قندوز دھماکہ، دشمن کے عزائم کیا ہیں؟

  Click to listen highlighted text! رپورٹ: عدیل زیدی افغانستان کے شہر قندوز میں گذشتہ روز نماز جمعہ کے دوران شیعہ مسجد میں خوفناک بم دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 100 سے زائد نمازی شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دہشتگردی کے اس بدترین حملے کی ذمہ داری تکفیری دہشت گرد تنظیم داعش خراسان نے اپنی ٹیلی گرام پوسٹ میں قبول کی۔ ترجمان طالبان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے گذشتہ روز کی جانے والی ٹوئٹ میں بتایا کہ قندوز کے خان آباد بندرگاہ کے علاقے میں اہل تشیع کی مسجد میں بم دھماکہ ہوا، جس میں ہمارے متعدد ہم وطن جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے داعش خراسان نے متعدد بم اور خودکش دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ واضح ہو کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران افغانستان میں شیعہ شہریوں کیخلاف دہشتگردی کے اس قسم کے ہولناک واقعات تسلسل کیساتھ پیش آرہے ہیں، جن میں پہلے اکثر طالبان ملوث تھے اور اب داعش کی جانب سے ذمہ داریاں قبول کی جا رہی ہیں۔ افغانستان کے صوبے ہرات میں آج طالبان کے ثقافتی اور اطلاع رسانی کے وزیر مولوی نعیم الحق حقانی نے اخوت اسلامی کونسل کے مرکز میں علماء کے اجلاس میں اس دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے شیعہ اور سنی بھائی مکمل امن و امان کے دائرے میں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور یہ ہمارے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ مجاہدین نے بہت کم وسائل کے ساتھ 20 سال تک امریکہ کا مقابلہ کیا اور عوامی تعاون سے ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ مولوی نعیم الحق حقانی نے مزید کہا کہ افغانستان کے عوام گذشتہ 4 عشروں سے امن و امان کیلئے ترس گئے تھے اور اب وہ امن و امان کی اہمیت کو سمجھ گئے ہیں۔ دشمن یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ افغانستان، عراق اور شام کی مانند ہو جائے گا، لیکن افغانستان کی اہم شخصیات نے یہ ثابت کر دیا کہ افغان عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ دہشتگرد گروہ داعش افغانستان کے لیے سنگین نہیں ہے، اس گروہ کو جلد نابود کر دیا جائے گا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کابل، جلال آباد، ہرات اور مزار شریف میں پیش آنے والے ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کو داعش کی کارروائی قرار دیا، جس کا مقصد طالبان کی حکومت کو کمزور اور ناکام بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعش کو افغانستان کے عوام کے درمیان کوئی حمایت حاصل نہیں اور اس تکفیری گروہ کا جلد قلع قمع کردیا جائے گا۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ہماری فورسز نے دہشت گرد گروہ داعش کے خفیہ ٹھکانوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حیران کن طور پر امریکی انخلاء کے بعد سے افغانستان میں داعش کی دہشتگرادانہ کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور ان کارروائیوں کا مین ہدف اہل تشیع افغان شہریوں کو بنایا گیا ہے، جن میں اب تک سینکڑوں شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ داعش خراسان کے تیزی کیساتھ افغانستان میں سرگرم ہونے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکہ نے جب افغانستان سے شکست خوردہ انخلاء کیا تو اس کیلئے یہ قابل قبول نہ تھا کہ افغانستان میں یکدم امن قائم ہو اور طالبان کی حکومت مستحکم ہو، چونکہ طالبان نے اپنا جہاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا، لہذا اب وہاں دہشتگردی داعش کی صورت میں ہی ممکن تھی۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکی انخلاء سے قبل عراق اور شام میں موجود داعش کے کئی کمانڈرز کو افغانستان منتقل کیا گیا اور بعض صحافتی حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ لشکر جھنگوی کے بھی کئی دہشتگرد افغانستان جا کر داعش میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ کی جانب سے افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ بھی داعش کی دہشتگردوں کی ہاتھ ’’لگا یا دانستہ طور پر لگایا‘‘ گیا ہے۔ داعش کے ذریعے اب افغانستان اور خطہ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا آسان ہدف افغان شیعہ شہریوں کے قتل عام کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں بسنے والے تمام طبقات کو حکومت میں حصہ دینگے اور ساتھ لیکر چلیں گے، جس کے بعد گذشتہ محرم الحرام کے دوران طالبان کی جانب سے پہلی مرتبہ شیعہ شہریوں کیساتھ عزاداری کے مراسم میں نہ صرف عملی طور پر تعاون دیکھا گیا بلکہ طالبان رہنماوں نے مجالس عزاء میں شرکت اور ان کے رضاکاروں نے جلوسوں کو سکیورٹی بھی فراہم کی۔ جس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ طالبان اور شیعہ شہریوں کے مابین ماضی کے برعکس خوشگوار تعلقات فروغ پانا شروع ہوگئے ہیں۔ تاہم یہ صورتحال امریکہ کیلئے قطعی طور پر قابل قبول نہیں، لہذا اب امریکی عزائم کو افغانستان میں داعش کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد نہ صرف طالبان حکومت بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان، چین اور ایران کیلئے خطرہ قرار دیکر دباو میں لانے کی کوشش ہے۔ اس سے قبل جب طالبان برسراقتدار رہے تو وہاں شیعہ مسلمانوں کو اسلام دشمن قرار دے کر ان کا قتل کیا جاتا رہا، امریکہ کی افغانستان پر چڑھائی کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک سے بدلہ لینے کیلئے بھی افغان جنگجو اور القاعدہ شیعہ شہریوں کو ہی نشانہ بناتے رہے، اب دوبارہ طالبان برسر اقتدار آگئے ہیں، اب طالبان کو سبق سکھانے کیلئے درندہ صفت داعش بھی شیعہ کا ہی قتل عام کر رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہر کسی کی دشمنی کا نشانہ افغان شیعہ کو ہی بنایا جا رہا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اس وقت افغانستان میں برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے تمام تر معاملات کے ذمہ دار طالبان ہیں، افغانستان میں رہنے والے تمام شہریوں کے جان و مال کی حفاظت طالبان کی ذمہ داری ہے۔ افغان شیعہ شہریوں کیلئے مصائب و مشکلات ایک طویل عرصہ سے برقرار ہیں۔ افغان شیعہ شہری ہی اپنے ملک کی خاطر بہت قربانیاں دے دیں، اب جینے کا حق انہیں بھی ملنا چاہیئے۔

