آذربائیجان آرمینیا تنازعے سے اٹھتا دھواں

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تنازع کافی پرانا ہے۔ یہ بنیادی طور پر آمینیائی اور آذری قوموں کی لڑائی تھی جو جدید قومی ریاست میں بارڈروں کے تنازعات میں تبدل ہوگئی ہے۔ 1920ء نگورنو کاراباخ میں پہلی بار آرمینین اور آذری لوگوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ 1993ء میں آرمینیا نے نگورنو کاراباخ پر قبضہ کر لیا اور بڑی بے دردی سے آذری مسلم عوام کو وہاں سے جلاوطن کردیا۔ یہاں کی مساجد ویران کردی گئیں اور ہر طرح کی اسلامی شناخت کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ آذربائیجان نے اپنے تیل کے وسائل کو اسلحہ خریدنے اور فوج جدید کرنے پر استعمال کیا۔ 2020ء میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ ہوئی، اس جنگ میں 6500 لوگ مارے گئے تھے، اس کا نتیجہ تھا کہ آذربائیجان نے بزور طاقت نگورنورکاراباخ کا بڑا حصہ آرمینیا سے چھین لیا۔ آرمینا نے اسے نیم آزاد درجہ دے رکھا تھا جس کی اپنی فورسز تک تھیں۔

ترکی نے بڑے پیمانے پر آذربائیجان کی مدد کی۔ اس کے بعد ایک جنگ بندی عمل میں لائی گئی جس میں روس کی امن فورسز آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تعینات کردی گئیں۔ دو سال امن رہا مگر اب پھر جنگی چھڑپوں کی خبریں بین الاقوامی میڈیا پر ہیں۔ اس وقت یہ جنگ کیوں ہو رہی ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو نگورنورکاراباخ پر آذربائیجان کا قبضہ آرمینیا کی عوام کو کسی صورت میں قبول نہیں ہے وہ اس کا بدلہ چاہتے ہیں۔ آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشین معاہدے پر عمل کرنا چاہتے ہیں مگر اپوزیشن سے ڈرتے ہیں۔ موجود تنازع میں بھی ان فورسز کا کردار زیادہ ہے جو نگورنورکاراباخ کی ہی ہیں۔ اگرچہ آذربائیجان آرمینین آرمی کی بات بھی کررہا ہے۔

آذربائیجان اس وقت خود کو بڑی اہم پوزیشن پر سمجھتا ہے، اس کا خیال ہے کہ ابھی اس کے لئے آئیڈیل صورتحال ہے۔ آرمینیا روس کا اتحادی ہے جس کی وجہ سے اس کے مغرب سے تعلقات مثالی نہیں ہیں، اگرچہ آذربائیجان بھی روس سے اچھے تعلقات رکھتا ہے مگر وہ یورپ کا اتحادی بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی یہ خواہش ہے کہ اپنے تیل اور گیس کے ذخائر کو فوری طور پر پائپ لائن کے ذریعے براستہ ترکی یورپ بھیجے۔ اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ترکی اور آذربائیجان کے درمیان میں آرمینیا آجاتا ہے۔ آذر بائیجان ایسی گزرگاہ چاہتا ہے جس کے ذریعے وہ ترکی سے متصل ہوجائے اور پھر یورپ تک اسے راستہ مل جائے گا۔

یورپ کی بھی شدید خواہش ہے کہ آذربائیجان کی گیس راتوں رات یورپ پہنچ جائے تاکہ روس کی اجارہ داری ختم ہو جائے۔ روس اور یوکرین کی جنگ  کی وجہ سے بھی یورپ اور امریکہ خطے میں اپنے اتحادی بڑھانا چاہتے ہیں، ایسے میں وہ آذربائیجان کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے کہ اسے اپنے بلاک میں شامل کیا جائے۔ اس سے ایک طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسے استعمال کیا جائے اور دوسری طرف اسے روس سے دور کر لیا جائے۔ آرمینیا کے وزیراعظم نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ دنیا آذربائیجان کے ان جارحانہ اقدامات کو روکے۔ دنیا کو ان کی اس طرح کی اپیلوں سے خاص غرض نہیں ہے۔

