بلتستان میں درزی، نائی، موچی اساتذہ بھرتی ہونے کی کہانیاں

تحریر: ایل اے انجم

گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری محی الدین وانی کی جانب سے جی بی کے سرکاری اساتذہ کا دوبارہ اہلیت ٹیسٹ لینے کے اعلان کے بعد نئی بحث چھڑ گئی۔ جی بی کے چیف سیکرٹری نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ سرکاری سکولوں کے ٹیچر اگر پڑھانے کی اہلیت نہیں رکھتے تو وہ گھر بیٹھ جائیں اور تنخواہ لیں، ہمیں اہلیت والے اساتذہ کی ضرورت ہے، اس لیے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کا دوبارہ اہلیت ٹیسٹ لیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری کے اعلان نے جی بی میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

نوجوانوں کا اکثر طبقہ اس حق میں ہے کہ ٹیچرز کا دوبارہ اہلیت ٹیسٹ لیا جانا ضروری ہے، کیونکہ ماضی تین تین لاکھ روپے کے عوض سینکڑوں نااہل افراد کو ٹیچر بھرتی کیا گیا، جس کا خمیازہ نسلیں بھگت رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اساتذہ کا اہلیت ٹیسٹ لینے کی نوبت کیون آسکتی ہے اور جس کی وجوہات کیا ہیں۔ اس کے جواب کیلئے ہمیں تھوڑا ماضی میں جانا ہوگا۔ تاہم ایک طبقے کا کہنا ہے کہ قانون میں ایسی کوئی شق نہیں کہ جس کے تحت برسوں سے کام کرنے والے سرکاری اساتذہ کا دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے، تاہم حکومت اساتذہ کی ترقی ان کی کارکردگی سے مشروط کر سکتی ہے۔

 غیر قانونی بھرتیوں کی بدترین تاریخ
2000ء سے 2013ء کے دوران گلگت بلتستان خصوصاً بلتستان ریجن میں محکمہ تعلیم میں غیر قانونی بھرتیوں کی لوٹ سیل لگائی گئی۔ تین تین لاکھ روپے میں کسی بھی شخص کو ٹیچر کی ملازمت باآسانی مل جاتی تھی، اس دورانیے میں کم از کم تین سو سے زائد افراد کو پیسوں کے عوض ٹیچر بھرتی کیا گیا۔ اس طرح بلتستان ریجن کے تقریباً تمام پرائمری سکول نااہل اساتذہ سے بھرتی گئے۔ غیر قانونی بھرتیوں کا الزام پیپلزپارٹی کی سابق حکومت پر لگا اور ان بھرتیوں میں پی پی حکومت کے ایک وزیر، ایک سیکرٹری، ایک کلرک اور سابق ڈائریکٹر ایجوکیشن کے نام سامنے آتے رہے۔

سکروٹنی، درجنوں اساتذہ کی برطرفی و بحالی
سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ کے دور میں اس وقت کے چیف سیکرٹری یونس ڈھاگا نے محکمہ تعلیم میں غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف شکنجہ کسنے کی تیاری کی۔ چور دروازے سے بھرتی ہونے والے اساتذہ کی سکروٹنی اور ان کی ڈگریوں کی تصدیق کیلئے تین کمیٹیاں بنیں۔ ایک کمیٹی نے تمام اساتذہ کو نااہل قرار دیا۔ دوسری کمیٹی نے سب کو اہل کر دیا جبکہ تیسری کمیٹی نے بعض کو اہل اور بعض کو فارغ کرنے کی سفارش کی۔ محکمہ تعلیم میں یہ سکروٹنی 2014ء میں ہوئی۔ اس دوران درجنوں اساتذہ کو مختلف کمیٹیوں کی رپورٹ پر فارغ کیا گیا۔ جس کے خلاف سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نے سخت سٹینڈ لیا اور استعفے کی دھمکی دے ڈالی۔ سید مہدی شاہ اور یونس ڈھاگا کے مابین اختلافات سنگین ہوتے گئے۔

 

سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ کی جانب سے استعفے کی دھمکی کے بعد معاملے کو سلجھانے کیلئے ایک بڑا جرگہ ہوا، جس میں اس وقت کے سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔ جرگے نے اساتذہ کو دوبارہ بحال کرنے کی سفارش کی، جس کے نتیجے میں کئی اساتذہ دوبارہ بحال ہوئے۔ بحال نہ ہونے والے اساتذہ عدالت پہنچ گئے، عدالت نے انہیں بھی بحال کر دیا۔ اس کے بعد اس سے ملتے جلتے کیس میں ایک سو نوے کے قریب اساتذہ کو فارغ کیا گیا۔ یہ اساتذہ بھی عدالت پہنچ گئے۔ ان کے کیس کا فیصلہ رواں سال آیا۔ چیف کورٹ نے ان تمام اساتذہ کو بھی بحال کرنے کا حکم دیا۔

عجب کرپشن کی غضب کہانیاں
سابق چیف سیکرٹری یونس ڈھاگا نے غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔ ان اساتذہ کی سکروٹنی کے دوران کرپشن، غیر قانونی بھرتیوں کی حیران کن کہانیاں سامنے آگئیں۔ مختلف انکوائری رپورٹوں میں انکشاف ہوا کہ دو سے تین لاکھ روپے میں بلتستان ریجن میں تین سو سے زائد ٹیچروں کو بھرتی کیا گیا۔ بھرتی ہونے والے اساتذہ میں درزی، نائی موچی بھی شامل تھے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بھرتی ہونے والا ایک ٹیچر تو دوبئی میں بیٹھا کاروبار کر رہا ہے اور تنخواہ سکردو سے پوری پوری لے رہا ہے۔

ایک شخص تین لاکھ روپے لے کر گریڈ ون کی ملازمت کیلئے گیا، لیکن گریڈ ون کی پوسٹ نہ ہونے پر اسے ٹیچر بھرتی کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایک سرکاری افسر کے گھر کام کرنے والے خانساماں کو بھی ٹیچر بھرتی کیا گیا ہے۔ ٹیچر بھرتی ہونے والے ایک شخص کا ”آئی کیو” لیول مکمل زیرو ہونے پر اسے گریڈ ون بنا دیا گیا۔ ایک درزی کے بارے میں بھی انکشاف ہوا کہ وہ بھی ٹیچر بھرتی ہوا ہے۔ کئی ٹیچروں کی ڈگریاں بھی جعلی نکلیں۔ غیر قانونی بھرتیوں کی فہرست میں بڑی نامی گرامی شخصیات کے نام سامنے آگئے، جن میں سیاستداں اور ان کے رشتیدار بھی شامل ہیں۔

  Click to listen highlighted text! تحریر: ایل اے انجم گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری محی الدین وانی کی جانب سے جی بی کے سرکاری اساتذہ کا دوبارہ اہلیت ٹیسٹ لینے کے اعلان کے بعد نئی بحث چھڑ گئی۔ جی بی کے چیف سیکرٹری نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ سرکاری سکولوں کے ٹیچر اگر پڑھانے کی اہلیت نہیں رکھتے تو وہ گھر بیٹھ جائیں اور تنخواہ لیں، ہمیں اہلیت والے اساتذہ کی ضرورت ہے، اس لیے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کا دوبارہ اہلیت ٹیسٹ لیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری کے اعلان نے جی بی میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نوجوانوں کا اکثر طبقہ اس حق میں ہے کہ ٹیچرز کا دوبارہ اہلیت ٹیسٹ لیا جانا ضروری ہے، کیونکہ ماضی تین تین لاکھ روپے کے عوض سینکڑوں نااہل افراد کو ٹیچر بھرتی کیا گیا، جس کا خمیازہ نسلیں بھگت رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اساتذہ کا اہلیت ٹیسٹ لینے کی نوبت کیون آسکتی ہے اور جس کی وجوہات کیا ہیں۔ اس کے جواب کیلئے ہمیں تھوڑا ماضی میں جانا ہوگا۔ تاہم ایک طبقے کا کہنا ہے کہ قانون میں ایسی کوئی شق نہیں کہ جس کے تحت برسوں سے کام کرنے والے سرکاری اساتذہ کا دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے، تاہم حکومت اساتذہ کی ترقی ان کی کارکردگی سے مشروط کر سکتی ہے۔  غیر قانونی بھرتیوں کی بدترین تاریخ 2000ء سے 2013ء کے دوران گلگت بلتستان خصوصاً بلتستان ریجن میں محکمہ تعلیم میں غیر قانونی بھرتیوں کی لوٹ سیل لگائی گئی۔ تین تین لاکھ روپے میں کسی بھی شخص کو ٹیچر کی ملازمت باآسانی مل جاتی تھی، اس دورانیے میں کم از کم تین سو سے زائد افراد کو پیسوں کے عوض ٹیچر بھرتی کیا گیا۔ اس طرح بلتستان ریجن کے تقریباً تمام پرائمری سکول نااہل اساتذہ سے بھرتی گئے۔ غیر قانونی بھرتیوں کا الزام پیپلزپارٹی کی سابق حکومت پر لگا اور ان بھرتیوں میں پی پی حکومت کے ایک وزیر، ایک سیکرٹری، ایک کلرک اور سابق ڈائریکٹر ایجوکیشن کے نام سامنے آتے رہے۔ سکروٹنی، درجنوں اساتذہ کی برطرفی و بحالی سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ کے دور میں اس وقت کے چیف سیکرٹری یونس ڈھاگا نے محکمہ تعلیم میں غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف شکنجہ کسنے کی تیاری کی۔ چور دروازے سے بھرتی ہونے والے اساتذہ کی سکروٹنی اور ان کی ڈگریوں کی تصدیق کیلئے تین کمیٹیاں بنیں۔ ایک کمیٹی نے تمام اساتذہ کو نااہل قرار دیا۔ دوسری کمیٹی نے سب کو اہل کر دیا جبکہ تیسری کمیٹی نے بعض کو اہل اور بعض کو فارغ کرنے کی سفارش کی۔ محکمہ تعلیم میں یہ سکروٹنی 2014ء میں ہوئی۔ اس دوران درجنوں اساتذہ کو مختلف کمیٹیوں کی رپورٹ پر فارغ کیا گیا۔ جس کے خلاف سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نے سخت سٹینڈ لیا اور استعفے کی دھمکی دے ڈالی۔ سید مہدی شاہ اور یونس ڈھاگا کے مابین اختلافات سنگین ہوتے گئے۔   سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ کی جانب سے استعفے کی دھمکی کے بعد معاملے کو سلجھانے کیلئے ایک بڑا جرگہ ہوا، جس میں اس وقت کے سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔ جرگے نے اساتذہ کو دوبارہ بحال کرنے کی سفارش کی، جس کے نتیجے میں کئی اساتذہ دوبارہ بحال ہوئے۔ بحال نہ ہونے والے اساتذہ عدالت پہنچ گئے، عدالت نے انہیں بھی بحال کر دیا۔ اس کے بعد اس سے ملتے جلتے کیس میں ایک سو نوے کے قریب اساتذہ کو فارغ کیا گیا۔ یہ اساتذہ بھی عدالت پہنچ گئے۔ ان کے کیس کا فیصلہ رواں سال آیا۔ چیف کورٹ نے ان تمام اساتذہ کو بھی بحال کرنے کا حکم دیا۔ عجب کرپشن کی غضب کہانیاں سابق چیف سیکرٹری یونس ڈھاگا نے غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔ ان اساتذہ کی سکروٹنی کے دوران کرپشن، غیر قانونی بھرتیوں کی حیران کن کہانیاں سامنے آگئیں۔ مختلف انکوائری رپورٹوں میں انکشاف ہوا کہ دو سے تین لاکھ روپے میں بلتستان ریجن میں تین سو سے زائد ٹیچروں کو بھرتی کیا گیا۔ بھرتی ہونے والے اساتذہ میں درزی، نائی موچی بھی شامل تھے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بھرتی ہونے والا ایک ٹیچر تو دوبئی میں بیٹھا کاروبار کر رہا ہے اور تنخواہ سکردو سے پوری پوری لے رہا ہے۔ ایک شخص تین لاکھ روپے لے کر گریڈ ون کی ملازمت کیلئے گیا، لیکن گریڈ ون کی پوسٹ نہ ہونے پر اسے ٹیچر بھرتی کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایک سرکاری افسر کے گھر کام کرنے والے خانساماں کو بھی ٹیچر بھرتی کیا گیا ہے۔ ٹیچر بھرتی ہونے والے ایک شخص کا ”آئی کیو” لیول مکمل زیرو ہونے پر اسے گریڈ ون بنا دیا گیا۔ ایک درزی کے بارے میں بھی انکشاف ہوا کہ وہ بھی ٹیچر بھرتی ہوا ہے۔ کئی ٹیچروں کی ڈگریاں بھی جعلی نکلیں۔ غیر قانونی بھرتیوں کی فہرست میں بڑی نامی گرامی شخصیات کے نام سامنے آگئے، جن میں سیاستداں اور ان کے رشتیدار بھی شامل ہیں۔