پاکستان کو ہر لحاظ سے دوسروں کیلئے نمونہ بننا چاہیئے
پیواڑ گیدو مسئلے کے حل میں انتظامیہ کا منفی کردار
اپنی رعایا کو انصاف فراہم نہیں تو غیر مسلم ممالک کے مسلمان کیسے شکایت کرسکیں گے

  Click to listen highlighted text! تحریر: ایس آر الحسینی پیواڑ گیدو قبائل کے مابین ہونے والے تصادم کو تقریباً ایک ماہ ہوچکا ہے، مگر اپنی سابقہ روایات کے مطابق مقامی ضلعی انتظامیہ مسئلے اور تنازعے کا حل نکالنے میں مکمل طور پر ناکام ہی رہی۔ جس کی وجہ سے مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایک دوسرے فریق کے بعض رہنماؤں کی جانب سے پردے کے پیچھے گھر کے کسی پرامن کمرے سے فیس بک اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوچکا ہے۔ جو کسی بھی وقت خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔ انتظامیہ کے پاس اگرچہ ایسے تمام مسائل اور معاملات کا حل موجود ہے۔ تاہم مشکل یہ ہے کہ وہ حل ان کی امیدوں کے مطابق نہیں۔ اگر وہ حل انتظامیہ کے متعصب اہلکاروں کی امیدوں کے مطابق ہوتا تو اس کا حل کب کو نکل چکا ہوتا۔ ہماری بیچاری انتظامیہ کو عصبیت کی ایسی بیماری لگی ہوئی ہے کہ وہ پاکستان کے سچے محب بلکہ محافظ قبائل کے مقابلے میں دہشتگردوں کے سہولتکار پاکستان مخالف قبائل کی حمایت کرتی آرہی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے تعصب کی حالت یہ ہے کہ تعصب پر مبنی ان کی پالیسی ہی کی وجہ سے شورکو کے علاقے میں پاکستان کے بڑے رقبے کو افغان قبائل کے قبضے میں دیا گیا، کیونکہ پاکستان کی جانب آباد طوری قبائل کی نسبت ان کی دلچسپیاں سرحد پار آباد افغان صوبری اور جاجی قبائل کے ساتھ تھیں اور پھر تین سال قبل جال بچھانے کے دوران اسی علاقے پر قابض افغان قبائل کے ساتھ پاک فوج کی جھڑپ ہوگئی، جس میں کچھ فوجی جوانوں کو زخمی حالت میں گھسیٹ کر افغان حکومت اور قبائل نے خوست پہنچا دیا، جنہیں بری طرح مسخ کرکے دو دن بعد پاکستان کے حوالے کر دیا، جبکہ اس دوران کمانڈنٹ ایف سی بھی شدید زخمی حالت میں دشمنوں کے محاصرے میں چلے گئے تھے، جنہیں بڑی مشکل سے ان کے ناپسندیدہ طوری قبائل ہی نے چھڑوا دیا۔ بعد میں جس کا اسے بہت احساس ہوا۔ خیر، بات ہو رہی تھی پیواڑ گیدو تنازعے کی۔ تو اس حوالے سے عرض کیا جاچکا ہے کہ کاغذات مال کی موجودگی کے علاوہ گیدو اور پیواڑ کے مابین درجنوں تحریری معاہدے اور فیصلے بھی موجود ہیں۔ جن میں گیدو کی حیثیت صاف طور پر متعین ہے کہ وہ پہاڑ تو کیا، اپنے رہائشی علاقے یعنی گیدو گاؤں میں بھی آباد کاری کے مجاز نہیں۔ گیدو کے منگل قبائل ایک کمرہ بھی پیواڑ کی اجازت کے بغیر نہیں بنا سکتے۔ نیز یہ کہ تمام تر فیصلہ جات اور امثلہ جات میں گیدو کے منگل قبیلے کو پیواڑ کے طوری قبیلے کے ماتحت اور پابند رکھا گیا ہے، جبکہ پیواڑ کے طوری قبائل کو کسی کا ماتحت یا پابند نہیں رکھا گیا ہے۔ جس سے صاف واضح ہے کہ اہلیان پیواڑ علاقے کے بندوبستی مالکان جبکہ گیدو کے منگلان زرخرید اور غیر دخیل کاران ہیں۔ ہمارے ایک اہم صاحب بہادر نے گذشتہ ماہ اپنے ایک متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ باہمی افہام و تفہیم سے مسئلے کا حل نکالا جائے گا۔ جس پر طوری قبیلے نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب ریونیو ریکارڈ موجود ہے تو اس میں افہام و تفہیم اور بات چیت کی ضرورت کیا ہے؟ ریکارڈ سے ہٹ کر دونوں متحارب قبائل کے مابین تو صدیاں گزر کر بھی افہام و تفہیم کا کوئی امکان نہیں۔ ہمارے علاقے میں ایک ضرب المثل ہے کہ اپنے بال کوئی بھی خود نہیں کاٹ سکتا، بلکہ دوسروں یعنی نائی سے کٹوانے پڑتے ہیں۔ چنانچہ جب کوئی ثالث کردار نہ ہو تو 2 سگے برادران کے مابین بھی صلح شاید نہ ہوسکے، جبکہ ثالث بھی چند اصولوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ سناتا ہے۔ پہلے تو وہ شریعت کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرے گا۔ اگر اس پر متفق نہ ہوئے تو دوسرے مرحلے میں سرکاری ریکارڈ اور قانون کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے، جبکہ تیسرے مرحلے میں یعنی جب سرکار میں کوئی ریکارڈ موجود نہ ہو، تو مقامی روایات کو مدنظر رکھ فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ جسے کرم میں قانون رواج کرم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم ملک بھر میں رائج سرکاری نظام (ریکارڈ، قانون اور عدالتی نظام) ہی کو بروئے کار لاکر فیصلے کرائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے مسائل نیچلی سطح کی عدالتوں سے لیکر بالائی سطح کی عدالتوں تک لے جا کر حل کرواتے ہیں۔ بالخصوص اس وقت جب سرکار میں فریقین کے معاملات کا ریکارڈ موجود ہو۔ جیسے قتل کے واردات میں پولیس کے جمع کردہ ثبوتوں کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرائے جاتے ہیں۔ اسی طرح دیگر قسم کے معاملات میں سرکاری ادارے مہیا شدہ شواہد اور ثبوتوں کی روشنی میں اپنے فیصلے سناتے ہیں، چنانچہ سرکاری تمام اداروں سے گزارش ہے کہ کرم کے تمام معاملات کا حل بلا تفریق سرکاری ریکارڈ کے مطابق نکالا جائے۔ وگرنہ نتیجے میں ہونے والے کشت و خون اور ہر قسم کے مالی اور جانی نقصان کے لئے آج نہیں تو کل قیامت کو آپ ہی جوابدہ ہونگے۔ مولا علی علیہ السلام کے زمانہ خلافت میں سفر کے دوران ڈاکووں نے ایک یہودی خاتون کی خلخال (پازیب) چھین لیں، جب یہ خبر مولا علی (ع) کو پہنچی، تو ردعمل میں آپؑ نے فرمایا۔ کاش! علی زندہ نہ رہتے کہ انکے ہوتے ہوئے اد کی رعایا کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کارروائی کرتے ہوئے اس غیر مسلم خاتون کو فوری انصاف دلایا۔ اسلام کے نام پر بنی اس مملکت خدا داد میں اگر رعیت کو انصاف فراہم نہیں ہوتا تو غیر مسلم ملک انڈیا، امریکہ اور یورپ میں آباد مسلمان اپنے غیر مسلم حکمرانوں سے کیسے شکوہ کرسکیں گے۔ پاکستان دنیا بھر کے مسلم اور غیر مسلم ممالک کے لئے نمونہ عمل ہونا چاہیئے۔ وما علینا الا البلاغ المبین۔

