Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

اب وہ محتاط رہیں گے، ترکی کا سفیروں کی ملک بدری کا فیصلہ منسوخ

انقرہ: ترکی کے صدر رجب طییب اردوغان نے امریکہ اور جرمنی سمیت 10 ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کرنے کے فیصلہ واپس لے لیا۔ امریکہ اور دیگر مذکورہ ممالک نے بیان جاری کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے اس کنونشن کا احترام کرتے ہیں جو سفیروں کو اس بات کا پابند کرتی ہے کہ وہ اپنے میزبان ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخت نہ کریں۔ اس کے بعد صدر اردوغان نے بھی اپنے فیصلے سے واپسی کا اعلان کیا۔
گذشتہ ہفتے صدر اردوغان نے ترک جیل میں قید سول سوسائٹی کے رہنما عثمان کاوالا کی رہائی کی اپیل کرنے پر امریکہ، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے اور سویڈن کے سفیروں کو ’ناپسندیدہ‘ قرار دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’انہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے جب وہ ترکی کو نہیں جانتے۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اردوغان نے پیر کو اپنی قوم پرست اتحادی پارٹی سے ملاقات کی اور اس کے بعد کئی گھنٹوں طویل کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں وزرا نے انہیں ترکی کے قریبی اتحادیوں اور تجارتی حلیفوں کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے اقتصادی خطرات کے بارے میں خبردار کیا۔
اس کے بعد انہوں نے ٹی وی پر چلنے والے ایک بیان میں کہا کہ 10 سیفر سبق سیکھ چکے ہیں اور ’اب وہ مزید محتاط رہیں گے۔‘ سفارتی اقدار کا احترام کرنے کے سفیروں کے بیان کے بارے میں بات کرتے ہوئے اردوغان نے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ’وہ ہمارے ملک کے خلاف بہتان لگانے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔‘

مزید پڑھیے

Most Popular