نظام حکومت

  Click to listen highlighted text! شہید قائد علامہ عارف حسین حسینی علیہ الرحمۃ کے دئے گئے الہی سیاسی منشور “ہمارا راستہ” سے ایک باب (ص 24 الی 26) – یہ منشور شہید حسینی (رہ) نے 6 جولائی 1987ء کو لاہور میں ہونے والی قرآن و سنت کانفرنس میں پیش کیا تھا۔ —— اسلامی نظام حکومت کی بنیاد یہ ہے کہ حق حاکمیت صرف اور صرف خدا کو حاصل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان آزاد ہے اور کوئی شخص طبقہ یا گروہ اس پر حکمرانی نہیں رکھتا۔ حکومت و ملکیت فقط اللہ کے لئے ہے۔ انسان خلیفۃاللہ کی حیثیت سے ارض خدا پر تصرف کرتا ہے لیکن اس کے باوجود انسان کو حاکمیت اور فرمانروائی کا حق حاصل نہیں ہے۔ وہ صرف حامل امانت کی حیثیت سے خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔خلافت الہی کے اسی تصور کے حوالے سے اسلامی حکومت کے بنیادی اہداف یہ ہیں؛ اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت ہوانسان پر انسان کے غلبے کا خاتمہ ہو چاہے وہ فرد کی صورت میں ہو یا گروہ کی صورت میںفرد اور معاشرے کو ہر قسم کے ظلم اور جبر اور استحصال سے نجات ملےانسان باہمی محبت، احترام، رواداری، مواخات اور مساوات کی بنیاد پر اس طرح سے زندگی گزاریں کہ انسانی معاشرہ جنت نظیر ہو جائے۔نظم معاشرہ برقرار رہےمعاشرے میں تقوی کے علاوہ فضیلت اور برتری کا ہر معیار باطل ہو جائے۔ اسی تصور حکومت اور انہی اہدافِ حکومت کے پیش نظر پاکستان میں نظام حکومت کے خدوخال اور خطوط یہ ہوں گے۔ سر چشمہ آئین و قانونقرآن و سنت پاکستان کے آئین اور قانون کا سرچشمہ ہوں گے۔ آئین کی کوئی دفعہ یا کوئی قانون ہرگز خلافِ قرآن اور سنت نہیں ہوگا۔ ہر مسلمہ اسلامی مکتب فکر کے لیے قرآن و سنت کی وہی تعبیر معتبر ہوگی جو اس کے ہاں مسلم ہے۔ ریاستی ادارےریاست کے تین بنیادی ادارے یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ باہم مربوط مگر کاملاً آزاد ہوں گے۔ مقننہ پارلیمانی نظام کے تحت دو ایوانی مقننہ ہو گی۔اراکین مقننہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہتعلیم یافتہ ہوںکسی بھی شعبہ زندگی (سیاسی، سماجی، معاشی ثقافتی اور اخلاقی) میں خلافِ شریعت کوئی کام سرانجام نہ دیتے ہوں۔آئین اور قانون سازی کے امور سے واقفیت رکھتے ہوں اوربنیادی اسلامی احکام سے آگاہ ہوں۔ انتخاباتانتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے تاہم آزاد امیدوار کو انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔پارلیمنٹ کے اراکین آزاد اور براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہوں گے- ووٹر کی عمرامور مملکت میں رائے دینے کے لئے ووٹر کی عمر کم از کم سولہ سال ہو گی۔ سیاسی جماعتیںمذکورہ اہداف کے حصول کے لیے سیاسی جماعت بنانے کی آزادی ہو گی۔ سیاست میں حصہ لینے والے کسی فرد یا گروہ کو مشرق و مغرب کی استعماری طاقت سے وابستگی کی ہرگز اجازت نہ ہوگی البتہ امورمملکت سیاست میں شرکت کے لئے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ضروری نہ ہوگی۔ مارشل لاءملک میں کسی صورت میں اور کسی حصے میں کسی بھی عرصے کے لئے مارشل لا کے نفاذ کی ہرگز اجازت نہ ہو گی کیونکہ مارشل لاء کا نفاذ اصطلاح قرآن میں خدا اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کا مترادف ہے۔