تحریر: ایس آر الحسینی

پیواڑ گیدو قبائل کے مابین ہونے والے تصادم کو تقریباً ایک ماہ ہوچکا ہے، مگر اپنی سابقہ روایات کے مطابق مقامی ضلعی انتظامیہ مسئلے اور تنازعے کا حل نکالنے میں مکمل طور پر ناکام ہی رہی۔ جس کی وجہ سے مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایک دوسرے فریق کے بعض رہنماؤں کی جانب سے پردے کے پیچھے گھر کے کسی پرامن کمرے سے فیس بک اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوچکا ہے۔ جو کسی بھی وقت خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔ انتظامیہ کے پاس اگرچہ ایسے تمام مسائل اور معاملات کا حل موجود ہے۔ تاہم مشکل یہ ہے کہ وہ حل ان کی امیدوں کے مطابق نہیں۔ اگر وہ حل انتظامیہ کے متعصب اہلکاروں کی امیدوں کے مطابق ہوتا تو اس کا حل کب کو نکل چکا ہوتا۔ ہماری بیچاری انتظامیہ کو عصبیت کی ایسی بیماری لگی ہوئی ہے کہ وہ پاکستان کے سچے محب بلکہ محافظ قبائل کے مقابلے میں دہشتگردوں کے سہولتکار پاکستان مخالف قبائل کی حمایت کرتی آرہی ہے۔

مقامی انتظامیہ کے تعصب کی حالت یہ ہے کہ تعصب پر مبنی ان کی پالیسی ہی کی وجہ سے شورکو کے علاقے میں پاکستان کے بڑے رقبے کو افغان قبائل کے قبضے میں دیا گیا، کیونکہ پاکستان کی جانب آباد طوری قبائل کی نسبت ان کی دلچسپیاں سرحد پار آباد افغان صوبری اور جاجی قبائل کے ساتھ تھیں اور پھر تین سال قبل جال بچھانے کے دوران اسی علاقے پر قابض افغان قبائل کے ساتھ پاک فوج کی جھڑپ ہوگئی، جس میں کچھ فوجی جوانوں کو زخمی حالت میں گھسیٹ کر افغان حکومت اور قبائل نے خوست پہنچا دیا، جنہیں بری طرح مسخ کرکے دو دن بعد پاکستان کے حوالے کر دیا، جبکہ اس دوران کمانڈنٹ ایف سی بھی شدید زخمی حالت میں دشمنوں کے محاصرے میں چلے گئے تھے، جنہیں بڑی مشکل سے ان کے ناپسندیدہ طوری قبائل ہی نے چھڑوا دیا۔ بعد میں جس کا اسے بہت احساس ہوا۔

خیر، بات ہو رہی تھی پیواڑ گیدو تنازعے کی۔ تو اس حوالے سے عرض کیا جاچکا ہے کہ کاغذات مال کی موجودگی کے علاوہ گیدو اور پیواڑ کے مابین درجنوں تحریری معاہدے اور فیصلے بھی موجود ہیں۔ جن میں گیدو کی حیثیت صاف طور پر متعین ہے کہ وہ پہاڑ تو کیا، اپنے رہائشی علاقے یعنی گیدو گاؤں میں بھی آباد کاری کے مجاز نہیں۔ گیدو کے منگل قبائل ایک کمرہ بھی پیواڑ کی اجازت کے بغیر نہیں بنا سکتے۔ نیز یہ کہ تمام تر فیصلہ جات اور امثلہ جات میں گیدو کے منگل قبیلے کو پیواڑ کے طوری قبیلے کے ماتحت اور پابند رکھا گیا ہے، جبکہ پیواڑ کے طوری قبائل کو کسی کا ماتحت یا پابند نہیں رکھا گیا ہے۔ جس سے صاف واضح ہے کہ اہلیان پیواڑ علاقے کے بندوبستی مالکان جبکہ گیدو کے منگلان زرخرید اور غیر دخیل کاران ہیں۔

