بندگی میں اخلاص، شادمانی اور فخرومباہات کا سبب

  Click to listen highlighted text! آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی ”اے ابو ذرؓ! کوئی صبح و شام ایسی نہیں ہے مگر یہ کہ زمین کا چپا چپا ایک دوسرے سے کہتا ہے: اے میرے ہمسایہ! کیا تم پر کوئی ایسا وقت گزرا جو ذکر خدا کرے، یا کوئی ایسا بندہ جو خدا کو سجدہ کرنے کے لئے تجھ پر پریشانی رکھے؟ بعض کہتے ہیں: ہاں اور بعض کہتے ہیں: نہیں، جو بھی ہاں کہے وہ اپنے اوپر ناز اور شادمانی کرتا ہے اور اپنے کو دوسروں پر برتر جانتا ہے۔“ (رسول اکرم ؐ) جس کی طرف اس حدیث شریف میں اشارہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ جس زمین پر خدا کا بندہ عبادت کرتا ہے اور سجدہ کرنے کے لئے اپنی پیشانی اس پر رکھتا ہے وہ اپنے اوپر ناز کرتے ہوئے مخرومباہات کرتی ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اس ناز کرنے اور فخر و مباہات کا راز کیا ہے؟ اس کا راز یہ ہے کہ جو چیز بنیادی طور پر خدا کے سامنے قدرو قیمت رکھتی ہے وہ اس کی طرف توجہ ہے اور دوسرے کام اس وقت قدرو منزلت رکھتے ہیں، جب خدا کی توجہ کے ہمراہ اور قربت الی اللہ انجام پائیں۔ کام اس وقت خدا کے لئے انجام پاتا ہے جب انسان خدا کی یاد میں ہو ورنہ جو خدائے متعال سے غافل ہو، اس کا کام قربۃ الی اللہ انجام نہیں پاتا ہے بلکہ وہ کام یا اپنے دل کی مرضی یا اپنے دل کی خوشی کے لئے یا دیگر مادی نیتوں سے انجام دیا جاتا ہے اور اس کی خدائے متعال کے پاس کوئی قیمت نہیں ہے۔ پس خدا کی یاد، اس کی طرف توجہ اور جو چیز انسان کو ذات ابدیت سے ملحق کرتی ہے وہ اصالت اور حقیقت رکھتی ہے اور اسی طرح دوسری تمام چیزیں خدا کی یاد کے سائے میں قابل اہمیت ہیں اور خدا کی یاد کے بغیر ان کی کوئی حقیقت و اہمیت نہیں ہے۔ اس لحاظ سے، انسان کا حقیقی کمال خدا کی توجہ کے سائے میں حاصل ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو خدا کی طرف توجہ کے بغیر اور اعمال و عبادت کو قربۃ الی اللہ اور اخلاص کے بغیر انجام دینا بے روح بدن کی طرح ناچیز اور بے قیمت ہے۔ پس ہمارے تمام اعمال خدائے متعال کے لئے انجام پانا چاہیے: ”(اے پیغمبرؐ!) کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں اور اپنے دین کو اس کے لئے خالص قراردوں۔“ (سورہ زمرآیت ۱۱) اخلاص، خاص کر دین میں اخلاص پر خدائے متعال کی تاکید اس لئے ہے کہ انسان خدا کا بندہ ہے اور اسے خدا کی بندگی اور عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اسے اپنی زندگی کی راہ میں اور زندگی کے دوسرے تمام مراحل میں تکامل و ترقی، سعادت اور بالیدگی کی فکر میں ہونا چاہیے۔ یہ چیز اخلاص اور خدا کے سائے کے بغیر حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے عبادت کو خدا کے لئے خالص بنانا، دین کا سب سے بڑا حکم ہے کیونکہ انسان کے لئے خدا کے تقرب اور کمال تک پہنچنے کے لئے یہ بذات خود ایک اہم عامل ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ پر مخلصین کی ستائش کی گئی ہے حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں فرماتا ہے: ”اور اپنی کتاب میں موسیٰ ؑ کا بھی تذکرہ کرو کہ وہ میرے مخلص بندے اور رسول و نبی ؑ تھے۔“ (سورہ مریم آیت ۱۵) اخلاص بہترین عمل کا سبب مذکورہ مطالب کے پیش نظر جو چیز انسان کے عمل کو قدرو منزلت بخشتی ہے اور انسان کے لئے شیطان کے آشکار و مخفی پھندوں سے نجات پانے کا سبب بنتی ہے وہ خدائے متعال کی طرف توجہ دینا اور اخلاص ہے۔ اس لحاظ سے اگر مقدس ترین اور بڑے بڑے کام خدا کے لئے انجام نہ دیئے جائیں تو ان کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔ آیات و روایات کی تعبیر میں سب سے بہتر عمل جہاد ہے یہاں تک کہ خدائے متعال فرماتا ہے: ”اللہ نے اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں پر فضیلت و برتری عنایت کی ہے اور ہر ایک سے نیکی کا وعدہ کیا ہے اور مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں کے مقابلہ میں اجر عظیم عطا کیا ہے۔“ (سورہ نساء آیت ۵۹) اب اگر اس عظمت اور شوکت کے باوجود جہاد خدا کی مرضی کے بغیر اور غیر الہٰی قصد سے انجام دیا جائے تو اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ بعض روایتوں کے مطابق، صدر اسلام کی جنگوں میں سے ایک جنگ میں ایک شخص بڑی شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے قتل ہوا۔ اس شخص کی مجاہدت ودلیری نے دوسروں کو اس کی ستائش کرنے پر مجبور کردیا۔ اس لئے انہوں نے پیغمبر اسلام ؐ سے کہا: وہ شخص جس بہادری اور شجاعت سے لڑا، خدا کے نزدیک عظیم مقام رکھتا ہے۔ پیغمبر اکرمؐ نے جواب میں فرمایا: وہ خدا کی راہ میں شہید نہیں ہوا ہے بلکہ وہ اپنے گدہے کی راہ میں قتل ہوا ہے۔ (جب اس کا گدھا خوف و وحشت کی وجہ سے دشمن کی فوج میں گھس پڑا تھا تو وہ شخص اپنے گدہے کو حاصل کرنے کے لئے دشمنوں سے لڑ رہا تھا!) جی ہاں، ہر جہاد ومبارزہ اور قتل ہونا انسان کو کمال تک نہیں پہنچاتا ہے۔ بلکہ انسان کو وہ شہادت کمال تک پہنچاتی ہے جو خدا کی یاد کے ساتھ ہو، ہمارے عزیز شہداء کی طرح کہ (ایران عراق جنگ کے دوران نذر کرتے تھے کہ شہید ہو جائیں۔ بعض اوقات چالیس شب جمعہ یا شب بدھ کو مسجد جمکران جاتے تھے اور شہادت کے لئے درخواست و آرزو کرتے تھے۔ یہ شہادتیں چونکہ خدا کی یاد اور اس کی توجہ کے ساتھ ہیں اس لئے ان کی قدرو منزلت ہے۔ اعمال و رفتار، قدر و قیمت اور عظمت یا پستی انسان کی نیت پر منحصر ہے، اگر انسان کی نیت پاک ہو اور اس کا عمل خدا کے لئے انجام پائے تو اس عمل کی قدروقیمت ہے اب جس قدر خدا کی یاد زیادہ ہوگی اور محبت و معرفت الہٰی میں اضافہ ہوگا اسی اعتبار سے اس کے عمل کی قدرو قیمت بھی زیادہ ہوگی۔ اس کے مقابلہ میں اگر عمل خدا کی معرفت و محبت اور اس کی یاد اور توجہ کے بغیر انجام دیا جائے تو وہ اس جسد کے مانند ہے جو بے روح و بے خاصیت ہے۔ زمین کے حصے جب ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں تو وہ یہ نہیں کہتے ہیں: کہ کسی نے تم پر جہاد کیا یا تم پر انفاق کیا یا نہیں، بلکہ پوچھتے ہیں کہ کسی نے تمہارے اوپر خدا کو یاد کیا ہے یا نہیں؟ پس اگر انسان کا عمل خدا کی توجہ کے ساتھ انجام پائے تو وہ عبادت شمار ہوتا ہے اور اس صورت میں اس کا جہاد کرنا، نماز پڑھنا اور انفاق کرنا سب عبادت کہلائے گا۔ علم حاصل کرنا، تدریس، بحث و گفتگو حتیٰ تقریر سننا بھی عبادت میں شمار ہوگا لیکن اگر اخلاص نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کا عمل عبادت نہیں ہے بلکہ دوسروں کی توجہ مبذول کرنے کا ایک وسیلہ ہے! لہٰذا جو بات بہت ہی زیادہ قابل توجہ ہے اور جس کی اہمیت کو زمین کے ٹکڑے بھی درک کر چکے ہیں وہ خدا کی طرف توجہ اور اس کے دربار میں حاضری دینا ہے۔ جب ہم قرآن مجید کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہم کسی ایسے صفحہ کو نہیں پاتے جس پر خدا کے ذکر اور اس کی تسبیح کی بات نہ کہی گئی ہو۔ امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں: حضرت موسیٰ ؑ بن عمران نے خدائے متعال سے عرض کی: ”خداوندا! میرے لئے ایسے حالات پیش آتے ہیں ان حالات میں تجھے یاد کرنے میں مجھے شرم آتی ہے(شاید ان کا مقصود قضائے حاجت کے وقت ہو) خدائے متعال نے جواب میں فرمایا: اے موسیٰ ؑ! میرا ذکر ہر حالت میں نیک ہے۔“ اس لئے حتیٰ قضائے حاجت کرنے کے لئے بیت الخلاء میں جاتے وقت بھی بعض دعائیں نقل ہوئی ہیں تاکہ انسان اس حالت میں بھی خدا کی عبادت سے غافل نہ رہے کیونکہ خدائے متعال راضی نہیں ہوتا ہے حتیٰ ہماری عمر کا ایک لمحہ بھی اس کی توجہ اور عبادت کے بغیر گزرے اور انسانی کمال خدائے متعال کی عبادت و بندگی کے سایہ میں ہی ممکن ہے۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہر صورت اور ہر حالت میں خواہ ضعیف انداز میں کیوں نہ ہو لیکن خدا کی طرف توجہ رکھنی چاہیے۔ خدا کی یاد اور اس کی طرف توجہ ایک ایسی اکسیر ہے جو ہر ناچیز شئے پر لگادی جائے تو وہ گراں بہا چیز میں تبدیل ہو جاتی ہے یہ اکسیر ہی ہے جو ہماری زندگی کو قدرو قیمت بخشتی ہے۔

آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی

”اے ابو ذرؓ! کوئی صبح و شام ایسی نہیں ہے مگر یہ کہ زمین کا چپا چپا ایک دوسرے سے کہتا ہے: اے میرے ہمسایہ! کیا تم پر کوئی ایسا وقت گزرا جو ذکر خدا کرے، یا کوئی ایسا بندہ جو خدا کو سجدہ کرنے کے لئے تجھ پر پریشانی رکھے؟ بعض کہتے ہیں: ہاں اور بعض کہتے ہیں: نہیں، جو بھی ہاں کہے وہ اپنے اوپر ناز اور شادمانی کرتا ہے اور اپنے کو دوسروں پر برتر جانتا ہے۔“ (رسول اکرم ؐ)
جس کی طرف اس حدیث شریف میں اشارہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ جس زمین پر خدا کا بندہ عبادت کرتا ہے اور سجدہ کرنے کے لئے اپنی پیشانی اس پر رکھتا ہے وہ اپنے اوپر ناز کرتے ہوئے مخرومباہات کرتی ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اس ناز کرنے اور فخر و مباہات کا راز کیا ہے؟ اس کا راز یہ ہے کہ جو چیز بنیادی طور پر خدا کے سامنے قدرو قیمت رکھتی ہے وہ اس کی طرف توجہ ہے اور دوسرے کام اس وقت قدرو منزلت رکھتے ہیں، جب خدا کی توجہ کے ہمراہ اور قربت الی اللہ انجام پائیں۔ کام اس وقت خدا کے لئے انجام پاتا ہے جب انسان خدا کی یاد میں ہو ورنہ جو خدائے متعال سے غافل ہو، اس کا کام قربۃ الی اللہ انجام نہیں پاتا ہے بلکہ وہ کام یا اپنے دل کی مرضی یا اپنے دل کی خوشی کے لئے یا دیگر مادی نیتوں سے انجام دیا جاتا ہے اور اس کی خدائے متعال کے پاس کوئی قیمت نہیں ہے۔
