پاکستان فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، امریکی شرائط مانی تو نظریہ پاکستان کو دفن کرنا پڑے گا، عمران خان

  Click to listen highlighted text! اسلام آباد: ‘رجیم تبدیلی کی مبینہ سازش’ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیرکے منہ سے سچ نکل آیا، گیارہ سال پہلے کہا تھا پیپلزپارٹی، (ن) لیگ اکٹھے ہو جائیں گے، ان دونوں کا ایک ہی مقصد چوری کرنا اور اسے کیسے بچانا ہے. پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر خرم دستگیر نے یہ کہا ہے کہ عمران خان اپنا آرمی چیف لا کر اگلے 15 برس تک اقتدار میں رہنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ میں اللہ کو حاضر جان کر کہتا ہوں میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا نومبر میں کس کو آرمی چیف لگانا ہے۔ میری نے تمام زندگی میرٹ پر سمجھوتا نہیں کیا۔ کبھی نہیں سوچا اپنا آرمی چیف لاؤں گا۔ اس کا مطلب کیا کوئی اور آرمی چیف آئے گا تو احتساب رک جائے گا اس پرغورکرنا چاہیے۔ خرم دستگیر جو بات کہہ گئے ہیں، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 سال پہلے ان کے خلاف جہاد شروع کیا تھا، 26 سال پہلے کہا نواز شریف، زرداری دونوں چورہیں، الیکشن کے دنوں میں یہ صرف ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں، مجھے کوئی شک نہیں تھا جب اقتدارمیں آؤں گا تو یہ دونوں اکٹھے ہوں گے، ان کو فوج سے ڈر ہوتا ہے، ادارے کے پاس ان کی ساری رپورٹ ہوتی ہے۔ مجھے اپنی کوئی چوری نہیں بچانی، کیوں اپنا آرمی چیف رکھوں گا، میں توچاہتا ہوں ہمارے ادارے مضبوط ہوں، ان کو خوف تھا کہ جنرل فیض کولانا چاہتا ہوں، اسی وجہ سے خوف میں مبتلا تھے۔ عمران خان نے کہا کہ امریکا رجیم چینج دوسرے ملکوں کی بہتری کے لیے نہیں کرتا، امریکا رجیم چینج اپنے مفاد کے لیے کرتا ہے، کیا ہمارے مفاد میں ہے امریکا کوبیس دیں؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی تباہی ہوئی؟ میریٹ ہوٹل کے اندرد ھماکا ہوا، ہمارے ملک کے سربراہ کو جنگ میں شرکت نہ کرنے پردھمکی دی گئی تھی، میں نے ان کو سمجھایا تھا اس جنگ میں شرکت نہ کریں، میں قبائلی علاقوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ دہشت گردی کی جنگ سے پہلے قبائلی علاقوں میں امن تھا، رجیم چینج سے پہلے میڈیا پرپیسہ چلایا گیا، مجھے طالبان خان کہا جاتا تھا، جو بھی جنگ کی مخالفت کرتا تھا پورا میڈیا پیچھے پڑجاتا تھا۔ پاکستان امریکا کا اتحادی اور وہ ہمارے اوپر ہی بمباری کررہا تھا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں سے پاکستانی مر رہے تھے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کوسراہا نہیں گیا، ایبسولیٹلی ناٹ اپنے ملک کے مفاد میں کہا، امریکا کا مخالف نہیں ہوں، چاہتا ہوں امریکا ٹشو پیپر کی طرح استعمال نہ کرے، امریکا کا ایجنڈہ سیدھا ہے اسرائیل، بھارت کو تسلیم اور کشمیر کو بھول جاؤ، امریکا چاہتا ہے بھارت کوسلیوٹ کرو، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کشمیرکا موقف اسی دن زیرو ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان فیصلہ کن موڑپرآگیا ہے، چیری بلاسم، جوتے پالش کر کے قوم آزاد نہیں بن سکتی، کوئی بھی قوم جوتے پالش کر کے نہیں بنتی، قوم ایک نظریے پر بنتی ہے۔ پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ مراسلے پرمجھے بہت تکلیف ہوئی، جب چوروں کومسلط کیا گیا توسب سے زیادہ تکلیف ہوئی، 60 فیصد کابینہ ضمانت پر ہے اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی ہے، انہوں نے ہمارے ملک کی اخلاقیات کو تباہ کر دیا ہے، کسی خود دار ملک میں اس طرح کی چیز کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، ایک سال پہلے گیم شروع ہونے کا اندازہ ہو گیا تھا، ہمیشہ سوچتا تھا کیا کوئی شہباز شریف کو ملک کا وزیراعظم بنادے گا، ایمانداری سے بتاتا ہوں تصوربھی نہیں کرسکتا تھا کوئی شہبازشریف کو وزیراعظم بنا دے گا، ایک دن نیوٹرل سے بات کی تو کہا اس پر 16 ارب کا کیس ہے، اس کے خلاف اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، نوازشریف نے تو اپنی بیٹی کے نام پر جائیدادیں خریدیں، شہبازشریف کے نام پرتو سب کچھ ہے، اس کیخلاف کیس میں اگر کوئی عام آدمی ہوتا تو دو ہفتے کے اندر جیل میں ڈال دیا جاتا، آخری منٹ تک سوچتا رہا اس کو وزیراعظم نہیں بناسکتے، اس سیٹ اپ کو لوگوں کو ہضم کروانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، جس پارلیمنٹ میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہو سمجھ لیں پارلیمنٹ ختم ہو گئی، پنجاب کی پارلیمنٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے عدلیہ کی بھی توہین ہے، مجرم نمبر 2 کومسلط کرنے کے لیے مذاق کیا جارہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ حمزہ شہباز کو بٹھانے کے لیے الیکشن کمیشن انجینئرنگ کر رہا ہے، الیکشن کمیشن کی کریڈبیلٹی ختم ہو چکی ہے، ہمیں پتا ہے الیکشن کمشنر شہزادہ، شہزادی کے سامنے جا کر بیٹھتے ہیں، پاکستان کی جمہوریت کو نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی جب اخلاقیات ختم ہوجائے تو بمباری کی ضرورت نہیں ہوتی، لبنان کوبمباری نہیں کرپشن نے تباہ کیا، امریکا نے رجیم چینج کر کے اپنا مقصد پورا کرلیا، ان لوگوں کا مقصد اقتدار میں آ کر اپنی چوری بچانا تھا، نیب ترامیم کا مطلب وائٹ کالر کرائم کی اجازت مل گئی ہے، نیب نے ہمارے دور میں 480 ارب ریکورکیے، ہماری حکومت نیب پر پریشر نہیں ڈال رہی تھی، جب نیب رانا ثنا اللہ کے نیچے ہو گی تو لوگوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا، چوری بچانے کے لیے انہوں نے این آر او لیا، یہ ملک کو اندر سے تباہ کریں گے جو دشمن بھی نہیں کرسکتا۔ عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت میں ملک کی ایکسپورٹ بڑھ رہی تھی، میں نے اورجب شوکت ترین نے نیوٹرل کوسمجھایا عدم استحکام پاکستان برداشت نہیں کرسکتا، ہم نے کہا تھا اس سازش کو روکیں، ساڑھے تین سال یہ مہنگائی، مہنگائی کر رہے تھے، ان کی کوئی تیاری نہیں تھی آج معاشی حالات برے ہیں، ہماری حکومت بھی آئی ایم ایف پروگرام میں تھی ہم نے تو اتنی مہنگائی نہیں کی تھی، خرم دستگیر نے کہا ان کا مقصد ہی کرپشن کیسز سے بچنا تھا، دوہی راستے ہیں، درمیان میں نیوٹرل کا گیئر ہی نکل گیا ہے، فیصلہ کرنا ہوگا ملک کوکیسے بچانا ہے، شہبازشریف، مفتاح اسماعیل امریکیوں کے جوتے بھی پالش کرلے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اگر امریکا کی شرائط کومانیں گے تو نظریے پاکستان کو دفن کرنا پڑے گا، نظریہ پاکستان ایک غیرت کا نعرہ ہے، انہوں نے پوری دنیا میں پرچیاں پکڑ کر ہمیں ذلیل کیا، برطانوی سفیر کو کیک کھلا رہے ہیں شائد ہماری سفارش کردے، بے شرمی ہیں اللہ کے سوا کسی کے سامنے مت جھکو۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت اور ہمارے پاس زبردست فوج ہے، جب شہباز شریف جیسا ملک وزیراعظم بن جائے تو ملک کیسے چل سکتا ہے، حقیقی آزادی ایک جہاد ہے، میں نے توکسی صورت ان چوروں کوتسلیم نہیں کرنا۔

اسلام آباد: ‘رجیم تبدیلی کی مبینہ سازش’ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیرکے منہ سے سچ نکل آیا، گیارہ سال پہلے کہا تھا پیپلزپارٹی، (ن) لیگ اکٹھے ہو جائیں گے، ان دونوں کا ایک ہی مقصد چوری کرنا اور اسے کیسے بچانا ہے.
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر خرم دستگیر نے یہ کہا ہے کہ عمران خان اپنا آرمی چیف لا کر اگلے 15 برس تک اقتدار میں رہنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ میں اللہ کو حاضر جان کر کہتا ہوں میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا نومبر میں کس کو آرمی چیف لگانا ہے۔ میری نے تمام زندگی میرٹ پر سمجھوتا نہیں کیا۔ کبھی نہیں سوچا اپنا آرمی چیف لاؤں گا۔ اس کا مطلب کیا کوئی اور آرمی چیف آئے گا تو احتساب رک جائے گا اس پرغورکرنا چاہیے۔ خرم دستگیر جو بات کہہ گئے ہیں، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ 26 سال پہلے ان کے خلاف جہاد شروع کیا تھا، 26 سال پہلے کہا نواز شریف، زرداری دونوں چورہیں، الیکشن کے دنوں میں یہ صرف ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں، مجھے کوئی شک نہیں تھا جب اقتدارمیں آؤں گا تو یہ دونوں اکٹھے ہوں گے، ان کو فوج سے ڈر ہوتا ہے، ادارے کے پاس ان کی ساری رپورٹ ہوتی ہے۔ مجھے اپنی کوئی چوری نہیں بچانی، کیوں اپنا آرمی چیف رکھوں گا، میں توچاہتا ہوں ہمارے ادارے مضبوط ہوں، ان کو خوف تھا کہ جنرل فیض کولانا چاہتا ہوں، اسی وجہ سے خوف میں مبتلا تھے۔
عمران خان نے کہا کہ امریکا رجیم چینج دوسرے ملکوں کی بہتری کے لیے نہیں کرتا، امریکا رجیم چینج اپنے مفاد کے لیے کرتا ہے، کیا ہمارے مفاد میں ہے امریکا کوبیس دیں؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی تباہی ہوئی؟ میریٹ ہوٹل کے اندرد ھماکا ہوا، ہمارے ملک کے سربراہ کو جنگ میں شرکت نہ کرنے پردھمکی دی گئی تھی، میں نے ان کو سمجھایا تھا اس جنگ میں شرکت نہ کریں، میں قبائلی علاقوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ دہشت گردی کی جنگ سے پہلے قبائلی علاقوں میں امن تھا، رجیم چینج سے پہلے میڈیا پرپیسہ چلایا گیا، مجھے طالبان خان کہا جاتا تھا، جو بھی جنگ کی مخالفت کرتا تھا پورا میڈیا پیچھے پڑجاتا تھا۔ پاکستان امریکا کا اتحادی اور وہ ہمارے اوپر ہی بمباری کررہا تھا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں سے پاکستانی مر رہے تھے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کوسراہا نہیں گیا، ایبسولیٹلی ناٹ اپنے ملک کے مفاد میں کہا، امریکا کا مخالف نہیں ہوں، چاہتا ہوں امریکا ٹشو پیپر کی طرح استعمال نہ کرے، امریکا کا ایجنڈہ سیدھا ہے اسرائیل، بھارت کو تسلیم اور کشمیر کو بھول جاؤ، امریکا چاہتا ہے بھارت کوسلیوٹ کرو، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کشمیرکا موقف اسی دن زیرو ہو جائے گا،
انہوں نے کہا کہ پاکستان فیصلہ کن موڑپرآگیا ہے، چیری بلاسم، جوتے پالش کر کے قوم آزاد نہیں بن سکتی، کوئی بھی قوم جوتے پالش کر کے نہیں بنتی، قوم ایک نظریے پر بنتی ہے۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ مراسلے پرمجھے بہت تکلیف ہوئی، جب چوروں کومسلط کیا گیا توسب سے زیادہ تکلیف ہوئی، 60 فیصد کابینہ ضمانت پر ہے اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی ہے، انہوں نے ہمارے ملک کی اخلاقیات کو تباہ کر دیا ہے، کسی خود دار ملک میں اس طرح کی چیز کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، ایک سال پہلے گیم شروع ہونے کا اندازہ ہو گیا تھا، ہمیشہ سوچتا تھا کیا کوئی شہباز شریف کو ملک کا وزیراعظم بنادے گا، ایمانداری سے بتاتا ہوں تصوربھی نہیں کرسکتا تھا کوئی شہبازشریف کو وزیراعظم بنا دے گا، ایک دن نیوٹرل سے بات کی تو کہا اس پر 16 ارب کا کیس ہے، اس کے خلاف اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، نوازشریف نے تو اپنی بیٹی کے نام پر جائیدادیں خریدیں، شہبازشریف کے نام پرتو سب کچھ ہے، اس کیخلاف کیس میں اگر کوئی عام آدمی ہوتا تو دو ہفتے کے اندر جیل میں ڈال دیا جاتا، آخری منٹ تک سوچتا رہا اس کو وزیراعظم نہیں بناسکتے، اس سیٹ اپ کو لوگوں کو ہضم کروانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، جس پارلیمنٹ میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہو سمجھ لیں پارلیمنٹ ختم ہو گئی، پنجاب کی پارلیمنٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے عدلیہ کی بھی توہین ہے، مجرم نمبر 2 کومسلط کرنے کے لیے مذاق کیا جارہا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ حمزہ شہباز کو بٹھانے کے لیے الیکشن کمیشن انجینئرنگ کر رہا ہے، الیکشن کمیشن کی کریڈبیلٹی ختم ہو چکی ہے، ہمیں پتا ہے الیکشن کمشنر شہزادہ، شہزادی کے سامنے جا کر بیٹھتے ہیں، پاکستان کی جمہوریت کو نقصان ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کی جب اخلاقیات ختم ہوجائے تو بمباری کی ضرورت نہیں ہوتی، لبنان کوبمباری نہیں کرپشن نے تباہ کیا، امریکا نے رجیم چینج کر کے اپنا مقصد پورا کرلیا، ان لوگوں کا مقصد اقتدار میں آ کر اپنی چوری بچانا تھا، نیب ترامیم کا مطلب وائٹ کالر کرائم کی اجازت مل گئی ہے، نیب نے ہمارے دور میں 480 ارب ریکورکیے، ہماری حکومت نیب پر پریشر نہیں ڈال رہی تھی، جب نیب رانا ثنا اللہ کے نیچے ہو گی تو لوگوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا، چوری بچانے کے لیے انہوں نے این آر او لیا، یہ ملک کو اندر سے تباہ کریں گے جو دشمن بھی نہیں کرسکتا۔
عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت میں ملک کی ایکسپورٹ بڑھ رہی تھی، میں نے اورجب شوکت ترین نے نیوٹرل کوسمجھایا عدم استحکام پاکستان برداشت نہیں کرسکتا، ہم نے کہا تھا اس سازش کو روکیں، ساڑھے تین سال یہ مہنگائی، مہنگائی کر رہے تھے، ان کی کوئی تیاری نہیں تھی آج معاشی حالات برے ہیں، ہماری حکومت بھی آئی ایم ایف پروگرام میں تھی ہم نے تو اتنی مہنگائی نہیں کی تھی، خرم دستگیر نے کہا ان کا مقصد ہی کرپشن کیسز سے بچنا تھا، دوہی راستے ہیں، درمیان میں نیوٹرل کا گیئر ہی نکل گیا ہے، فیصلہ کرنا ہوگا ملک کوکیسے بچانا ہے، شہبازشریف، مفتاح اسماعیل امریکیوں کے جوتے بھی پالش کرلے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اگر امریکا کی شرائط کومانیں گے تو نظریے پاکستان کو دفن کرنا پڑے گا، نظریہ پاکستان ایک غیرت کا نعرہ ہے، انہوں نے پوری دنیا میں پرچیاں پکڑ کر ہمیں ذلیل کیا، برطانوی سفیر کو کیک کھلا رہے ہیں شائد ہماری سفارش کردے، بے شرمی ہیں اللہ کے سوا کسی کے سامنے مت جھکو۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت اور ہمارے پاس زبردست فوج ہے، جب شہباز شریف جیسا ملک وزیراعظم بن جائے تو ملک کیسے چل سکتا ہے، حقیقی آزادی ایک جہاد ہے، میں نے توکسی صورت ان چوروں کوتسلیم نہیں کرنا۔