ہمارے ایک اہم صاحب بہادر نے گذشتہ ماہ اپنے ایک متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ باہمی افہام و تفہیم سے مسئلے کا حل نکالا جائے گا۔ جس پر طوری قبیلے نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب ریونیو ریکارڈ موجود ہے تو اس میں افہام و تفہیم اور بات چیت کی ضرورت کیا ہے؟ ریکارڈ سے ہٹ کر دونوں متحارب قبائل کے مابین تو صدیاں گزر کر بھی افہام و تفہیم کا کوئی امکان نہیں۔ ہمارے علاقے میں ایک ضرب المثل ہے کہ اپنے بال کوئی بھی خود نہیں کاٹ سکتا، بلکہ دوسروں یعنی نائی سے کٹوانے پڑتے ہیں۔ چنانچہ جب کوئی ثالث کردار نہ ہو تو 2 سگے برادران کے مابین بھی صلح شاید نہ ہوسکے، جبکہ ثالث بھی چند اصولوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ سناتا ہے۔ پہلے تو وہ شریعت کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرے گا۔ اگر اس پر متفق نہ ہوئے تو دوسرے مرحلے میں سرکاری ریکارڈ اور قانون کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے، جبکہ تیسرے مرحلے میں یعنی جب سرکار میں کوئی ریکارڈ موجود نہ ہو، تو مقامی روایات کو مدنظر رکھ فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ جسے کرم میں قانون رواج کرم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

تاہم ملک بھر میں رائج سرکاری نظام (ریکارڈ، قانون اور عدالتی نظام) ہی کو بروئے کار لاکر فیصلے کرائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے مسائل نیچلی سطح کی عدالتوں سے لیکر بالائی سطح کی عدالتوں تک لے جا کر حل کرواتے ہیں۔ بالخصوص اس وقت جب سرکار میں فریقین کے معاملات کا ریکارڈ موجود ہو۔ جیسے قتل کے واردات میں پولیس کے جمع کردہ ثبوتوں کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرائے جاتے ہیں۔ اسی طرح دیگر قسم کے معاملات میں سرکاری ادارے مہیا شدہ شواہد اور ثبوتوں کی روشنی میں اپنے فیصلے سناتے ہیں، چنانچہ سرکاری تمام اداروں سے گزارش ہے کہ کرم کے تمام معاملات کا حل بلا تفریق سرکاری ریکارڈ کے مطابق نکالا جائے۔ وگرنہ نتیجے میں ہونے والے کشت و خون اور ہر قسم کے مالی اور جانی نقصان کے لئے آج نہیں تو کل قیامت کو آپ ہی جوابدہ ہونگے۔

مولا علی علیہ السلام کے زمانہ خلافت میں سفر کے دوران ڈاکووں نے ایک یہودی خاتون کی خلخال (پازیب) چھین لیں، جب یہ خبر مولا علی (ع) کو پہنچی، تو ردعمل میں آپؑ نے فرمایا۔ کاش! علی زندہ نہ رہتے کہ انکے ہوتے ہوئے اد کی رعایا کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کارروائی کرتے ہوئے اس غیر مسلم خاتون کو فوری انصاف دلایا۔ اسلام کے نام پر بنی اس مملکت خدا داد میں اگر رعیت کو انصاف فراہم نہیں ہوتا تو غیر مسلم ملک انڈیا، امریکہ اور یورپ میں آباد مسلمان اپنے غیر مسلم حکمرانوں سے کیسے شکوہ کرسکیں گے۔ پاکستان دنیا بھر کے مسلم اور غیر مسلم ممالک کے لئے نمونہ عمل ہونا چاہیئے۔ وما علینا الا البلاغ المبین۔