Tue Aug 25, 2026

چین، ایران پر غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے امریکا کو اپنا رویہ اور طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا، ایرانی قیادت ایران بیرونی طاقتوں کیخلاف نسل در نسل لڑنے کے لیے تیار ہے، ایرانی آرمی چیف امریکا کو دوبارہ بھوکا بناؤ، قالیباف نے گرافک شیئر کردیا پاکستانی فیلڈ مارشل کا ثالثی مشن، ایران میں ملاقاتیں معاشی دباؤ کا حربہ پرانا ہے، ایران مقابلہ کرنا جانتا ہے، عراقچی غزہ اور مغربی کنارے میں بچے سمیت مزید 6 فلسطینی شہید معاشی دباؤ فوجی شکست کا اعتراف ہے، پاسداران انقلاب یورپی یونین کا ای ون منصوبے کا ٹینڈر واپس لینے کا مطالبہ جارحیت نے خود امریکا کو معاشی مشکلات سے دوچار کردیا ہے، قالیباف ٹرمپ کی شخصیت پرستی، امریکی صدر نے ہر چیز پر اپنا نام اور چہرہ نمایاں کرنا شروع کردیا صیہونی فوج اور آبادکاروں کے حملے، 4 فلسطینی شہید، 19 زخمی چین کی مدد کے بغیر ایران کو تنہا کرنا ممکن نہیں، نیو یارک ٹائمز یوکرین نے اپنے لئے جہنم کے دروازے کھول لئے ہیں، پیوٹن ایران سے معاشی روابط برقرار رکھنے والے ممالک بھی معاشی تنہائی کا شکار ہوسکتے ہیں، امریکا

روزانہ کی خبریں

شہید مظفر علی کرمانی ؒ،کچھ یادیں کچھ باتیں

تحریر: ابو المنتظر

۵ فروری 2001ء کو شہید ہونے والی شخصیت مظفر علی کرمانی ؒنے آنے والی نئی نسلوں کے ذہنوں میں ایک سوالیہ نشان بنا دیا کہ وہ اس بات کو جاننے پر مجبور ہوئے کہ وہ کون تھے؟ کیا تھے؟ اور انہیں کس جرم کی پاداش میں شہید کیا گیا۔ دشمن اسلام نے اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہ ہم اسے نظریاتی میدان میں شکست نہیں دے سکتے اور تنگ نظری کے باعث یہ سمجھا کہ وہ شہید مظفر علی کرمانی ؒ کے وجود کو ختم کرکے اس کی زبان بند کردیں گے کم ظرف دشمن شاید یہ نہیں سمجھ پایا کہ نظریاتی اور فکری میدانوں میں جسم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ نظریہ اور فکر کی اہمیت ہوتی ہے جسے وہ ہزار مظفر شہید کرکے بھی ختم نہیں کر سکتے بلکہ راہ خدا میں گرنے والا ہر خون نوجوانوں کے عزم کو مزید پختہ کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن نے ایک مظفر شہید کرکے کئی مظفر اور جنم دیئے جو آج مختلف شعبوں میں دین خدا کی تقویت کا سبب بن رہے ہیں۔ شاعر نے شہید کے کردار کو چراغ کی لو سے تشبیہ دیتے ہوئے کیا خوب کہا ہے:


چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو
بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا


شہید مظفر علی کرمانی ؒ اپنے پاکیزہ کردار کے سبب ملت میں کسی تعریف کے محتاج نہیں، ان کے عملی کارنامے ان کے کردار کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ شہید مظفر علی کرمانی ؒ نے کبھی بھی زبانی کلامی دعوؤں کو اپنا شعار نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ عملی میدان میں صف اول میں نظر آئے۔ شہید نے اپنے دن و رات ملت کی خدمت کے لئے وقف کردیئے۔ تبلیغات کا میدان ہو، نوجوانوں کی تربیت کا مسئلہ ہو، تحفظ عزاداری کا مسئلہ ہو یا اخبارات و جرائد کی اشاعت کا مسئلہ ہر محاذ پر شہید نے اپنا بہترین کردار ادا کیا۔


شہید مظفر علی کرمانی ؒ اپنی ذات میں ایک فرد نہیں بلکہ امت تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو اسلام کے لئے وقف کردیا تھا ان کی ہر بات، ہر عمل، ہر قدم الہٰی معاشرے کے قیام کے لئے ہوتا۔ حق کی حمایت اور باطل سے نفرت ان کے خون میں سرائیت کئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کے فکری جمود کو توڑنے کے لئے سب سے زیادہ شعور کی بلندی پر زور دیا اور نوجوانوں کی تربیت کے لئے ہر لمحہ کوشاں رہے۔ ان کے سینے میں اسلام کا ایسا درد موجود تھا جو ان کی زبان کو کسی لمحے بھی بند نہیں ہونے دیتا تھا اور یہ درد انہوں نے کربلا سے حاصل کیا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ جس دین کی بقاء کی خاطر امام حسین ؑ نے اپنے مقدس ترین خانوادے، محترم ترین دوست و احباب کو قربان کردیا ہو وہ دین کوئی معمولی دین نہیں ہے، جس دین پر اتنا قیمتی خون بہا ہو اس دین کی حفاظت کی خاطر ہماری یہ ناچیز ہستی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی مکمل زندگی تکالیف و دکھوں میں گزار دی اور یہی درد وہ ملک کے گوشہ و کنار میں لئے پھرتے رہتے۔


کس قدر تو محفل میں ہنستا رہا
کتنے صدمات سہتی رہی زندگی


شہید نوجوانوں کی تربیت کے لئے اندرون ملک و بیرون ملک اکثر دورہ جات کرتے۔ دیہاتوں، شہروں میں جاکر نوجوانوں کے ساتھ نجی محفلوں کا انعقاد کرتے، انہیں اسلام کے حقیقی معارف پیش کرتے اور چند ہی لمحوں میں ان کے دلوں میں اسلام کی محبت کو اجاگر کردیتے اور ان میں تحریک پیدا کردیتے۔ وہ نوجوانوں سے خواہش کرتے کہ آپ دنیا کے کسی بھی علاقے میں رہیں یا معاشرے کی کسی بھی سرگرمی میں ہوں خدا را اپنی اسلامی شناخت کو نہ کھوئیں۔ اسلامی اوصاف کو اپنے اندر جمع کریں، اسلامی فکر کے ساتھ اپنی زندگی کو گزاریں، یاد خدا اور خوف خدا آپ کی زندگی کی اساس ہونا چاہیے۔ آپ دفتری امور انجام دے رہے ہوں یا مسجد میں نماز و قرآن پڑھ رہے ہوں۔ وہ اسلام کے نام پر ہونے والے ظاہری رسم و رواج کو مردہ جسم سے تعبیر کرتے وہ اکثر اپنی نجی محافل میں کہا کرتے تھے کہ آج اسلام کی مظلومیت یہ ہے کہ اس کی تمام قدریں تبدیل ہو چکی ہیں، موجودہ رائج اسلام سے امریکا بہت خوش ہے کیونکہ یہ صرف اسلام کا جسم ہے اس میں اس کی اصل یعنی روح موجود نہیں ہے، مردہ اسلام، اسلام امریکائی ہے، کسی نے مسجد کو مکمل اسلام سمجھ لیا ہے تو کسی نے جہاد کو، کسی نے مزارات کو تو کسی نے عزاداری کو جبکہ اسلام کے قوانین اور رہنمائی ہر شعبے میں موجود ہے۔ قرآن ہر دور کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے، چاہے وہ سیاست ہو، معاشرت ہو، اخلاقیات، معاشیات، سائنسی علوم ہو یا دنیوی علوم غرض ہر شعبے میں اس کی رہنمائی موجود ہے، اسلام ایک جامع مذہب ہے اسے صرف مسجد تک محدود نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اسلام ایک آفاقی دین ہے اسے حکومت اسلامی کے قیام کے بغیر نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکرکرنے کے لئے حکومت اسلامی بنیادی ترین ضرورت ہے۔ شہید مظفر علی کرمانی ؒ اسلام کی موجودہ بگڑی ہوئی صورت کا قصوروار علمائے سوکو قرار دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے علماء انبیاء ؑ کے وارث ہوتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے فرائض کو احسن طریقے سے انجام دیں، معاشرے میں اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کریں تاکہ لوگ اسلام کے طالب بنیں، لیکن ہمارے معاشرے کے اکثر علماء اپنی دنیا سنوارنے میں مصروف ہیں، نتیجتاً دین کا چہرہ ہمارے معاشرے میں قابل نفرت بنتا جارہا ہے۔ وہ اکثر محفلوں میں علماء و مدارس کی اسلامی غفلت پر اشارہ کرتے ہوئے اقبال ؒکا یہ شعر دہراتے جو علامہ اقبال ؒ نے اسلام کی مظلومیت میں کہا ہے:


گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لاالہ الا اللہ


ویسے تو ان کی باتیں بہت زیادہ ہیں لیکن چند اہم یادیں جس نے ہمیں شہید کی زندگی سے بہت زیادہ متاثر کیا ان میں ایک ان کی سادگی اور توکل برخدا تھا۔ شہید مظفر علی کرمانی ؒ انتہائی سادہ انسان تھے۔ سادہ لباس پہنتے، کم کھانے کو ترجیح دیتے اور اپنی اہم ترین بات کو انتہائی سادگی کے ساتھ ہنستے ہنستے بیان کردیتے۔ انا پرستی کی شدید مذمت کرتے اور توحید پرستی کی جانب بار بار ساتھیوں کو متوجہ کرتے، وہ کہتے اگر انسان کو دنیاو آخرت میں کوئی مقام حاصل کرنا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ خود کو خدا کی خاطر فنا کردے خداخود اسے باقی بنا دے گا چونکہ خدا کی صفت باقی ہے وہ اپنی یہ صفت اپنے بندے کو عطا کردیتا ہے، اس بات کو انہوں نے عملی کرکے بھی دکھایا۔ وہ کہتے انسان خود کو فنا کرکے اپنی خودی (روح) کو بلند کردیتا ہے اور اقبال ؒ کا یہ شعر دہراتے:


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

شہیدؒ کی انہی باتوں اور انہی یادوں نے ہمیں زندگی عطا کی ہے اور یہاں بیان کرنے کا مقصد بھی یہ ہے کہ آئندہ آنے والی نسلوں کو ان کی رفتار وگفتار سے آگاہ کیا جائے تاکہ ہم سب مل کر ان کی برسی کو ایفائے عہد کے طور پر منا سکیں اور شہید مظفر علی کرمانی ؒ سے یہ عہد کریں کہ ہم سب ان کے مشن کو جاری رکھیں گے۔

مزید پڑھیے

Most Popular