شہید قائد علامہ عارف حسین حسینی علیہ الرحمۃ کے دئے گئے الہی سیاسی منشور “ہمارا راستہ” سے ایک باب (ص 24 الی 26) – یہ منشور شہید حسینی (رہ) نے 6 جولائی 1987ء کو لاہور میں ہونے والی قرآن و سنت کانفرنس میں پیش کیا تھا۔ ——

اسلامی نظام حکومت کی بنیاد یہ ہے کہ حق حاکمیت صرف اور صرف خدا کو حاصل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان آزاد ہے اور کوئی شخص طبقہ یا گروہ اس پر حکمرانی نہیں رکھتا۔ حکومت و ملکیت فقط اللہ کے لئے ہے۔ انسان خلیفۃاللہ کی حیثیت سے ارض خدا پر تصرف کرتا ہے لیکن اس کے باوجود انسان کو حاکمیت اور فرمانروائی کا حق حاصل نہیں ہے۔ وہ صرف حامل امانت کی حیثیت سے خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔
خلافت الہی کے اسی تصور کے حوالے سے اسلامی حکومت کے بنیادی اہداف یہ ہیں؛

  • اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت ہو
  • انسان پر انسان کے غلبے کا خاتمہ ہو چاہے وہ فرد کی صورت میں ہو یا گروہ کی صورت میں
  • فرد اور معاشرے کو ہر قسم کے ظلم اور جبر اور استحصال سے نجات ملے
  • انسان باہمی محبت، احترام، رواداری، مواخات اور مساوات کی بنیاد پر اس طرح سے زندگی گزاریں کہ انسانی معاشرہ جنت نظیر ہو جائے۔
  • نظم معاشرہ برقرار رہے
  • معاشرے میں تقوی کے علاوہ فضیلت اور برتری کا ہر معیار باطل ہو جائے۔

اسی تصور حکومت اور انہی اہدافِ حکومت کے پیش نظر پاکستان میں نظام حکومت کے خدوخال اور خطوط یہ ہوں گے۔

سر چشمہ آئین و قانون
قرآن و سنت پاکستان کے آئین اور قانون کا سرچشمہ ہوں گے۔ آئین کی کوئی دفعہ یا کوئی قانون ہرگز خلافِ قرآن اور سنت نہیں ہوگا۔ ہر مسلمہ اسلامی مکتب فکر کے لیے قرآن و سنت کی وہی تعبیر معتبر ہوگی جو اس کے ہاں مسلم ہے۔

ریاستی ادارے
ریاست کے تین بنیادی ادارے یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ باہم مربوط مگر کاملاً آزاد ہوں گے۔

مقننہ

  • پارلیمانی نظام کے تحت دو ایوانی مقننہ ہو گی۔
  • اراکین مقننہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ
  • تعلیم یافتہ ہوں
  • کسی بھی شعبہ زندگی (سیاسی، سماجی، معاشی ثقافتی اور اخلاقی) میں خلافِ شریعت کوئی کام سرانجام نہ دیتے ہوں۔
  • آئین اور قانون سازی کے امور سے واقفیت رکھتے ہوں اور
  • بنیادی اسلامی احکام سے آگاہ ہوں۔

انتخابات
انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے تاہم آزاد امیدوار کو انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔
پارلیمنٹ کے اراکین آزاد اور براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہوں گے-

ووٹر کی عمر
امور مملکت میں رائے دینے کے لئے ووٹر کی عمر کم از کم سولہ سال ہو گی۔

سیاسی جماعتیں
مذکورہ اہداف کے حصول کے لیے سیاسی جماعت بنانے کی آزادی ہو گی۔ سیاست میں حصہ لینے والے کسی فرد یا گروہ کو مشرق و مغرب کی استعماری طاقت سے وابستگی کی ہرگز اجازت نہ ہوگی البتہ امورمملکت سیاست میں شرکت کے لئے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ضروری نہ ہوگی۔

مارشل لاء
ملک میں کسی صورت میں اور کسی حصے میں کسی بھی عرصے کے لئے مارشل لا کے نفاذ کی ہرگز اجازت نہ ہو گی کیونکہ مارشل لاء کا نفاذ اصطلاح قرآن میں خدا اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کا مترادف ہے۔