نینسی پلوسی کا دورہ تائیوان

تحریر: چنگ ہوا (ایران میں چین کے سفیر)

حال ہی میں امریکہ کے ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پلوسی نے چین کی واضح اور بار بار مخالفت سے چشم پوشی کرتے ہوئے امریکی حکومت کی منصوبہ بندی اور تعاون سے چین کے علاقے تائیوان کا نامعقول دورہ کیا ہے۔ یہ غلط اور گمراہ کن اقدام نہ صرف چین کی حق خود ارادیت اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی تھی بلکہ چین کے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت بھی تھی۔ مزید برآں، یہ اقدام امریکہ کی جانب سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی بھی ہے جس کے نتیجے میں بحر تائیوان میں امن اور استحکام خطرے کا شکار ہو گیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے نینسی پلوسی کے اس دشمنی پر مبنی اور اشتعال انگیز اقدام کے ردعمل میں ان اور ان کے اہلخانہ اور دوستوں کے خلاف پابندیاں عائد کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔

اسی طرح چین نے امریکہ کے خلاف آٹھ مختلف اقدامات بھی انجام دیے ہیں۔ دوسری طرف چین کی مسلح افواج نے تائیوان سے متعلق امریکہ کے منفی اقدامات کے اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے جنگی مشقوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ یہ جنگی مشقیں انتہائی وسیع سطح پر تائیوان کے اردگرد سمندری اور فضائی حدود میں انجام پا رہی ہیں۔ یہ تمام طاقتور اقدامات بخوبی اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ چین اپنی قومی سالمیت، حق خود ارادیت اور خودمختاری کی حفاظت کا پختہ عزم کر چکا ہے اور اس کی بھرپور طاقت اور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ تائیوان ایام قدیم سے ہی چین کا اٹوٹ انگ رہا ہے موجودہ مسئلہ تائیوان بھی طے شدہ تاریخی حدود کا حامل ہے۔ اس بارے میں 1943ء میں تین ممالک چین، امریکہ اور برطانیہ نے “قاہرہ اعلامیہ” جاری کیا تھا۔

قاہرہ اعلامیہ میں واضح طور پر جاپان کی جانب سے چین کی لوٹی گئی سرزمینوں کی چین کو واپسی پر زور دیا گیا ہے۔ انہی سرزمینوں میں سے ایک تائیوان بھی ہے۔ اس کے بعد 1945ء میں جاری ہونے والے “پوٹسڈام اعلامیے” میں ایک بار پھر قاہرہ بیانیے پر عملدرآمد پر زور دیا گیا تھا۔ مزید برآں، 1971ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر 2758 منظور کی تھی جس میں عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو اقوام متحدہ میں چین کی واحد قانونی نمائندہ کے طور پر متعارف کروایا گیا تھا۔ یکم جنوری 1979ء کے دن چین اور امریکہ میں سرکاری سطح پر تعلقات کا آغاز ہوا اور امریکہ نے اس مناسبت سے جاری کردہ بیانیے میں واضح طور پر اس بات کا اظہار کیا تھا کہ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت، ریاست چین کی واحد قانونی حکومت اور نمائندہ ہے۔

 