آرمینیا کے وزیراعظم کو انفراسٹکچر کی تعمیر سمیت وہ تمام فیصلے کرنے ہوں گے جو وہ کرنے ہچکچا رہے ہیں اور ساتھ میں انہیں نئے بارڈرز کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا آذربائیجان مختلف طریقوں سے دباؤ برقرار رکھے گا۔ دوسری طرف سے ترکی بھی آرمینیا کے خلاف اور آذربائیجان کی حمایت میں کھڑا رہے گا جس سے آرمینیا کی لڑنے کی پوزیشن کافی متاثر ہوتی ہے۔ بین الاقومی میڈیا میں یہ رپورٹ ہوا ہے کہ امن قائم رکھنے کے لئے آئی روس کی افواج پر بھی آذربائیجان کی طرف سے حملے کئے گئے ہیں۔ ان میں کتنی حقیقت ہے؟ یہ جلد واضح ہو جائے گا۔ امریکی سیکرٹری خارجہ نے کہا ہے کہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ کا یہ بیان خلاف واقع ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں لوگوں نے فوجی طاقت کے استعمال سے اپنے علاقے حاصل کئے ہیں، ابھی اہلیان افغانستان نے امریکہ کے ساتھ مسلسل بیس سال جنگ کی اور اس کے نتیجے میں امریکہ کو وہاں سے نکلتا پڑا۔ آذربائیجان کے لوگ بھی اس بیان پر کافی حیرت میں ہوں گے کہ یہ کیسا عجیب بیان ہے؟ کیونکہ صرف دو سال پہلے وہ نگورنورکاراباخ کا بڑا علاقہ آرمینیا سے صرف اور صرف طاقت سے چھین چکے ہیں۔ ویسے بھی آج کل دنیا طاقت کے علاوہ کسی اور زبان کو سمجھتی ہی نہیں ہے۔ آپ اخلاقی بنیادوں پر کھڑے رہیئے، آپ انسانی حقوق کی دہائیاں دیتے رہیئے، آپ اپنے قانونی حق کا کہتے رہیئے، آپ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملد درآمد کی اپیلیں کرتے رہیئے۔ دہائیاں گزر جائیں گی مگر دنیا آپ کی نہیں سنے گی۔

آپ کشمیر کو دیکھ لیں خود اقوام متحدہ نے استصواب رائے کے حق کی قرارداد منظور کی، مگر اس کا کیا ہوا؟ سب کچھ ہوا میں اڑا دیا گیا اور آج انڈیا نے کشمیر کی حیثیت تک تبدیل کر دی ہے۔ پاکستان کشمیر اور گلگت بلتستان کو صرف اور صرف جنگ کے ذریعے ہی آزاد کرانے میں کامیاب ہوا۔ اگر صرف اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی تو یہ علاقے بھی انڈیا کا حصہ ہوتے۔ آذربائیجان 1994ء سے کہہ رہا تھا یہ ہمارا علاقہ ہے مگر کیا کسی نے سنا؟ اب اس نے طاقت کے زور پر اپنی علاقائی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبضہ کر لیا ہے تو طاقت کے ذریعے ہی اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہوا۔ جنگ بری چیز ہے اس میں دو رائے نہیں مگر جن قوتوں نے دنیا کا موجودہ نظام تشکیل دیا ہے انہوں نے طاقت کو ہی سب کچھ بناکر دنیا کو جہنم بنادیا ہے۔

