پاکستان جو پہلے کبھی نہیں دیکھا

  Click to listen highlighted text! تحریر: ثاقب اکبر اس وقت پاکستان میں جو فضا ہے، جو اٹھان، جو جوش و خروش، خود اعتمادی ہے اور عوام نیز ان کی قیادت کے مابین جو ولولہ انگیز رشتہ ہے، میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ عوام کی محبت کے مظاہرے یاد ہیں۔ میں نے ان کی کئی ایک تقاریر ان کے سامنے بیٹھ کر سنی ہیں۔ مینار پاکستان پر ایک تاریخی جلسے میں، میں اس وقت موجود تھا، جب بھٹو مرحوم نے مجیب الرحمن کے چھے نکات پر بات کی۔ انھوں نے کہا ’’مجھے پانچ نکات قبول ہیں، پھر کہا بلکہ ساڑھے پانچ نکات قبول ہیں۔‘‘ وہ کہنا چاہتے تھے کہ چھ نکات کی تمام تر تفصیلات ہم قبول نہیں کرسکتے۔ اگر مشرقی پاکستان میں آپ نے اکثریت حاصل کی ہے تو مغربی پاکستان میں ہم اکثریت میں ہیں۔ اسی سے مخالفین ابھی تک ’’ادھر تم ادھر ہم‘‘ نکال رہے ہیں۔ میں نے قذافی سٹیڈیم میں ان کا خطاب سنا، جب مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود کی قیادت میں پی این اے کی تحریک ان کے خلاف چل رہی تھی۔ لاہور کے ناصر باغ میں انھوں نے ایک جلسہ منعقد کیا، میں نے وہاں بھی ان کا خطاب سنا۔ بھٹو کے ساتھ واقعاً عوام کی بڑی محبت تھی اور عوام کے لیے ان کی ذات میں بہت جاذبیت تھی۔ ان کے ’’عدالتی قتل‘‘ کا غم اب بھی عوام کے ایک بڑے طبقے کو ہے۔ بھٹو کے بعد پھر کوئی ایسی شخصیت پاکستان میں نہیں آئی، جس کے ساتھ عوام کی ویسی جذباتی وابستگی ہو اور جو عوام کے تمام طبقات اور ملک کے بیشتر علاقوں میں مقبول ہو، البتہ اس وقت پاکستان میں عجیب مناظر ہیں۔ عمران خان اور ان کے بیانیے نے عوام کو اٹھا کھڑا کیا ہے۔ قائد اعظم اور ان کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کی محبت کے مناظر تو ہم نے نہیں دیکھے، لیکن یہ سب کچھ ہم دیکھ رہے ہیں۔ بھٹو سے عوام کی محبت کے مناظر اس سب کے سامنے ماند پڑ گئے ہیں۔ پاکستان میں کتنے ہی ایسے عظیم الشان جلسے حالیہ چند دنوں میں ہوچکے ہیں، جن کے لیے عوام ایک یا دو روز پہلے سے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مسند اقتدار سے اترنے کے بعد آنے والی اتوار کی شب ملک کے دسیوں شہروں میں عوام کا عمران خان کے لیے نکلنا پاکستان کی تاریخ میں اپنی مثال آپ تھا۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ سیلاب امنڈ رہا ہے اور تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ عوامی سمندر کی منہ زور لہریں ہیں، جو بے کراں ہوئی چلی جاتی ہیں۔ ویسے تو پاکستان کے عوام کئی دہائیوں سے اپنے ملک میں امریکی مداخلت کے مظاہر دیکھتے اور بھگتتے چلے آرہے ہیں، لیکن اب پاکستانی امور میں بلکہ واضح الفاظ میں ’’رژیم چینج‘‘ کے لیے امریکی مداخلت پر وہ سیخ پا ہیں، مضطرب ہیں بلکہ مشتعل ہیں۔ پاکستان کے لوگ عالم اسلام میں امریکی مداخلت بلکہ ظالمانہ و مسلحانہ مداخلت کو جانتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی سرپرستی کے خلاف اور فلسطین کی حمایت میں اس سرزمین کے عوام ایک عرصے سے صدا بلند کر رہے ہیں۔ حالیہ دو دہائیوں میں شام، عراق، لیبیا، یمن اور افغانستان کی تباہی و بربادی میں امریکی کردار کو ہمارے لوگ جانتے ہیں۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی وہ جس طرح پیٹھ ٹھونک رہا ہے، وہ بھی ان کے سامنے ہے۔ پاکستان میں ایسے ادوار بھی آئے ہیں کہ جب عوام کا سب سے محبوب نعرہ ’’مردہ باد امریکہ‘‘ رہا ہے، لیکن اس وقت عوام امریکی ریشہ دوانیوں اور ہمارے ملک کی سیاست پر شب خون مارنے کی کارروائیوں کو واضح طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وہ جان چکے ہیں کہ ہمارے پاس ایک عظیم سرزمین ہے، ایک عظیم فوج ہے اور ہم ایک جوہری طاقت ہیں، لیکن پھر بھی امریکہ ہمیں اپنا غلام رکھنا چاہتا ہے۔ وہ ’’غلامی نامنظور‘‘ کے شعار کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور یہ شعار اتنا بلند بانگ ہے کہ اس کی مثال کم از کم ہمارے وطن میں تو نہیں ملتی۔ آج پاکستان کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کے تمام اداروں میں امریکی اثر و رسوخ انتہائی گہرا ہے۔ حریص اور خوفزدہ لوگ ان اداروں کے مدار المہام ہیں۔ عوام سمجھ گئے ہیں کہ ان کی غلامی کو ہمہ گیر، وسیع اور گہرا کرنے اور رکھنے میں حاکم نظام کے تمام عناصر ذمہ دار ہیں، لہذا حقیقی آزادی ہمہ گیر تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ اس بیداری اور حصول خوداری کی تحریک کا سب سے اہم اور حساس پہلو ہے۔ ایک جانب عالمی حالات اور پاکستان کی آزادی کے حقیقی اور طاقتور دشمن ہیں اور دوسری طرف پاکستانی عوام کے اپنے اداروں کی ماہیت کے بارے میں آگاہی ہے۔ زیادہ کھل کر کہا جائے کہ پاکستان کی طاقتور افواج اور عوام کے مابین اعتماد کا رشتہ ہی ہمیشہ دشمنوں کے راستے کی بڑی رکاوٹ رہا ہے اور یہ رشتہ ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہا ہے، لیکن موجودہ رژیم چینج کے تماشے نے بہت کچھ عریاں کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیج پیدا ہوچکی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ایسا نہیں ہے تو وہ مزید خلیج کا باعث بن رہا ہے۔ جن اسلامی ملکوں میں افواج کمزور ہوئی ہیں، وہاں جو قیامتیں گزری ہیں یا گزر رہی ہیں، وہ سب کے سامنے ہیں۔ کوئی معمولی سا شعلہ بارود کے ڈھیر کو شعلہ ور کرسکتا ہے۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ بھارت امریکہ کی سرپرستی میں تیار بیٹھا ہے کہ ایسی کسی ممکنہ صورتحال میں پاکستان کے خلاف کوئی ایسا اقدام کرے، جیسا وہ مشرقی پاکستان کے خلاف کرچکا ہے۔ منفی تدابیر سے اور اپنی انا کی تسکین کے لیے اٹھائے گئے قدم معاملات کو سدھار نہیں سکتے۔ پاکستان کے ’’طاقتور حلقوں‘‘ کے کندھے پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر فیصلہ کرنا پڑ جائے کہ امریکہ کو مطمئن کرنا ہے یا عوام کو تو اپنے عوام کو مطمئن کیجیے، کیونکہ امریکہ ماضی میں بھی دوست ثابت نہیں ہوسکا اور بہرحال پاکستان کو دو لخت کرنے، اسے جوہری طاقت سے محروم رکھنے نیز کاسہ لیس ریاست رکھنے کے راستے پر گامزن ہے۔

تحریر: ثاقب اکبر

اس وقت پاکستان میں جو فضا ہے، جو اٹھان، جو جوش و خروش، خود اعتمادی ہے اور عوام نیز ان کی قیادت کے مابین جو ولولہ انگیز رشتہ ہے، میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ عوام کی محبت کے مظاہرے یاد ہیں۔ میں نے ان کی کئی ایک تقاریر ان کے سامنے بیٹھ کر سنی ہیں۔ مینار پاکستان پر ایک تاریخی جلسے میں، میں اس وقت موجود تھا، جب بھٹو مرحوم نے مجیب الرحمن کے چھے نکات پر بات کی۔ انھوں نے کہا ’’مجھے پانچ نکات قبول ہیں، پھر کہا بلکہ ساڑھے پانچ نکات قبول ہیں۔‘‘ وہ کہنا چاہتے تھے کہ چھ نکات کی تمام تر تفصیلات ہم قبول نہیں کرسکتے۔ اگر مشرقی پاکستان میں آپ نے اکثریت حاصل کی ہے تو مغربی پاکستان میں ہم اکثریت میں ہیں۔ اسی سے مخالفین ابھی تک ’’ادھر تم ادھر ہم‘‘ نکال رہے ہیں۔ میں نے قذافی سٹیڈیم میں ان کا خطاب سنا، جب مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود کی قیادت میں پی این اے کی تحریک ان کے خلاف چل رہی تھی۔ لاہور کے ناصر باغ میں انھوں نے ایک جلسہ منعقد کیا، میں نے وہاں بھی ان کا خطاب سنا۔

بھٹو کے ساتھ واقعاً عوام کی بڑی محبت تھی اور عوام کے لیے ان کی ذات میں بہت جاذبیت تھی۔ ان کے ’’عدالتی قتل‘‘ کا غم اب بھی عوام کے ایک بڑے طبقے کو ہے۔ بھٹو کے بعد پھر کوئی ایسی شخصیت پاکستان میں نہیں آئی، جس کے ساتھ عوام کی ویسی جذباتی وابستگی ہو اور جو عوام کے تمام طبقات اور ملک کے بیشتر علاقوں میں مقبول ہو، البتہ اس وقت پاکستان میں عجیب مناظر ہیں۔ عمران خان اور ان کے بیانیے نے عوام کو اٹھا کھڑا کیا ہے۔ قائد اعظم اور ان کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کی محبت کے مناظر تو ہم نے نہیں دیکھے، لیکن یہ سب کچھ ہم دیکھ رہے ہیں۔ بھٹو سے عوام کی محبت کے مناظر اس سب کے سامنے ماند پڑ گئے ہیں۔ پاکستان میں کتنے ہی ایسے عظیم الشان جلسے حالیہ چند دنوں میں ہوچکے ہیں، جن کے لیے عوام ایک یا دو روز پہلے سے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مسند اقتدار سے اترنے کے بعد آنے والی اتوار کی شب ملک کے دسیوں شہروں میں عوام کا عمران خان کے لیے نکلنا پاکستان کی تاریخ میں اپنی مثال آپ تھا۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ سیلاب امنڈ رہا ہے اور تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ عوامی سمندر کی منہ زور لہریں ہیں، جو بے کراں ہوئی چلی جاتی ہیں۔

