حقیقی خیر سگالی ناپید

  Click to listen highlighted text! تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقویایران کے خلاف غیر قانونی پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کے مشترکہ کمیشن کے مذاکرات ویانا میں ستائیس دسمبر دو ہزار اکیس سے شروع ہیں، جس کی سربراہی سینیئر ایرانی مذاکرات کار علی باقری کنی اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے شعبے کے نائب سربراہ انریکے مورا کر رہے ہیں۔ تازہ ترین صورت حال کے مطابق ویانا میں ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں جبکہ مغرب بالخصوص امریکا نے ابھی تک کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی سنجیدگی اور سیاسی عزم کا اظہار نہیں کیا ہے۔ گذشتہ دو دنوں میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ “علی باقری کنی” اور فور پلس ون (روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی) کے مذاکرات کاروں کے درمیان سنجیدہ اور متواتر مذاکرات جاری رہے۔ چین، یورپی یونین اور تین یورپی ممالک نے بقیہ مسائل پر بات کرنے کے لیے ماہرین کی میٹنگیں بھی کیں۔ ویانا مذاکرات میں شرکت کرنے والے وفود کی تعداد میں اضافہ مذاکراتی عمل کے آگے بڑھنے اور بعض صورتوں میں اختلاف کی ایک وجہ ہے۔ ویانا میں روس کے چیف مذاکرات کار میخائل الیانوف نے منگل کو ٹویٹ کیا، “کچھ قیاس آرائیوں کے مطابق، شفافیت کی ضرورت ہے اور اس وقت مختلف انداز سے ویانا مذاکرات ہو رہے ہیں۔ مذاکراتی عمل میں کچھ پیش رفت کے باوجود، مغرب کی طرف سے اب بھی کچھ غیر ضروری مطالبات سامنے آرہے ہیں اور یہاں تک کہ ماضی کے متن کو بھی نظر انداز کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور مذاکرات کی سست روی کی ایک وجہ یہ  بھی ہے۔ ایک طرف مغربی فریقین مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے ایک ٹائم ٹیبل اور وقت کی حد کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف مسلسل اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کرکے موجودہ پیش رفت کو نظر انداز کرکے مذاکرات میں رکاوٹ اور سست روی کا باعث بن رہے ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں یوس لودریان نے بدھ کی صبح دعویٰ کیا کہ دسمبر کے آخر میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود ایران اور عالمی طاقتیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو بحال کرنے کے معاہدے تک پہنچنے سے ابھی دور ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران واضح اقدامات اور تجاویز کے ساتھ سامنے آیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ اپنی سرخ لکیروں اور اصولی مطالبات سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا اور اگر دوسرا فریق اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے پابندیوں کے موثر خاتمے کے طریقہ کار کو قبول کرنے کے لیے سنجیدہ ارادہ رکھتا ہے تو معاہدے تک پہنچنے مین زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے مغرب کی طرف سے مذاکرات کو مکمل کرنے کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ہم ابھی تک ویانا مذاکرات میں مغرب کی طرف سے کوئی نیا اقدام نہیں دیکھتے۔ وہ اپنے وعدوں پر واپس آنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے، لہٰذا ہم محسوس کرتے ہیں کہ مغربی باشندے اس معاملے میں تاخیر کر رہے ہیں۔ ویانا مذاکرات کے آغاز کے بعد سے صیہونی حکومت جو ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کی مخالفت کرتی ہے، ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے سلسلے میں مسلسل دھمکی آمیز موقف اختیار کر رہی ہے۔ پیر کے روز اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایک بار پھر ویانا مذاکرات اور اس کے دوران کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدہ کی ہماری حکومت پابند نہیں ہوگی۔” صیہونی حکومت کے حکام کی اس طرح کی دھمکیوں کے باوجود مغربی ممالک کی خاموشی، نیز 2015ء کے معاہدے کو بحال نہ کرنے کی کوشش اور صیہونی حکومت کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مذاکرات میں مغربی ممالک کی حقیقی خیر سگالی ناپید ہے۔ ویانا مذاکرات کے حوالے سے صیہونی حکومت کے ساتھ مغربی فریقین کا کوئی بھی تعاون مذاکرات کے موجودہ عمل پر تباہ کن اثر ڈالے گا۔ بہرحال اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلان کر رکھا ہے کہ ویانا سمجھوتے کے حصول کی صورت میں دو ہزار پندرہ میں ہونے والے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کو پہلے پابندیوں کو اٹھانا پڑے گا اور پھر اس کی صداقت کو پرکھا جائے گا اور اس کے بعد ایٹمی سمجھوتے کے تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران اپنے وعدوں پر عمل کرے گا۔    

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ایران کے خلاف غیر قانونی پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کے مشترکہ کمیشن کے مذاکرات ویانا میں ستائیس دسمبر دو ہزار اکیس سے شروع ہیں، جس کی سربراہی سینیئر ایرانی مذاکرات کار علی باقری کنی اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے شعبے کے نائب سربراہ انریکے مورا کر رہے ہیں۔ تازہ ترین صورت حال کے مطابق ویانا میں ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں جبکہ مغرب بالخصوص امریکا نے ابھی تک کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی سنجیدگی اور سیاسی عزم کا اظہار نہیں کیا ہے۔ گذشتہ دو دنوں میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ “علی باقری کنی” اور فور پلس ون (روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی) کے مذاکرات کاروں کے درمیان سنجیدہ اور متواتر مذاکرات جاری رہے۔ چین، یورپی یونین اور تین یورپی ممالک نے بقیہ مسائل پر بات کرنے کے لیے ماہرین کی میٹنگیں بھی کیں۔

ویانا مذاکرات میں شرکت کرنے والے وفود کی تعداد میں اضافہ مذاکراتی عمل کے آگے بڑھنے اور بعض صورتوں میں اختلاف کی ایک وجہ ہے۔ ویانا میں روس کے چیف مذاکرات کار میخائل الیانوف نے منگل کو ٹویٹ کیا، “کچھ قیاس آرائیوں کے مطابق، شفافیت کی ضرورت ہے اور اس وقت مختلف انداز سے ویانا مذاکرات ہو رہے ہیں۔ مذاکراتی عمل میں کچھ پیش رفت کے باوجود، مغرب کی طرف سے اب بھی کچھ غیر ضروری مطالبات سامنے آرہے ہیں اور یہاں تک کہ ماضی کے متن کو بھی نظر انداز کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور مذاکرات کی سست روی کی ایک وجہ یہ  بھی ہے۔ ایک طرف مغربی فریقین مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے ایک ٹائم ٹیبل اور وقت کی حد کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف مسلسل اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کرکے موجودہ پیش رفت کو نظر انداز کرکے مذاکرات میں رکاوٹ اور سست روی کا باعث بن رہے ہیں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں یوس لودریان نے بدھ کی صبح دعویٰ کیا کہ دسمبر کے آخر میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود ایران اور عالمی طاقتیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو بحال کرنے کے معاہدے تک پہنچنے سے ابھی دور ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران واضح اقدامات اور تجاویز کے ساتھ سامنے آیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ اپنی سرخ لکیروں اور اصولی مطالبات سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا اور اگر دوسرا فریق اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے پابندیوں کے موثر خاتمے کے طریقہ کار کو قبول کرنے کے لیے سنجیدہ ارادہ رکھتا ہے تو معاہدے تک پہنچنے مین زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے مغرب کی طرف سے مذاکرات کو مکمل کرنے کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ہم ابھی تک ویانا مذاکرات میں مغرب کی طرف سے کوئی نیا اقدام نہیں دیکھتے۔ وہ اپنے وعدوں پر واپس آنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے، لہٰذا ہم محسوس کرتے ہیں کہ مغربی باشندے اس معاملے میں تاخیر کر رہے ہیں۔

ویانا مذاکرات کے آغاز کے بعد سے صیہونی حکومت جو ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کی مخالفت کرتی ہے، ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے سلسلے میں مسلسل دھمکی آمیز موقف اختیار کر رہی ہے۔ پیر کے روز اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایک بار پھر ویانا مذاکرات اور اس کے دوران کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدہ کی ہماری حکومت پابند نہیں ہوگی۔” صیہونی حکومت کے حکام کی اس طرح کی دھمکیوں کے باوجود مغربی ممالک کی خاموشی، نیز 2015ء کے معاہدے کو بحال نہ کرنے کی کوشش اور صیہونی حکومت کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مذاکرات میں مغربی ممالک کی حقیقی خیر سگالی ناپید ہے۔

ویانا مذاکرات کے حوالے سے صیہونی حکومت کے ساتھ مغربی فریقین کا کوئی بھی تعاون مذاکرات کے موجودہ عمل پر تباہ کن اثر ڈالے گا۔ بہرحال اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلان کر رکھا ہے کہ ویانا سمجھوتے کے حصول کی صورت میں دو ہزار پندرہ میں ہونے والے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کو پہلے پابندیوں کو اٹھانا پڑے گا اور پھر اس کی صداقت کو پرکھا جائے گا اور اس کے بعد ایٹمی سمجھوتے کے تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران اپنے وعدوں پر عمل کرے گا۔