پاراچنار کشیدگی، ملی یکجہتی کونسل کا بروقت اقدام

  Click to listen highlighted text! رپورٹ: سید عدیل زیدی پاراچنار میں قتل کی ہونے والی مختلف وارداتوں اور ملعون ناصی سلطان گل نامی شخص کی جانب سے شان اہلبیتؑ میں کی جانے والی گستاخی کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے، جس کے بعد خدشہ تھا کہ کہیں ملک دشمن عناصر ایک مرتبہ پھر علاقہ کا امن تہہ و بالا کرنے کی مزموم کوشش میں کامیاب نہ ہو جائیں، ایسے میں ضلع کرم کے شیعہ، سنی علمائے کرام اور عمائدین نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے قتل کے پے درپے واقعات کی نہ صرف مذمت کی بلکہ باہمی بات چیت کے ذریعے ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، اسی طرح اہلسنت علماء کی جانب سے گستاخ سلطان گل کے ناپاک اقدام کی مذمت نے اہل تشیع کے فطری غم و غصہ کو کسی حد تک کنٹرول کرنے میں کردار ادا کیا۔ حالات کی سنگینی کے تحت ملی یکجہتی کونسل بھی میدان عمل میں آئی اور فوری طور پر پاراچنار کی صورتحال کے تناظر میں پشاور میں شیعہ، سنی علمائے کرام و عمائدین کا اہم ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ جماعت اسلامی کے پشاور میں صوبائی دفتر مرکز الاسلامی میں منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل خیبر پختونخوا کے صدر اور جماعت اسلامی کے صوبائی رہنماء عبد الواسع، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماء اخونزادہ مظفر علی، مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی صدر علامہ سید وحید عباس کاظمی، شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صوبائی آرگنائزر علامہ سید زاہد بخاری، علامہ ارشاد علی، جلال حسین طوری، میثم عباس، البصیر کے علامہ مرتضیٰ، اقتدار علی مظہر، مرکزی امیر جمیعت علماء پاکستان مفتی اظہر محمود ہزاروی، نائب امیر جمعیت علماء پاکستان خیبر پختونخوا مولانا ہدایت اللہ، جنرل سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل خیبر پختونخوا مولانا جمال الدین قریشی، نائب امیر متحدہ جمعیت اہلحدیث ہدایت اللہ سمیت دیگر شریک تھے۔ اجلاس میں پاراچنار کی موجودہ کشیدہ صورت حال پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور اجلاس کے شرکاء نے مشترکہ طور پر اہلبیت (ع) و صحابہ (رض) کی شان میں گستاخی کرنیوالوں کی بھرپور انداز میں مذمت کی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ عیدالضحیٰ کے فوری بعد ملی یکجہتی کونسل کا وفد ضلع کرم کا دورہ کرے گا، اس دوران اہل سنت و اہل تشیع علماء کرام کے ساتھ ملاقاتیں کی جائیں گی، اجلاس کے بعد میزبان عبدالواسع نے دیگر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گستاخانہ واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، بیرون ملک فرار ہونے والوں کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لایا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے، واضح رہے کہ گستاخ سلطان گل کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ اس وقت دبئی میں موجود ہے۔ عبدالواسع کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کسی بھی قسم کے اقدامات اٹھانے پر مقامی عمائدین کو اعتماد میں لے، امن کے قیام میں کردار ادا کرنے والے جرگہ کو بھی اعتماد میں لیکر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ کرم کے واقعات کے پیچھے اصل صورتحال زمین کے تنازعات ہیں، قانون کے مطابق فریقین کو سن کر اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ عبدالواسع نے مزید کہا کہ پاراچنار میں اہلبیت (ع) اور صحابہ کرام (رض) کی شان میں گستاخ آمیز ویڈیوز کا مقصد ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانا تھا، علاوہ ازیں انہوں نے بھارت میں حکومتی رکن کی جانب سے رسول اللہﷺ کی شان میں کی جانے والی گستاخی کی بھی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ حکومت اس گستاخی کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ میں بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لئے ضروری سفارتی اقدامات اٹھائے۔ علاوہ ازیں انہوں نے وزیرستان میں یوتھ لیڈر اور الخدمت کے صدر اسداللہ داوڑ اور ان کے تین دوستوں کو نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کئے جانے کی بھی مذمت کی۔ اجلاس میں شریک مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی صدر علامہ وحید عباس کاظمی نے ’’ٓاسلام ٹائمز‘‘ کو بتایا کہ اس اجلاس کا ون پوائنٹ ایجنڈا تھا، اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل نے فیصلہ کیا کہ شیعہ، سنی علماء کا ایک وفد جلد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کیساتھ ملاقات کرے گا اور حکومت سے اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرے گا۔ علامہ سید وحید عباس کاظمی نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ ایک وفد عیدالاضحیٰ کے بعد ضلع کرم جائے گا، جہاں شیعہ، سنی علمائے کرام اور عمائدین سے ملاقاتیں کی جائیں گی۔ اجلاس میں طے پایا کہ کرم کی صورتحال پر مقامی علمائے کرام نے انتہائی مثبت کردار ادا کیا، جس پر انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ ملی یکجہتی کونسل کا وفد فوری طور پر بھی کرم جاسکتا تھا، تاہم وہاں جرگوں کی وجہ سے فی الحال امن قائم ہوچکا ہے اور طے پایا ہے کہ 2011ء میں ہونے والے مری معاہدے کی پاسداری کی جائے گی، کشیدگی کو مزید نہیں پھیلایا جائے گا اور ایک ہفتہ تک وہاں گاڑیاں پاک فوج کی سکیورٹی میں کانوائے کی صورت میں جائیں گی، جس کے بعد سڑک کو مکمل طور پر آمد و رفت کیلئے کھولا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں جانب سے اہلبیتؑ کی شان اقدس میں کی جانے والی گستاخی کی شدید مذمت کی گئی ہے، کشیدگی میں روز بروز کمی آرہی ہے۔

