Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

شہادت اور ہمسفر

تحریر: سیدہ حجاب زہراء نقوی
شہادت عشق ہے، عشق کیا ہے؟ عشق جذبہ نہیں اور نہ ہی احساس ہے، عشق ایک عمل ہے۔ عشق ایسا عمل ہے، جو عاشق کو معشوق کی مجزوبیت میں ڈال دیتا ہے۔ عشق اس کی رگوں میں خون کی طرح سفر کرتا ہے۔ عاشق معشوق کو پانے کے لیے بہت کوشش کرتا ہے۔ اس کی منزل محبوب کا قرب ہوتا ہے۔ *وَاَلَّذِیْنَ جَاَدُوْا فِیْنٰا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنٰا” اور جن لوگوں نے ہمارے راستے میں (جدوجہد) جہاد کیا، ہم ان کو ضرور اپنے (قرب کے) راستے دکھا دیں گے۔”* اور جب تک وہ محبوب کی راہ پر نہیں چلے گا، محبوب تک نہیں پہنچے گا اور اگر اس عشق کی منزل اور محبوب خدا ہو تو یہ عشق صرف عشق نہیں بلکہ بہشتی عشق ہوتا ہے۔ مگر خدا جن کا معشوق ہو، وہ دنیا میں سکون نہیں پاتے بلکہ ان کا سکون تو لقاءالله میں ہوتا ہے۔ *مَنْ کَانَ یَرْجِعُوْ لِقَاء اللّٰهِ فَاَنَّ اَجَلَ اللّٰهُ لَاتَ* انہیں سکوں صرف قرب الٰہی سے حاصل ہوتا ہے اور وہ یَنْظُر فِیْ وَجْهِ اللّٰهِ کا مشتاق ہوتا ہے۔عاشق اور معشوق کی ملاقات کے لیے یہ دنیا مناسب نہیں۔ شہید ابراہیم ہمت کہتے ہیں: دو محبت بھرے دلوں کی ملاقات کے لیے آغوش ابد سے بہتر کوئی جگہ نہیں* لہذا وہ خاک کا لباس پہن کر خون کا سہرا سجا کر جامِ شہادت نوش کرتا ہے اور محبوب کی جانب چل پڑتا ہے۔ شہادت آرزو نہیں مطلوب ہے، تمنا نہیں مقصُود ہے، راہ نہیں منزل ہے اور قالب نہیں روح ہے۔ شہادت موت نہیں زندگی ہے۔ نہ جانے میری طرح کے کتنے عاشق ہوں گے اس دنیا میں اور کچھ تو اس عشق کی منزل (شہادت) کی طلب میں دنیا سے چلے گئے، مگر کچھ گوہرِ نایاب کہ جنہوں نے اپنی مراد کو پا لیا۔ عاشق تو ہم بھی تھے۔ پھر ہم کیوں نہ منزل کو پہنچے؟* ہمارا عشق کامل نہ تھا۔ ہم دو کشتیوں کے سوار تھے۔ دنیا بھی اور شہادت بھی۔ جبکہ *وَمَا اَلْحَیٰاۃُ اَلدُّنْیَا إِلاّٰ مَتٰاعُ اَلْغُرُوْرِ” دنیا کی زندگی فریب اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں ")دنیا تو ایک حباب کی مانند ہے اور جیسا کی امام خمینی رحمۃ اللّٰہ نے 8 فروری 1979ء کے دن فرمایا: "دنیا اس کائنات کا بہت چھوٹا سا حصہ ہے، یعنی دنیا انتہائی پست چیز ہے”* کیا ایسا ممکن ہے کہ انسان دنیا کا بھی ہو اور شہادت بھی حاصل کر لے۔ ایسا ممکن نہیں، کیونکہ دنیا مادی ہے۔ جیسا کہ شہید سردار قاسم سلیمانی تمغہ ذوالفقار حاصل کرنے کے بعد اپنی بیٹی زینب سے فرماتے ہیں: "یہ سب دنیا کی چیزیں ہیں، دعا کرو کہ ایک دن خدا سے آخرت کا تمغہ لینے میں کامیاب ہوسکوں۔” جبکہ ہمارا معشوق یعنی ذات خدا مادی چیزوں سے مبرا ہے اور جنہوں نے لقاء اللہ کو حاصل کیا، وہ تو اس مادی دنیا کے بھی شہید تھے، کیونکہ شہادت کی شرط ہے کہ *”شرطِ شہید شدن شہید بودن است”* اور ہم تو اس دنیا میں غرق ہیں، ناکہ شہید۔ جب تک اس دنیا میں شہید نہیں ہوں گے۔ کبھی بھی قرب الٰہی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ہمسفر کیا ہے؟ یمسفر جو آپ کے ساتھ سفر کرے۔ اب وہ سفر چاہے ایک شہر سے دوسرے شہر کا ہو یا ایک جہاں سے دوسرے جہاں کا، شہادت اور ہم سفر کا آپس گہرا تعلق ہے۔ شہادت ایک سفر ہے، عشق کا سفر اور اس سفر کا ہمسفر ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر ہمسفر بھی عاشق ہو تو اس عشق کے سفر کو دونوں ایک دوسرے کے لیے آسان کریں گے۔ جب ایک عاشق مجرد ہوتا ہے اور اسی حالت میں وہ شہید ہو جاتا ہے تو وہ تنہا شہید ہوتا ہے، لیکن جب یہی عاشق اس سفر کے لیے ایک ہم سفر کا انتخاب کرتا ہے، تو وہ تنہا شہید نہیں ہوتا بلکہ اس کی ہمسفر بھی اس کے ساتھ شہید ہوتی ہے۔نہ صرف اس کی ہمسفر بلکہ اس کی گود سے پیدا ہونے والا بچہ اور اس کے بعد نہ جانے کتنے اور شہید پیدا ہوتے ہیں اور یوں شہادت وراثت بن جاتی ہے اور عشق خون کی طرح رگوں میں سفر کرتا ہے اور ہر شہید اور اس کی ہمسفر اور پھر شہید ابن شہید جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک عاشق تنہا عشق کو پہنچے تو وہ تنہاء ہی شہادت کو حاصل کرے گا اور اگر ہمسفر اس عشق کہ سفر میں مددگار ہو تو کتنے شہید اس خاندان سے ہوں گے اور یہ خاندان دشمن کے لیے آنکھ میں چبھے ہوئے ایک خار کی مانند ہوگا۔ پس شہادت اور ہمسفر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ شہادت کا سفر ہم خیال ہمسفر کے ساتھ مزید آسان ہوتا ہے

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular