شہید ڈاکٹر مصطفیٰ چمران کی مالک سے مناجات اور انکا سوز جگر

  Click to listen highlighted text! تحریر: سید نجیب الحسن زیدی ایسے شہید کے بارے میں انسان کیا لکھے اور کیا کہے، جس کی شخصیت سمندر کی طرح عمیق ہو، کسی جھیل کی طرح پرسکون، کسی پہاڑ کی طرح ثابت و مستقل، جس کے کردار میں اپنے آقا و مولا کی طرح مجموعہ اضداد کا نقشہ نظر آتا ہو۔ جس کی شخصیت میں آہنی خصوصیات بھی ہوں اور آنسوئوں کی نرمی و نازکی بھی، جو میدانِ جنگ میں سرخیل بہادراں و تلوار کا دھنی ہو تو تاریک راتوں میں عابد شب زندہ دار اور ہر ایک سے بے نیاز و غنی بھی، جو یتیموں کیلئے مجسم شفقت ہو اور طاغوت و مستکبرین کے لئے مجسم قہر و نفرت بھی۔ یقیناً ڈاکٹر مصطفےٰ چمران کے بارے میں کچھ لکھا اور کہا جائے تو یہ بہت دشوار اور سخت ہے۔ چمران مردِ عمل  کا نام ہے، مردِ سخن نہیں، مرد میدان کا نام ہے، کسی باتیں بنانے والے کا نہیں،   حقیقی مردِ خدا کا نام ہے، صرف خدا خدا کرنے والے کا نہیں۔ تلوار و تفنگ کے دھنی  کو چمران کہتے ہیں، جو راہ خدا میں سب کچھ دے دے، ایسے سخی کو چمران کہتے ہیں، جسے اس کی زبان سے نہیں، اس کے کام سے پہچانا جائے، ایسے عمل پرست انسان کو چمران کہتے ہیں۔ وہ شخصیت جو کہیں بھی زبانی جمع خرچ کی قائل نہ تھی، بلکہ اس کا دوسروں سے امتیاز ہی یہی تھا، جو کہتے اس پر پہلے عمل کرتے، پھر زبان کھولتے۔ انہیں اس صدی میں اسلام کے تصور ہجرت کا نمونہ بے بہا کہا جا سکتا ہے، دور معاصر میں  جذبہ عشق و شہادت کی چلتی پھرتی تصویر کا نام چمران ہے۔ جنوبی لبنان کے مالک اشتر کربلائے خوزستان کے علمدار کے بارے میں انسان کہے تو کیا کہے، لکھے تو کیا لکھے۔ شک نہیں کہ علی اور حسین علیھما السلام کی راہ چلنے والوں کی شخصیت کی تصویر کشی مادی کلمات اور دنیاوی معیاروں کے مطابق ممکن ہی نہیں ہے۔ البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی قابل افتخار شہادت اور انسان ساز قربانی کی سالگرہ کے موقع پر جہاں تک ممکن ہو، ان کی شخصیت، ان کے افکار، ان کی راہ اور ان کی مساعی جمیلہ کا تعارف کرایا جائے، تاکہ عصر غیبت کے ان آسمان شہادت پر روشن دمکتے ہوئے ان منور ستاروں کی تابناکیاں آج کی نئی نسل کے لئے اس ظلمت کے دور میں نشان منزل بن سکیں۔ ڈاکٹر مصطفیٰ چمران نے ١٣١١ھ ہجری شمسی (١٩٣٢ء عیسوی) میں تہران کے خیابان پانزدہ خرداد (بوزرج مہدی) میں “بازار  آہنگرھا” میں آنکھیں کھولیں اور اپنی تعلیم کا آغاز “مدرسہ انتصاریہ” سے کیا اور ثانوی تعلیم “دارلفنون البرز” میں حاصل کی اور پھر ٹیکنیکل کالج میں داخل ہوئے، جہاں سے انہوں نے ١٤٣٤ء ہجری شمسی ١٩٥٥ء میںالیکٹرومکینکس کے شعبے میں ڈگری حاصل کی اور پھر ایک سال کیلئے وہیں پر پڑھاتے رہے۔ آپ کی خصوصیت یہ تھی کہ اپنی تعلیمی زندگی میں ہمیشہ اول آتے رہے۔ ١٣٣٧ ہجری شمسی (١٩٥٨ء) میں انہیں اسکالر شپ ملا اور امریکہ چلے گئے، جہاں انہوں نے کیلیفورنیا کی مشہور امریکی یونیورسٹی سے الیکٹرونکس اور پلازما فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ فزکس میں پی ایچ ڈی کے حصول کے بعد آپ نے ڈگری کو دنیا کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ واپس لبنان پہنچے، وہاں امام موسیٰ صدر کی سربراہی میں ایک ٹیکنیکل اسکول کی ذمہ داریوں کو سنبھالا، پھر واپس ایران آئے، یہاں مجاہدین کی تربیت کی۔ پاوہ کے محاذ پر کمانڈر رہے، انجام کار ایران کے وزیر دفاع قرار پائے، لیکن یہ ساری دنیاوی ترقیاں انہیں آگے بڑھنے سے نہ روک سکیں، یہاں تک کہ لقاء اللہ کی منزل پر پہنچ گئے، جہاں سرخ موت انکا انتظار کر رہی تھی، یوں جام شہادت نوش کرکے ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے۔ پیش نظر تحریر ایک کوشش ہے، اس عظیم شخصیت کی سالگرہ پر اس کے افکار و اس کے سوز نہاں کو سمجھنے کی۔ آئیں دیکھیں اس شخصیت نے اپنے مالک کے حضور کس طرح مناجات کی ہے۔ خدا کے حضور اپنی ایک مناجات میں شہید کچھ اس طرح فریادی ہیں: “پروردگار انسان کو اسی قدر جزا اور اجر دیتا ہے، جس قدر اس نے آلام اور مشکلات کا سامنا کیا ہو۔ ہر انسان کی قدر اور واقعی قیمت کا پتہ انسان کے غموں اور درد و الم کی کیفیتوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ خدا کے مقرب بندے دوسرے تمام افراد سے زیادہ شاید اسی لئے درد و مصیبت میں مبتلاء ہوتے ہیں۔ علی (ع) کی طرف دیکھیں! محسوس ہوگا کہ علی کا بند بند درد و رنج میں عجین ہوگیا ہو، علی (ع) جا جوڑ جوڑ درد و آلام کو بیان کرتا نظر آئے گا۔ حسین (ع) کی طرف نظر ڈالیں! جو درد و مصیبت کے لامتناہی دریا میں یوں غوطہ زن ہوئے کہ جس کی نظیر کائنات میں نہیں ملتی۔ زینب (ع) کو دیکھیں! کس طرح درد و مصیبت سے مانوس ہوئی یہ خاتون! اور کیوں نہ ہو، درد انسان کے دل کو بیداری عطا کرتا ہے، انسان کی روح کو پاکیزہ بناتا ہے، غرور و خود خواہی کے خود ساختہ قلعوں کو مسمار کرتا ہے، نخوت و تکبّر کو نیست و نابود کرتا ہے۔ دراصل ہوتا یہ ہے کہ انسان کبھی کبھی خود کو فراموش کر دیتا ہے، انسان بھول جاتا ہے کہ اس کے پاس ایک بدن ہے، وہ بدن جو کہ ضعیف اور ناتواں ہے۔ اتنا ناتواں اور ضعیف کہ دنیا کی ہر مشکل کے سامنے خطر پذیر ہے۔ انسان کبھی کبھی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ باقی رہنے والا نہیں ہے، وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے پاس اس دنیا میں چند روزہ زندگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ یہ فراموش کر دیتا ہے کہ اس کا یہ مادی جسم اس کی روح سے قدم ملا کر کبھی نہیں چل سکتا اور اسی فراموشی کے نتیجے میں انسان احساس ابدیت کرتا ہے، احساس قدرت کرتا ہے، احساس غرور کرتا ہے، اپنی فنا ہو جانے والی زود گذر کامیابیوں میں مست ہو کر اپنی آرزوؤں کے محلوں میں کھو جاتا ہے اور پھر ہر طرح کے ظلم ہر طرح کی زیادتی کو اپنے لیے روا سمجھنے لگتا ہے، لیکن جب اس پر مصیبت پڑتی ہے تو اس کو اپنی حقیقت کا احساس ہوتا ہے، تب اسے سمجھ میں آتا ہے کہ خود خواہی اور خود غرضی و خود ستائشی کے مضر اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔؟ میرے مالک! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے فقیر بنایا، تاکہ میں بھوکوں اور ناداروں کے غم و رنج کو سمجھ سکوں اور ان کے اندر پائی جانے والی اضطرابی کیفیت کو درک کرسکوں۔ میرے پروردگار! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے میرے اوپر بارانِ نعمت کو رواں رکھا، تاکہ ظلم و جھل کے وحشت ناک طوفان میں گھر کر میری حق طلبانہ آواز دشمنوں کے نقار خانہ میں طوطی کی آواز کی طرح محو ہو جائے اور میں درد کے اتھاہ گہرے اور باشکوہ دامن میں اپنے چہرے کو چھپا کر علی (ع) پر پڑنے والی مصیبتوں اور غموں کو اپنے وجود کی گہرائیوں میں لمس کرسکوں۔ علی (ع) جو نشان عظمت تھے، علی (ع) جو نمونہ ٔعمل تھے، علی (ع) جو مظہر اسلام تھے، وہ علی (ع) جو مظہر عبادت و محبت و ایثار تھے، وہی علی (ع) اپنے تمام تر صفات و فضائل اور ان کی تابندگی کے باوجود لوگوں کے الزامات کے تیروں کا شکار ہوئے، اس پاکیزہ ذات پر تہمتوں کی بارش ہوئی اور آج چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی طاغوتی طاقتوں کے پلید و رذیل پراپیگنڈے مسلمانوں کی اکثریت کے ذہنوں میں باقی ہیں اور آج بھی کروڑوں لوگوں کے لیے یہ شخصیت ناشناختہ ہے۔ مالک! میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے درد آشنا دل دیا، تاکہ میں دردمندوں کے درد کو سمجھ سکوں اور درد کی کیمیائی حقیقت کی تہ تک پہنچ سکوں اپنے وجود کی ناپختگی کو آتش درد میں جلاؤں اور اپنی نفسانی خواہشات کو درد و غم کے پہاڑوں سے ٹکرا ٹکرا کر چکنا چور کر دوں، تاکہ زمیں پر چلتے وقت جب بھی میں سانس لوں، یوں میرا ضمیر مطمئن و آسودہ خاطر ہو اور میں اپنے وجود کی حقیقت کو پا سکوں اسے محسوس کرسکوں۔ مالک! تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے آتش عشق میں جلایا اور اس طرح میرے سامنے تمام موجودات اور میری تمام خواہشات عشق و معشوق کے وصال کی راہ میں بے وقعت اور بے اہمیت ہوگئیں۔ مالک! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے لذت معراج عطا کی، تاکہ گاہے گاہے میں دنیا کے ماوراء بھی دیکھ سکوں اور پھر تیری لقاء کے علاوہ کوئی اور خواہش دل میں نہ رکھوں، ملکوت اعلیٰ کی جانب بازگشت میرے لیے شکنجہ کا سبب نہ ہو، پھر میں کسی چیز سے دل نہ لگا سکوں۔ مالک! مجھے خائن نہ بنانا کہ میں کسی پر کوئی تہمت نہ لگاؤں، اس لیے کہ تہمت ایک ظالمانہ خیانت ہے۔ مالک! میری راہنمائی کر، تاکہ میں بے انصاف نہ بنوں، اس لیے کہ جو انصاف نہیں کرسکتا، اس کے اندر شرافت نہیں پائی جاتی۔ مالک! میری ہدایت کر، تاکہ میں کسی کے حق کو ضائع نہ کروں، اس لیے کہ کسی ایک انسان کے حق  کو  ضائع کرنا اس کی بے احترامی ہے اور انسان کی بے احترامی کفر و شرک کے مترادف ہے۔ مالک! مجھے غرور اور خود خواہی کی بلاؤں سے نجات دے، تاکہ میں اپنے وجود کے حقائق کو دیکھ سکوں۔ مالک! دنیا کی پستی اور ناپائیداری کو ہمیشہ کے لیے میری نظروں میں مجسم بنا دے، تاکہ میں تیری یاد سے دور نہ رہ سکوں۔ مالک! میں ضعیف ہوں، ناچیز ہوں، مجھے دیدۂ عبرت اور چشم بصیرت عطا کر دے، تاکہ اپنی ناچیزی اور پستی کے ساتھ ساتھ تیری جلالت و عظمت کو سمجھ سکوں اور تیری تسبیح اس طرح کروں، جیسا کہ تیرا حق ہے۔ مالک! ظلم و ستم سے میرا دل بہت دور ہے، مجھے نفرت ہے ظالم سے، مجھے ظلم سے سخت کڑھن ہوتی ہے۔ تجھے تیری عدالت کی قسم زمرۂ ظالمین میں شمار مت کرنا۔ مالک! مجھے ایک ایسا فقیر بنا دے، جو دنیا کی تمام جھلملاہٹوں سے بے نیاز ہو. مالک! میں درد مند ہوں، میری روح شدت ِدرد سے تڑپ رہی ہے، میرا دل دھڑک رہا ہے، احساس کے شعلے بلند ہیں، میرے وجود کا بند بند شدت درد و کرب سے فریاد کر رہا ہے۔ مالک! مجھے بستر شہادت پر بلا کر پرسکون کر دے، میں تھک چکا ہوں، دل شکستہ ہوں، ناامید ہوں اور اب میری کوئی آرزو نہیں ہے۔ احساس کر رہا ہوں کہ جیسے یہ دنیا اب میرے رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ میں سب سے وداع کرنا چاہتا ہوں اور خود تنہا رہنا جاتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی میرے ساتھ نہ رہے، میں ہوں اور میرا خدا اور بس!!! مالک! میں تیری طرف آ رہا ہوں، مجھے اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔”

تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

ایسے شہید کے بارے میں انسان کیا لکھے اور کیا کہے، جس کی شخصیت سمندر کی طرح عمیق ہو، کسی جھیل کی طرح پرسکون، کسی پہاڑ کی طرح ثابت و مستقل، جس کے کردار میں اپنے آقا و مولا کی طرح مجموعہ اضداد کا نقشہ نظر آتا ہو۔ جس کی شخصیت میں آہنی خصوصیات بھی ہوں اور آنسوئوں کی نرمی و نازکی بھی، جو میدانِ جنگ میں سرخیل بہادراں و تلوار کا دھنی ہو تو تاریک راتوں میں عابد شب زندہ دار اور ہر ایک سے بے نیاز و غنی بھی، جو یتیموں کیلئے مجسم شفقت ہو اور طاغوت و مستکبرین کے لئے مجسم قہر و نفرت بھی۔ یقیناً ڈاکٹر مصطفےٰ چمران کے بارے میں کچھ لکھا اور کہا جائے تو یہ بہت دشوار اور سخت ہے۔ چمران مردِ عمل  کا نام ہے، مردِ سخن نہیں، مرد میدان کا نام ہے، کسی باتیں بنانے والے کا نہیں،   حقیقی مردِ خدا کا نام ہے، صرف خدا خدا کرنے والے کا نہیں۔ تلوار و تفنگ کے دھنی  کو چمران کہتے ہیں، جو راہ خدا میں سب کچھ دے دے، ایسے سخی کو چمران کہتے ہیں، جسے اس کی زبان سے نہیں، اس کے کام سے پہچانا جائے، ایسے عمل پرست انسان کو چمران کہتے ہیں۔

