لاہور: جامعہ عروة الوثقی میں عظیم الشان وحدت امت کانفرنس کا انعقاد

  Click to listen highlighted text! لاہور: جامعہ عروة الوثقی میں ہفتہ وحدت و جشن میلاد مسعود نبی کریم ﷺ وامام جعفر صادقؑ کی مناسبت سے عظیم الشان وحدت امت کانفرنس بعنوان رحمتہ للعالمین و رحمابینھم منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق، امیر متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز، جامعہ سراجیہ اسلام آباد سے پیر سید چراغ الدین شاہ، عید گاہ شریف سے پیر نقیب الرحمان سمیت ملک کے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام، مذہبی جماعتوں کے سربراہان، مشائخ عظام و اکابرین نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ہمیں فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر ایک امت بن کر سوچنا ہوگا، ہماری وحدت میں ہی اسلام اور امت دونوں کی بقاء ہے، آج عالم کفر عالم اسلام کیخلاف متحد ہے، لیکن عالم اسلام خواب غفلت میں ہے، امام خمینیؒ نے ہفتہ وحدت کا اعلان کرکے امت کو ایک پلیٹ فارم پرلاکھڑا کیا، آج اس کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جامعہ عروۃ الوثقیٰ اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ(ص) کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ وحدتِ امت کوئی سیاسی نعرہ یا حربہ نہیں بلکہ قرآن مجید کا حکم ہے، امت سازی وہ پہلا ہدف ہے جس کے ذریعے دین کے سارے اہداف حاصل ہوں گے، مسلمانوں کی اخلاقی تربیت اور شرح صدر کے بغیر وحدت کی کوشش ناکامی سے دوچار ہو گی۔ علامہ سید جواد نقوی نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد نبوتِ خاتم کے اہم ترین مقصد یعنی امت سازی کی طرف توجہ مبذول کروانا اور قرآنی بنیادوں پر وحدت کی دعوت دینا ہے، جس کا مرکز و محور نظریہ قرآن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فقط وحدت برائے وحدت یا وحدت برائے اجتماع نہیں بلکہ وحدت برائے تعمیلِ حکمِ قرآن ہے، وحدت چونکہ امت کی ہے، لہٰذا وحدت سے قبل امت سازی شرط ہے، امت سازی وہ پہلا ہدف اور قدم ہے جس کے ذریعے تمام دینی اہداف کا حصول ممکن ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی تمنا اور آرزو ہیں۔ جامعہ نعیمیہ کے سربراہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ بات صرف ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کی ہے، ایک دوسرے کو قبول کریں گے تو رحماء بینھم کی تفسیر نظر آنا شروع ہو جائے گی۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ میں نے خود یہ علامہ عارف حسین الحسینیؒ سے سنا ہے سنی اور شیعوں کے درمیان مل جل کر رہنا سنت علوی ہے۔ امت واحدہ کے سربراہ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ جس معاشرے کے اندر عقل کی جگہ جذبات غالب ہوں، وہ معاشرہ کبھی ارتقاء نہیں کر پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین نے عقل کو دعوت دی ہے، قرآن کی تمام تعلیمات عقلوں پر مبنی ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ قرآن پاک نے کبھی مسلمانوں کو قوم نہیں کہا بلکہ امت کہا ہے، کیونکہ قوم نسبیت اور لسانیت سے بنتی ہے اور امت عقیدہ اور ایمان سے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب اور سیکولر طبقے کیساتھ فائنل میچ کا وقت آ گیا ہے، اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم اس کو اختلاف کے ذریعہ کھیلیں اور ہار جائیں یا اتحاد کیساتھ جیت جائیں۔

لاہور: جامعہ عروة الوثقی میں ہفتہ وحدت و جشن میلاد مسعود نبی کریم ﷺ وامام جعفر صادقؑ کی مناسبت سے عظیم الشان وحدت امت کانفرنس بعنوان رحمتہ للعالمین و رحمابینھم منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق، امیر متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز، جامعہ سراجیہ اسلام آباد سے پیر سید چراغ الدین شاہ، عید گاہ شریف سے پیر نقیب الرحمان سمیت ملک کے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام، مذہبی جماعتوں کے سربراہان، مشائخ عظام و اکابرین نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ہمیں فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر ایک امت بن کر سوچنا ہوگا، ہماری وحدت میں ہی اسلام اور امت دونوں کی بقاء ہے، آج عالم کفر عالم اسلام کیخلاف متحد ہے، لیکن عالم اسلام خواب غفلت میں ہے، امام خمینیؒ نے ہفتہ وحدت کا اعلان کرکے امت کو ایک پلیٹ فارم پرلاکھڑا کیا، آج اس کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔
جامعہ عروۃ الوثقیٰ اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ(ص) کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ وحدتِ امت کوئی سیاسی نعرہ یا حربہ نہیں بلکہ قرآن مجید کا حکم ہے، امت سازی وہ پہلا ہدف ہے جس کے ذریعے دین کے سارے اہداف حاصل ہوں گے، مسلمانوں کی اخلاقی تربیت اور شرح صدر کے بغیر وحدت کی کوشش ناکامی سے دوچار ہو گی۔ علامہ سید جواد نقوی نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد نبوتِ خاتم کے اہم ترین مقصد یعنی امت سازی کی طرف توجہ مبذول کروانا اور قرآنی بنیادوں پر وحدت کی دعوت دینا ہے، جس کا مرکز و محور نظریہ قرآن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فقط وحدت برائے وحدت یا وحدت برائے اجتماع نہیں بلکہ وحدت برائے تعمیلِ حکمِ قرآن ہے، وحدت چونکہ امت کی ہے، لہٰذا وحدت سے قبل امت سازی شرط ہے، امت سازی وہ پہلا ہدف اور قدم ہے جس کے ذریعے تمام دینی اہداف کا حصول ممکن ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی تمنا اور آرزو ہیں۔
جامعہ نعیمیہ کے سربراہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ بات صرف ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کی ہے، ایک دوسرے کو قبول کریں گے تو رحماء بینھم کی تفسیر نظر آنا شروع ہو جائے گی۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ میں نے خود یہ علامہ عارف حسین الحسینیؒ سے سنا ہے سنی اور شیعوں کے درمیان مل جل کر رہنا سنت علوی ہے۔
امت واحدہ کے سربراہ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ جس معاشرے کے اندر عقل کی جگہ جذبات غالب ہوں، وہ معاشرہ کبھی ارتقاء نہیں کر پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین نے عقل کو دعوت دی ہے، قرآن کی تمام تعلیمات عقلوں پر مبنی ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ قرآن پاک نے کبھی مسلمانوں کو قوم نہیں کہا بلکہ امت کہا ہے، کیونکہ قوم نسبیت اور لسانیت سے بنتی ہے اور امت عقیدہ اور ایمان سے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب اور سیکولر طبقے کیساتھ فائنل میچ کا وقت آ گیا ہے، اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم اس کو اختلاف کے ذریعہ کھیلیں اور ہار جائیں یا اتحاد کیساتھ جیت جائیں۔