اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں

میں حسن آباد گیا تھا میں نے اس گاؤں کے گلی کوچے دیکھ کر بہت تعجب کیا اور اپنے چچا زاد بھائی سے کہا تمہارے گاؤں میں تبدیلیاں ہوئی ہیں سچ کہہ رہے ہو کئی سال ہوگئے ہیں کہ تم ہمارے گاؤں میں نہیں آئے پہلے ہمارے گاؤں کی حالت اچھی نہ تھی تمام کوچے گندگی سے بھرے ہوئے تھے لیکن چار سال ہوئے ہیں کہ ہمارے گاؤں کی حالت بالکل بدل گئی ہے چار سال پہلے ایک عالم دین ہمارے گاؤں میں تشریف لائے اور لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی میں مشغول ہوگئے دو تین مہینے کے بعد جب لوگوں سے واقفیت پیدا کرلی تو ایک رات لوگوں سے اس گاؤں کی حالت کے متعلق بہت اچھی گفتگو کے دوران فرمایا اے لوگو! دین اسلام ایک پاکیزگی اور صفائی والا دین ہے لباس، جسم ، گھر ،کوچے، حمام ، مسجد اور دوسری تمام جگہوں کو صاف ہونا چاہیے میرے بھائیواور جوانو کیا یہ صحیح ہے کہ تمہاری زندگی کا یہ ماحول اس طرح گندگی سے بھرا ہو کیا تمہیں خبر نہیں کہ ہمارے پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا کہ کوڑا کرکٹ اور گھر کی گندگی اپنے گھروں کے دروازے کے سامنے نہ ڈالا کرو۔کیوں اپنی نالیوں اور کوچوں کو گندا کرتے ہو گندا پانی اور گندی ہوا تمہیں بیمار کردے گی یہ پانی اور ہوا تم سب سے تعلق رکھتی ہے تم سب کو حق ہے کہ پاک اور پاکیزہ پانی اور صاف ہوا سے استفادہ کرو اور تندرست اور اچھی زندگی بسر کرو کسی کو حق نہیں کہ پانی اور ہوا کو گندا کرے پانی اور ہوا کو گندا اور کثیف کرنا ایک بہت بڑا ظلم ہے اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا اور انہیں اس کی سزا دیتا ہے اے گاؤں کے رہنے والو! میں نے تمہارے گاؤں کو صاف ستھرا رکھنے کا پروگرام بنایا ہے میری مدد کرو تاکہ حسن آباد کو صاف ستھرا پاک و پاکیزہ بنا دیں اس گاؤں والوں نے اس عالم کی پیشکش کو قبول کرلیا اور اعانت کا وعدہ کیا دوسرے دن صبح کو ہم سب اپنے گھروں سے نکل پڑے وہ عالم ہم سے بھی زیادہ کام کرنے کے لئے تیار تھے ہم تمام آپس میں مل کر کام کرنے لگے اور گلیوں کو خوب صاف ستھرا کیا عالم دین نے ہمارا شکریہ ادا کیا اور ہم نے ان کی رہنمائی کا شکریہ ادا کیا اس کے بعد سب گاؤں والوں نے ایک عہد و پیمان کیا کہ اپنے گھر کی گندگی اور دوسری خراب چیزوں کو کوچے یا نالی میں نہیں ڈالیں گے بلکہ اکٹھا کرکے ہر روزگاؤں سے باہر لے جائیں گے اور اس کو گڑھے میں ڈال کر اس پر مٹی ڈال دیں گے اور ایک مدت کے بعد اسی سے کھاد کا کام لیں گے ایک اور رات اس عالم دین نے درخت لگانے کے متعلق ہم سے گفتگو کی اور کہا کہ زراعت کرنا اور درخت لگانا بہت عمدہ اور قیمتی کام ہے اسلام نے اس کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی ہے ۔ درخت ہوا کو صاف اور پاک رکھتے ہیں اور میوے اور سایہ دیتے ہیں اور بھی اس کے فوائد ہیں ۔ ہمارے پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی ؐ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی پودا تمہارے ہاتھ میں ہو کہ اس پودے کو زمین میں کاشت کرنا چاہتے ہو اور ادھر موت تمہیں آپہنچے تو اپنے کام سے ہاتھ نہ اٹھانا یہاں تک کہ اس پودے کو زمین میں گاڑ دو کیوں کہ اللہ زمین کے آباد کرنے اور درخت اگانے والے کو دوست رکھتا ہے جو شخص کوئی درخت لگائے اور وہ میوہ دینے لگے تو خداوند عالم اس کے میوے کے برابر اسے انعام اور جزا دے گا لہٰذا کتنا اچھا ہے کہ ہم اس نہر کے اطراف میں درخت لگا دیں تاکہ تمہارا گاؤں بھی خوبصورت ہو جائے اگر تم مدد کرنے کا وعدہ کرو تو کل سے کام شروع کردیں دیہات کے سبھی لوگوں نے اس پر اتفاق کیا اور بعض نیک لوگوں نے پودے مفت فراہم کردیئے دوسرے دن صبح ہم نے یہ کام شروع کردیادیہات والوں نے بہت خوشی خوشی ان پودوں کو لگا دیا اس عالم نے سب کو اور بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو تاکیدکی کہ ان درختوں کی حفاظت کریں اور دیکھتے رہیں اور فرمایا کہ یہ درخت تم سب کے ہیں کس کو حق نہیں پہنچتا کہ اس عمومی درخت کو کوئی نقصان پہنچائے ہوشیار رہنا کہ کوئی اس کی شاخیں نہ کاٹے کہ یہ گناہ بھی ہے، ہوشیار رہنا کہ حیوانات ان درختوں کو ضرر نہ پہنچائیں جب سے ہم نے یہ سمجھا ہے کہ ہمارے پیغمبر ؐ شجر کاری کو پسند فرماتے ہیں جہاں بھی ہماری بے آباد زمین تھی وہاں ہم نے درخت لگادیئے ہیں جس کے نتیجے میں ہمارا گاؤں سرسبز اور میوے دار باغوں سے پر ہو چکا ہے اس عالم کی رہنمائی اور لوگوں کی مدد سے اب حمام بھی صاف و ستھرا ہوگیا ہے اور مسجد پاک و پاکیزہ ہے ایک اچھی لائبریری اور ایک ڈسپنسری تمام لوازمات کے ساتھ یہاں موجود ہے اور اس گاؤں کے چھوٹے بڑے لڑکے لڑکیاں پڑھے لکھے صاف ستھرے ہیں جب میرے چچازاد بھائی کی بات یہاں تک پہنچی تو میں نے کہا کہ میں اس عالم دین اور تم کو اور تمام گاؤں میں رہنے والوں کو آفرین اور شاباش کہتا ہوں اے کاش تمام دیہات کے لوگ اور دوسرے شہروں کے لوگ بھی تم سے دینداری اور اچھی زندگی بسر کرنے کا درس لیتے ۔

  Click to listen highlighted text! میں حسن آباد گیا تھا میں نے اس گاؤں کے گلی کوچے دیکھ کر بہت تعجب کیا اور اپنے چچا زاد بھائی سے کہا تمہارے گاؤں میں تبدیلیاں ہوئی ہیں سچ کہہ رہے ہو کئی سال ہوگئے ہیں کہ تم ہمارے گاؤں میں نہیں آئے پہلے ہمارے گاؤں کی حالت اچھی نہ تھی تمام کوچے گندگی سے بھرے ہوئے تھے لیکن چار سال ہوئے ہیں کہ ہمارے گاؤں کی حالت بالکل بدل گئی ہے چار سال پہلے ایک عالم دین ہمارے گاؤں میں تشریف لائے اور لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی میں مشغول ہوگئے دو تین مہینے کے بعد جب لوگوں سے واقفیت پیدا کرلی تو ایک رات لوگوں سے اس گاؤں کی حالت کے متعلق بہت اچھی گفتگو کے دوران فرمایا اے لوگو! دین اسلام ایک پاکیزگی اور صفائی والا دین ہے لباس، جسم ، گھر ،کوچے، حمام ، مسجد اور دوسری تمام جگہوں کو صاف ہونا چاہیے میرے بھائیواور جوانو کیا یہ صحیح ہے کہ تمہاری زندگی کا یہ ماحول اس طرح گندگی سے بھرا ہو کیا تمہیں خبر نہیں کہ ہمارے پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا کہ کوڑا کرکٹ اور گھر کی گندگی اپنے گھروں کے دروازے کے سامنے نہ ڈالا کرو۔