بچوں کیلئے چند مفید باتیں

  Click to listen highlighted text! اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھیں۔ اس لئے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں صرف دیکھتے ہیں کہتے کچھ نہیں مگر نمبر کٹ جاتے ہیں..! دوسری بات:آپ کے پاس سے کوئی بری اسمیل(بو) نہیں آنی چاہیے،کیونکہ اس سے آپ کے دوست، اسکول فیلو، ساتھ سفر کرنے والے، آفس کولیگ سخت پریشان ہوسکتے ہیں۔لیکن وہ بولیں گے کچھ نہیں..!کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے۔ اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھنا۔منہ سے آنے والی بدبودار سانس آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہے۔ مگر لوگ بولیں گے نہیں..!آپ کو کہہ نہیں سکتے کہیں آپ ناراض نہ ہوجائیں۔لیکن اس سے متعلق ناگواری سے سوچتے ضرور ہیں۔ گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے۔ناک کے بال کاٹنے ہیں۔گردن بہت اچھی طرح مل کر دھونی ہے کوئی میل نظر نہ آئے کیونکہ کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے۔دیکھتا ضرور ہے اور خاموش رہتا ہے۔ پھر ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی۔ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک،چہرایا سر نہیں کھجانا۔ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سے ایسا کرسکتے ہیں:مثلاً ناک میں خارش ہورہی ہے تو انگلی سے نہیں الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے کھجا سکتے ہیں۔سیدھے ہاتھ سے تو ہرگز نہیں جس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہے۔اس سے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ساتھ رکھ لیں۔اسی طرح غیر ضروری طور پرجسم کے مخصوص حصوں کو ٹچ نہیں کرنا۔ چند مزید ہدایات یاددہانی کے لئے: گھر سے باہر جاتے وقت منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار روانہ مت ہوجانا،اپنا منہ ہاتھ دھو کر، بال بنا کر، درست لباس،اچھے شوز پہن کر جاؤ چاہیے قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نا لانا ہو۔شوز کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے شوز بتاتے ہیں۔ آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس سخت معیوب (بری)لگتی ہیں۔خاص طور پر مسجد جاتے ہوئے۔ گھر کے اندر کا لباس بھی باوقار ہونا چاہئے۔ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں کبھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا۔ بہنوں کے کمرے میں بلاوجہ نہیں بیٹھنا۔اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھو۔انہیں بے نیازی کیساتھ واش روم میں چھوڑ مت آؤ۔ اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھو۔ اپنے بازو اور جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں۔اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھناہے۔پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنا ہاتھ پورا بازو کھول لیں یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے،نا کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں جائیں یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں اورنہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں۔ یقیناً سفر میں کار بس جہاز کی سیٹ کا معاملہ ذرا مختلف ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنا چاہیے۔ کسی کو فون کریں یاکسی کے پاس جائیں سب سے پہلے سلام کریں۔پھر اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیں پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ آپ سے بات ہوسکتی ہے..؟ میں اندر آسکتا ہوں..؟ یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں..؟ بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا کیونکہ ” یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے” ایک بات اور کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں، اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں،یہ مسکراہٹ آپ کے لئے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے۔ کسی سے ہاتھ ملاؤ تو پورا ہاتھ ملاؤ۔گرم جوشی سے اس کے ساتھ ساتھ نظریں بھی ملائیں۔یہ نہیں کہ منہ ادھر ہاتھ ادھربات کسی اور سے..! پیارے بچو!خوش رہو اور خوشیاں بانٹو۔

اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھیں۔ اس لئے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں صرف دیکھتے ہیں کہتے کچھ نہیں مگر نمبر کٹ جاتے ہیں..!
دوسری بات:آپ کے پاس سے کوئی بری اسمیل(بو) نہیں آنی چاہیے،کیونکہ اس سے آپ کے دوست، اسکول فیلو، ساتھ سفر کرنے والے، آفس کولیگ سخت پریشان ہوسکتے ہیں۔لیکن وہ بولیں گے کچھ نہیں..!کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے۔
اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھنا۔منہ سے آنے والی بدبودار سانس آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہے۔
مگر لوگ بولیں گے نہیں..!آپ کو کہہ نہیں سکتے کہیں آپ ناراض نہ ہوجائیں۔لیکن اس سے متعلق ناگواری سے سوچتے ضرور ہیں۔
گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے۔ناک کے بال کاٹنے ہیں۔گردن بہت اچھی طرح مل کر دھونی ہے کوئی میل نظر نہ آئے کیونکہ کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے۔دیکھتا ضرور ہے اور خاموش رہتا ہے۔
پھر ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی۔ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک،چہرایا سر نہیں کھجانا۔ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سے ایسا کرسکتے ہیں:مثلاً ناک میں خارش ہورہی ہے تو انگلی سے نہیں الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے کھجا سکتے ہیں۔سیدھے ہاتھ سے تو ہرگز نہیں جس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہے۔اس سے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ساتھ رکھ لیں۔اسی طرح غیر ضروری طور پرجسم کے مخصوص حصوں کو ٹچ نہیں کرنا۔
چند مزید ہدایات یاددہانی کے لئے:
گھر سے باہر جاتے وقت منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار روانہ مت ہوجانا،اپنا منہ ہاتھ دھو کر، بال بنا کر، درست لباس،اچھے شوز پہن کر جاؤ چاہیے قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نا لانا ہو۔شوز کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے شوز بتاتے ہیں۔ آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس سخت معیوب (بری)لگتی ہیں۔خاص طور پر مسجد جاتے ہوئے۔
گھر کے اندر کا لباس بھی باوقار ہونا چاہئے۔ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں کبھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا۔ بہنوں کے کمرے میں بلاوجہ نہیں بیٹھنا۔اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھو۔انہیں بے نیازی کیساتھ واش روم میں چھوڑ مت آؤ۔
اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھو۔ اپنے بازو اور جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں۔اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھناہے۔پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنا ہاتھ پورا بازو کھول لیں یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے،نا کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں جائیں یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں اورنہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں۔
یقیناً سفر میں کار بس جہاز کی سیٹ کا معاملہ ذرا مختلف ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنا چاہیے۔ کسی کو فون کریں یاکسی کے پاس جائیں سب سے پہلے سلام کریں۔پھر اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیں پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ آپ سے بات ہوسکتی ہے..؟
میں اندر آسکتا ہوں..؟
یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں..؟
بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا کیونکہ ” یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے”
ایک بات اور کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں، اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں،یہ مسکراہٹ آپ کے لئے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے۔
کسی سے ہاتھ ملاؤ تو پورا ہاتھ ملاؤ۔گرم جوشی سے اس کے ساتھ ساتھ نظریں بھی ملائیں۔یہ نہیں کہ منہ ادھر ہاتھ ادھربات کسی اور سے..!
پیارے بچو!خوش رہو اور خوشیاں بانٹو۔