ممکن ہے کہ اپنے سے بہتر کا مذاق اڑا رہا ہو ایک دوسرے کو برا نہ کہو اور ایک دوسرے کو برے اور بھدے(نامناسب) ناموں سے نہ بلاﺅ ایک مسلمان کے لئے برا ہے کہ وہ کسی کی توہین کرے اور اسے معمولی شمار کرے پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے! جو شخص کسی مسلمان کا تمسخر یا مذاق اڑائے اور اس کی توہین کرے یا اسے معمولی سمجھ کر تکلیف دے تو اس کا یہ کام ایسا ہی ہے جیسے اس نے مجھ سے جنگ کی ہو۔

  Click to listen highlighted text! گرمی کے موسم میں ایک دن ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی دھوپ میں ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے تھے دن بہت گرم تھا دھوپ پیغمبر اسلام کے سر اور چہرہ مبارک پر پڑ رہی تھی پیغمبر اسلام کی پیشانی سے پسینہ ٹپک رہا تھا گرمی کی شدت سے کبھی اپنی جگہ سے اٹھتے اور پھر بیٹھ جاتے اور ایک جانب نگاہ کرتے کہ گویا کسی کے انتظار میں بیٹھے ہیں پیغمبر اسلام کے اصحاب کا ایک گروہ اس نظارے کو دور سے بیٹھ کر دیکھ رہا تھا وہ جلدی سے آئے تاکہ دیکھیں کہ کیا وجہ ہے سامنے آئے سلام کیا اور کہا! یا رسول اللہ اس گرمی کے عالم میں آپ کیوں دھوپ میں بیٹھے ہوئے ہیں رسول خدا نے فرمایا! صبح کے وقت جب ہوا ٹھنڈی تھی تو میں نے ایک شخص کے ساتھ وعدہ کیا کہ میں اس کا انتظار کروں گا وہ یہاں آجائے۔ اب بہت دیر ہوگئی ہے اور میں یہاں اس کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں دھوپ ہے اور آپ کو تکلیف ہورہی ہے۔ وہاں سایہ کے نیچے چل کر بیٹھئے اور اس کا انتظار کیجئے پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ میں نے اس آدمی سے یہاں کا وعدہ کیا ہے میں وعدہ خلافی نہیں کرتا اور اپنے پیمان کو نہیں توڑتا جب تک وہ نہ آئے میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا۔ پیارے بچو! ہمارے پیغمبر اسلام عہد و پیمان کو بہت اہمیت دیتے تھے اور پیمان کو توڑنا بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے اور ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص عہدو پیمان کی وفا نہ کرے دیندار نہیں ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ مسلمان اور مومن انسان ہمیشہ اپنے عہدوپیمان کا وفادار ہوتا ہے اور کبھی اپنے پیمان کو نہیں توڑتا اور یہ بھی فرماتے تھے کہ جو انسان سچا امانتدار اور خوش اخلاق ہواور اپنے عہد و پیمان کی وفا کرے تو آخرت میں مجھ سے زیادہ نزدیک ہوگا قرآن بھی تمام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے عہدو پیمان کی وفا کریں کیونکہ قیامت کے دن عہد اور وفا کے بارے میں سوال و جواب ہوگا۔ مذاق اڑانا دوستو! اگر آپ کا کوئی مذاق اڑائے تو آپ کی کیا حالت ہوگی۔ کیا آپ ناراض ہوں گے؟ اگر آپ درس پڑھتے وقت کوئی غلطی کریں اور دوسرے آپ کا مذاق اڑائیں اور آپ کی نقل اتاریں تو کیا آپ ناراض ہوتے ہیں کیا آپ کو یہ برا لگتا ہے کیا اسے ایک بے ادب انسان شمار کرتے ہیں دوسرے بھی آپ کی طرح مذاق اڑائے جانے پر ناراض ہوتے ہیں اور تمسخر و مذاق اڑانے والے کو دوست نہیں رکھتے اور خدا بھی مذاق اڑانے والے کو دوست نہیں رکھتا اور اسے سخت سزا دیتا ہے۔ خداوند عالم قرآن مجید میں انسانوں کو مذاق اڑانے اور مسخرہ کرنے سے منع کرتا ہے اور فرماتا ہے: ”اے انسانو! جو خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو خبردار تم میں سے کوئی کسی دوسرے کا مذاق نہ اڑائے کیونکہ ممکن ہے کہ اپنے سے بہتر کا مذاق اڑا رہا ہو ایک دوسرے کو برا نہ کہو اور ایک دوسرے کو برے اور بھدے(نامناسب) ناموں سے نہ بلاﺅ ایک مسلمان کے لئے برا ہے کہ وہ کسی کی توہین کرے اور اسے معمولی شمار کرے پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے! جو شخص کسی مسلمان کا تمسخر یا مذاق اڑائے اور اس کی توہین کرے یا اسے معمولی سمجھ کر تکلیف دے تو اس کا یہ کام ایسا ہی ہے جیسے اس نے مجھ سے جنگ کی ہو۔