کیوں اپنی نالیوں اور کوچوں کو گندا کرتے ہو گندا پانی اور گندی ہوا تمہیں بیمار کردے گی یہ پانی اور ہوا تم سب سے تعلق رکھتی ہے تم سب کو حق ہے کہ پاک اور پاکیزہ پانی اور صاف ہوا سے استفادہ کرو اور تندرست اور اچھی زندگی بسر کرو کسی کو حق نہیں کہ پانی اور ہوا کو گندا کرے پانی اور ہوا کو گندا اور کثیف کرنا ایک بہت بڑا ظلم ہے اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا اور انہیں اس کی سزا دیتا ہے اے گاؤں کے رہنے والو! میں نے تمہارے گاؤں کو صاف ستھرا رکھنے کا پروگرام بنایا ہے میری مدد کرو تاکہ حسن آباد کو صاف ستھرا پاک و پاکیزہ بنا دیں اس گاؤں والوں نے اس عالم کی پیشکش کو قبول کرلیا اور اعانت کا وعدہ کیا دوسرے دن صبح کو ہم سب اپنے گھروں سے نکل پڑے وہ عالم ہم سے بھی زیادہ کام کرنے کے لئے تیار تھے ہم تمام آپس میں مل کر کام کرنے لگے اور گلیوں کو خوب صاف ستھرا کیا عالم دین نے ہمارا شکریہ ادا کیا اور ہم نے ان کی رہنمائی کا شکریہ ادا کیا اس کے بعد سب گاؤں والوں نے ایک عہد و پیمان کیا کہ اپنے گھر کی گندگی اور دوسری خراب چیزوں کو کوچے یا نالی میں نہیں ڈالیں گے بلکہ اکٹھا کرکے ہر روزگاؤں سے باہر لے جائیں گے اور اس کو گڑھے میں ڈال کر اس پر مٹی ڈال دیں گے اور ایک مدت کے بعد اسی سے کھاد کا کام لیں گے ایک اور رات اس عالم دین نے درخت لگانے کے متعلق ہم سے گفتگو کی اور کہا کہ زراعت کرنا اور درخت لگانا بہت عمدہ اور قیمتی کام ہے اسلام نے اس کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی ہے ۔ درخت ہوا کو صاف اور پاک رکھتے ہیں اور میوے اور سایہ دیتے ہیں اور بھی اس کے فوائد ہیں ۔ ہمارے پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی ؐ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی پودا تمہارے ہاتھ میں ہو کہ اس پودے کو زمین میں کاشت کرنا چاہتے ہو اور ادھر موت تمہیں آپہنچے تو اپنے کام سے ہاتھ نہ اٹھانا یہاں تک کہ اس پودے کو زمین میں گاڑ دو کیوں کہ اللہ زمین کے آباد کرنے اور درخت اگانے والے کو دوست رکھتا ہے جو شخص کوئی درخت لگائے اور وہ میوہ دینے لگے تو خداوند عالم اس کے میوے کے برابر اسے انعام اور جزا دے گا لہٰذا کتنا اچھا ہے کہ ہم اس نہر کے اطراف میں درخت لگا دیں تاکہ تمہارا گاؤں بھی خوبصورت ہو جائے اگر تم مدد کرنے کا وعدہ کرو تو کل سے کام شروع کردیں دیہات کے سبھی لوگوں نے اس پر اتفاق کیا اور بعض نیک لوگوں نے پودے مفت فراہم کردیئے دوسرے دن صبح ہم نے یہ کام شروع کردیادیہات والوں نے بہت خوشی خوشی ان پودوں کو لگا دیا اس عالم نے سب کو اور بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو تاکیدکی کہ ان درختوں کی حفاظت کریں اور دیکھتے رہیں اور فرمایا کہ یہ درخت تم سب کے ہیں کس کو حق نہیں پہنچتا کہ اس عمومی درخت کو کوئی نقصان پہنچائے ہوشیار رہنا کہ کوئی اس کی شاخیں نہ کاٹے کہ یہ گناہ بھی ہے، ہوشیار رہنا کہ حیوانات ان درختوں کو ضرر نہ پہنچائیں جب سے ہم نے یہ سمجھا ہے کہ ہمارے پیغمبر ؐ شجر کاری کو پسند فرماتے ہیں جہاں بھی ہماری بے آباد زمین تھی وہاں ہم نے درخت لگادیئے ہیں جس کے نتیجے میں ہمارا گاؤں سرسبز اور میوے دار باغوں سے پر ہو چکا ہے اس عالم کی رہنمائی اور لوگوں کی مدد سے اب حمام بھی صاف و ستھرا ہوگیا ہے اور مسجد پاک و پاکیزہ ہے ایک اچھی لائبریری اور ایک ڈسپنسری تمام لوازمات کے ساتھ یہاں موجود ہے اور اس گاؤں کے چھوٹے بڑے لڑکے لڑکیاں پڑھے لکھے صاف ستھرے ہیں جب میرے چچازاد بھائی کی بات یہاں تک پہنچی تو میں نے کہا کہ میں اس عالم دین اور تم کو اور تمام گاؤں میں رہنے والوں کو آفرین اور شاباش کہتا ہوں اے کاش تمام دیہات کے لوگ اور دوسرے شہروں کے لوگ بھی تم سے دینداری اور اچھی زندگی بسر کرنے کا درس لیتے ۔