  Click to listen highlighted text! تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تنازع کافی پرانا ہے۔ یہ بنیادی طور پر آمینیائی اور آذری قوموں کی لڑائی تھی جو جدید قومی ریاست میں بارڈروں کے تنازعات میں تبدل ہوگئی ہے۔ 1920ء نگورنو کاراباخ میں پہلی بار آرمینین اور آذری لوگوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ 1993ء میں آرمینیا نے نگورنو کاراباخ پر قبضہ کر لیا اور بڑی بے دردی سے آذری مسلم عوام کو وہاں سے جلاوطن کردیا۔ یہاں کی مساجد ویران کردی گئیں اور ہر طرح کی اسلامی شناخت کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ آذربائیجان نے اپنے تیل کے وسائل کو اسلحہ خریدنے اور فوج جدید کرنے پر استعمال کیا۔ 2020ء میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ ہوئی، اس جنگ میں 6500 لوگ مارے گئے تھے، اس کا نتیجہ تھا کہ آذربائیجان نے بزور طاقت نگورنورکاراباخ کا بڑا حصہ آرمینیا سے چھین لیا۔ آرمینا نے اسے نیم آزاد درجہ دے رکھا تھا جس کی اپنی فورسز تک تھیں۔ ترکی نے بڑے پیمانے پر آذربائیجان کی مدد کی۔ اس کے بعد ایک جنگ بندی عمل میں لائی گئی جس میں روس کی امن فورسز آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تعینات کردی گئیں۔ دو سال امن رہا مگر اب پھر جنگی چھڑپوں کی خبریں بین الاقوامی میڈیا پر ہیں۔ اس وقت یہ جنگ کیوں ہو رہی ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو نگورنورکاراباخ پر آذربائیجان کا قبضہ آرمینیا کی عوام کو کسی صورت میں قبول نہیں ہے وہ اس کا بدلہ چاہتے ہیں۔ آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشین معاہدے پر عمل کرنا چاہتے ہیں مگر اپوزیشن سے ڈرتے ہیں۔ موجود تنازع میں بھی ان فورسز کا کردار زیادہ ہے جو نگورنورکاراباخ کی ہی ہیں۔ اگرچہ آذربائیجان آرمینین آرمی کی بات بھی کررہا ہے۔ آذربائیجان اس وقت خود کو بڑی اہم پوزیشن پر سمجھتا ہے، اس کا خیال ہے کہ ابھی اس کے لئے آئیڈیل صورتحال ہے۔ آرمینیا روس کا اتحادی ہے جس کی وجہ سے اس کے مغرب سے تعلقات مثالی نہیں ہیں، اگرچہ آذربائیجان بھی روس سے اچھے تعلقات رکھتا ہے مگر وہ یورپ کا اتحادی بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی یہ خواہش ہے کہ اپنے تیل اور گیس کے ذخائر کو فوری طور پر پائپ لائن کے ذریعے براستہ ترکی یورپ بھیجے۔ اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ترکی اور آذربائیجان کے درمیان میں آرمینیا آجاتا ہے۔ آذر بائیجان ایسی گزرگاہ چاہتا ہے جس کے ذریعے وہ ترکی سے متصل ہوجائے اور پھر یورپ تک اسے راستہ مل جائے گا۔ یورپ کی بھی شدید خواہش ہے کہ آذربائیجان کی گیس راتوں رات یورپ پہنچ جائے تاکہ روس کی اجارہ داری ختم ہو جائے۔ روس اور یوکرین کی جنگ  کی وجہ سے بھی یورپ اور امریکہ خطے میں اپنے اتحادی بڑھانا چاہتے ہیں، ایسے میں وہ آذربائیجان کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے کہ اسے اپنے بلاک میں شامل کیا جائے۔ اس سے ایک طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسے استعمال کیا جائے اور دوسری طرف اسے روس سے دور کر لیا جائے۔ آرمینیا کے وزیراعظم نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ دنیا آذربائیجان کے ان جارحانہ اقدامات کو روکے۔ دنیا کو ان کی اس طرح کی اپیلوں سے خاص غرض نہیں ہے۔ آرمینیا کے وزیراعظم کو انفراسٹکچر کی تعمیر سمیت وہ تمام فیصلے کرنے ہوں گے جو وہ کرنے ہچکچا رہے ہیں اور ساتھ میں انہیں نئے بارڈرز کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا آذربائیجان مختلف طریقوں سے دباؤ برقرار رکھے گا۔ دوسری طرف سے ترکی بھی آرمینیا کے خلاف اور آذربائیجان کی حمایت میں کھڑا رہے گا جس سے آرمینیا کی لڑنے کی پوزیشن کافی متاثر ہوتی ہے۔ بین الاقومی میڈیا میں یہ رپورٹ ہوا ہے کہ امن قائم رکھنے کے لئے آئی روس کی افواج پر بھی آذربائیجان کی طرف سے حملے کئے گئے ہیں۔ ان میں کتنی حقیقت ہے؟ یہ جلد واضح ہو جائے گا۔ امریکی سیکرٹری خارجہ نے کہا ہے کہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ کا یہ بیان خلاف واقع ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں لوگوں نے فوجی طاقت کے استعمال سے اپنے علاقے حاصل کئے ہیں، ابھی اہلیان افغانستان نے امریکہ کے ساتھ مسلسل بیس سال جنگ کی اور اس کے نتیجے میں امریکہ کو وہاں سے نکلتا پڑا۔ آذربائیجان کے لوگ بھی اس بیان پر کافی حیرت میں ہوں گے کہ یہ کیسا عجیب بیان ہے؟ کیونکہ صرف دو سال پہلے وہ نگورنورکاراباخ کا بڑا علاقہ آرمینیا سے صرف اور صرف طاقت سے چھین چکے ہیں۔ ویسے بھی آج کل دنیا طاقت کے علاوہ کسی اور زبان کو سمجھتی ہی نہیں ہے۔ آپ اخلاقی بنیادوں پر کھڑے رہیئے، آپ انسانی حقوق کی دہائیاں دیتے رہیئے، آپ اپنے قانونی حق کا کہتے رہیئے، آپ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملد درآمد کی اپیلیں کرتے رہیئے۔ دہائیاں گزر جائیں گی مگر دنیا آپ کی نہیں سنے گی۔ آپ کشمیر کو دیکھ لیں خود اقوام متحدہ نے استصواب رائے کے حق کی قرارداد منظور کی، مگر اس کا کیا ہوا؟ سب کچھ ہوا میں اڑا دیا گیا اور آج انڈیا نے کشمیر کی حیثیت تک تبدیل کر دی ہے۔ پاکستان کشمیر اور گلگت بلتستان کو صرف اور صرف جنگ کے ذریعے ہی آزاد کرانے میں کامیاب ہوا۔ اگر صرف اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی تو یہ علاقے بھی انڈیا کا حصہ ہوتے۔ آذربائیجان 1994ء سے کہہ رہا تھا یہ ہمارا علاقہ ہے مگر کیا کسی نے سنا؟ اب اس نے طاقت کے زور پر اپنی علاقائی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبضہ کر لیا ہے تو طاقت کے ذریعے ہی اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہوا۔ جنگ بری چیز ہے اس میں دو رائے نہیں مگر جن قوتوں نے دنیا کا موجودہ نظام تشکیل دیا ہے انہوں نے طاقت کو ہی سب کچھ بناکر دنیا کو جہنم بنادیا ہے۔