بعض پاکستانی سیاسی مبصرین افغانستان کے حوالے سے شعوری یا غیر شعوری طور پر بھارت و دیگر کے نقشے کی تکمیل کررہے

  Click to listen highlighted text! تحریر: ڈاکٹر سید ابن حسن بخاری بعض سیاسی مبصرین افغانستان کے حوالے سے شعوری یا غیر شعوری طور پر بھارت و دیگر کے نقشے کی تکمیل کررہے ہیں جیسے بعض مذہبی مبصرین شعوری یا غیر شعوری طور پر دشمن کے فرقہ واریت کو ہوا دینے کے نقشے کی تکمیل کررہے ہیں۔ دو دن قبل ایک بھارتی چینل نے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا انٹرویو کیا تو بعض اردو ذرائع ابلاغ نے اسے سابق ایرانی صدر کی پاکستان کو دھمکی قرار دیا۔ بعضوں نے خبر کی تصدیق کی نہ تحقیق، گفتگو کا سیاق دیکھا نہ سباق اور رائے عامہ کو تحریک کرنا شروع کردیا۔ نوبت یہاں پہنچی کہ اب عام پاکستانی اپنی بندوقوں کو ٹاکی شاکی لگا کر ایران کو سبق سکھانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ اس عنوان سے دو مجہول ذرائع ابلاغ کا خصوصی طور پر نام لینا چاہوں گا جنہوں نے رائے عامہ کو تحریک کرنے کے لیے ایندھن فراہم کیا اور پھر دیگر مبصرین نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ خود کو اسلام آباد بیسڈ تھنک ٹینک دکھانے والا پاکستان اسٹراٹیجک فورم نامی ادارہ جس کی حالیہ سرگرمی سے پہلے ٹوئٹر پر فالوورز کی تعداد بمشکل پانچ ہزار تھی اب اچانک دو دن میں 33 ہزار ہوگئی ہے اور دوسرا افغان اردو نامی ٹویٹر ہینڈل۔ یہ دونوں گزشتہ دو دنوں سے یوں دکھا رہے ہیں جیسے افغانستان میں جنگ ہی پاکستان اور ایران کے درمیان ہورہی ہو اور باقی سب بے گناہ ہیں اور وہ یا گھر کے بڑے کا رول ادا کررہے ہیں یا لاتعلق ہیں۔ ان ذرائع ابلاغ پر افغانستان میں امریکی جنگی جرائم کا کوئی ذکر ہے نہ بھارتی سازشوں کا، پنج شیر کی جنگ میں مغربی خفیہ اداروں خصوصاً فرانسوی خفیہ عناصر کے کردار کا کوئی ذکر ہے نہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے عمل کو ثبوتاژ کرنے والے عوامل کا۔ بس ان کے نزدیک پنج شیر آخری ایرانی مورچہ تھا جسے پاکستانی شیروں نے براہ راست جاکر فتح کرلیا ہے لہذا اب ایرانی سیخ پا ہیں۔ افغانستان کی صورت حال اس سے زیادہ پیچیدہ ہے جتنی پاکستانی رائے عامہ کو دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے افغانستان میں طویل مذہبی اور قومی خانہ جنگی کا نقشہ بنایا گیا ہے۔ دونوں صورتوں میں سب سے پہلا نقصان ہمسایوں کا ہوگا۔ تجارت متاثر، امن و سلامتی متاثر، مہاجرین کے سیلاب سے لیکر سرحدوں کی ناامنی تک تمام مسائل سب سے پہلے ہمسایوں کے دامن گیر ہوں گے۔ یہ صورتحال بیرونی مداخلت کی صورت میں مزید شدت اختیار کرجائے گی۔ اور یہی بات سابق ایرانی صدر احمدی نژاد نے بھارتی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی ہے کہ: “خبریں یہ ہیں کہ پاکستانی آفیسرز نے پنج شیر کے تصادم میں براہ راست مداخلت کی ہے، میں پاکستانی حکام کو نصیحت کے طور پر کہتا ہوں کہ یہ جنگ بہت جلد پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے دامن گیر ہوسکتی ہے جنہوں نے موجودہ صورت حال میں افغانستان میں وہاں کی عوام کی منشاء اور بنیادی حقوق کے برعکس مداخلت کی ہے”. میں جب مذکورہ انٹرویو سن رہا تھا تو محسوس کررہا تھا کہ بھارتی اینکر کا ہر دوسرا سوال پاکستان کی افغانستان پالیسی اور اقدامات کو زیر سوال لانے اور احمدی نژاد سے اس کی تائید لینے کے لیے ہے۔ ایران چونکہ عالم اسلام میں سیاسی سطح پر تشیع کی نمائندگی کرتا ہے لہذا بھارتی اینکر کی کوشش تھی سابق ایرانی صدر کا بیان ایرانی حکومت کا رسمی موقف پیش کرکے دکھایا جائے اور جب یہ رسمی ایرانی موقف ثابت ہوجائے تو اسے شیعہ رنگ دے کر افغانستان میں جاری مسائل کو شیعہ سنی تناظر میں پیش کیا جائے۔ اس سے ملتی جلتی بات چند دن قبل ایرانی پارلیمنٹ اراکین کو بند کمرے میں دئیے گئے خصوصی بریف میں IRGC کی قدس بریگیڈ کے سربراہ نے بھی کی تھی کہ ان کی اطلاع کے مطابق افغانستان میں امریکہ کا نقشہ مذہبی خانہ جنگی ہے اور وہ اس انتظار میں ہے ایران افغانستان میں مداخلت کی ابتداء کرے۔ میرے اس خدشے کا مشاہدہ آپ پاکستانی رائے عامہ کے اس انٹرویو کے ذیل میں سامنے آنے والے ردعمل میں کرسکتے ہیں۔ جبکہ اس انٹرویو میں احمدی نژاد نے دو یا تین جگہ کہا کہ یہ میرا ذاتی تجزیہ ہے ایرانی حکومت کا افغانستان پر رسمی موقف خود ایرانی حکومت سے معلوم کریں۔ مذکورہ انٹرویو میں ایک جگہ دلچسپ جواب دیا احمدی نژاد نے کہ جب بھارتی اینکر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مودی حکومت اور بھارت کے کردار کی بات کی اور ساتھ کشمیر کا حوالہ دیا اور اس پر احمدی نژاد کی تائید لینا چاہی تو احمدی نژاد نے کہا: “دہشت گردی ایک سیاسی مسئلہ ہے، اس کے سدباب کے لیے جنگ ضروری نہیں ہے، دہشت گردی سے مقابلے کے لیے باہمی تعاون اور مدد کی ضرورت ہے، دہشت گردی سے مقابلے کی اساس بنیادی انسانی حقوق اور حق خود ارادیت کے احترام پر ہے۔ انسانی حقوق کے احترام اور خود ارادیت کے حق کے دفاع کے ساتھ بھارت ایران پاکستان سمیت تمام ممالک کو آپس میں مل بیٹھنا چاہیے تاکہ دہشت گردی کا مقابلہ ممکن ہوسکے۔” کشمیر کی بات ہو اور بھارت کو حق خود ارادیت اور انسانی حقوق کا احترام یاد دلایا جائے، بھارت کو اس سے زیادہ تکلیف شاید ہی کسی بات پر ہوتی ہو۔ یہ بات پاکستان اور ایران ہر دو کے تبصرہ نگار، حکام اور پالیسی سازان کررہے ہیں۔ اور اسی سے ملتی جلتی بات احمدی نژاد نے بھی کی ہے۔ اسے دھمکی پر حمل کرنے والے شاید بے خبر ہیں کہ افغانستان کے مسئلے پر پاکستان اور ایران میں بہت پہلے کی انڈرسٹینڈنگ ہوچکی ہے۔ افغانستان میں دونوں ملکوں کا پہلا مشترکہ ہدف امریکہ اور نیٹو کا انخلاء تھا جو مکمل ہوگیا۔ دوسرا مرحلہ کابل میں ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جس میں تمام افغان دھڑوں کی نمائندگی ہو اور حکومتی ماڈل جو بھی ہو، اسلامی امارت یا خلافت، جمہوریت یا بادشاہت اس میں عوام کا رول ڈیفائن اور اس کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان اسی انڈرسٹینڈنگ کا نتیجہ تھا کہ ایران نے جو چند مطالبات تال بان کے ساتھ تعاون کے لیے ان کے سامنے رکھے تھے ان میں سے ایک ڈیورنڈ لائن کو باقاعدہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ چند دن قبل جب پنج شیر میں تصادم ہوا تو ایران نے طاقت کے استعمال کی مذمّت کی۔ اس کیوجہ یہ تھی کہ تال بال نے اپنی ابتدائی یقین دہانیوں میں غنی حکومت کی فوج کے علاؤہ کسی بھی افغان گروہ کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔ جب پنج شیر میں طاقت استعمال کی گئی تو ایران کو تشویش ہوئی جس پر انہوں نے مذمت کی۔ ساتھ ہی صحافی نے پاکستان کا نام لیکر بیرونی مداخلت کا سوال داغ دیا تو وزارت خارجہ کے نمائندے نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا “اس پر ہم تحقیق کریں گے کیونکہ اصول یہ ہے کہ افغانستان میں بیرونی مداخلت قابل مذمت ہے”۔ اصل میں یہ اصول سے زیادہ دونوں ملکوں کے درمیان انڈر اسٹینڈنگ ہے جس کی دونوں ملکوں کے ذمہ داروں کو مکمل تفصیلات اور اثرات معلوم ہیں۔ رسمی سطح پر تقریباً یہی موقف پاکستان کا ہے کہ پاکستان افغانستان میں بیرونی مداخلت کو درست نہیں سمجھتا۔ پنج شیر میں تصادم کے بعد پاکستان اور ایران کے اعلی حکام دوبار افغانستان کے ایشو پر ڈائیلاگ میں شامل ہوچکے ہیں ایک بار نمائندوں کی سطح پر، ایک بار وزرائے خارجہ کی سطح پر لیکن دونوں بار کسی ملک نے دوسرے سے نہ کوئی شکایت کی اور نہ ایسا کوئی ایک دوسرے پر الزام لگایا گیا ہے۔ جہاں تک بات تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے پاکستان مخالف مظاہرے کی تو یہ مظاہرہ افغان مہاجرین نے کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے افغان مہاجرین کو سفارت سے کافی فاصلے پر نہ صرف روک لیا بلکہ پاکستان کے خلاف نعرے بازی پر منتظمین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ایسے کئی ایک مظاہرے کشمیری اور پاکستانی برادری تہران میں قائم بھارتی سفارت خانے کے سامنے کرچکی ہے۔ اور انہیں گرفتار بھی نہیں کیا گیا کبھی۔ پاکستان اور ایران دونوں ہی اس وقت توانائی سے زیادہ انگیج ہیں اور افغانستان میں استحکام اور امن دونوں کے مفاد میں ہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی چاہے وہ مذہبی ہو یا قومی دونوں ہمسایوں کے نقصان میں ہے۔ افغانستان کے مسئلے پر تبصرے و تجزیے کی حد تک قوم میں مختلف آراء ہوسکتی ہیں لیکن مذہبی یا قومی بنیاد پر قوم میں تقسیم سلامتی اور امن کے لیے زہر قاتل ہے۔ اور بعض حلقے ہر دوسرے مسئلے پر قوم کو تقسیم کرنے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر سید ابن حسن بخاری

بعض سیاسی مبصرین افغانستان کے حوالے سے شعوری یا غیر شعوری طور پر بھارت و دیگر کے نقشے کی تکمیل کررہے ہیں جیسے بعض مذہبی مبصرین شعوری یا غیر شعوری طور پر دشمن کے فرقہ واریت کو ہوا دینے کے نقشے کی تکمیل کررہے ہیں۔

دو دن قبل ایک بھارتی چینل نے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا انٹرویو کیا تو بعض اردو ذرائع ابلاغ نے اسے سابق ایرانی صدر کی پاکستان کو دھمکی قرار دیا۔ بعضوں نے خبر کی تصدیق کی نہ تحقیق، گفتگو کا سیاق دیکھا نہ سباق اور رائے عامہ کو تحریک کرنا شروع کردیا۔ نوبت یہاں پہنچی کہ اب عام پاکستانی اپنی بندوقوں کو ٹاکی شاکی لگا کر ایران کو سبق سکھانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔

اس عنوان سے دو مجہول ذرائع ابلاغ کا خصوصی طور پر نام لینا چاہوں گا جنہوں نے رائے عامہ کو تحریک کرنے کے لیے ایندھن فراہم کیا اور پھر دیگر مبصرین نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ خود کو اسلام آباد بیسڈ تھنک ٹینک دکھانے والا پاکستان اسٹراٹیجک فورم نامی ادارہ جس کی حالیہ سرگرمی سے پہلے ٹوئٹر پر فالوورز کی تعداد بمشکل پانچ ہزار تھی اب اچانک دو دن میں 33 ہزار ہوگئی ہے اور دوسرا افغان اردو نامی ٹویٹر ہینڈل۔ یہ دونوں گزشتہ دو دنوں سے یوں دکھا رہے ہیں جیسے افغانستان میں جنگ ہی پاکستان اور ایران کے درمیان ہورہی ہو اور باقی سب بے گناہ ہیں اور وہ یا گھر کے بڑے کا رول ادا کررہے ہیں یا لاتعلق ہیں۔