وہ شخصیت جو کہیں بھی زبانی جمع خرچ کی قائل نہ تھی، بلکہ اس کا دوسروں سے امتیاز ہی یہی تھا، جو کہتے اس پر پہلے عمل کرتے، پھر زبان کھولتے۔ انہیں اس صدی میں اسلام کے تصور ہجرت کا نمونہ بے بہا کہا جا سکتا ہے، دور معاصر میں  جذبہ عشق و شہادت کی چلتی پھرتی تصویر کا نام چمران ہے۔ جنوبی لبنان کے مالک اشتر کربلائے خوزستان کے علمدار کے بارے میں انسان کہے تو کیا کہے، لکھے تو کیا لکھے۔ شک نہیں کہ علی اور حسین علیھما السلام کی راہ چلنے والوں کی شخصیت کی تصویر کشی مادی کلمات اور دنیاوی معیاروں کے مطابق ممکن ہی نہیں ہے۔ البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی قابل افتخار شہادت اور انسان ساز قربانی کی سالگرہ کے موقع پر جہاں تک ممکن ہو، ان کی شخصیت، ان کے افکار، ان کی راہ اور ان کی مساعی جمیلہ کا تعارف کرایا جائے، تاکہ عصر غیبت کے ان آسمان شہادت پر روشن دمکتے ہوئے ان منور ستاروں کی تابناکیاں آج کی نئی نسل کے لئے اس ظلمت کے دور میں نشان منزل بن سکیں۔

ڈاکٹر مصطفیٰ چمران نے ١٣١١ھ ہجری شمسی (١٩٣٢ء عیسوی) میں تہران کے خیابان پانزدہ خرداد (بوزرج مہدی) میں “بازار  آہنگرھا” میں آنکھیں کھولیں اور اپنی تعلیم کا آغاز “مدرسہ انتصاریہ” سے کیا اور ثانوی تعلیم “دارلفنون البرز” میں حاصل کی اور پھر ٹیکنیکل کالج میں داخل ہوئے، جہاں سے انہوں نے ١٤٣٤ء ہجری شمسی ١٩٥٥ء میںالیکٹرومکینکس کے شعبے میں ڈگری حاصل کی اور پھر ایک سال کیلئے وہیں پر پڑھاتے رہے۔ آپ کی خصوصیت یہ تھی کہ اپنی تعلیمی زندگی میں ہمیشہ اول آتے رہے۔ ١٣٣٧ ہجری شمسی (١٩٥٨ء) میں انہیں اسکالر شپ ملا اور امریکہ چلے گئے، جہاں انہوں نے کیلیفورنیا کی مشہور امریکی یونیورسٹی سے الیکٹرونکس اور پلازما فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ فزکس میں پی ایچ ڈی کے حصول کے بعد آپ نے ڈگری کو دنیا کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ واپس لبنان پہنچے، وہاں امام موسیٰ صدر کی سربراہی میں ایک ٹیکنیکل اسکول کی ذمہ داریوں کو سنبھالا، پھر واپس ایران آئے، یہاں مجاہدین کی تربیت کی۔ پاوہ کے محاذ پر کمانڈر رہے، انجام کار ایران کے وزیر دفاع قرار پائے، لیکن یہ ساری دنیاوی ترقیاں انہیں آگے بڑھنے سے نہ روک سکیں، یہاں تک کہ لقاء اللہ کی منزل پر پہنچ گئے، جہاں سرخ موت انکا انتظار کر رہی تھی، یوں جام شہادت نوش کرکے ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے۔

پیش نظر تحریر ایک کوشش ہے، اس عظیم شخصیت کی سالگرہ پر اس کے افکار و اس کے سوز نہاں کو سمجھنے کی۔ آئیں دیکھیں اس شخصیت نے اپنے مالک کے حضور کس طرح مناجات کی ہے۔ خدا کے حضور اپنی ایک مناجات میں شہید کچھ اس طرح فریادی ہیں: “پروردگار انسان کو اسی قدر جزا اور اجر دیتا ہے، جس قدر اس نے آلام اور مشکلات کا سامنا کیا ہو۔ ہر انسان کی قدر اور واقعی قیمت کا پتہ انسان کے غموں اور درد و الم کی کیفیتوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ خدا کے مقرب بندے دوسرے تمام افراد سے زیادہ شاید اسی لئے درد و مصیبت میں مبتلاء ہوتے ہیں۔ علی (ع) کی طرف دیکھیں! محسوس ہوگا کہ علی کا بند بند درد و رنج میں عجین ہوگیا ہو، علی (ع) جا جوڑ جوڑ درد و آلام کو بیان کرتا نظر آئے گا۔ حسین (ع) کی طرف نظر ڈالیں! جو درد و مصیبت کے لامتناہی دریا میں یوں غوطہ زن ہوئے کہ جس کی نظیر کائنات میں نہیں ملتی۔ زینب (ع) کو دیکھیں! کس طرح درد و مصیبت سے مانوس ہوئی یہ خاتون! اور کیوں نہ ہو، درد انسان کے دل کو بیداری عطا کرتا ہے، انسان کی روح کو پاکیزہ بناتا ہے، غرور و خود خواہی کے خود ساختہ قلعوں کو مسمار کرتا ہے، نخوت و تکبّر کو نیست و نابود کرتا ہے۔

دراصل ہوتا یہ ہے کہ انسان کبھی کبھی خود کو فراموش کر دیتا ہے، انسان بھول جاتا ہے کہ اس کے پاس ایک بدن ہے، وہ بدن جو کہ ضعیف اور ناتواں ہے۔ اتنا ناتواں اور ضعیف کہ دنیا کی ہر مشکل کے سامنے خطر پذیر ہے۔ انسان کبھی کبھی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ باقی رہنے والا نہیں ہے، وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے پاس اس دنیا میں چند روزہ زندگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ یہ فراموش کر دیتا ہے کہ اس کا یہ مادی جسم اس کی روح سے قدم ملا کر کبھی نہیں چل سکتا اور اسی فراموشی کے نتیجے میں انسان احساس ابدیت کرتا ہے، احساس قدرت کرتا ہے، احساس غرور کرتا ہے، اپنی فنا ہو جانے والی زود گذر کامیابیوں میں مست ہو کر اپنی آرزوؤں کے محلوں میں کھو جاتا ہے اور پھر ہر طرح کے ظلم ہر طرح کی زیادتی کو اپنے لیے روا سمجھنے لگتا ہے، لیکن جب اس پر مصیبت پڑتی ہے تو اس کو اپنی حقیقت کا احساس ہوتا ہے، تب اسے سمجھ میں آتا ہے کہ خود خواہی اور خود غرضی و خود ستائشی کے مضر اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔؟

میرے مالک! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے فقیر بنایا، تاکہ میں بھوکوں اور ناداروں کے غم و رنج کو سمجھ سکوں اور ان کے اندر پائی جانے والی اضطرابی کیفیت کو درک کرسکوں۔ میرے پروردگار! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے میرے اوپر بارانِ نعمت کو رواں رکھا، تاکہ ظلم و جھل کے وحشت ناک طوفان میں گھر کر میری حق طلبانہ آواز دشمنوں کے نقار خانہ میں طوطی کی آواز کی طرح محو ہو جائے اور میں درد کے اتھاہ گہرے اور باشکوہ دامن میں اپنے چہرے کو چھپا کر علی (ع) پر پڑنے والی مصیبتوں اور غموں کو اپنے وجود کی گہرائیوں میں لمس کرسکوں۔ علی (ع) جو نشان عظمت تھے، علی (ع) جو نمونہ ٔعمل تھے، علی (ع) جو مظہر اسلام تھے، وہ علی (ع) جو مظہر عبادت و محبت و ایثار تھے، وہی علی (ع) اپنے تمام تر صفات و فضائل اور ان کی تابندگی کے باوجود لوگوں کے الزامات کے تیروں کا شکار ہوئے، اس پاکیزہ ذات پر تہمتوں کی بارش ہوئی اور آج چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی طاغوتی طاقتوں کے پلید و رذیل پراپیگنڈے مسلمانوں کی اکثریت کے ذہنوں میں باقی ہیں اور آج بھی کروڑوں لوگوں کے لیے یہ شخصیت ناشناختہ ہے۔

