جنازه قائدِ شہید

  Click to listen highlighted text! تحریر: ابو ردا 05 اگست 1988ء روزِ جمعۃ المبارک کی صبح، چونکہ اُن دنوں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے دِن ہوا کرتی تھی، میں شہر راولپنڈی والے گھر پر تھا۔ آج کی رات نمازِ فجر سے کچھ دیر قبل میرے کمره میں لگا ایک فریم اچانک سے گر گیا۔ وه ایک فریم تھا، جس میں لائٹ جلتی تھی اور امام خمینی اور اُس وقت کے ایران کے صدر ہاشمی رفسنجانی کی تصویریں تھیں، جس کے گرنے کی آواز سے میری آنکھ کھُل گئی اور دِل میں عجیب سا انجانا سا خوف پیدا ہوگیا، جیسے کچھ بُرا ہونے والا ہے۔ 10 بجے میں ناشتہ کر رہا تھا اور 10 بجے کی خبریں ٹی وی پر چل رہی تھیں کہ اچانک خبر چلی کہ “تحریک نفاