گرمیوں میں اپناخیال رکھیں

  Click to listen highlighted text! دوستو!گرمیوں میں ہمیں روزانہ نہانا چاہیے، اگرکسی کو گرمی دانے نکل آئیں تو پھر نہانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ گرمیوں میں گرمی دانے خاص طور پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں انہیں انگریزی میں ”پریکلی ہیٹ“ کہا جاتا ہے اور ٹھیک ہی کہا جاتا ہے۔ پریکلی (Prickle ) یعنی کانٹا ، کانٹے چبھنا، جسم پر گرمی دانے نکل آئیں تو ایسا لگتا ہے کہ جسم پر کانٹے اگ آئے ہیں یا کانٹے چبھوئے جارہے ہیں۔ بچے ایسی صورت حال میں بہت زیادہ گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ان دانوں میں شدید خارش ہوتی ہے۔ گرمی دانے عام طور پر اسی وقت زیادہ نکلتے ہیں جب موسم گرما ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جائے یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیں گرمی لگے تو ہمارا جسم ہمیں ٹھنڈک پہنچانے کی غرض سے پسینہ خارج کرتا ہے۔ پسینے کے غدود ہماری جلد کے نیچے واقع ہوتے ہیں ان غدود سے پسینہ تنگ نالیوں کے ذریعے ہماری جلد تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ نالیاں بند ہو جائیں تو پسینے کے غدود سے پسینہ بہہ کر جلد تک نہیں پہنچ پاتا اور راستے ہی میں اٹکا رہ جاتا ہے پھر یہ پسینہ بطور احتجاج گرمی دانوں کی شکل میں جلد پر ابھرتا ہے اگر پسینہ جلد کے بالکل نیچے رکا ہوتو جلدمیں ایسے چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہو جاتے ہیں گویا شبنم کے قطرے ہوں اگر پسینہ جلد کے نیچے زیادہ گہرائی میں رکا رہ جائے تو جلد پر لا تعداد سرخ دانے نکل آتے ہیں جن میں شدید خارش ہوتی ہے۔ پیارے بچوں ان گرمی دانوں سے بچنے کے لئے ضروری ہے جہاں تک ممکن ہو شدید گرمی سے بچیں۔ دھوپ میں براہ راست جانے سے پرہیزکریں اور اگر جانا ہی پڑے تو دھوپ سے بچاوث کا سامان مثلاً سن اسکرین (دھوپ کے نقصان دہ اثرات سے بچانے والے لوشن وغیرہ) یا چھتری کا اہتمام کریں۔ اگر دانے نکل آئے تو روزانہ نہا کر پریکلی ہیٹ پاو ¿ڈر لگائیں اور جہاں تک ممکن ہو کھلی ، ہوادار اور ٹھنڈی جگہ پر رہیں۔ گرمیوں میں پسینہ آنا ایک فطری بات ہے ، پسینے کی حالت میں کبھی بھی نہ نہائے اور نہ ہی پنکھے کے نیچے بیٹھیں۔ پسینہ تو لئے یا رومال سے خشک کریں اور پھر نہائے۔ نہانے کے بعد پنکھے کی ہوا نقصان پہنچا سکتی ہے۔لہٰذا پنکھے کی مصنوعی ہوا سے اپنے کودوررکھیں اور قدرتی ہوا کا انتظام کریں جیسے کھڑکی وغیرہ کھول لیں گرمیوں میں وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو نے پائے جو کہ پسینے کی صورت میں خارج ہوتی رہتی ہے۔

دوستو!گرمیوں میں ہمیں روزانہ نہانا چاہیے، اگرکسی کو گرمی دانے نکل آئیں تو پھر نہانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ گرمیوں میں گرمی دانے خاص طور پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں انہیں انگریزی میں ”پریکلی ہیٹ“ کہا جاتا ہے اور ٹھیک ہی کہا جاتا ہے۔ پریکلی (Prickle ) یعنی کانٹا ، کانٹے چبھنا، جسم پر گرمی دانے نکل آئیں تو ایسا لگتا ہے کہ جسم پر کانٹے اگ آئے ہیں یا کانٹے چبھوئے جارہے ہیں۔
بچے ایسی صورت حال میں بہت زیادہ گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ان دانوں میں شدید خارش ہوتی ہے۔ گرمی دانے عام طور پر اسی وقت زیادہ نکلتے ہیں جب موسم گرما ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جائے یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیں گرمی لگے تو ہمارا جسم ہمیں ٹھنڈک پہنچانے کی غرض سے پسینہ خارج کرتا ہے۔ پسینے کے غدود ہماری جلد کے نیچے واقع ہوتے ہیں ان غدود سے پسینہ تنگ نالیوں کے ذریعے ہماری جلد تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ نالیاں بند ہو جائیں تو پسینے کے غدود سے پسینہ بہہ کر جلد تک نہیں پہنچ پاتا اور راستے ہی میں اٹکا رہ جاتا ہے پھر یہ پسینہ بطور احتجاج گرمی دانوں کی شکل میں جلد پر ابھرتا ہے اگر پسینہ جلد کے بالکل نیچے رکا ہوتو جلدمیں ایسے چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہو جاتے ہیں گویا شبنم کے قطرے ہوں اگر پسینہ جلد کے نیچے زیادہ گہرائی میں رکا رہ جائے تو جلد پر لا تعداد سرخ دانے نکل آتے ہیں جن میں شدید خارش ہوتی ہے۔
پیارے بچوں ان گرمی دانوں سے بچنے کے لئے ضروری ہے جہاں تک ممکن ہو شدید گرمی سے بچیں۔ دھوپ میں براہ راست جانے سے پرہیزکریں اور اگر جانا ہی پڑے تو دھوپ سے بچاوث کا سامان مثلاً سن اسکرین (دھوپ کے نقصان دہ اثرات سے بچانے والے لوشن وغیرہ) یا چھتری کا اہتمام کریں۔ اگر دانے نکل آئے تو روزانہ نہا کر پریکلی ہیٹ پاو ¿ڈر لگائیں اور جہاں تک ممکن ہو کھلی ، ہوادار اور ٹھنڈی جگہ پر رہیں۔
گرمیوں میں پسینہ آنا ایک فطری بات ہے ، پسینے کی حالت میں کبھی بھی نہ نہائے اور نہ ہی پنکھے کے نیچے بیٹھیں۔ پسینہ تو لئے یا رومال سے خشک کریں اور پھر نہائے۔ نہانے کے بعد پنکھے کی ہوا نقصان پہنچا سکتی ہے۔لہٰذا پنکھے کی مصنوعی ہوا سے اپنے کودوررکھیں اور قدرتی ہوا کا انتظام کریں جیسے کھڑکی وغیرہ کھول لیں گرمیوں میں وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو نے پائے جو کہ پسینے کی صورت میں خارج ہوتی رہتی ہے۔