وزیراعظم عمران خان نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کے عوامی ورژن کا اجراء کر دیا

  Click to listen highlighted text! اسلام آباد: پہلی قومی سلامتی پالیسی کےعوامی ورژن کی اجرائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی ہماری حکومت کی اولین ترجیح تھی، قومی سلامتی پالیسی 2022-2026 کا محور حکومت کا وژن ہے جو یقین رکھتی ہے کہ ملکی سلامتی کا انحصار شہریوں کی سلامتی میں مضمر ہے ، کسی بھی قومی سلامتی پالیسی میں قومی ہم آہنگی اور لوگوں کی خوشحالی کو شامل کیا جانا چاہئے، جب کہ بلاامتیاز بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کی ضمانت ہونی چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپنے شہریوں کی وسیع صلاحیتوں سے استفادہ کے لئے خدمات پر مبنی اچھے نظم و نسق کو فروغ دینا ضروری ہے، قومی سلامتی کمیٹی باقاعدگی سے اس پر پیش رفت کا جائزہ لے گی، ہماری مسلح افواج ، ہمارا فخر ہیں، خطے میں ہمیں درپیش خطرات اور ہائبرڈ وار کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں انہیں ہماری طرف سے بڑی اہمیت اور حمایت حاصل رہے گی۔ عمران خان نے کہا کہ اگر آپ کی میعشت کی سمت درست نہیں تو پھر آپ کی سیکیورٹی ضرور متاثر ہو گی۔ جب آپ کو بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو کہیں نہ کہیں اپنی سیکیورٹی پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں کبھی بھی مربوط قومی سیکیورٹی پالیسی نہیں بنائی گئی۔ آپ کی سب سے بڑی سیکیورٹی وہ ہوتی ہے جب آپ کے عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور سب سمجھیں کہ ہم اس قوم کا حصہ ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی چیلنج ہے تو وہ قانون کی حکمرانی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک قانون کی حکمرانی کے بغیر خوشحال ہو ہی نہیں سکتا۔

اسلام آباد: پہلی قومی سلامتی پالیسی کےعوامی ورژن کی اجرائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی ہماری حکومت کی اولین ترجیح تھی، قومی سلامتی پالیسی 2022-2026 کا محور حکومت کا وژن ہے جو یقین رکھتی ہے کہ ملکی سلامتی کا انحصار شہریوں کی سلامتی میں مضمر ہے ، کسی بھی قومی سلامتی پالیسی میں قومی ہم آہنگی اور لوگوں کی خوشحالی کو شامل کیا جانا چاہئے، جب کہ بلاامتیاز بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کی ضمانت ہونی چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپنے شہریوں کی وسیع صلاحیتوں سے استفادہ کے لئے خدمات پر مبنی اچھے نظم و نسق کو فروغ دینا ضروری ہے، قومی سلامتی کمیٹی باقاعدگی سے اس پر پیش رفت کا جائزہ لے گی، ہماری مسلح افواج ، ہمارا فخر ہیں، خطے میں ہمیں درپیش خطرات اور ہائبرڈ وار کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں انہیں ہماری طرف سے بڑی اہمیت اور حمایت حاصل رہے گی۔
عمران خان نے کہا کہ اگر آپ کی میعشت کی سمت درست نہیں تو پھر آپ کی سیکیورٹی ضرور متاثر ہو گی۔ جب آپ کو بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو کہیں نہ کہیں اپنی سیکیورٹی پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں کبھی بھی مربوط قومی سیکیورٹی پالیسی نہیں بنائی گئی۔ آپ کی سب سے بڑی سیکیورٹی وہ ہوتی ہے جب آپ کے عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور سب سمجھیں کہ ہم اس قوم کا حصہ ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی چیلنج ہے تو وہ قانون کی حکمرانی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک قانون کی حکمرانی کے بغیر خوشحال ہو ہی نہیں سکتا۔