رپورٹ: سید عدیل زیدی

پاراچنار میں قتل کی ہونے والی مختلف وارداتوں اور ملعون ناصی سلطان گل نامی شخص کی جانب سے شان اہلبیتؑ میں کی جانے والی گستاخی کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے، جس کے بعد خدشہ تھا کہ کہیں ملک دشمن عناصر ایک مرتبہ پھر علاقہ کا امن تہہ و بالا کرنے کی مزموم کوشش میں کامیاب نہ ہو جائیں، ایسے میں ضلع کرم کے شیعہ، سنی علمائے کرام اور عمائدین نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے قتل کے پے درپے واقعات کی نہ صرف مذمت کی بلکہ باہمی بات چیت کے ذریعے ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، اسی طرح اہلسنت علماء کی جانب سے گستاخ سلطان گل کے ناپاک اقدام کی مذمت نے اہل تشیع کے فطری غم و غصہ کو کسی حد تک کنٹرول کرنے میں کردار ادا کیا۔ حالات کی سنگینی کے تحت ملی یکجہتی کونسل بھی میدان عمل میں آئی اور فوری طور پر پاراچنار کی صورتحال کے تناظر میں پشاور میں شیعہ، سنی علمائے کرام و عمائدین کا اہم ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔

جماعت اسلامی کے پشاور میں صوبائی دفتر مرکز الاسلامی میں منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل خیبر پختونخوا کے صدر اور جماعت اسلامی کے صوبائی رہنماء عبد الواسع، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماء اخونزادہ مظفر علی، مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی صدر علامہ سید وحید عباس کاظمی، شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صوبائی آرگنائزر علامہ سید زاہد بخاری، علامہ ارشاد علی، جلال حسین طوری، میثم عباس، البصیر کے علامہ مرتضیٰ، اقتدار علی مظہر، مرکزی امیر جمیعت علماء پاکستان مفتی اظہر محمود ہزاروی، نائب امیر جمعیت علماء پاکستان خیبر پختونخوا مولانا ہدایت اللہ، جنرل سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل خیبر پختونخوا مولانا جمال الدین قریشی، نائب امیر متحدہ جمعیت اہلحدیث ہدایت اللہ سمیت دیگر شریک تھے۔ اجلاس میں پاراچنار کی موجودہ کشیدہ صورت حال پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور اجلاس کے شرکاء نے مشترکہ طور پر اہلبیت (ع) و صحابہ (رض) کی شان میں گستاخی کرنیوالوں کی بھرپور انداز میں مذمت کی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں طے پایا کہ عیدالضحیٰ کے فوری بعد ملی یکجہتی کونسل کا وفد ضلع کرم کا دورہ کرے گا، اس دوران اہل سنت و اہل تشیع علماء کرام کے ساتھ ملاقاتیں کی جائیں گی، اجلاس کے بعد میزبان عبدالواسع نے دیگر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گستاخانہ واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، بیرون ملک فرار ہونے والوں کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لایا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے، واضح رہے کہ گستاخ سلطان گل کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ اس وقت دبئی میں موجود ہے۔ عبدالواسع کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کسی بھی قسم کے اقدامات اٹھانے پر مقامی عمائدین کو اعتماد میں لے، امن کے قیام میں کردار ادا کرنے والے جرگہ کو بھی اعتماد میں لیکر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ کرم کے واقعات کے پیچھے اصل صورتحال زمین کے تنازعات ہیں، قانون کے مطابق فریقین کو سن کر اس مسئلے کو حل کیا جائے۔

عبدالواسع نے مزید کہا کہ پاراچنار میں اہلبیت (ع) اور صحابہ کرام (رض) کی شان میں گستاخ آمیز ویڈیوز کا مقصد ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانا تھا، علاوہ ازیں انہوں نے بھارت میں حکومتی رکن کی جانب سے رسول اللہﷺ کی شان میں کی جانے والی گستاخی کی بھی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ حکومت اس گستاخی کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ میں بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لئے ضروری سفارتی اقدامات اٹھائے۔ علاوہ ازیں انہوں نے وزیرستان میں یوتھ لیڈر اور الخدمت کے صدر اسداللہ داوڑ اور ان کے تین دوستوں کو نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کئے جانے کی بھی مذمت کی۔ اجلاس میں شریک مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی صدر علامہ وحید عباس کاظمی نے ’’ٓاسلام ٹائمز‘‘ کو بتایا کہ اس اجلاس کا ون پوائنٹ ایجنڈا تھا، اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل نے فیصلہ کیا کہ شیعہ، سنی علماء کا ایک وفد جلد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کیساتھ ملاقات کرے گا اور حکومت سے اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرے گا۔

علامہ سید وحید عباس کاظمی نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ ایک وفد عیدالاضحیٰ کے بعد ضلع کرم جائے گا، جہاں شیعہ، سنی علمائے کرام اور عمائدین سے ملاقاتیں کی جائیں گی۔ اجلاس میں طے پایا کہ کرم کی صورتحال پر مقامی علمائے کرام نے انتہائی مثبت کردار ادا کیا، جس پر انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ ملی یکجہتی کونسل کا وفد فوری طور پر بھی کرم جاسکتا تھا، تاہم وہاں جرگوں کی وجہ سے فی الحال امن قائم ہوچکا ہے اور طے پایا ہے کہ 2011ء میں ہونے والے مری معاہدے کی پاسداری کی جائے گی، کشیدگی کو مزید نہیں پھیلایا جائے گا اور ایک ہفتہ تک وہاں گاڑیاں پاک فوج کی سکیورٹی میں کانوائے کی صورت میں جائیں گی، جس کے بعد سڑک کو مکمل طور پر آمد و رفت کیلئے کھولا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں جانب سے اہلبیتؑ کی شان اقدس میں کی جانے والی گستاخی کی شدید مذمت کی گئی ہے، کشیدگی میں روز بروز کمی آرہی ہے۔