مجلس عزا….حسینی ؑ درسگاہ

  Click to listen highlighted text! دوستوں! جس طرح سڑک منزل تک پہنچنے کا راستہ ہے اور گاڑیاں اور دیگر ذرائع نقل و حمل منزل تک پہنچنے کے ذرائع ہیں اسی طرح شیعیت یعنی اسلام نابِ محمدی میں ”عزاداری“ تحریک آئمہ معصومین ؑکے احیاء کے لئے ایک بہترین ذریعہ ہے۔”یعنی ہر دن عاشور کا دن اور ہر زمین کربلا کی سرزمین ہے۔“آئیں سب سے پہلے مجلس عزا یعنی حسینی درسگاہ کی بات کرتے ہیں ہم درسگاہ حسینی ؑ میں کیوں حاضری دیتے ہیں؟ اس لئے کہ اس کی پاک تعلیمات سے اپنے دل و دماغ کو روشن کریں، اسلام کے اصول کو نئے سرے سے سیکھیں اس کے بنیادی عناصر کو اپنے دلوں میں جگہ دیں اور انہیں بھلانہ بیٹھیں ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی حس، شہادت اور جہاد کے جذبے سے منور ہو جائے۔اہل منبر یعنی علماءو ذاکرین پر سب سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ نائب امام ؑ برحق ولی امر المسلمین آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای عزاداری کے موضوع پر خطاب میں فرماتے ہیں کہ ”اہل منبر وہ باتیں عام کریں جس سے لوگوں کی اہلبیت ؑ سے محبت میں اضافہ ہو اور جن سے اسلام کا اور اہلبیت ؑ کا پرنور چہرہ حقیقی معنوں میں پیش ہو سکے۔“مجلس عزا کا بنیادی مقصد مکتب شہادت کو زندہ رکھنا ہے امام حسین ؑکا مکتب عمل کا مکتب ہے معرفت کے بغیر اور سیرت پر عمل کئے بغیر ہمیں یہ رسولکی حدیث کس طرح فائدہ پہنچائے گی۔آپ کافرمان ہے:”علی ؑکی محبت گناہوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جس طرح آگ ایندھن کو۔“ اس لئے کردار کی اہمیت کو نظر انداز نہ کیجئے۔اہل منبر کو دینی و دنیاوی مکمل معلومات ہونی چاہئے اور وہ محض کربلا تک محدود نہ رہیں بلکہ عصر حاضر میں جہاں جہاں اسلام و مسلمین پر ظلم و ستم ہوتا ہے ان سے بھی حاضرین مجلس، شرکاءاور سامعین کو آگاہ کریں اور ان حالات میں انہیں ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں اہل منبر محض نکتہ چینی کرنے والے نہ بن جائیں بلکہ رہنمائی اور ہدایت کے لئے سامعین سے ان کی عقل کے مطابق سہل و آسان گفتگو کریں ۔عزاداری ایک عظیم تربیتی ادارہ ہے اور اہل منبر شہادت عظمیٰ کے ترجمان ہیں تو انہیں پوری ذمہ داری کے ساتھ کربلا کے حقیقی پیغام کو عاشقانِ امام حسینؑ تک پہنچانا چاہیے جو کہ عزاداری کے دوران اپنی ذہنی و فکری تربیت کے لئے مکمل آمادہ ہوتے ہیں ذاکرین کو خود بھی مخلص اور عمل پسند ہونا چاہیے کیونکہ معصوم ؑ کافرمان ہے ”لوگوں کو اپنے کردار سے عمل کی دعوت دو۔“ منبر کو محض کمائی کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔امام محمد باقر ؑنے کمیت اسدی سے ایک مرتبہ فرمائش کی کہ وہ شعر کہیں کمیت نے امام حسین ؑ کی مصیبت پر شعر کہا تو امام ؑ نے کمیت کو ایک ہزار دینار اور ایک لباس عطا فرمایا مگر کمیت نے عرض کی کہ ”مولا ؑ! خدا کی قسم میں نے دنیاوی فائدہ کی خاطر امام مظلوم ؑ کی مصیبت پر شعر نہیں کہا اگر میں دنیا چاہتا تو دنیا داروں کے پاس جاتا کہ جن کے ہاتھوں میں آج دنیا ہے میں نے تو آخرت کے اجر کے پیش نظر آپ ؑ کی فرمائش کی تعمیل میں شعر کہا۔“اور یہ کہہ کر کمیت نے رقم کو امام ؑ کی خدمت میں واپس کردی البتہ لباس کو تبرک کے طور پر قبول کرلیا۔پیارے بچوں! قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی ؒ فرماتے ہیں کہ ”ماتم عزاداری، سینہ زنی، مرثیہ خوانی میں سستی نہیں کرنی چاہیے انہیں بخوبی انجام دیں تاکہ ملت کے افراد میدان عمل میں حاضر رہیں اور اپنے دور(وقت) کی طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہیں۔ عزاداری کو تربیت اور تزکیہ کا مکتب سمجھتے ہوئے برپا کریں امام حسین ؑکی عزاداری کو عزت شرافت، غیرت، عفت، تقویٰ، جہاد و شہادت کا مکتب سمجھ کر برپا کریں، عزت کی زندگی گزارنا حق کی پیروی کرنا اور حق و عدالت کے لئے جان دینا سیکھیں اور باطل سے ٹکر لینا سیکھیں کوچہ و بازار میں یا حسین ؑکی فریادیں طاغوتیوں کے خلاف صدائے احتجاج ہیں۔“ عزاداری کفر و الحاد کے مقابلے کے لئے آمادگی کا اظہار ہے۔

