اللہ کوراضی کریں نہ بندوں کو!

  Click to listen highlighted text! علامہ مجلسیؒ کتاب شریف بحار الانوار میں ، کتاب فتح کے حوالے سے حضرت لقمان حکیم ؑسے ایک دلچسپ داستان نقل کرتے ہیں کہ حضرت لقمان حکیم ؑنے اپنے فرزند سے کہا: ” اپنے دل کو لوگوں کی رضایت اور ان کی ستائش اور مذمت و برائی کی طرف نہ لگانا کیونکہ یہ چیز کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکتی اگرچہ انسان جتنی بھی کوشش و تلاش کرلے۔“ حضرت لقمانؑ نے اپنے فرزند کو یہ سمجھانے کے لئے کہ زندگی میں ہمیشہ خلق خدا(لوگوں) کی رضا کے بجائے خدا کی خوشنودی کو مد نظر رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اسے اپنے ساتھ باہر لے کر چلے اور ساتھ ایک چار پایا جانور کو بھی لیا۔ پہلے جانور پر حضرت لقمان ؑسوار ہوئے اور بیٹا پیدل چلنے لگا۔ ان کے قریب سے ایک کارواں گزرا اور جب ان لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا: کتنا سخت دل اور بے رحم مرد ہے کہ خود سواری پر سوار ہے اور اپنے بچے کو پیدل چلا رہا ہے۔ حضرت لقمان ؑنے اپنے فرزند سے کہا: بیٹا تم نے ان لوگوں کی بات کو سنا۔ اب تم سوار ہو جاو¿ اور میں پیدل چلتا ہوں؟ بیٹا سوار ہوگیا اور لقمان ؑپیدل چلنے لگے، ان کے قریب سے ایک دوسرا کارواں گزرا تو ان لوگوں نے کہا : کتنا بے ادب اور بدتمیز بیٹا ہے کہ باپ کو پیدل چلا رہا ہے اور خود جانور پر سوار ہے۔ حضرت لقمان ؑنے کہا: بیٹا سنا تم نے ، بیٹا اب ہم دونوں سوار ہوتے ہیں، ایک اور کارواں سے ان کا ٹکراو¿ ہوا اور جب انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا: رحم اور انصاف ان دونوں کے پاس نہیں ہے اور خدا سے بے خبر ہیں۔ اس بے زبان حیوان کی کمر کو انہوں نے توڑ دیا اور اس کی طاقت سے زیادہ اس پر وزن رکھا ہوا ہے۔ بہتر تھا کہ ایک سوار ہو جاتا اور ایک پیدل چلتا۔ حضرت لقمان ؑنے کہا : سنا بیٹا! فرزند نے کہا: جی ہاں۔ حضرت لقمان ؑنے کہا: اب ایسا کرتے ہیں کہ ہم دونوں پیدل چلتے ہیں اور سواری کو خالی رکھتے ہیں ، یہی کام باپ بیٹے نے کیا اور راستہ چلتے چلتے ایک اور کارواں سے ان کا ٹکراو¿ ہوا اور ان لوگوں نے کہا: یہ دونوں عجیب ہیں کہ سواری کے ہوتے ہوئے خود پیدل چل رہے ہیں اور جانور خالی ہے اور ان دونوں کی مذمت و سرزنش کرنے لگے۔ اس وقت حضرت لقمان ؑنے اپنے فرزند سے کہا: ” کیا تم نے لوگوں کی رضایت کے لئے کوئی راہ دیکھی؟ ( اور تم متوجہ ہو گئے کہ کسی بھی طریقے سے تم لوگوں کی رضایت حاصل نہیں کر سکتے) لوگوں کی طرف توجہ نہ کرو اور خود کو خدا کی رضایت کی طرف مشغول رکھو، کیونکہ اسی کی طرف مشغول رہنے سے انسان کو دنیا میں اور روز قیامت میں سعادت و بلندی نصیب ہوگی۔“

