شرمن کا دورہ پاکستان، امریکی منافقت بے نقاب

  Click to listen highlighted text! تحریر: تصور حسین شہزاد امریکہ روزِ اول سے ہی پاکستان کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا، ابتداء سے آج تک پاک امریکہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو صرف اور صرف یہ حقیقت کھلتی ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کیا ہے اور بس۔ پاکستان کو جب بھی امریکہ کی مدد کی ضرورت پڑی ہے، اس نے ٹھینگا ہی دکھایا ہے۔ پاک بھارت کشیدہ معاملات ہوں یا پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف جنگ، امریکہ کو جہاں اپنا مفاد دکھائی دیتا ہے، وہاں بڑھ چڑھ کر پاکستان پر ’’صدقے واری‘‘ جاتا ہے اور پھر مطلب نکل جانے پر پاکستان کو استعمال شدہ ٹشو کی طرح پھینک دیتا ہے۔ امریکہ کی نائب وزیر خارجہ وینڈی آر شرمن نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان آنے سے قبل وہ بھارت آئیں۔ وہاں مودی سرکار کو کلیئرنس دینے کے بعد اسلام آباد اُتریں۔ بھارت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھی وینڈی آر شرمن نے حقیقت کھول کر رکھ دی۔ ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شرمن نے کہا کہ امریکہ پاکستان کیساتھ صرف افغان مسئلہ پر رابطے کر رہا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں (امریکہ کو) پاکستان کیساتھ بات چیت اور وسیع البنیاد روابط میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ وہ سچ ہے، جو اللہ جانے ہمارے حکمرانوں کی عقل سلیم میں کیوں نہیں سماتا؟ یعنی امریکہ ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہے نہ ہی رابطے رکھنا چاہتا ہے، بس افغان ایشو کی وجہ سے مجبوراً وہ پاکستان سے بات چیت کا کڑوا گھونٹ بھر لیتا ہے۔ جب تعلقات کی نوعیت ایسی ہو تو ایسے دوست کو ’’سات سلام‘‘ کر دینے میں ہی عافیت ہوتی ہے، مگر ہمارے حکمران ایبسلوٹلی ناٹ کہہ کر بھی امریکہ کے سامنے بچھے جاتے ہیں، یہ رویہ غلامانہ ذہنیت کے سوا کچھ نہیں۔ وینڈی آر شرمن نے صحافیوں سے گفتگو میں یہاں بس نہیں کیا، بلکہ مزید کہا کہ ’’ان کا دورہ پاکستان ایک خاص مقصد کیلئے ہے، امریکہ مستقبل میں پاکستان کیساتھ وسیع تعلقات کا قیام نہیں دیکھتا، ہمیں اس دور میں واپس آنے میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں، جب پاکستان اور بھارت کیساتھ امریکہ کے برابر تعلقات ہوتے تھے۔‘‘ امریکی نائب وزیر خارجہ نے یہ بات بھی کھول کر رکھ دی کہ امریکہ بھارت کیساتھ تو تعلقات چاہتا ہے، مگر پاکستان کیساتھ ایسے تعلقات کا خواہاں بالکل نہیں، جیسے تعلقات انڈیا کیساتھ ہیں۔ یہ ہمارے ہینڈ سم وزیراعظم کیلئے بھی ایک کھلا اشارہ ہے کہ پاکستان کی امریکہ کی نگاہ میں کوئی قدر و قیمت نہیں۔ جہاں دوستی اس معیار کی ہو وہاں سے دامن جھاڑ لینے میں ہی عافیت ہوا کرتی ہے۔ ایک حوصلہ افزاء چیز پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے یہ سامنے آئی ہے کہ انہوں نے بھی شرمن کے دورہ انڈیا پر نظر رکھی ہوئی تھی اور اُسے پاکستان پہنچنے پر کچھ زیادہ لفٹ نہیں کروائی گئی، جس کا احساس بہرحال امریکہ کو ہوگیا ہوگا۔ سفارتی آداب بھی منافقت کا بہترین لبادہ ہوا کرتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ اس ملاقات میں بھی ہوا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی آر شرمن کے درمیان وفود کی سطح پر جو بات چیت ہوئی، وہ عمومی اور انتہائی نارمل تھی، لیکن دلوں میں میل بھی واضح تھا۔ وفود کی سطح پر بات چیت میں پاکستان نے امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ وہ وسیع البنیاد اور پائیدار تعلقات قائم کرنے کیلئے پُرعزم ہے، جو معاشی تعاون، علاقائی رابطے اور خطے میں امن کیلئے ہے۔ افغانستان ان دو طرفہ تعلقات میں کئی مسائل میں سے صرف ایک مسئلہ تھا اور مشترکہ مفادات کے فروغ اور مشترکہ علاقائی مقاصد کو آگے بڑھانے کیلئے اہم تھا۔ امریکہ نے (جھوٹ مُوٹ) پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور افغانستان کی صورتحال، سلامتی اور انسداد دہشتگردی، تجارت اور سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطے پر باہمی تبادلہ خیال جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ جبکہ یہی امریکی نائب وزیر خارجہ ممبئی میں کھڑے ہو کر صحافیوں کو بتا رہی تھی کہ ہم پاکستان کیساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کا کوئی پروگرام نہیں رکھتے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وینڈی آر شرمن یا تو ممبئی میں جھوٹ بول رہی تھی یا اسلام آباد میں، اگر مذکورہ دونوں میں سے کسی ایک جگہ پر بھی جھوٹ کا سہارا لے رہی تھیں، تو ان کی اصلیت کیلئے یہی قول کا تضاد ہی کافی ہے کہ امریکہ نہ تو انڈیا کیساتھ مخلص ہے اور نہ پاکستان کیساتھ، اس لئے دونوں ملکوں اس امریکہ کے حوالے سے واضح پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی۔ دوسری جانب امریکہ نے چین کیخلاف ’’کواڈ‘‘ نامی جو اتحاد تشکیل دیا ہے، جاپان اور آسٹریلیا کیساتھ بھارت بھی اس اتحاد کا حصہ ہے، جبکہ پاکستان خطے میں چین کا بہترین اور قریبی دوست ہے، اس لئے مستقبل قریب میں ماضی جیسے پاک امریکہ تعلقات کی بحالی کی امید لگانا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہوگا، پاکستان کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی درست خارجہ پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔ ہمیں سات سمندر پار بیٹھے امریکہ کی بجائے اپنے ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ہوگا۔ اس میں پاکستان کی معاشی بہتری بھی ہے اور امن و امان کا قیام بھی۔

تحریر: تصور حسین شہزاد

امریکہ روزِ اول سے ہی پاکستان کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا، ابتداء سے آج تک پاک امریکہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو صرف اور صرف یہ حقیقت کھلتی ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کیا ہے اور بس۔ پاکستان کو جب بھی امریکہ کی مدد کی ضرورت پڑی ہے، اس نے ٹھینگا ہی دکھایا ہے۔ پاک بھارت کشیدہ معاملات ہوں یا پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف جنگ، امریکہ کو جہاں اپنا مفاد دکھائی دیتا ہے، وہاں بڑھ چڑھ کر پاکستان پر ’’صدقے واری‘‘ جاتا ہے اور پھر مطلب نکل جانے پر پاکستان کو استعمال شدہ ٹشو کی طرح پھینک دیتا ہے۔

امریکہ کی نائب وزیر خارجہ وینڈی آر شرمن نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان آنے سے قبل وہ بھارت آئیں۔ وہاں مودی سرکار کو کلیئرنس دینے کے بعد اسلام آباد اُتریں۔ بھارت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھی وینڈی آر شرمن نے حقیقت کھول کر رکھ دی۔ ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شرمن نے کہا کہ امریکہ پاکستان کیساتھ صرف افغان مسئلہ پر رابطے کر رہا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں (امریکہ کو) پاکستان کیساتھ بات چیت اور وسیع البنیاد روابط میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ وہ سچ ہے، جو اللہ جانے ہمارے حکمرانوں کی عقل سلیم میں کیوں نہیں سماتا؟ یعنی امریکہ ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہے نہ ہی رابطے رکھنا چاہتا ہے، بس افغان ایشو کی وجہ سے مجبوراً وہ پاکستان سے بات چیت کا کڑوا گھونٹ بھر لیتا ہے۔