رپورٹ: عدیل زیدی

افغانستان کے شہر قندوز میں گذشتہ روز نماز جمعہ کے دوران شیعہ مسجد میں خوفناک بم دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 100 سے زائد نمازی شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دہشتگردی کے اس بدترین حملے کی ذمہ داری تکفیری دہشت گرد تنظیم داعش خراسان نے اپنی ٹیلی گرام پوسٹ میں قبول کی۔ ترجمان طالبان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے گذشتہ روز کی جانے والی ٹوئٹ میں بتایا کہ قندوز کے خان آباد بندرگاہ کے علاقے میں اہل تشیع کی مسجد میں بم دھماکہ ہوا، جس میں ہمارے متعدد ہم وطن جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے داعش خراسان نے متعدد بم اور خودکش دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ واضح ہو کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران افغانستان میں شیعہ شہریوں کیخلاف دہشتگردی کے اس قسم کے ہولناک واقعات تسلسل کیساتھ پیش آرہے ہیں، جن میں پہلے اکثر طالبان ملوث تھے اور اب داعش کی جانب سے ذمہ داریاں قبول کی جا رہی ہیں۔

افغانستان کے صوبے ہرات میں آج طالبان کے ثقافتی اور اطلاع رسانی کے وزیر مولوی نعیم الحق حقانی نے اخوت اسلامی کونسل کے مرکز میں علماء کے اجلاس میں اس دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے شیعہ اور سنی بھائی مکمل امن و امان کے دائرے میں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور یہ ہمارے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ مجاہدین نے بہت کم وسائل کے ساتھ 20 سال تک امریکہ کا مقابلہ کیا اور عوامی تعاون سے ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ مولوی نعیم الحق حقانی نے مزید کہا کہ افغانستان کے عوام گذشتہ 4 عشروں سے امن و امان کیلئے ترس گئے تھے اور اب وہ امن و امان کی اہمیت کو سمجھ گئے ہیں۔ دشمن یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ افغانستان، عراق اور شام کی مانند ہو جائے گا، لیکن افغانستان کی اہم شخصیات نے یہ ثابت کر دیا کہ افغان عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ دہشتگرد گروہ داعش افغانستان کے لیے سنگین نہیں ہے، اس گروہ کو جلد نابود کر دیا جائے گا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کابل، جلال آباد، ہرات اور مزار شریف میں پیش آنے والے ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کو داعش کی کارروائی قرار دیا، جس کا مقصد طالبان کی حکومت کو کمزور اور ناکام بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعش کو افغانستان کے عوام کے درمیان کوئی حمایت حاصل نہیں اور اس تکفیری گروہ کا جلد قلع قمع کردیا جائے گا۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ہماری فورسز نے دہشت گرد گروہ داعش کے خفیہ ٹھکانوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حیران کن طور پر امریکی انخلاء کے بعد سے افغانستان میں داعش کی دہشتگرادانہ کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور ان کارروائیوں کا مین ہدف اہل تشیع افغان شہریوں کو بنایا گیا ہے، جن میں اب تک سینکڑوں شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔

داعش خراسان کے تیزی کیساتھ افغانستان میں سرگرم ہونے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکہ نے جب افغانستان سے شکست خوردہ انخلاء کیا تو اس کیلئے یہ قابل قبول نہ تھا کہ افغانستان میں یکدم امن قائم ہو اور طالبان کی حکومت مستحکم ہو، چونکہ طالبان نے اپنا جہاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا، لہذا اب وہاں دہشتگردی داعش کی صورت میں ہی ممکن تھی۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکی انخلاء سے قبل عراق اور شام میں موجود داعش کے کئی کمانڈرز کو افغانستان منتقل کیا گیا اور بعض صحافتی حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ لشکر جھنگوی کے بھی کئی دہشتگرد افغانستان جا کر داعش میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ کی جانب سے افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ بھی داعش کی دہشتگردوں کی ہاتھ ’’لگا یا دانستہ طور پر لگایا‘‘ گیا ہے۔ داعش کے ذریعے اب افغانستان اور خطہ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا آسان ہدف افغان شیعہ شہریوں کے قتل عام کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں بسنے والے تمام طبقات کو حکومت میں حصہ دینگے اور ساتھ لیکر چلیں گے، جس کے بعد گذشتہ محرم الحرام کے دوران طالبان کی جانب سے پہلی مرتبہ شیعہ شہریوں کیساتھ عزاداری کے مراسم میں نہ صرف عملی طور پر تعاون دیکھا گیا بلکہ طالبان رہنماوں نے مجالس عزاء میں شرکت اور ان کے رضاکاروں نے جلوسوں کو سکیورٹی بھی فراہم کی۔ جس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ طالبان اور شیعہ شہریوں کے مابین ماضی کے برعکس خوشگوار تعلقات فروغ پانا شروع ہوگئے ہیں۔ تاہم یہ صورتحال امریکہ کیلئے قطعی طور پر قابل قبول نہیں، لہذا اب امریکی عزائم کو افغانستان میں داعش کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد نہ صرف طالبان حکومت بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان، چین اور ایران کیلئے خطرہ قرار دیکر دباو میں لانے کی کوشش ہے۔

اس سے قبل جب طالبان برسراقتدار رہے تو وہاں شیعہ مسلمانوں کو اسلام دشمن قرار دے کر ان کا قتل کیا جاتا رہا، امریکہ کی افغانستان پر چڑھائی کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک سے بدلہ لینے کیلئے بھی افغان جنگجو اور القاعدہ شیعہ شہریوں کو ہی نشانہ بناتے رہے، اب دوبارہ طالبان برسر اقتدار آگئے ہیں، اب طالبان کو سبق سکھانے کیلئے درندہ صفت داعش بھی شیعہ کا ہی قتل عام کر رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہر کسی کی دشمنی کا نشانہ افغان شیعہ کو ہی بنایا جا رہا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اس وقت افغانستان میں برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے تمام تر معاملات کے ذمہ دار طالبان ہیں، افغانستان میں رہنے والے تمام شہریوں کے جان و مال کی حفاظت طالبان کی ذمہ داری ہے۔ افغان شیعہ شہریوں کیلئے مصائب و مشکلات ایک طویل عرصہ سے برقرار ہیں۔ افغان شیعہ شہری ہی اپنے ملک کی خاطر بہت قربانیاں دے دیں، اب جینے کا حق انہیں بھی ملنا چاہیئے۔