قرآن مجید آئین زندگی ہے، مولانا تطہیر حسین زیدی

  Click to listen highlighted text! لاہور : مولانا تطہیر حسین زیدی نے کہا ہے کہ قرآن مجید ہمارا آئین زندگی ہے۔ اگر ہماری سوچ، فکر، عمل، ہاتھوں کی حرکت، آنکھوں کا دیکھنا اورکانوں کا سننا قرآن کے مطابق ہوا تو اس صورت میں ہماری سانس تک عبادت الٰہی شمار ہوگی۔قرآن ہمیں دنیا اور آخرت کی طرف متوجہ کر رہاہے کہ آخرت کی زندگی دنیا سے بہتر ہے۔پس ہمیں دنیا سے اچھی صورت میں آخرت کی طرف منتقل ہونا ہے یعنی برائیوں سے پاک اور اعمال صالح کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونا ہے تاکہ ہماری آخرت بہتر ہو سکے۔ حوز ہ علمیہ جامعتہ المنتظرماڈل ٹاون میں خطاب کرتے ہوئے مولانا تطہیر حسین زیدی نے کہا کہ دنیا دار ہونا کوئی عیب نہیں ہے بلکہ دنیا پرستی مذموم اور حرام ہے۔ دنیاداری یعنی اپنی اوقات اور شان کے مطابق کھانا پینا اور رہن سہن رکھنا۔ اگر ہمارے پاس مال و دولت ہو گی۔ ہمارا لباس، کھانا پینا اور رہنا سہنا اعلیٰ ہوگا تو کفار پر رعب پڑے گا۔ ہماری گفتار، رفتار اور کردار کا رعب پڑے گا تو و ہ گروہ اسلام میں داخل ہوتے چلے جائیں گئے۔ اور یہی درست دنیا داری اسلام کے غلبہ کا سبب بنے گی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ کہ جو ملیکة العرب کے لقب سے شہرت رکھتی تھیں۔ ان کے پاس درہم و دینار، غلاموں ، کنیزوں اور جانوروں کی کثرت تھی۔ لیکن انہوں نے اپنے لئے امین کو منتخب کیا۔ کتنی مفکرہ تھیں کہ جب وہ دنیا سے رخصت ہونے لگیں تو فرمایا: یا رسول اللہ ! میرا سارا مال آپ کا ہے ،جہاں چاہیں اسے خرچ کریں لیکن آپ کے کندھے پر موجود یمنی چادر میں مجھے کفن پہنا دینا۔ مولانا تطہیر زیدی نے نوجوانوں پر زوردیا کہ وہ جتنا ہو سکے کمائیں اور اپنے آپ کو مضبوط کریں۔ دنیا پرستی کے لئے نہیں بلکہ دنیا داری کے لئے۔ اپنی سہولیات ، آسائشات اور ضروریات پر حلال طریقے سے خرچ کریں اور فضول خرچی اور اسراف سے بچیں۔

لاہور : مولانا تطہیر حسین زیدی نے کہا ہے کہ قرآن مجید ہمارا آئین زندگی ہے۔ اگر ہماری سوچ، فکر، عمل، ہاتھوں کی حرکت، آنکھوں کا دیکھنا اورکانوں کا سننا قرآن کے مطابق ہوا تو اس صورت میں ہماری سانس تک عبادت الٰہی شمار ہوگی۔قرآن ہمیں دنیا اور آخرت کی طرف متوجہ کر رہاہے کہ آخرت کی زندگی دنیا سے بہتر ہے۔پس ہمیں دنیا سے اچھی صورت میں آخرت کی طرف منتقل ہونا ہے یعنی برائیوں سے پاک اور اعمال صالح کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونا ہے تاکہ ہماری آخرت بہتر ہو سکے۔ حوز ہ علمیہ جامعتہ المنتظرماڈل ٹاون میں خطاب کرتے ہوئے مولانا تطہیر حسین زیدی نے کہا کہ دنیا دار ہونا کوئی عیب نہیں ہے بلکہ دنیا پرستی مذموم اور حرام ہے۔ دنیاداری یعنی اپنی اوقات اور شان کے مطابق کھانا پینا اور رہن سہن رکھنا۔ اگر ہمارے پاس مال و دولت ہو گی۔ ہمارا لباس، کھانا پینا اور رہنا سہنا اعلیٰ ہوگا تو کفار پر رعب پڑے گا۔ ہماری گفتار، رفتار اور کردار کا رعب پڑے گا تو و ہ گروہ اسلام میں داخل ہوتے چلے جائیں گئے۔ اور یہی درست دنیا داری اسلام کے غلبہ کا سبب بنے گی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ کہ جو ملیکة العرب کے لقب سے شہرت رکھتی تھیں۔ ان کے پاس درہم و دینار، غلاموں ، کنیزوں اور جانوروں کی کثرت تھی۔ لیکن انہوں نے اپنے لئے امین کو منتخب کیا۔ کتنی مفکرہ تھیں کہ جب وہ دنیا سے رخصت ہونے لگیں تو فرمایا: یا رسول اللہ ! میرا سارا مال آپ کا ہے ،جہاں چاہیں اسے خرچ کریں لیکن آپ کے کندھے پر موجود یمنی چادر میں مجھے کفن پہنا دینا۔ مولانا تطہیر زیدی نے نوجوانوں پر زوردیا کہ وہ جتنا ہو سکے کمائیں اور اپنے آپ کو مضبوط کریں۔ دنیا پرستی کے لئے نہیں بلکہ دنیا داری کے لئے۔ اپنی سہولیات ، آسائشات اور ضروریات پر حلال طریقے سے خرچ کریں اور فضول خرچی اور اسراف سے بچیں۔