ویسے تو پاکستان کے عوام کئی دہائیوں سے اپنے ملک میں امریکی مداخلت کے مظاہر دیکھتے اور بھگتتے چلے آرہے ہیں، لیکن اب پاکستانی امور میں بلکہ واضح الفاظ میں ’’رژیم چینج‘‘ کے لیے امریکی مداخلت پر وہ سیخ پا ہیں، مضطرب ہیں بلکہ مشتعل ہیں۔ پاکستان کے لوگ عالم اسلام میں امریکی مداخلت بلکہ ظالمانہ و مسلحانہ مداخلت کو جانتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی سرپرستی کے خلاف اور فلسطین کی حمایت میں اس سرزمین کے عوام ایک عرصے سے صدا بلند کر رہے ہیں۔ حالیہ دو دہائیوں میں شام، عراق، لیبیا، یمن اور افغانستان کی تباہی و بربادی میں امریکی کردار کو ہمارے لوگ جانتے ہیں۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی وہ جس طرح پیٹھ ٹھونک رہا ہے، وہ بھی ان کے سامنے ہے۔ پاکستان میں ایسے ادوار بھی آئے ہیں کہ جب عوام کا سب سے محبوب نعرہ ’’مردہ باد امریکہ‘‘ رہا ہے، لیکن اس وقت عوام امریکی ریشہ دوانیوں اور ہمارے ملک کی سیاست پر شب خون مارنے کی کارروائیوں کو واضح طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وہ جان چکے ہیں کہ ہمارے پاس ایک عظیم سرزمین ہے، ایک عظیم فوج ہے اور ہم ایک جوہری طاقت ہیں، لیکن پھر بھی امریکہ ہمیں اپنا غلام رکھنا چاہتا ہے۔ وہ ’’غلامی نامنظور‘‘ کے شعار کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور یہ شعار اتنا بلند بانگ ہے کہ اس کی مثال کم از کم ہمارے وطن میں تو نہیں ملتی۔

آج پاکستان کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کے تمام اداروں میں امریکی اثر و رسوخ انتہائی گہرا ہے۔ حریص اور خوفزدہ لوگ ان اداروں کے مدار المہام ہیں۔ عوام سمجھ گئے ہیں کہ ان کی غلامی کو ہمہ گیر، وسیع اور گہرا کرنے اور رکھنے میں حاکم نظام کے تمام عناصر ذمہ دار ہیں، لہذا حقیقی آزادی ہمہ گیر تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ اس بیداری اور حصول خوداری کی تحریک کا سب سے اہم اور حساس پہلو ہے۔ ایک جانب عالمی حالات اور پاکستان کی آزادی کے حقیقی اور طاقتور دشمن ہیں اور دوسری طرف پاکستانی عوام کے اپنے اداروں کی ماہیت کے بارے میں آگاہی ہے۔ زیادہ کھل کر کہا جائے کہ پاکستان کی طاقتور افواج اور عوام کے مابین اعتماد کا رشتہ ہی ہمیشہ دشمنوں کے راستے کی بڑی رکاوٹ رہا ہے اور یہ رشتہ ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہا ہے، لیکن موجودہ رژیم چینج کے تماشے نے بہت کچھ عریاں کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیج پیدا ہوچکی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ایسا نہیں ہے تو وہ مزید خلیج کا باعث بن رہا ہے۔ جن اسلامی ملکوں میں افواج کمزور ہوئی ہیں، وہاں جو قیامتیں گزری ہیں یا گزر رہی ہیں، وہ سب کے سامنے ہیں۔ کوئی معمولی سا شعلہ بارود کے ڈھیر کو شعلہ ور کرسکتا ہے۔

مجھے کوئی شک نہیں کہ بھارت امریکہ کی سرپرستی میں تیار بیٹھا ہے کہ ایسی کسی ممکنہ صورتحال میں پاکستان کے خلاف کوئی ایسا اقدام کرے، جیسا وہ مشرقی پاکستان کے خلاف کرچکا ہے۔ منفی تدابیر سے اور اپنی انا کی تسکین کے لیے اٹھائے گئے قدم معاملات کو سدھار نہیں سکتے۔ پاکستان کے ’’طاقتور حلقوں‘‘ کے کندھے پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر فیصلہ کرنا پڑ جائے کہ امریکہ کو مطمئن کرنا ہے یا عوام کو تو اپنے عوام کو مطمئن کیجیے، کیونکہ امریکہ ماضی میں بھی دوست ثابت نہیں ہوسکا اور بہرحال پاکستان کو دو لخت کرنے، اسے جوہری طاقت سے محروم رکھنے نیز کاسہ لیس ریاست رکھنے کے راستے پر گامزن ہے۔