Wed Feb 21, 2024

اسرائیل کے فضائی حملے، خواتین و بچوں سمیت مزید 80 فلسطینی شہید برازیل نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیا حزب اللہ نے اسرائیل کے اندر تک سرنگیں بنا رکھی ہیں، فرانسیسی اخبار شہباز شریف وزیراعظم، زرداری صدر، حکومت سازی کا معاہدہ ہوگیا امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کی تیسری قرارداد بھی ویٹو کردی سپاہ پاسداران انقلاب کے بری دستوں میں خودکش ڈرونز شامل اسرائیل فلسطینی قیدی خواتین کو بانجھ بنارہا ہے، اقوام متحدہ یمنی فوج کے دشمن کے جہازوں پر حملے، برطانوی جہاز ڈوب گیا خطے میں مزاحمت کی فکری بنیادیں واقعہ کربلا سے جنم لیتی ہیں، صیہونی اخبار یمن نے امریکا اور برطانیہ کو دشمن ملک قرار دے دیا طالبان نے دوحہ مذاکرات کیلئے ناقابل قبول شرائط رکھیں، گوتریس صیہونی فوج کے حملے جاری، مزید 107 فلسطینی شہید، 145 زخمی غزہ جنگ نے اسرائیلی معیشت تباہ کردی، آخری سہ ماہی میں 19.4 فیصد گراوٹ غزہ میں بھوک سے روزانہ درجنوں اموات ہو رہی ہیں، اقوام متحدہ ماہ رمضان میں مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کا داخلہ محدود کرنے کا فیصلہ

روزانہ کی خبریں

کچھ یادیں….کچھ باتیں

تحریر۔ دانش حیدر

۵ فروری کا دن ملت تشیع پاکستان کے لئے ایک دردناک یاد لے کر آتا ہے۔ آج کے دن اس ملت کے عظیم فرد شہید مظفر علی کرمانی ؒ نے خدا کے حضور شہادت پیش کی۔ شہید راہِ ولایت ،کشتہ اسلام ناب محمدی شہید مظفر علی کرمانی ؒ کی ملت تشیع کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
شہید کی شہادت کے بعد ان کے چند ساتھیوں نے ان کے افکار و خیالات اور ان کی یادوں کو محفوظ کرنے کے لئے شہید کے ساتھیوں اور رفقاء سے شہید کی زندگی کے بارے میں تاثرات جمع کئے۔ شہید ؒ کی برسی کے موقع پر ان تاثرات میں سے چند اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں گو کہ پیش کردہ تاثرات شہید ؒ کی زندگی اور ان کے افکار و خیالات کے تمام موضوعات کا مکمل احاطہ کرنے سے قاصر ہیں مگر کئی موضوعات کے ذیل میں حاصل کئے گئے تاثرات میں سے چند یہاں پیش کئے جارہے ہیں۔
اسلام کی اساس اور بنیاد ”توحید“ کے بارے میں شہید مظفر کرمانی ؒ ٹھوس دلائل کے ساتھ پر اثر گفتگو کیا کرتے تھے اور ان کا موضوع گفتگو اکثر و بیشتر توحید ہی ہوا کرتا تھا اور اس وقت وہ ایک وجد میں مبتلا ہوجاتے تھے اور سننے والے بھی اس گفتگو کے سحر میں ڈوب جاتے تھے اسی حوالے سے ایک ساتھی کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
” آغا شہید ؒ کی پوری زندگی قل ھواللہ احد کی تفسیر میں نکلی ہے یعنی ان کا مقصد یہ تھا کہ تمام بتوں کو تور کر صرف خدائے واحد کی عبادت کی جائے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ”تم خدا سے جتنا قریب ہو جاﺅ گے خدا اتنے کمالات عطا کرتا چلا جائے گا۔“ وہ کہتے تھے کہ ”ایک انسان اذان دیتا ہے”اللہ اکبر“ یعنی اللہ سب سے بڑا ہے لیکن وہ سب سے بڑا جھوٹ بول رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کے لئے پیسہ، شہرت اور دوسری مادی چیزیں بڑی ہوتی ہیں۔ یہ سب چیزیں انسان کی خدا بنی ہوئی ہیں جب تک ان تمام خداﺅں کو نہیں توڑو گے تب تک خدائے واحد کی عبادت نہیں کر سکو گے۔ اسی طرح انسان اذان میں شہادت دیتا ہے کہ محمد(ص) اللہ کے رسول ہیں۔ شہادت کے معنی گواہی دینے کے ہیں۔ اگر ایک شخص کسی کو جرم کرتا دیکھے اور کسی دوسرے شخص سے کہے کہ وہ مجرم کے خلاف گواہی دے کر آئے تو اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی بلکہ عینی شاہد کو طلب کیا جائے گا اسی طرح ہم جو گواہی دیتے ہیں کہ محمد(ص) اللہ کے رسول ہیں تو کیا ہم نے محمد کو پہچان لیا ہے، انہیں سمجھ لیا ہے۔“ اسی طرح نماز کی مثال کے ذریعے توحید کچھ اس طرح بیان کرتے تھے کہ ”نماز خدا کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، جب انسان قربةاللہ کہہ کر نیت باندھتا ہے تو خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا جب حضرت علی ؑ سے دوران نماز سائل نے سوال کیا تو تین بار صدا دینے کے باوجود انہوں نے کوئی جواب نہ دیا لیکن جب اس نے خدا کا نام لے کر آواز لگائی کہ اے اللہ گواہ رہنا میں تیری بارگاہ سے خالی ہاتھ جارہا ہوں تب حضرت علی ؑ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اس سائل کو انگوٹھی دی اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت علی ؑ ہر چیز سے بے نیاز خدا کی بارگاہ میں حاضر تھے اور جب سائل نے بارگاہ خداوندی میں صدا دی تو علی ؑ نے اس صدا کو سن لیا۔
ایک اور ساتھی نے ان کی توحید کے حوالے سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا۔ ”شہید فرماتے تھے کہ میں سنے ہوئے خدا کی عبادت نہیں کرتا کیونکہ آپ نے جس سے بھی خدا سنا وہ خدا اس کی جیب میں نوٹ کی صورت میں یا شہرت یا دیگر خواہشات کی صورت میں ہوگا لہٰذا اپنا خدا خود تلاش کرو اور خود سے خدا تک پہنچو۔“ شہید کہتے تھے کہ ”نہج البلاغہ میں حضرت علی ؑ کہتے ہیں کہ اول دین معرفت خدا ہے لہٰذا معرفت خدا کو پانے سے آئے گی سننے سے نہیں آئے گی جس طرح گرم موسم میں رہنے والوں نے سرد موسم کے بارے میں سن رکھا ہے لیکن سرد علاقوں میں رہنے والوں نے اسے محسوس کیا ہے۔
حج کے حوالے سے شہید مظفر کرمانی ؒ ایک جداگانہ نظر رکھتے تھے اور اکثر حج کے حقیقی مقاصد اور اس میں موجود اسرار کو بیان کرتے تھے۔ شہادت سے کچھ روز قبل اپنے ایک عازم حج ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔ ”حج استاد ہے، ایک ٹریننگ کیمپ ہے اور تمہیں بہت کچھ سکھائے گا وہاں جانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہاں سے پلٹ کر خدا کا کام کیا جائے۔ وہ کہتے تھے کہ میں جب حج پر جاتا ہوں تو واپس آنے کا جی نہیں چاہتا لیکن حج خود کہتا ہے کہ واپس جاﺅ اور خدا کا کام کرو۔ تم دیکھو گے کہ اس موقع پر لوگ اپنی ذاتی خواہشات کے لئے دعا گو ہوں گے، لوگ اتنی دور سے اتنے بڑی مرکز پر آتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی مادی چیزوں کے طلب گار ہوتے ہیں اس موقع پر ہمیں خدا سے خدا کو مانگنا چاہیے کہ ہمیں خدا مل جائے حقیقی دین کی سمجھ مل جائے اور یہ وہ چیزیں ہیں جو وقت سے ملتی ہیں۔“