علامہ مجلسیؒ کتاب شریف بحار الانوار میں ، کتاب فتح کے حوالے سے حضرت لقمان حکیم ؑسے ایک دلچسپ داستان نقل کرتے ہیں کہ حضرت لقمان حکیم ؑنے اپنے فرزند سے کہا:
” اپنے دل کو لوگوں کی رضایت اور ان کی ستائش اور مذمت و برائی کی طرف نہ لگانا کیونکہ یہ چیز کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکتی اگرچہ انسان جتنی بھی کوشش و تلاش کرلے۔“
حضرت لقمانؑ نے اپنے فرزند کو یہ سمجھانے کے لئے کہ زندگی میں ہمیشہ خلق خدا(لوگوں) کی رضا کے بجائے خدا کی خوشنودی کو مد نظر رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اسے اپنے ساتھ باہر لے کر چلے اور ساتھ ایک چار پایا جانور کو بھی لیا۔ پہلے جانور پر حضرت لقمان ؑسوار ہوئے اور بیٹا پیدل چلنے لگا۔ ان کے قریب سے ایک کارواں گزرا اور جب ان لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا: کتنا سخت دل اور بے رحم مرد ہے کہ خود سواری پر سوار ہے اور اپنے بچے کو پیدل چلا رہا ہے۔ حضرت لقمان ؑنے اپنے فرزند سے کہا: بیٹا تم نے ان لوگوں کی بات کو سنا۔ اب تم سوار ہو جاو¿ اور میں پیدل چلتا ہوں؟
بیٹا سوار ہوگیا اور لقمان ؑپیدل چلنے لگے، ان کے قریب سے ایک دوسرا کارواں گزرا تو ان لوگوں نے کہا : کتنا بے ادب اور بدتمیز بیٹا ہے کہ باپ کو پیدل چلا رہا ہے اور خود جانور پر سوار ہے۔ حضرت لقمان ؑنے کہا: بیٹا سنا تم نے ، بیٹا اب ہم دونوں سوار ہوتے ہیں، ایک اور کارواں سے ان کا ٹکراو¿ ہوا اور جب انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا: رحم اور انصاف ان دونوں کے پاس نہیں ہے اور خدا سے بے خبر ہیں۔ اس بے زبان حیوان کی کمر کو انہوں نے توڑ دیا اور اس کی طاقت سے زیادہ اس پر وزن رکھا ہوا ہے۔ بہتر تھا کہ ایک سوار ہو جاتا اور ایک پیدل چلتا۔ حضرت لقمان ؑنے کہا : سنا بیٹا!
فرزند نے کہا: جی ہاں۔
حضرت لقمان ؑنے کہا: اب ایسا کرتے ہیں کہ ہم دونوں پیدل چلتے ہیں اور سواری کو خالی رکھتے ہیں ، یہی کام باپ بیٹے نے کیا اور راستہ چلتے چلتے ایک اور کارواں سے ان کا ٹکراو¿ ہوا اور ان لوگوں نے کہا: یہ دونوں عجیب ہیں کہ سواری کے ہوتے ہوئے خود پیدل چل رہے ہیں اور جانور خالی ہے اور ان دونوں کی مذمت و سرزنش کرنے لگے۔ اس وقت حضرت لقمان ؑنے اپنے فرزند سے کہا:
” کیا تم نے لوگوں کی رضایت کے لئے کوئی راہ دیکھی؟ ( اور تم متوجہ ہو گئے کہ کسی بھی طریقے سے تم لوگوں کی رضایت حاصل نہیں کر سکتے) لوگوں کی طرف توجہ نہ کرو اور خود کو خدا کی رضایت کی طرف مشغول رکھو، کیونکہ اسی کی طرف مشغول رہنے سے انسان کو دنیا میں اور روز قیامت میں سعادت و بلندی نصیب ہوگی۔“