مالک! میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے درد آشنا دل دیا، تاکہ میں دردمندوں کے درد کو سمجھ سکوں اور درد کی کیمیائی حقیقت کی تہ تک پہنچ سکوں اپنے وجود کی ناپختگی کو آتش درد میں جلاؤں اور اپنی نفسانی خواہشات کو درد و غم کے پہاڑوں سے ٹکرا ٹکرا کر چکنا چور کر دوں، تاکہ زمیں پر چلتے وقت جب بھی میں سانس لوں، یوں میرا ضمیر مطمئن و آسودہ خاطر ہو اور میں اپنے وجود کی حقیقت کو پا سکوں اسے محسوس کرسکوں۔ مالک! تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے آتش عشق میں جلایا اور اس طرح میرے سامنے تمام موجودات اور میری تمام خواہشات عشق و معشوق کے وصال کی راہ میں بے وقعت اور بے اہمیت ہوگئیں۔ مالک! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے لذت معراج عطا کی، تاکہ گاہے گاہے میں دنیا کے ماوراء بھی دیکھ سکوں اور پھر تیری لقاء کے علاوہ کوئی اور خواہش دل میں نہ رکھوں، ملکوت اعلیٰ کی جانب بازگشت میرے لیے شکنجہ کا سبب نہ ہو، پھر میں کسی چیز سے دل نہ لگا سکوں۔

مالک! مجھے خائن نہ بنانا کہ میں کسی پر کوئی تہمت نہ لگاؤں، اس لیے کہ تہمت ایک ظالمانہ خیانت ہے۔ مالک! میری راہنمائی کر، تاکہ میں بے انصاف نہ بنوں، اس لیے کہ جو انصاف نہیں کرسکتا، اس کے اندر شرافت نہیں پائی جاتی۔ مالک! میری ہدایت کر، تاکہ میں کسی کے حق کو ضائع نہ کروں، اس لیے کہ کسی ایک انسان کے حق  کو  ضائع کرنا اس کی بے احترامی ہے اور انسان کی بے احترامی کفر و شرک کے مترادف ہے۔ مالک! مجھے غرور اور خود خواہی کی بلاؤں سے نجات دے، تاکہ میں اپنے وجود کے حقائق کو دیکھ سکوں۔ مالک! دنیا کی پستی اور ناپائیداری کو ہمیشہ کے لیے میری نظروں میں مجسم بنا دے، تاکہ میں تیری یاد سے دور نہ رہ سکوں۔ مالک! میں ضعیف ہوں، ناچیز ہوں، مجھے دیدۂ عبرت اور چشم بصیرت عطا کر دے، تاکہ اپنی ناچیزی اور پستی کے ساتھ ساتھ تیری جلالت و عظمت کو سمجھ سکوں اور تیری تسبیح اس طرح کروں، جیسا کہ تیرا حق ہے۔

مالک! ظلم و ستم سے میرا دل بہت دور ہے، مجھے نفرت ہے ظالم سے، مجھے ظلم سے سخت کڑھن ہوتی ہے۔ تجھے تیری عدالت کی قسم زمرۂ ظالمین میں شمار مت کرنا۔ مالک! مجھے ایک ایسا فقیر بنا دے، جو دنیا کی تمام جھلملاہٹوں سے بے نیاز ہو. مالک! میں درد مند ہوں، میری روح شدت ِدرد سے تڑپ رہی ہے، میرا دل دھڑک رہا ہے، احساس کے شعلے بلند ہیں، میرے وجود کا بند بند شدت درد و کرب سے فریاد کر رہا ہے۔ مالک! مجھے بستر شہادت پر بلا کر پرسکون کر دے، میں تھک چکا ہوں، دل شکستہ ہوں، ناامید ہوں اور اب میری کوئی آرزو نہیں ہے۔ احساس کر رہا ہوں کہ جیسے یہ دنیا اب میرے رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ میں سب سے وداع کرنا چاہتا ہوں اور خود تنہا رہنا جاتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی میرے ساتھ نہ رہے، میں ہوں اور میرا خدا اور بس!!! مالک! میں تیری طرف آ رہا ہوں، مجھے اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔”