قازقستان مغربی طاقتوں کے مخملی انقلاب کا نیا نشانہ

  Click to listen highlighted text! تحریر: سید نعمت اللہ عبدالرحیم زادہ قازقستان گذشتہ چند دنوں سے انتہائی تیز رفتار سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا شکار ہے۔ گذشتہ ہفتے اتوار کے دن اس ملک کے مغرب میں واقع ایک دور دراز علاقے میں محدود پیمانے پر احتجاج شروع ہوا اور بہت تیزی سے پورے ملک میں پھیل گیا۔ قازقستان کے دسیوں شہروں میں دسیوں ہزار افراد اس احتجاج میں شامل ہو کر سڑکوں پر نکل آئے۔ قازقستان کے صدر جومارٹ تکائے اف نے کابینہ تحلیل کر کے عوام کے غصے اور ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کی لیکن سرکاری عمارتوں اور پولیس اور فوجی چوکیوں اور مراکز پر انجام پانے والے شدت پسندانہ حملوں میں کمی واقع نہیں ہوئی اور ملک کی صورتحال شدید تناو کا شکار ہو گئی۔ اس وقت تک ان شدت پسندانہ اقدامات میں کم از کم 13 سکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ کئی سو دیگر افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ قازقستان کے صدر نے ملک میں پیدا ہونے والے اس بحران کا مقابلہ کرنے کیلئے اجتماعی سلامتی کی تنظیم سے مدد مانگی جس کے نتیجے میں روس، بیلاروس، تاجکستان اور آرمینیا نے ان کی مدد کیلئے اور موجودی صورتحال پر قابو پانے کیلئے مسلح افواج بھیج دیں۔ اگرچہ بیلاروس، تاجکستان اور آرمینیا کے فوجیوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے لیکن روس نے 3 ہزار فوجی بھیج کر دنیا والوں کو اہم پیغام دیا ہے۔ روس کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ قازقستان اس کی نظر میں اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ روس نے اپنے فوجیوں کے ہمراہ بڑے پیمانے پر ہلکا اور بھاری فوجی سازوسامان بھی بھیجا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کی کابینہ میں شامل دیگر حکومتی عہدیدار قازقستان میں جنم لینے والے بحران کے بارے میں تشویش محسوس کر رہے ہیں۔ روسی حکام کی یہ تشویش دو پہلووں سے اہم ہے۔ پہلا پہلو قازقستان میں جنم لینے والے بحران کی شدت اور اس ملک کا وسیع پیمانے پر انارکی اور بدامنی کا شکار ہو جانے پر مشتمل ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ قازقستان میں شام جیسا منظرنامہ دہرایا جا رہا ہے۔ مظاہرین میں شامل بعض افراد کا فوجی مراکز پر حملہ ور ہو کر وہاں سے اسلحہ حاصل کر کے مسلح ہو جانا اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت سے اس امکان کو مزید تقویت پہنچتی ہے کہ مغربی طاقتیں اپنے مخصوص سیاسی اہداف اور مفادات کے حصول کی خاطر قازقستان میں شام والا منظرنامہ دہرانا چاہتی ہیں۔ لہذا کریملن نے اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے ابتدا ہی میں آہنی ہاتھ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خطرناک نہج پر نہ پہنچ جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر قازقستان کی صورتحال شام جیسی ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف اس ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر چیز سے زیادہ روس کے قومی اور اسٹریٹجک مفادات کیلئے خطرہ ثابت ہوں گے۔ روس کی پریشانی کا دوسرا پہلو اپنی مغربی سرحدوں اور اس تناو سے مربوط ہے جو گذشتہ چند ہفتوں سے روس اور یوکرائن کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرائن سے متعلق مسائل میں مغربی حکمرانوں خاص طور پر امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی ڈیل کرنے کے درپے ہیں تاکہ شاید اس طرح اپنی سرحدوں کی جانب نیٹو کا پھیلاو روکا جا سکے۔ قازقستان کا شمار وسطی ایشیا میں روس کے اہم ترین اتحادیوں میں ہوتا ہے اور ایسے ملک میں سکیورٹی بحران کا جنم لینا روس کیلئے بہت اہم ہے۔ قازقستان میں سکیورٹی بحران کا اثر نہ صرف خطے میں روس کے اسٹریٹجک مفادات پر پڑ سکتا ہے بلکہ اس سے مغربی طاقتوں کے ساتھ روس کے جاری مذاکرات میں روس کی پوزیشن بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ درحقیقت قازقستان میں بحران کا جنم لینا اور اس کا پھیلاو، مغرب کے ساتھ جاری روس کی رساکشی کے مرکزی محور کو یوکرائن سے کھینچ کر قازقستان منتقل کرنے کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں روس کو اپنی مشرقی سرحدوں کے ساتھ ساتھ جنوبی سرحدوں پر بھی نظر رکھنی پڑ جائے گی اور ایسی صورتحال میں وہ مغربی سرحدوں پر مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں مشکل کا شکار ہو جائے گا۔ مزید برآں، قازقستان میں سکیورٹی بحران اور بدامنی کا پھیلاو خطے میں مغربی طاقتوں کی مداخلت کا زمینہ بھی ہموار کر سکتا ہے جو روس کیلئے قابل قبول نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مغربی ممالک نے اب تک قازقستان سے متعلق احتیاط پر مبنی رویہ اپنا رکھا ہے اور اس ملک کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مناسب موقع فراہم ہونے پر وہاں مداخلت کر سکیں۔ ماسکو مغربی ممالک کو اس کام کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ یوں 2014ء میں یوکرائن میں رونما ہونے والے حالات اور سیاسی تبدیلیاں ایک بار پھر قازقستان میں دہرائی جائیں گی۔ لہذا قازقستان میں شام یا یوکرائن کا منظرنامہ دہرائے جانے کی تشویش اس بات کا باعث بنی کہ روس فوراً بڑی تعداد میں فوجی اور فوجی سازوسامان قازقستان بھیج دے اور ملکی صورتحال پر قابو پانے میں موجودہ حکومت کی بھرپور مدد کرے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ روس نے قازقستان میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کیلئے آہنی ہاتھ استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تحریر: سید نعمت اللہ عبدالرحیم زادہ
 
