مکتب زینب ؑ سے کچھ درس

  Click to listen highlighted text! اکبر اسدی عظمت ایمانحضرت زینب ؑ نے یہ ثابت کردیا کہ مومن انسان ۔ خواہ اسیر ہو کبھی بھی دشمن کے سامنے خواہ دشمن کتنا ہی قوی ہو۔ سر نہیں جھکاتا ہے۔ابن زیاد کے مقابلہ میں حضرت زینب ؑ کی عظمت و سربلندی کا سرچشمہ قوت ایمان اور اطمینان و سکون تھا آپؑ حسین ؑ جیسے نفس مطمئنہ کی مالک تھیں آپؑ نے یہ اطمینان اور بے باکی یاد خدا کو اپنے قلب میں زندہ رکھنے سے حاصل کی تھی۔ آدمی ذکر خدا کے ساتھ ناکام نہیں ہوتا اور نہ شکست کھاتا ہے، جیسا کہ امام حسین ؑ نہ ناکام ہوئے اور نہ یزید کی ذلت آمیز بیعت قبول کی اور دلوں کی تسخیر کے ساتھ۔جو کہ پائیدار اور کارساز چیز ہے کامیابی حاصل کی اور خدا دوست و مومنوں کے دلوں کے مالک بن گئے اور عاشورہ قلوب کے لئے پرکشش و جاذب بن گیا، زینب ؑ جو کہ راہ حسین ؑ کو جاری رکھنے والی ہیں اپنے خطبوں سے کربلا کی خونی تحریک کی عظمت و شوکت میں چار چاند لگاتی ہیں ۔نگاہ زیبا بیںدوسرا درس جو جناب زینب ؑ سے لینا چاہیے وہ آپؑ کا راہ خدا میں مصائب اور سختیوں کو اچھا سمجھنا ہے جیسا کہ ہم نے (تاریخ میں ) دیکھا جب ابن زیاد نے کہا تھا کہ دیکھا خدا نے اہلبیت ؑ کے ساتھ کیا کیا تو جناب زینب ؑ نے فرمایا تھا:’’ راہ خدا میں ہم نے جو مصیبتیں اٹھائی ہیں اور جن مشکلوں کا سامنا کیا ہے وہ ہمارے لئے حسن رکھتی ہیں ۔‘‘کیا واقعی حضرت علی اکبر ؑ ، حضرت قاسم ؑ ، حضرت عباس ؑ اور طفل شیر خوار علی اصغر ؑ اور ابو عبداللہ ؑ کی شہادت زیبا ہے؟ کیا خیموں کی تاراجی، بچوں کا خوف و ہراس اور اہلبیت ؑ رسولؐ پر مصائب کا وارد ہونا زیبا ہے؟ کیا اہلبیت ؑ رسولؐ کو اسیر کرنا انہیں کوچہ و بازار میں پھرانا اور بلوہ عام میں لے جانا زیبا ہے؟ان تمام چیزوں کو اچھا سمجھنے والے نظریہ کی کیا توجیہہ کی جاسکتی ہے؟زینب ؑ خود کو بندۂ حق سمجھتی ہیں اور اپنی سر بلندی کو فریضہ الہٰی کی انجام دہی میں سمجھتی ہیں اپنے فرائض پر عمل کرنے میں ، حسین ؑ جیسے انسان کامل اور ان کے فداکار اصحاب و انصار کی شہادت اور اہلبیت ؑ کے رنج و غم اور اسیری شیریں و زیبا ہے۔یہ مومن انسانوں کا تصور کائنات ہے کہ جو بھی خدا کی طرف سے ان پر حالات آتے ہیں وہ انہیں خیر اور اچھا ہی سمجھتے ہیں ، کیونکہ اپنے بندوں کے لئے خدا جو بھی کرتا ہے وہ خیر ہی ہوتا ہے اور اس نظریہ کے مطابق کائنات کا ہر وقوعہ و مظہر زیبا ہے اور ایک خدا کے وجود پر دلالت کرتا ہے۔ایسے نظریئے اور ایسے علم کے ساتھ انسان ذلت کو برداشت نہیں کرتا ہے بلکہ دشمن کو زیر کردیتا ہے ، زینب ؑ کبریٰ پر خدا و رسولؐ اور اس کے ملائکہ کا سلام کہ جس نے ہمیں یہ سکھادیا کہ راہ خدا میں دشواریوں کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے اور صبر وپائیداری میں ہمارے لئے معلم بن گئیں ۔امام ؑ کی جان کا تحفظ ابن زیاد کے دربار میں بھی ایک موقع پر جب ابن زیاد امام زین العابدین ؑ کا جواب سن کر آپے سے باہر ہوگیا اور کہنے لگا: ابھی تک تم میں مجھ سے اس طرح گفتگو کرنے کی جرأت ہے اور آپؑ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پر بی بی زینب ؑ نے حمایت کی اور امام ؑ سے دفاع کیا اور امام زین العابدین ؑ کو ابن زیاد کے جلاد سے نجات دلائی اور سب کو حریم امامت و ولایت سے دفاع کرنے کا سبق دیا۔سوئے شام اسیروں کے قافلہ کو چند روز ابن زیاد کی بامشقت قید میں رکھ کر شام کو روانہ کیا۔اسیروں کے قافلہ کے داخلہ کے وقت شہر شام کو جشن و سرور سے معمور کر رکھا تھا، یزید نے اپنے محل میں مجلس سجارکھی تھی، اس کے ہم قماش چاروں طرف بیٹھے تھے تاکہ بزعم خود اس کامیابی کا جشن منائیں۔یزید کے سامنےسرحسین ؑ کو یزید کے سامنے لاکر رکھا گیا اور اسی وقت اہلبیت ؑ کے اسیروں کو لایا گیا، جس دختر حسین ؑ نے اپنے باپ کے سربریدہ کو دیکھا تو ہائے پدر کہہ کر رونے لگی کہ جس سے مجلس والے پریشان ہوگئے۔لیکن جب زینب ؑ نے اپنے بھائی کا سر دیکھا تو اسی غم انگیز آواز میں نوحہ پڑھا کہ جس نے کلیجے ہلا دیئے۔’’اے حسین ؑ ! اے حبیب خدا، اے مکہ و منیٰ کے پسر، اے دختر رسولؐ فاطمہ زہرا ؑ کے نور نظر۔‘‘راوی کہتا ہے کہ قسم خدا کی زینب ؑ نے مجلس کے ہر شخص کو رلادیا یزید شراب خوار اپنی جاہ طلبی کے نشہ میں چور خاموش بیٹھا تھا، اور سید الشہداء ؑ کے دندان مبارک پر چھڑی لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا: کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے: شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کا انتقام لے لیا، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئی نہ کوئی ملک آیا ہے۔۔۔۔۔ان اشعار میں رسولؐ، دین اور قرآن کے بارے میں کوئی بات نہیں ہے بلکہ یزید نے اپنے جاہلیت کے مردوں کے خون کو یاد کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم نے خون کا بدلہ خون سے لیا ہے۔خطبہ زینب ؑاگر یہیں مجلس ختم ہو جاتی تو یزید کی جیت تھی اور جو کچھ اس کے حکم سے ہوا تھا وہ قطعی غلط نہیں تھا لیکن بی بی زینب ؑ نے مجلس کو یہاں ختم ہی نہیں ہونے دیا، جس چیز کو یزید مسرت سمجھ رہا تھا اسے اس کے لئے زہر سے زیادہ تلخ بنا دیا اور مجلس نشینوں کو یہ بتا دیا کہ جو اسیر تمہارے سامنے کھڑے ہیں یہ ان کی اولاد ہیں جن کے نام پر یزید شام کے لوگوں پر حکومت کررہا ہے ، انہیں یہ بتا دیا کہ اسلام حکومت سے قبل دین ہے، حاکم سے لے کر رعیت کی چھوٹی سی فرد تک خدا کے سامنے اپنے کئے ہوئے فعل اور اپنی کہی ہوئی بات کا جواب دہ ہے اور یہ بھی آشکار کردیا کہ اسلام تقوی کے پایوں پر استوار ہے نہ طاقت کے پایوں پر۔عظمت زینب ؑحضرت بی بی زینب ؑ کی عظمت اور قوت قلب اس وقت اور اچھی طرح آشکار ہو جاتی ہے کہ جب یزید کی مجلس میں آپؑ کی روحانی حیثیت اور خطبہ اپنا اثر قائم کرتا ہے۔