جب تعلقات کی نوعیت ایسی ہو تو ایسے دوست کو ’’سات سلام‘‘ کر دینے میں ہی عافیت ہوتی ہے، مگر ہمارے حکمران ایبسلوٹلی ناٹ کہہ کر بھی امریکہ کے سامنے بچھے جاتے ہیں، یہ رویہ غلامانہ ذہنیت کے سوا کچھ نہیں۔ وینڈی آر شرمن نے صحافیوں سے گفتگو میں یہاں بس نہیں کیا، بلکہ مزید کہا کہ ’’ان کا دورہ پاکستان ایک خاص مقصد کیلئے ہے، امریکہ مستقبل میں پاکستان کیساتھ وسیع تعلقات کا قیام نہیں دیکھتا، ہمیں اس دور میں واپس آنے میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں، جب پاکستان اور بھارت کیساتھ امریکہ کے برابر تعلقات ہوتے تھے۔‘‘ امریکی نائب وزیر خارجہ نے یہ بات بھی کھول کر رکھ دی کہ امریکہ بھارت کیساتھ تو تعلقات چاہتا ہے، مگر پاکستان کیساتھ ایسے تعلقات کا خواہاں بالکل نہیں، جیسے تعلقات انڈیا کیساتھ ہیں۔

یہ ہمارے ہینڈ سم وزیراعظم کیلئے بھی ایک کھلا اشارہ ہے کہ پاکستان کی امریکہ کی نگاہ میں کوئی قدر و قیمت نہیں۔ جہاں دوستی اس معیار کی ہو وہاں سے دامن جھاڑ لینے میں ہی عافیت ہوا کرتی ہے۔ ایک حوصلہ افزاء چیز پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے یہ سامنے آئی ہے کہ انہوں نے بھی شرمن کے دورہ انڈیا پر نظر رکھی ہوئی تھی اور اُسے پاکستان پہنچنے پر کچھ زیادہ لفٹ نہیں کروائی گئی، جس کا احساس بہرحال امریکہ کو ہوگیا ہوگا۔ سفارتی آداب بھی منافقت کا بہترین لبادہ ہوا کرتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ اس ملاقات میں بھی ہوا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی آر شرمن کے درمیان وفود کی سطح پر جو بات چیت ہوئی، وہ عمومی اور انتہائی نارمل تھی، لیکن دلوں میں میل بھی واضح تھا۔

وفود کی سطح پر بات چیت میں پاکستان نے امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ وہ وسیع البنیاد اور پائیدار تعلقات قائم کرنے کیلئے پُرعزم ہے، جو معاشی تعاون، علاقائی رابطے اور خطے میں امن کیلئے ہے۔ افغانستان ان دو طرفہ تعلقات میں کئی مسائل میں سے صرف ایک مسئلہ تھا اور مشترکہ مفادات کے فروغ اور مشترکہ علاقائی مقاصد کو آگے بڑھانے کیلئے اہم تھا۔ امریکہ نے (جھوٹ مُوٹ) پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور افغانستان کی صورتحال، سلامتی اور انسداد دہشتگردی، تجارت اور سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطے پر باہمی تبادلہ خیال جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ جبکہ یہی امریکی نائب وزیر خارجہ ممبئی میں کھڑے ہو کر صحافیوں کو بتا رہی تھی کہ ہم پاکستان کیساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کا کوئی پروگرام نہیں رکھتے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وینڈی آر شرمن یا تو ممبئی میں جھوٹ بول رہی تھی یا اسلام آباد میں، اگر مذکورہ دونوں میں سے کسی ایک جگہ پر بھی جھوٹ کا سہارا لے رہی تھیں، تو ان کی اصلیت کیلئے یہی قول کا تضاد ہی کافی ہے کہ امریکہ نہ تو انڈیا کیساتھ مخلص ہے اور نہ پاکستان کیساتھ، اس لئے دونوں ملکوں اس امریکہ کے حوالے سے واضح پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی۔

دوسری جانب امریکہ نے چین کیخلاف ’’کواڈ‘‘ نامی جو اتحاد تشکیل دیا ہے، جاپان اور آسٹریلیا کیساتھ بھارت بھی اس اتحاد کا حصہ ہے، جبکہ پاکستان خطے میں چین کا بہترین اور قریبی دوست ہے، اس لئے مستقبل قریب میں ماضی جیسے پاک امریکہ تعلقات کی بحالی کی امید لگانا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہوگا، پاکستان کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی درست خارجہ پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔ ہمیں سات سمندر پار بیٹھے امریکہ کی بجائے اپنے ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ہوگا۔ اس میں پاکستان کی معاشی بہتری بھی ہے اور امن و امان کا قیام بھی۔