اومی کرون کا پھیلاؤ: ڈبلیو ایچ او نے نئے علاج کی منظوری دے دی

  Click to listen highlighted text! جنیوا : عالمی اداہ صحت نے کورونا وائرس کے دو نئے علاجوں کی منظوری دی ہے اور وائرس کی وجہ سے مرض کی شدت اور موت کو روکنے کے لیے ویکسین کے ساتھ ساتھ کچھ آلات کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ماہرین نے کہا کہ جوڑوں کے درد کی دوائی باریسیٹینیب کا کورٹیکوسٹیرائیڈز کے ساتھ استعمال کورونا سے شدید متاثر مریضوں کے علاج کے لیے کیا جاتا ہے جس سے زندگیاں بچانے کی شرح بہتر اور وینٹی لیٹرز کی ضرورت میں کمی ہوتی ہے۔ ماہرین نے ان افراد کے لیے مصنوعی اینٹی باڈیز ٹریٹمنٹ سوتروویمیب کی بھی سفارش کی ہے، جو معمولی نوعیت کے وائرس کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہو سکتے ہیں جیسا کہ عمر رسیدہ اور قوت مدافعت کی کمی یا ذیابیطس جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد۔ماہرین کے مطابق ہسپتال میں داخل ہونے کے خطرے سے دوچار افراد کے لیے سوتروویمیب کے فوائد غیر معمولی ہیں تاہم ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اومی کرون جیسے کورونا کے نئے ویریئنٹ کے خلاف اس کی تاثیر ’ابھی تک غیریقینی‘ ہے۔ واضح رہے کہ ستمبر 2020 میں شدید بیمار مریضوں کے لیے کورونا وائرس کے صرف تین دیگر علاجوں کو ڈبلیو ایچ او کی منظوری ملی تھی۔ ان میں پہلا علاج کورٹیکوسٹیرائڈز کے استعمال سے متعلق تھا۔ کورٹیکوسٹیرائڈز سستے اور عام دستیاب ہیں اور کورونا وائرس کے شدید بیماری کے کیسز میں سوزش کی شکایت کا ازالہ کرتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے جوڑوں کے درد کی دواؤں ٹوسیلائیزیومیب اور ساریلیومیب کی جولائی میں منظوری دی تھی۔ یہ دوائیں وائرس کے خلاف مدافعتی نظام کے حد سے زیادہ یعنی خطرناک ردعمل کو کنٹرول کرتی ہیں۔ستمبر میں ڈبلیو ایچ او نے مصنوعی اینٹی باڈی علاج ری جینیرون کی منظوری دی تھی اور ماہرین کی ہدایات کے مطابق سوتروویمیب کو اسی قسم کے مریضوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او کی کووڈ علاج سے متعلق تجاویز کلینیکل ٹرائلز کے نئے ڈیٹا کی بنیاد پر باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کی جاتی ہیں۔

جنیوا : عالمی اداہ صحت نے کورونا وائرس کے دو نئے علاجوں کی منظوری دی ہے اور وائرس کی وجہ سے مرض کی شدت اور موت کو روکنے کے لیے ویکسین کے ساتھ ساتھ کچھ آلات کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ماہرین نے کہا کہ جوڑوں کے درد کی دوائی باریسیٹینیب کا کورٹیکوسٹیرائیڈز کے ساتھ استعمال کورونا سے شدید متاثر مریضوں کے علاج کے لیے کیا جاتا ہے جس سے زندگیاں بچانے کی شرح بہتر اور وینٹی لیٹرز کی ضرورت میں کمی ہوتی ہے۔ ماہرین نے ان افراد کے لیے مصنوعی اینٹی باڈیز ٹریٹمنٹ سوتروویمیب کی بھی سفارش کی ہے، جو معمولی نوعیت کے وائرس کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہو سکتے ہیں جیسا کہ عمر رسیدہ اور قوت مدافعت کی کمی یا ذیابیطس جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد۔ماہرین کے مطابق ہسپتال میں داخل ہونے کے خطرے سے دوچار افراد کے لیے سوتروویمیب کے فوائد غیر معمولی ہیں تاہم ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اومی کرون جیسے کورونا کے نئے ویریئنٹ کے خلاف اس کی تاثیر ’ابھی تک غیریقینی‘ ہے۔ واضح رہے کہ ستمبر 2020 میں شدید بیمار مریضوں کے لیے کورونا وائرس کے صرف تین دیگر علاجوں کو ڈبلیو ایچ او کی منظوری ملی تھی۔ ان میں پہلا علاج کورٹیکوسٹیرائڈز کے استعمال سے متعلق تھا۔ کورٹیکوسٹیرائڈز سستے اور عام دستیاب ہیں اور کورونا وائرس کے شدید بیماری کے کیسز میں سوزش کی شکایت کا ازالہ کرتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے جوڑوں کے درد کی دواؤں ٹوسیلائیزیومیب اور ساریلیومیب کی جولائی میں منظوری دی تھی۔ یہ دوائیں وائرس کے خلاف مدافعتی نظام کے حد سے زیادہ یعنی خطرناک ردعمل کو کنٹرول کرتی ہیں۔ستمبر میں ڈبلیو ایچ او نے مصنوعی اینٹی باڈی علاج ری جینیرون کی منظوری دی تھی اور ماہرین کی ہدایات کے مطابق سوتروویمیب کو اسی قسم کے مریضوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او کی کووڈ علاج سے متعلق تجاویز کلینیکل ٹرائلز کے نئے ڈیٹا کی بنیاد پر باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کی جاتی ہیں۔