ان ذرائع ابلاغ پر افغانستان میں امریکی جنگی جرائم کا کوئی ذکر ہے نہ بھارتی سازشوں کا، پنج شیر کی جنگ میں مغربی خفیہ اداروں خصوصاً فرانسوی خفیہ عناصر کے کردار کا کوئی ذکر ہے نہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے عمل کو ثبوتاژ کرنے والے عوامل کا۔ بس ان کے نزدیک پنج شیر آخری ایرانی مورچہ تھا جسے پاکستانی شیروں نے براہ راست جاکر فتح کرلیا ہے لہذا اب ایرانی سیخ پا ہیں۔

افغانستان کی صورت حال اس سے زیادہ پیچیدہ ہے جتنی پاکستانی رائے عامہ کو دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے افغانستان میں طویل مذہبی اور قومی خانہ جنگی کا نقشہ بنایا گیا ہے۔ دونوں صورتوں میں سب سے پہلا نقصان ہمسایوں کا ہوگا۔ تجارت متاثر، امن و سلامتی متاثر، مہاجرین کے سیلاب سے لیکر سرحدوں کی ناامنی تک تمام مسائل سب سے پہلے ہمسایوں کے دامن گیر ہوں گے۔ یہ صورتحال بیرونی مداخلت کی صورت میں مزید شدت اختیار کرجائے گی۔ اور یہی بات سابق ایرانی صدر احمدی نژاد نے بھارتی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی ہے کہ: “خبریں یہ ہیں کہ پاکستانی آفیسرز نے پنج شیر کے تصادم میں براہ راست مداخلت کی ہے، میں پاکستانی حکام کو نصیحت کے طور پر کہتا ہوں کہ یہ جنگ بہت جلد پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے دامن گیر ہوسکتی ہے جنہوں نے موجودہ صورت حال میں افغانستان میں وہاں کی عوام کی منشاء اور بنیادی حقوق کے برعکس مداخلت کی ہے”.

میں جب مذکورہ انٹرویو سن رہا تھا تو محسوس کررہا تھا کہ بھارتی اینکر کا ہر دوسرا سوال پاکستان کی افغانستان پالیسی اور اقدامات کو زیر سوال لانے اور احمدی نژاد سے اس کی تائید لینے کے لیے ہے۔ ایران چونکہ عالم اسلام میں سیاسی سطح پر تشیع کی نمائندگی کرتا ہے لہذا بھارتی اینکر کی کوشش تھی سابق ایرانی صدر کا بیان ایرانی حکومت کا رسمی موقف پیش کرکے دکھایا جائے اور جب یہ رسمی ایرانی موقف ثابت ہوجائے تو اسے شیعہ رنگ دے کر افغانستان میں جاری مسائل کو شیعہ سنی تناظر میں پیش کیا جائے۔ اس سے ملتی جلتی بات چند دن قبل ایرانی پارلیمنٹ اراکین کو بند کمرے میں دئیے گئے خصوصی بریف میں IRGC کی قدس بریگیڈ کے سربراہ نے بھی کی تھی کہ ان کی اطلاع کے مطابق افغانستان میں امریکہ کا نقشہ مذہبی خانہ جنگی ہے اور وہ اس انتظار میں ہے ایران افغانستان میں مداخلت کی ابتداء کرے۔

میرے اس خدشے کا مشاہدہ آپ پاکستانی رائے عامہ کے اس انٹرویو کے ذیل میں سامنے آنے والے ردعمل میں کرسکتے ہیں۔ جبکہ اس انٹرویو میں احمدی نژاد نے دو یا تین جگہ کہا کہ یہ میرا ذاتی تجزیہ ہے ایرانی حکومت کا افغانستان پر رسمی موقف خود ایرانی حکومت سے معلوم کریں۔

مذکورہ انٹرویو میں ایک جگہ دلچسپ جواب دیا احمدی نژاد نے کہ جب بھارتی اینکر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مودی حکومت اور بھارت کے کردار کی بات کی اور ساتھ کشمیر کا حوالہ دیا اور اس پر احمدی نژاد کی تائید لینا چاہی تو احمدی نژاد نے کہا: “دہشت گردی ایک سیاسی مسئلہ ہے، اس کے سدباب کے لیے جنگ ضروری نہیں ہے، دہشت گردی سے مقابلے کے لیے باہمی تعاون اور مدد کی ضرورت ہے، دہشت گردی سے مقابلے کی اساس بنیادی انسانی حقوق اور حق خود ارادیت کے احترام پر ہے۔ انسانی حقوق کے احترام اور خود ارادیت کے حق کے دفاع کے ساتھ بھارت ایران پاکستان سمیت تمام ممالک کو آپس میں مل بیٹھنا چاہیے تاکہ دہشت گردی کا مقابلہ ممکن ہوسکے۔” کشمیر کی بات ہو اور بھارت کو حق خود ارادیت اور انسانی حقوق کا احترام یاد دلایا جائے، بھارت کو اس سے زیادہ تکلیف شاید ہی کسی بات پر ہوتی ہو۔