دوستوں! جس طرح سڑک منزل تک پہنچنے کا راستہ ہے اور گاڑیاں اور دیگر ذرائع نقل و حمل منزل تک پہنچنے کے ذرائع ہیں اسی طرح شیعیت یعنی اسلام نابِ محمدی میں ”عزاداری“ تحریک آئمہ معصومین ؑکے احیاء کے لئے ایک بہترین ذریعہ ہے۔
”یعنی ہر دن عاشور کا دن اور ہر زمین کربلا کی سرزمین ہے۔“
آئیں سب سے پہلے مجلس عزا یعنی حسینی درسگاہ کی بات کرتے ہیں ہم درسگاہ حسینی ؑ میں کیوں حاضری دیتے ہیں؟ اس لئے کہ اس کی پاک تعلیمات سے اپنے دل و دماغ کو روشن کریں، اسلام کے اصول کو نئے سرے سے سیکھیں اس کے بنیادی عناصر کو اپنے دلوں میں جگہ دیں اور انہیں بھلانہ بیٹھیں ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی حس، شہادت اور جہاد کے جذبے سے منور ہو جائے۔
اہل منبر یعنی علماءو ذاکرین پر سب سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ نائب امام ؑ برحق ولی امر المسلمین آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای عزاداری کے موضوع پر خطاب میں فرماتے ہیں کہ ”اہل منبر وہ باتیں عام کریں جس سے لوگوں کی اہلبیت ؑ سے محبت میں اضافہ ہو اور جن سے اسلام کا اور اہلبیت ؑ کا پرنور چہرہ حقیقی معنوں میں پیش ہو سکے۔“
مجلس عزا کا بنیادی مقصد مکتب شہادت کو زندہ رکھنا ہے امام حسین ؑکا مکتب عمل کا مکتب ہے معرفت کے بغیر اور سیرت پر عمل کئے بغیر ہمیں یہ رسولکی حدیث کس طرح فائدہ پہنچائے گی۔آپ کافرمان ہے:”علی ؑکی محبت گناہوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جس طرح آگ ایندھن کو۔“ اس لئے کردار کی اہمیت کو نظر انداز نہ کیجئے۔
اہل منبر کو دینی و دنیاوی مکمل معلومات ہونی چاہئے اور وہ محض کربلا تک محدود نہ رہیں بلکہ عصر حاضر میں جہاں جہاں اسلام و مسلمین پر ظلم و ستم ہوتا ہے ان سے بھی حاضرین مجلس، شرکاءاور سامعین کو آگاہ کریں اور ان حالات میں انہیں ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں اہل منبر محض نکتہ چینی کرنے والے نہ بن جائیں بلکہ رہنمائی اور ہدایت کے لئے سامعین سے ان کی عقل کے مطابق سہل و آسان گفتگو کریں ۔
عزاداری ایک عظیم تربیتی ادارہ ہے اور اہل منبر شہادت عظمیٰ کے ترجمان ہیں تو انہیں پوری ذمہ داری کے ساتھ کربلا کے حقیقی پیغام کو عاشقانِ امام حسینؑ تک پہنچانا چاہیے جو کہ عزاداری کے دوران اپنی ذہنی و فکری تربیت کے لئے مکمل آمادہ ہوتے ہیں ذاکرین کو خود بھی مخلص اور عمل پسند ہونا چاہیے کیونکہ معصوم ؑ کافرمان ہے ”لوگوں کو اپنے کردار سے عمل کی دعوت دو۔“ منبر کو محض کمائی کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
امام محمد باقر ؑنے کمیت اسدی سے ایک مرتبہ فرمائش کی کہ وہ شعر کہیں کمیت نے امام حسین ؑ کی مصیبت پر شعر کہا تو امام ؑ نے کمیت کو ایک ہزار دینار اور ایک لباس عطا فرمایا مگر کمیت نے عرض کی کہ ”مولا ؑ! خدا کی قسم میں نے دنیاوی فائدہ کی خاطر امام مظلوم ؑ کی مصیبت پر شعر نہیں کہا اگر میں دنیا چاہتا تو دنیا داروں کے پاس جاتا کہ جن کے ہاتھوں میں آج دنیا ہے میں نے تو آخرت کے اجر کے پیش نظر آپ ؑ کی فرمائش کی تعمیل میں شعر کہا۔“
اور یہ کہہ کر کمیت نے رقم کو امام ؑ کی خدمت میں واپس کردی البتہ لباس کو تبرک کے طور پر قبول کرلیا۔
پیارے بچوں! قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی ؒ فرماتے ہیں کہ ”ماتم عزاداری، سینہ زنی، مرثیہ خوانی میں سستی نہیں کرنی چاہیے انہیں بخوبی انجام دیں تاکہ ملت کے افراد میدان عمل میں حاضر رہیں اور اپنے دور(وقت) کی طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہیں۔ عزاداری کو تربیت اور تزکیہ کا مکتب سمجھتے ہوئے برپا کریں امام حسین ؑکی عزاداری کو عزت شرافت، غیرت، عفت، تقویٰ، جہاد و شہادت کا مکتب سمجھ کر برپا کریں، عزت کی زندگی گزارنا حق کی پیروی کرنا اور حق و عدالت کے لئے جان دینا سیکھیں اور باطل سے ٹکر لینا سیکھیں کوچہ و بازار میں یا حسین ؑکی فریادیں طاغوتیوں کے خلاف صدائے احتجاج ہیں۔“ عزاداری کفر و الحاد کے مقابلے کے لئے آمادگی کا اظہار ہے۔