یزید کی مجلس کے ماحول میں خوف و ہراس طاری ہے اور یزید اپنے خیال خام میں بڑا طاقت والا اور فاتح ہے، امور سلطنت کے ذمہ دار ان اس کے چاروں طرف بیٹھے ہیں، اس کے دشمن قیدی بنے ہوئے ہیں اور اس کے مخالفین کے رہبر امام حسین ؑ کا سر اقدس اس کے سامنے ہے۔اسیروں میں کچھ عورتیں اور بچے ہیں اور امام زین العابدین ؑ ہیں جو کہ بیمار ہیں۔ یزید غرور و جاہ طلبی کے نشہ میں چور ہے۔ شام اس کی حکومت کا مرکز ہے۔ لیکن جس زینب ؑ نے مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا اور کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام کے سفر کے دوران بڑی بڑی مصیبتیں اٹھائی ہیں اور سفر میں ذرہ برابر آرام میسر نہیں آیا ہے کسی ایک شخص یا جماعت کی حمایت کے بغیر قافلہ سلاری کو سنبھالے رہیں اور منزل بہ منزل ان کی حفاظت کرتی رہیں اور اب رسول خداؐ کی اولاد کی ناگفتہ بہ حالت ہے امام زین العابدین ؑ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور گلے میں مار ڈالنے والا طوق ہے یزید سر حسین ؑ کی ہتک کررہا ہے اور زینب ؑ سب کچھ دیکھ رہی ہیں ۔اس ماحول میں لب کشائی کے لئے شیر کا کلیجہ اور جرأت درکار ہے، زینب ؑ کی رگوں میں علی ؑ و فاطمہ ؑ کا خون دوڑرہا ہے۔ آپؑ اپنے زمانے کے بڑے بت کے سامنے اس شجاعت و شہامت سے ایسے سخن ریز ہوتی ہیں کہ اس بت کی ساری جھوٹی عظمت خاک میں ملا دیتی ہیں اور اہلبیت ؑ کی فریاد مظلومیت پوری تاریخ میں پھیلا دیتی ہیں اور خوابیدہ ضمیروں کو بیدار کردیتی ہیں ۔ ReplyReply allForward

اکبر اسدی

عظمت ایمانحضرت زینب ؑ نے یہ ثابت کردیا کہ مومن انسان ۔ خواہ اسیر ہو کبھی بھی دشمن کے سامنے خواہ دشمن کتنا ہی قوی ہو۔ سر نہیں جھکاتا ہے۔ابن زیاد کے مقابلہ میں حضرت زینب ؑ کی عظمت و سربلندی کا سرچشمہ قوت ایمان اور اطمینان و سکون تھا آپؑ حسین ؑ جیسے نفس مطمئنہ کی مالک تھیں آپؑ نے یہ اطمینان اور بے باکی یاد خدا کو اپنے قلب میں زندہ رکھنے سے حاصل کی تھی۔ آدمی ذکر خدا کے ساتھ ناکام نہیں ہوتا اور نہ شکست کھاتا ہے، جیسا کہ امام حسین ؑ نہ ناکام ہوئے اور نہ یزید کی ذلت آمیز بیعت قبول کی اور دلوں کی تسخیر کے ساتھ۔جو کہ پائیدار اور کارساز چیز ہے کامیابی حاصل کی اور خدا دوست و مومنوں کے دلوں کے مالک بن گئے اور عاشورہ قلوب کے لئے پرکشش و جاذب بن گیا، زینب ؑ جو کہ راہ حسین ؑ کو جاری رکھنے والی ہیں اپنے خطبوں سے کربلا کی خونی تحریک کی عظمت و شوکت میں چار چاند لگاتی ہیں ۔نگاہ زیبا بیںدوسرا درس جو جناب زینب ؑ سے لینا چاہیے وہ آپؑ کا راہ خدا میں مصائب اور سختیوں کو اچھا سمجھنا ہے جیسا کہ ہم نے (تاریخ میں ) دیکھا جب ابن زیاد نے کہا تھا کہ دیکھا خدا نے اہلبیت ؑ کے ساتھ کیا کیا تو جناب زینب ؑ نے فرمایا تھا:’’ راہ خدا میں ہم نے جو مصیبتیں اٹھائی ہیں اور جن مشکلوں کا سامنا کیا ہے وہ ہمارے لئے حسن رکھتی ہیں ۔‘‘کیا واقعی حضرت علی اکبر ؑ ، حضرت قاسم ؑ ، حضرت عباس ؑ اور طفل شیر خوار علی اصغر ؑ اور ابو عبداللہ ؑ کی شہادت زیبا ہے؟ کیا خیموں کی تاراجی، بچوں کا خوف و ہراس اور اہلبیت ؑ رسولؐ پر مصائب کا وارد ہونا زیبا ہے؟ کیا اہلبیت ؑ رسولؐ کو اسیر کرنا انہیں کوچہ و بازار میں پھرانا اور بلوہ عام میں لے جانا زیبا ہے؟ان تمام چیزوں کو اچھا سمجھنے والے نظریہ کی کیا توجیہہ کی جاسکتی ہے؟زینب ؑ خود کو بندۂ حق سمجھتی ہیں اور اپنی سر بلندی کو فریضہ الہٰی کی انجام دہی میں سمجھتی ہیں اپنے فرائض پر عمل کرنے میں ، حسین ؑ جیسے انسان کامل اور ان کے فداکار اصحاب و انصار کی شہادت اور اہلبیت ؑ کے رنج و غم اور اسیری شیریں و زیبا ہے۔یہ مومن انسانوں کا تصور کائنات ہے کہ جو بھی خدا کی طرف سے ان پر حالات آتے ہیں وہ انہیں خیر اور اچھا ہی سمجھتے ہیں ، کیونکہ اپنے بندوں کے لئے خدا جو بھی کرتا ہے وہ خیر ہی ہوتا ہے اور اس نظریہ کے مطابق کائنات کا ہر وقوعہ و مظہر زیبا ہے اور ایک خدا کے وجود پر دلالت کرتا ہے۔ایسے نظریئے اور ایسے علم کے ساتھ انسان ذلت کو برداشت نہیں کرتا ہے بلکہ دشمن کو زیر کردیتا ہے ، زینب ؑ کبریٰ پر خدا و رسولؐ اور اس کے ملائکہ کا سلام کہ جس نے ہمیں یہ سکھادیا کہ راہ خدا میں دشواریوں کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے اور صبر وپائیداری میں ہمارے لئے معلم بن گئیں ۔امام ؑ کی جان کا تحفظ ابن زیاد کے دربار میں بھی ایک موقع پر جب ابن زیاد امام زین العابدین ؑ کا جواب سن کر آپے سے باہر ہوگیا اور کہنے لگا: ابھی تک تم میں مجھ سے اس طرح گفتگو کرنے کی جرأت ہے اور آپؑ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پر بی بی زینب ؑ نے حمایت کی اور امام ؑ سے دفاع کیا اور امام زین العابدین ؑ کو ابن زیاد کے جلاد سے نجات دلائی اور سب کو حریم امامت و ولایت سے دفاع کرنے کا سبق دیا۔سوئے شام اسیروں کے قافلہ کو چند روز ابن زیاد کی بامشقت قید میں رکھ کر شام کو روانہ کیا۔اسیروں کے قافلہ کے داخلہ کے وقت شہر شام کو جشن و سرور سے معمور کر رکھا تھا، یزید نے اپنے محل میں مجلس سجارکھی تھی، اس کے ہم قماش چاروں طرف بیٹھے تھے تاکہ بزعم خود اس کامیابی کا جشن منائیں۔یزید کے سامنےسرحسین ؑ کو یزید کے سامنے لاکر رکھا گیا اور اسی وقت اہلبیت ؑ کے اسیروں کو لایا گیا، جس دختر حسین ؑ نے اپنے باپ کے سربریدہ کو دیکھا تو ہائے پدر کہہ کر رونے لگی کہ جس سے مجلس والے پریشان ہوگئے۔لیکن جب زینب ؑ نے اپنے بھائی کا سر دیکھا تو اسی غم انگیز آواز میں نوحہ پڑھا کہ جس نے کلیجے ہلا دیئے۔’’اے حسین ؑ ! اے حبیب خدا، اے مکہ و منیٰ کے پسر، اے دختر رسولؐ فاطمہ زہرا ؑ کے نور نظر۔‘‘راوی کہتا ہے کہ قسم خدا کی زینب ؑ نے مجلس کے ہر شخص کو رلادیا یزید شراب خوار اپنی جاہ طلبی کے نشہ میں چور خاموش بیٹھا تھا، اور سید الشہداء ؑ کے دندان مبارک پر چھڑی لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا: کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے: شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کا انتقام لے لیا، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئی نہ کوئی ملک آیا ہے۔۔۔۔۔