لہذا تائیوان پر چین کی ملکیت مسترد کرنے پر مبنی ہر قسم کے دعوے کا مطلب دوسری عالمی جنگ کے بعد معرض وجود میں آنے والے عالمی نظام کو چیلنج کرنے کے مترادف ہو گا۔ ایسے حالات میں نینسی پلوسی کا چین کے علاقے تائیوان کا احمقانہ دورہ، واحد چین پر مبنی اصول کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ چین کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف بھی ہے۔ اس دورے نے چین کی عوام میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس وقت تک دنیا کے 170 سے زائد ممالک اس بارے میں بیانیہ جاری کر چکے ہیں جس میں انہوں نے حقیقت بیان کرتے ہوئے واحد چین پر مبنی اصول کی پابندی پر زور دیا ہے اور اپنی ملکی سالمیت اور حق خود ارادیت کے تحفظ پر مبنی چین کے مسلمہ حق کی حمایت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتھونی گیترش نے بھی واحد چین کی حمایت کا واضح اشارہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ “اقوام متحدہ کے تمام اقدامات اسی بنیاد پر انجام پائیں گے۔” اس بارے میں عالمی برادری امریکہ کے اشتعال آمیز اقدامات کے مقابلے میں چین کے اقدامات کا مشاہدہ کرنے میں مصروف ہے اور دیکھ رہی ہے کہ کیسے چین اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت اور تسلط پسندانہ اقدامات نیز علیحدگی پسندی کا مقابلہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی نظام کے مطابق عمل پیرا ہے۔ امریکہ ایک چھوٹے سے گروہ پر تکیہ کرتے ہوئے ٹھوس حقائق کو برعکس پیش کر کے عدالت کے مشترکہ کو چیلنج کر رہا ہے اور یوں 1 ارب 40 کروڑ چینی باشندوں کے مقابل کھڑا ہو گیا ہے۔ اسی طرح امریکہ نے عالمی نظام کے دیگر بہت سے ممالک کے خلاف بھی صف آرائی کر رکھی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی واحد چین کے اصول کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور تائیوان سے متعلق امریکی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ چین نے ایران کے اس موقف کو سراہا ہے۔ چین بیجنگ تہران تعلقات کو اسٹریٹجک نگاہ سے دیکھتا ہے اور امیدوار ہے کہ ایران کے ساتھ ہمیشہ اسٹریٹجک تعاون جاری رہے گا۔ چین بھی ایران کی ملکی سالمیت، قومی خودمختاری، حق خود ارادیت اور جائز مفادات کی بھرپور حمایت کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے اندرونی معاملات میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کا مخالف ہے۔ ہمیں اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مل جل کر تسلط پسندانہ اقدامات کا مقابلہ کرنا ہو گا اور ترقی پذیر ممالک کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے بھی ضروری اقدامات انجام دینے ہوں گے۔