یہ بات پاکستان اور ایران ہر دو کے تبصرہ نگار، حکام اور پالیسی سازان کررہے ہیں۔ اور اسی سے ملتی جلتی بات احمدی نژاد نے بھی کی ہے۔ اسے دھمکی پر حمل کرنے والے شاید بے خبر ہیں کہ افغانستان کے مسئلے پر پاکستان اور ایران میں بہت پہلے کی انڈرسٹینڈنگ ہوچکی ہے۔ افغانستان میں دونوں ملکوں کا پہلا مشترکہ ہدف امریکہ اور نیٹو کا انخلاء تھا جو مکمل ہوگیا۔ دوسرا مرحلہ کابل میں ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جس میں تمام افغان دھڑوں کی نمائندگی ہو اور حکومتی ماڈل جو بھی ہو، اسلامی امارت یا خلافت، جمہوریت یا بادشاہت اس میں عوام کا رول ڈیفائن اور اس کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان اسی انڈرسٹینڈنگ کا نتیجہ تھا کہ ایران نے جو چند مطالبات تال بان کے ساتھ تعاون کے لیے ان کے سامنے رکھے تھے ان میں سے ایک ڈیورنڈ لائن کو باقاعدہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

چند دن قبل جب پنج شیر میں تصادم ہوا تو ایران نے طاقت کے استعمال کی مذمّت کی۔ اس کیوجہ یہ تھی کہ تال بال نے اپنی ابتدائی یقین دہانیوں میں غنی حکومت کی فوج کے علاؤہ کسی بھی افغان گروہ کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔ جب پنج شیر میں طاقت استعمال کی گئی تو ایران کو تشویش ہوئی جس پر انہوں نے مذمت کی۔ ساتھ ہی صحافی نے پاکستان کا نام لیکر بیرونی مداخلت کا سوال داغ دیا تو وزارت خارجہ کے نمائندے نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا “اس پر ہم تحقیق کریں گے کیونکہ اصول یہ ہے کہ افغانستان میں بیرونی مداخلت قابل مذمت ہے”۔ اصل میں یہ اصول سے زیادہ دونوں ملکوں کے درمیان انڈر اسٹینڈنگ ہے جس کی دونوں ملکوں کے ذمہ داروں کو مکمل تفصیلات اور اثرات معلوم ہیں۔ رسمی سطح پر تقریباً یہی موقف پاکستان کا ہے کہ پاکستان افغانستان میں بیرونی مداخلت کو درست نہیں سمجھتا۔

پنج شیر میں تصادم کے بعد پاکستان اور ایران کے اعلی حکام دوبار افغانستان کے ایشو پر ڈائیلاگ میں شامل ہوچکے ہیں ایک بار نمائندوں کی سطح پر، ایک بار وزرائے خارجہ کی سطح پر لیکن دونوں بار کسی ملک نے دوسرے سے نہ کوئی شکایت کی اور نہ ایسا کوئی ایک دوسرے پر الزام لگایا گیا ہے۔

جہاں تک بات تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے پاکستان مخالف مظاہرے کی تو یہ مظاہرہ افغان مہاجرین نے کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے افغان مہاجرین کو سفارت سے کافی فاصلے پر نہ صرف روک لیا بلکہ پاکستان کے خلاف نعرے بازی پر منتظمین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ایسے کئی ایک مظاہرے کشمیری اور پاکستانی برادری تہران میں قائم بھارتی سفارت خانے کے سامنے کرچکی ہے۔ اور انہیں گرفتار بھی نہیں کیا گیا کبھی۔

پاکستان اور ایران دونوں ہی اس وقت توانائی سے زیادہ انگیج ہیں اور افغانستان میں استحکام اور امن دونوں کے مفاد میں ہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی چاہے وہ مذہبی ہو یا قومی دونوں ہمسایوں کے نقصان میں ہے۔ افغانستان کے مسئلے پر تبصرے و تجزیے کی حد تک قوم میں مختلف آراء ہوسکتی ہیں لیکن مذہبی یا قومی بنیاد پر قوم میں تقسیم سلامتی اور امن کے لیے زہر قاتل ہے۔ اور بعض حلقے ہر دوسرے مسئلے پر قوم کو تقسیم کرنے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