طالبان سربراہ کا خواتین کے حقوق پر سنجیدہ کارروائی کرنے کا فتویٰ

  Click to listen highlighted text! کابل : طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوانزادہ نے وزارتوں سے خواتین کے حقوق پر سنجیدہ کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایت ایک فتویٰ میں کی گئی جو اپنی نوعیت کا پہلا فتویٰ ہے۔ فتوے میں شادی اور بیواؤں کے حقوق کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی شخص زبردستی کسی خاتون سے شادی نہیں کر سکتا۔ بیوہ خاتون کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کو شوہر کی وراثت میں سے حصہ دیا جائے گا۔وزارت ثقافت و اطلاعات کو حکم دیا گیا ہے کہ خواتین کے حقوق پر مواد شائع کیا جائے تاکہ جاری حق تلفی کو روکا جا سکے ۔ تاہم فتوے میں لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔

کابل : طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوانزادہ نے وزارتوں سے خواتین کے حقوق پر سنجیدہ کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایت ایک فتویٰ میں کی گئی جو اپنی نوعیت کا پہلا فتویٰ ہے۔ فتوے میں شادی اور بیواؤں کے حقوق کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی شخص زبردستی کسی خاتون سے شادی نہیں کر سکتا۔ بیوہ خاتون کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کو شوہر کی وراثت میں سے حصہ دیا جائے گا۔وزارت ثقافت و اطلاعات کو حکم دیا گیا ہے کہ خواتین کے حقوق پر مواد شائع کیا جائے تاکہ جاری حق تلفی کو روکا جا سکے ۔ تاہم فتوے میں لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