  Click to listen highlighted text! تحریر: چنگ ہوا (ایران میں چین کے سفیر) حال ہی میں امریکہ کے ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پلوسی نے چین کی واضح اور بار بار مخالفت سے چشم پوشی کرتے ہوئے امریکی حکومت کی منصوبہ بندی اور تعاون سے چین کے علاقے تائیوان کا نامعقول دورہ کیا ہے۔ یہ غلط اور گمراہ کن اقدام نہ صرف چین کی حق خود ارادیت اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی تھی بلکہ چین کے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت بھی تھی۔ مزید برآں، یہ اقدام امریکہ کی جانب سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی بھی ہے جس کے نتیجے میں بحر تائیوان میں امن اور استحکام خطرے کا شکار ہو گیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے نینسی پلوسی کے اس دشمنی پر مبنی اور اشتعال انگیز اقدام کے ردعمل میں ان اور ان کے اہلخانہ اور دوستوں کے خلاف پابندیاں عائد کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح چین نے امریکہ کے خلاف آٹھ مختلف اقدامات بھی انجام دیے ہیں۔ دوسری طرف چین کی مسلح افواج نے تائیوان سے متعلق امریکہ کے منفی اقدامات کے اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے جنگی مشقوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ یہ جنگی مشقیں انتہائی وسیع سطح پر تائیوان کے اردگرد سمندری اور فضائی حدود میں انجام پا رہی ہیں۔ یہ تمام طاقتور اقدامات بخوبی اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ چین اپنی قومی سالمیت، حق خود ارادیت اور خودمختاری کی حفاظت کا پختہ عزم کر چکا ہے اور اس کی بھرپور طاقت اور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ تائیوان ایام قدیم سے ہی چین کا اٹوٹ انگ رہا ہے موجودہ مسئلہ تائیوان بھی طے شدہ تاریخی حدود کا حامل ہے۔ اس بارے میں 1943ء میں تین ممالک چین، امریکہ اور برطانیہ نے “قاہرہ اعلامیہ” جاری کیا تھا۔ قاہرہ اعلامیہ میں واضح طور پر جاپان کی جانب سے چین کی لوٹی گئی سرزمینوں کی چین کو واپسی پر زور دیا گیا ہے۔ انہی سرزمینوں میں سے ایک تائیوان بھی ہے۔ اس کے بعد 1945ء میں جاری ہونے والے “پوٹسڈام اعلامیے” میں ایک بار پھر قاہرہ بیانیے پر عملدرآمد پر زور دیا گیا تھا۔ مزید برآں، 1971ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر 2758 منظور کی تھی جس میں عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو اقوام متحدہ میں چین کی واحد قانونی نمائندہ کے طور پر متعارف کروایا گیا تھا۔ یکم جنوری 1979ء کے دن چین اور امریکہ میں سرکاری سطح پر تعلقات کا آغاز ہوا اور امریکہ نے اس مناسبت سے جاری کردہ بیانیے میں واضح طور پر اس بات کا اظہار کیا تھا کہ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت، ریاست چین کی واحد قانونی حکومت اور نمائندہ ہے۔   لہذا تائیوان پر چین کی ملکیت مسترد کرنے پر مبنی ہر قسم کے دعوے کا مطلب دوسری عالمی جنگ کے بعد معرض وجود میں آنے والے عالمی نظام کو چیلنج کرنے کے مترادف ہو گا۔ ایسے حالات میں نینسی پلوسی کا چین کے علاقے تائیوان کا احمقانہ دورہ، واحد چین پر مبنی اصول کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ چین کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف بھی ہے۔ اس دورے نے چین کی عوام میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس وقت تک دنیا کے 170 سے زائد ممالک اس بارے میں بیانیہ جاری کر چکے ہیں جس میں انہوں نے حقیقت بیان کرتے ہوئے واحد چین پر مبنی اصول کی پابندی پر زور دیا ہے اور اپنی ملکی سالمیت اور حق خود ارادیت کے تحفظ پر مبنی چین کے مسلمہ حق کی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتھونی گیترش نے بھی واحد چین کی حمایت کا واضح اشارہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ “اقوام متحدہ کے تمام اقدامات اسی بنیاد پر انجام پائیں گے۔” اس بارے میں عالمی برادری امریکہ کے اشتعال آمیز اقدامات کے مقابلے میں چین کے اقدامات کا مشاہدہ کرنے میں مصروف ہے اور دیکھ رہی ہے کہ کیسے چین اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت اور تسلط پسندانہ اقدامات نیز علیحدگی پسندی کا مقابلہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی نظام کے مطابق عمل پیرا ہے۔ امریکہ ایک چھوٹے سے گروہ پر تکیہ کرتے ہوئے ٹھوس حقائق کو برعکس پیش کر کے عدالت کے مشترکہ کو چیلنج کر رہا ہے اور یوں 1 ارب 40 کروڑ چینی باشندوں کے مقابل کھڑا ہو گیا ہے۔ اسی طرح امریکہ نے عالمی نظام کے دیگر بہت سے ممالک کے خلاف بھی صف آرائی کر رکھی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی واحد چین کے اصول کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور تائیوان سے متعلق امریکی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ چین نے ایران کے اس موقف کو سراہا ہے۔ چین بیجنگ تہران تعلقات کو اسٹریٹجک نگاہ سے دیکھتا ہے اور امیدوار ہے کہ ایران کے ساتھ ہمیشہ اسٹریٹجک تعاون جاری رہے گا۔ چین بھی ایران کی ملکی سالمیت، قومی خودمختاری، حق خود ارادیت اور جائز مفادات کی بھرپور حمایت کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے اندرونی معاملات میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کا مخالف ہے۔ ہمیں اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مل جل کر تسلط پسندانہ اقدامات کا مقابلہ کرنا ہو گا اور ترقی پذیر ممالک کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے بھی ضروری اقدامات انجام دینے ہوں گے۔