پس خدا کی یاد، اس کی طرف توجہ اور جو چیز انسان کو ذات ابدیت سے ملحق کرتی ہے وہ اصالت اور حقیقت رکھتی ہے اور اسی طرح دوسری تمام چیزیں خدا کی یاد کے سائے میں قابل اہمیت ہیں اور خدا کی یاد کے بغیر ان کی کوئی حقیقت و اہمیت نہیں ہے۔ اس لحاظ سے، انسان کا حقیقی کمال خدا کی توجہ کے سائے میں حاصل ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو خدا کی طرف توجہ کے بغیر اور اعمال و عبادت کو قربۃ الی اللہ اور اخلاص کے بغیر انجام دینا بے روح بدن کی طرح ناچیز اور بے قیمت ہے۔ پس ہمارے تمام اعمال خدائے متعال کے لئے انجام پانا چاہیے:
”(اے پیغمبرؐ!) کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں اور اپنے دین کو اس کے لئے خالص قراردوں۔“ (سورہ زمرآیت ۱۱)
اخلاص، خاص کر دین میں اخلاص پر خدائے متعال کی تاکید اس لئے ہے کہ انسان خدا کا بندہ ہے اور اسے خدا کی بندگی اور عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اسے اپنی زندگی کی راہ میں اور زندگی کے دوسرے تمام مراحل میں تکامل و ترقی، سعادت اور بالیدگی کی فکر میں ہونا چاہیے۔ یہ چیز اخلاص اور خدا کے سائے کے بغیر حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے عبادت کو خدا کے لئے خالص بنانا، دین کا سب سے بڑا حکم ہے کیونکہ انسان کے لئے خدا کے تقرب اور کمال تک پہنچنے کے لئے یہ بذات خود ایک اہم عامل ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ پر مخلصین کی ستائش کی گئی ہے حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں فرماتا ہے:
”اور اپنی کتاب میں موسیٰ ؑ کا بھی تذکرہ کرو کہ وہ میرے مخلص بندے اور رسول و نبی ؑ تھے۔“ (سورہ مریم آیت ۱۵)
اخلاص بہترین عمل کا سبب
مذکورہ مطالب کے پیش نظر جو چیز انسان کے عمل کو قدرو منزلت بخشتی ہے اور انسان کے لئے شیطان کے آشکار و مخفی پھندوں سے نجات پانے کا سبب بنتی ہے وہ خدائے متعال کی طرف توجہ دینا اور اخلاص ہے۔ اس لحاظ سے اگر مقدس ترین اور بڑے بڑے کام خدا کے لئے انجام نہ دیئے جائیں تو ان کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔ آیات و روایات کی تعبیر میں سب سے بہتر عمل جہاد ہے یہاں تک کہ خدائے متعال فرماتا ہے:
”اللہ نے اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں پر فضیلت و برتری عنایت کی ہے اور ہر ایک سے نیکی کا وعدہ کیا ہے اور مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں کے مقابلہ میں اجر عظیم عطا کیا ہے۔“ (سورہ نساء آیت ۵۹)
اب اگر اس عظمت اور شوکت کے باوجود جہاد خدا کی مرضی کے بغیر اور غیر الہٰی قصد سے انجام دیا جائے تو اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ بعض روایتوں کے مطابق، صدر اسلام کی جنگوں میں سے ایک جنگ میں ایک شخص بڑی شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے قتل ہوا۔ اس شخص کی مجاہدت ودلیری نے دوسروں کو اس کی ستائش کرنے پر مجبور کردیا۔ اس لئے انہوں نے پیغمبر اسلام ؐ سے کہا: وہ شخص جس بہادری اور شجاعت سے لڑا، خدا کے نزدیک عظیم مقام رکھتا ہے۔ پیغمبر اکرمؐ نے جواب میں فرمایا: وہ خدا کی راہ میں شہید نہیں ہوا ہے بلکہ وہ اپنے گدہے کی راہ میں قتل ہوا ہے۔ (جب اس کا گدھا خوف و وحشت کی وجہ سے دشمن کی فوج میں گھس پڑا تھا تو وہ شخص اپنے گدہے کو حاصل کرنے کے لئے دشمنوں سے لڑ رہا تھا!)
جی ہاں، ہر جہاد ومبارزہ اور قتل ہونا انسان کو کمال تک نہیں پہنچاتا ہے۔ بلکہ انسان کو وہ شہادت کمال تک پہنچاتی ہے جو خدا کی یاد کے ساتھ ہو، ہمارے عزیز شہداء کی طرح کہ (ایران عراق جنگ کے دوران نذر کرتے تھے کہ شہید ہو جائیں۔ بعض اوقات چالیس شب جمعہ یا شب بدھ کو مسجد جمکران جاتے تھے اور شہادت کے لئے درخواست و آرزو کرتے تھے۔ یہ شہادتیں چونکہ خدا کی یاد اور اس کی توجہ کے ساتھ ہیں اس لئے ان کی قدرو منزلت ہے۔
اعمال و رفتار، قدر و قیمت اور عظمت یا پستی انسان کی نیت پر منحصر ہے، اگر انسان کی نیت پاک ہو اور اس کا عمل خدا کے لئے انجام پائے تو اس عمل کی قدروقیمت ہے اب جس قدر خدا کی یاد زیادہ ہوگی اور محبت و معرفت الہٰی میں اضافہ ہوگا اسی اعتبار سے اس کے عمل کی قدرو قیمت بھی زیادہ ہوگی۔ اس کے مقابلہ میں اگر عمل خدا کی معرفت و محبت اور اس کی یاد اور توجہ کے بغیر انجام دیا جائے تو وہ اس جسد کے مانند ہے جو بے روح و بے خاصیت ہے۔
زمین کے حصے جب ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں تو وہ یہ نہیں کہتے ہیں: کہ کسی نے تم پر جہاد کیا یا تم پر انفاق کیا یا نہیں، بلکہ پوچھتے ہیں کہ کسی نے تمہارے اوپر خدا کو یاد کیا ہے یا نہیں؟ پس اگر انسان کا عمل خدا کی توجہ کے ساتھ انجام پائے تو وہ عبادت شمار ہوتا ہے اور اس صورت میں اس کا جہاد کرنا، نماز پڑھنا اور انفاق کرنا سب عبادت کہلائے گا۔ علم حاصل کرنا، تدریس، بحث و گفتگو حتیٰ تقریر سننا بھی عبادت میں شمار ہوگا لیکن اگر اخلاص نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کا عمل عبادت نہیں ہے بلکہ دوسروں کی توجہ مبذول کرنے کا ایک وسیلہ ہے! لہٰذا جو بات بہت ہی زیادہ قابل توجہ ہے اور جس کی اہمیت کو زمین کے ٹکڑے بھی درک کر چکے ہیں وہ خدا کی طرف توجہ اور اس کے دربار میں حاضری دینا ہے۔
جب ہم قرآن مجید کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہم کسی ایسے صفحہ کو نہیں پاتے جس پر خدا کے ذکر اور اس کی تسبیح کی بات نہ کہی گئی ہو۔
امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں: حضرت موسیٰ ؑ بن عمران نے خدائے متعال سے عرض کی:
”خداوندا! میرے لئے ایسے حالات پیش آتے ہیں ان حالات میں تجھے یاد کرنے میں مجھے شرم آتی ہے(شاید ان کا مقصود قضائے حاجت کے وقت ہو) خدائے متعال نے جواب میں فرمایا: اے موسیٰ ؑ! میرا ذکر ہر حالت میں نیک ہے۔“
اس لئے حتیٰ قضائے حاجت کرنے کے لئے بیت الخلاء میں جاتے وقت بھی بعض دعائیں نقل ہوئی ہیں تاکہ انسان اس حالت میں بھی خدا کی عبادت سے غافل نہ رہے کیونکہ خدائے متعال راضی نہیں ہوتا ہے حتیٰ ہماری عمر کا ایک لمحہ بھی اس کی توجہ اور عبادت کے بغیر گزرے اور انسانی کمال خدائے متعال کی عبادت و بندگی کے سایہ میں ہی ممکن ہے۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہر صورت اور ہر حالت میں خواہ ضعیف انداز میں کیوں نہ ہو لیکن خدا کی طرف توجہ رکھنی چاہیے۔ خدا کی یاد اور اس کی طرف توجہ ایک ایسی اکسیر ہے جو ہر ناچیز شئے پر لگادی جائے تو وہ گراں بہا چیز میں تبدیل ہو جاتی ہے یہ اکسیر ہی ہے جو ہماری زندگی کو قدرو قیمت بخشتی ہے۔