قازقستان گذشتہ چند دنوں سے انتہائی تیز رفتار سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا شکار ہے۔ گذشتہ ہفتے اتوار کے دن اس ملک کے مغرب میں واقع ایک دور دراز علاقے میں محدود پیمانے پر احتجاج شروع ہوا اور بہت تیزی سے پورے ملک میں پھیل گیا۔ قازقستان کے دسیوں شہروں میں دسیوں ہزار افراد اس احتجاج میں شامل ہو کر سڑکوں پر نکل آئے۔ قازقستان کے صدر جومارٹ تکائے اف نے کابینہ تحلیل کر کے عوام کے غصے اور ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کی لیکن سرکاری عمارتوں اور پولیس اور فوجی چوکیوں اور مراکز پر انجام پانے والے شدت پسندانہ حملوں میں کمی واقع نہیں ہوئی اور ملک کی صورتحال شدید تناو کا شکار ہو گئی۔ اس وقت تک ان شدت پسندانہ اقدامات میں کم از کم 13 سکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ کئی سو دیگر افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
 
قازقستان کے صدر نے ملک میں پیدا ہونے والے اس بحران کا مقابلہ کرنے کیلئے اجتماعی سلامتی کی تنظیم سے مدد مانگی جس کے نتیجے میں روس، بیلاروس، تاجکستان اور آرمینیا نے ان کی مدد کیلئے اور موجودی صورتحال پر قابو پانے کیلئے مسلح افواج بھیج دیں۔ اگرچہ بیلاروس، تاجکستان اور آرمینیا کے فوجیوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے لیکن روس نے 3 ہزار فوجی بھیج کر دنیا والوں کو اہم پیغام دیا ہے۔ روس کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ قازقستان اس کی نظر میں اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ روس نے اپنے فوجیوں کے ہمراہ بڑے پیمانے پر ہلکا اور بھاری فوجی سازوسامان بھی بھیجا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کی کابینہ میں شامل دیگر حکومتی عہدیدار قازقستان میں جنم لینے والے بحران کے بارے میں تشویش محسوس کر رہے ہیں۔
 
روسی حکام کی یہ تشویش دو پہلووں سے اہم ہے۔ پہلا پہلو قازقستان میں جنم لینے والے بحران کی شدت اور اس ملک کا وسیع پیمانے پر انارکی اور بدامنی کا شکار ہو جانے پر مشتمل ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ قازقستان میں شام جیسا منظرنامہ دہرایا جا رہا ہے۔ مظاہرین میں شامل بعض افراد کا فوجی مراکز پر حملہ ور ہو کر وہاں سے اسلحہ حاصل کر کے مسلح ہو جانا اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت سے اس امکان کو مزید تقویت پہنچتی ہے کہ مغربی طاقتیں اپنے مخصوص سیاسی اہداف اور مفادات کے حصول کی خاطر قازقستان میں شام والا منظرنامہ دہرانا چاہتی ہیں۔ لہذا کریملن نے اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے ابتدا ہی میں آہنی ہاتھ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خطرناک نہج پر نہ پہنچ جائے۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر قازقستان کی صورتحال شام جیسی ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف اس ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر چیز سے زیادہ روس کے قومی اور اسٹریٹجک مفادات کیلئے خطرہ ثابت ہوں گے۔ روس کی پریشانی کا دوسرا پہلو اپنی مغربی سرحدوں اور اس تناو سے مربوط ہے جو گذشتہ چند ہفتوں سے روس اور یوکرائن کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرائن سے متعلق مسائل میں مغربی حکمرانوں خاص طور پر امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی ڈیل کرنے کے درپے ہیں تاکہ شاید اس طرح اپنی سرحدوں کی جانب نیٹو کا پھیلاو روکا جا سکے۔ قازقستان کا شمار وسطی ایشیا میں روس کے اہم ترین اتحادیوں میں ہوتا ہے اور ایسے ملک میں سکیورٹی بحران کا جنم لینا روس کیلئے بہت اہم ہے۔
 
قازقستان میں سکیورٹی بحران کا اثر نہ صرف خطے میں روس کے اسٹریٹجک مفادات پر پڑ سکتا ہے بلکہ اس سے مغربی طاقتوں کے ساتھ روس کے جاری مذاکرات میں روس کی پوزیشن بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ درحقیقت قازقستان میں بحران کا جنم لینا اور اس کا پھیلاو، مغرب کے ساتھ جاری روس کی رساکشی کے مرکزی محور کو یوکرائن سے کھینچ کر قازقستان منتقل کرنے کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں روس کو اپنی مشرقی سرحدوں کے ساتھ ساتھ جنوبی سرحدوں پر بھی نظر رکھنی پڑ جائے گی اور ایسی صورتحال میں وہ مغربی سرحدوں پر مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں مشکل کا شکار ہو جائے گا۔ مزید برآں، قازقستان میں سکیورٹی بحران اور بدامنی کا پھیلاو خطے میں مغربی طاقتوں کی مداخلت کا زمینہ بھی ہموار کر سکتا ہے جو روس کیلئے قابل قبول نہیں۔
 
یوں محسوس ہوتا ہے کہ مغربی ممالک نے اب تک قازقستان سے متعلق احتیاط پر مبنی رویہ اپنا رکھا ہے اور اس ملک کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مناسب موقع فراہم ہونے پر وہاں مداخلت کر سکیں۔ ماسکو مغربی ممالک کو اس کام کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ یوں 2014ء میں یوکرائن میں رونما ہونے والے حالات اور سیاسی تبدیلیاں ایک بار پھر قازقستان میں دہرائی جائیں گی۔ لہذا قازقستان میں شام یا یوکرائن کا منظرنامہ دہرائے جانے کی تشویش اس بات کا باعث بنی کہ روس فوراً بڑی تعداد میں فوجی اور فوجی سازوسامان قازقستان بھیج دے اور ملکی صورتحال پر قابو پانے میں موجودہ حکومت کی بھرپور مدد کرے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ روس نے قازقستان میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کیلئے آہنی ہاتھ استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