شہید مظفر کرمانی ؒ کو جہاں ایک جانب دشمن عزاداری کہا جاتا تھا وہیں دوسری جانب باشعور اور ملت کا ذمہ دار طبقہ انہیں محافظ عزاءکے نام سے یاد کرتا ہے۔ ایک ساتھی کہتے ہیں ” آغا اکثر عزاداری کے حوالے سے ہکا کرتے تھے کہ ”اگر کسی کو امام حسین ؑ اور ان کے حقیقی مصائب کی معرفت حاصل ہوجائے تو اس کا دل زندگی سے اچاٹ ہو جائے اور اپنا سر دیوار پر دے مارے اور مرجائے مگر خود کشی حرام ہے لہٰذا زند ہ رہ کر بھی دیوانہ وار امام حسین ؑ کا کام انجام دیں یعنی سیرت زینب کبریٰ (س) پر عمل کریں اور ان کے پیغام کو گلی گلی پہنچائیں۔“ آغا فرماتے تھے کہ” یہ قوم عزاداری کرتی ہے اور اپنا خون بہاتی ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امام حسین ؑ کے مصائب سے آشنا ہے جبکہ اگر اس قوم کو صحیح معنوں میں معرفت حسین ؑ اور مصائب حسین ؑ کا علم ہو جائے تو خدا کی قسم اپنی اور اپنے بچوں کی جانیں دینے سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔“
انقلاب اسلامی ایران کے حوالے شہید مظفر کرمانی ؒ کیا فکر رکھتے تھے اس سوال کے جواب میں ایک ساتھی نے کہا کہ ”مختصراً یہ کہنا چاہیے کہ آغا جب بھی انقلاب اسلامی کی بات کرتے تھے تو وہ یہی کہتے تھے کہ اس انقلاب میں کربلا کی جھلک نظر آتی ہے یعنی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ امام حسین ؑ کربلا میں کیا چاہتے تھے، انہوں نے اتنی بڑی قربانی کس لئے دی۔ وہ کہتے تھے کہ انقلاب اسلامی کی اصل وجہ یہی تھی کہ ایک مسلم معاشرہ قائم ہو جائے ایک سرزمین مسلمانوں کے پاس ہو جو حقیقی اسلامی سرزمین ہو۔ وہ کہتے تھے کہ اسلامی حکومت کے نظریات اور مفادات امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے راہ ہموار کرنا ہیں اور یہی وجہ تھی کہ امام حسین ؑ نے کربلا میں قربانی پیش کی۔
شہید مظفر کرمانی ؒ امام خمینی ؒ اور شہید علامہ عارف حسین الحسینی ؒ سے بے پناہ انسیت رکھتے تھے۔ ان کے رفقاءکے مطابق ان کی ہر بات میں ان دو عظیم شخصیات کا ذکر ضرور ہوتا تھا۔ ایک ساتھی کہتے ہیں۔ ”میں سمجھتا ہوں کہ شہید عارف الہٰی تھے۔ اسی حوالے سے وہ امام خمینی ؒ کو آئمہ (ع) کے بعد وہ پہلا شخص سمجھتے تھے کہ جنہوں نے معرفت الہٰی کو چھوا ہے۔ ایسی حالت میں کہ جب مسلمان ذلت کا نشان بنے ہوئے تھے ان حالات میں امام خمینی ؒ نے مسلمانوں کو دنیا میں عزت سے ہمکنار کیا اور یہی وجہ تھی کہ جس کے باعث آغا کو امام خمینی ؒ سے ایک خاص انسیت تھی اور بہ عینی وہی چیزیں شہید عارف حسینی ؒ نے درک کی تھیں اور جب بھی آغا شہید عارف کا ذکر کرتے تھے تو ہم نے دیکھا وہ رویا کرتے تھے اور شاید ہی کبھی ان کے ذکر پر ہم نے آغا کو روتے ہوئے نہ دیکھا ہو۔ آغا شہید عارف کو سرزمین پاکستان پر تشیع کا سب سے بڑا اثاثہ سمجھتے تھے اور انہی شخصیات سے انسیت کی ہی وجہ تھی کہ وہ ہمیں یہی درس دیا کرتے تھے کہ راہ خدا میں بہت رکاوٹیں اور تکالیف ہیں مگر جو اس راہ کا راہی ہے اس کے لئے یہ تکالیف لطف کا باعث بنتی ہیں۔ مشکلات ان لوگوں کے لئے ہیں جنہوں نے صرف سن رکھا ہے اور جو سوچتے ہیں مگر جو اس پر عمل کرتے ہیں ان کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔
شہید مظفر کرمانی ؒ کے کردار اور ان کے افکار و خیالات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شہید کے ساتھیوں نے بتایا۔ ”جب بھی بات کرنے کا موقع ملا تو اکثر و بیشتر ملت کے اندر موجود خرابیوں کا ذکر فرماتے تھے ۔ وہ خرابیاں جو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جوانوں کے اندر اور عام لوگوں کے ذہن میں پیدا کردی گئی تھیں یعنی اسلام کا ایک ایسا چہرہ کہ جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا بلکہ جو سراسر اسلام کے منافی تھا۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ ہمیں کس طرح اسلام کی خدمت کرنی ہے اصل اسلام ہے کیا ، اس وقت معاشرے میں رائج اسلام کہاں سے آیا ہے اور کیوں اس اسلام کو پھیلایا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کا شعور بیدار کرنے کے حوالے سے بات کیا کرتے تھے جس موضوع پر بھی وہ بات کیا کرتے تھے اس کے ہر ہر پہلو کو اجاگر کرتے تھے اور بات بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتی تھی۔
شہید مظفر ؒ کن لوگوں کو دوست رکھتے تھے؟اس سوال کے جواب میں ایک ساتھی نے کچھ اس طرح کہا۔”آغا نے دوستی کا جو میزان بنایا ہوا تھا وہ مرضی خدا اور دین اسلام کی خدمت پر مشتمل تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ”جوشخص دین کی خدمت قربتاً اللہ کرتا ہے میں اس کا غلام اور اس کی خاک اپنے سر پر رکھتا ہوں۔“ آغا ان لوگوں کو دشمن سمجھتے تھے کہ جنہوں نے اسلام یا اسلام سے محبت کرنے والوں کو نقصان پہنچایا ہو خصوصاً غیر ذمہ دار افراد کو اور بالخصوص وہ علماءجو اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تھے یا انہوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسلام اور تشیع کو نقصان پہنچایا ہو۔
ایک ساتھی نے شہید مظفر ؒ کے ساتھ کئے گئے ایران کے سفر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔”امام رضا ؑ کے روضے پر جاکر ایک بات جو میں نے آغا کے اندر محسوس کی اور جس کا ذکر بھی کیا کرتے تھے کہ وہ کسی ایسی چیز کے متمنی نہیں ہوتے تھے کہ جو ان کی دنیا کے لئے یا ان کے بال بچوں کے لئے ہو۔ وہ کہتے تھے کہ ہزاروں قسم کے لوگ یہاں اپنی امیدیں لے کر آتے ہیں اور یہ وہ درہے جہاں سے کوئی خالی ہاتھ نہیں پلٹتا لیکن فرق یہ ہے کہ کون کس چیز کا خواہش مند ہے وہ کہتے تھے میں اس در پر آیا ہوں اور وہ چیز چاہتا ہوں جو ایک عالم باعمل اس در سے لے کر جاتا ہے یا وہ مجاہد اس در سے لے کر جاتا ہے جو قربة اللہ خدا کی راہ میں کچھ کرنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular