
The head of Freedom party of Lower Austria Michael Schnedlitz speaks during a rally held by Austria’s far-right Freedom Party FPOe against the measures taken to curb the coronavirus (Covid-19) pandemic, at Maria Theresien Platz square in Vienna, Austria on November 20, 2021. – Austria will impose a lockdown for all and make vaccinations mandatory, Austria’s Chancellor Schallenberg announced on November 19, making the country the first in the EU to take such stringent measures as coronavirus cases spiral. The Alpine nation plans to make Covid-19 vaccinations mandatory from February 1 next year, while the lockdown will start from Monday, November 22 and will be evaluated after 10 days. (Photo by JOE KLAMAR / AFP)
برسلز: یورپ اور آسٹریلیا میں ہزاروں افراد کورونا پابندیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا۔ نیدر لینڈ کے شہر روٹرڈیم میں دوسرے دن بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور کورونا پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ پولیس اورمظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ احتجاج کا دائرہ دی ہیگ اور ایمسٹرڈیم شہروں تک پھیل گیا ہے۔آسٹریا کے شہر ویانا میں 40 ہزار سے زائد افراد نے ریلی نکالی اور پابندیوں کو آمریت قرار دیتے ہوئے اس ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ بیلجیئم کی سرحد کی قریب جنوبی شہر بریڈا میں سیکڑوں افراد نے مارچ کیا۔ کروشیا کے دارلحکومت زغرب میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ آسٹریلیا میں کورونا ویکسین لازمی قرار دینے کے خلاف ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ سڈنی، برسبین اور پرتھ میں بڑی بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔


