ان اشعار میں رسولؐ، دین اور قرآن کے بارے میں کوئی بات نہیں ہے بلکہ یزید نے اپنے جاہلیت کے مردوں کے خون کو یاد کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم نے خون کا بدلہ خون سے لیا ہے۔خطبہ زینب ؑاگر یہیں مجلس ختم ہو جاتی تو یزید کی جیت تھی اور جو کچھ اس کے حکم سے ہوا تھا وہ قطعی غلط نہیں تھا لیکن بی بی زینب ؑ نے مجلس کو یہاں ختم ہی نہیں ہونے دیا، جس چیز کو یزید مسرت سمجھ رہا تھا اسے اس کے لئے زہر سے زیادہ تلخ بنا دیا اور مجلس نشینوں کو یہ بتا دیا کہ جو اسیر تمہارے سامنے کھڑے ہیں یہ ان کی اولاد ہیں جن کے نام پر یزید شام کے لوگوں پر حکومت کررہا ہے ، انہیں یہ بتا دیا کہ اسلام حکومت سے قبل دین ہے، حاکم سے لے کر رعیت کی چھوٹی سی فرد تک خدا کے سامنے اپنے کئے ہوئے فعل اور اپنی کہی ہوئی بات کا جواب دہ ہے اور یہ بھی آشکار کردیا کہ اسلام تقوی کے پایوں پر استوار ہے نہ طاقت کے پایوں پر۔عظمت زینب ؑحضرت بی بی زینب ؑ کی عظمت اور قوت قلب اس وقت اور اچھی طرح آشکار ہو جاتی ہے کہ جب یزید کی مجلس میں آپؑ کی روحانی حیثیت اور خطبہ اپنا اثر قائم کرتا ہے۔یزید کی مجلس کے ماحول میں خوف و ہراس طاری ہے اور یزید اپنے خیال خام میں بڑا طاقت والا اور فاتح ہے، امور سلطنت کے ذمہ دار ان اس کے چاروں طرف بیٹھے ہیں، اس کے دشمن قیدی بنے ہوئے ہیں اور اس کے مخالفین کے رہبر امام حسین ؑ کا سر اقدس اس کے سامنے ہے۔اسیروں میں کچھ عورتیں اور بچے ہیں اور امام زین العابدین ؑ ہیں جو کہ بیمار ہیں۔ یزید غرور و جاہ طلبی کے نشہ میں چور ہے۔ شام اس کی حکومت کا مرکز ہے۔ لیکن جس زینب ؑ نے مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا اور کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام کے سفر کے دوران بڑی بڑی مصیبتیں اٹھائی ہیں اور سفر میں ذرہ برابر آرام میسر نہیں آیا ہے کسی ایک شخص یا جماعت کی حمایت کے بغیر قافلہ سلاری کو سنبھالے رہیں اور منزل بہ منزل ان کی حفاظت کرتی رہیں اور اب رسول خداؐ کی اولاد کی ناگفتہ بہ حالت ہے امام زین العابدین ؑ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور گلے میں مار ڈالنے والا طوق ہے یزید سر حسین ؑ کی ہتک کررہا ہے اور زینب ؑ سب کچھ دیکھ رہی ہیں ۔اس ماحول میں لب کشائی کے لئے شیر کا کلیجہ اور جرأت درکار ہے، زینب ؑ کی رگوں میں علی ؑ و فاطمہ ؑ کا خون دوڑرہا ہے۔ آپؑ اپنے زمانے کے بڑے بت کے سامنے اس شجاعت و شہامت سے ایسے سخن ریز ہوتی ہیں کہ اس بت کی ساری جھوٹی عظمت خاک میں ملا دیتی ہیں اور اہلبیت ؑ کی فریاد مظلومیت پوری تاریخ میں پھیلا دیتی ہیں اور خوابیدہ ضمیروں کو بیدار کردیتی ہیں ۔

ReplyReply allForward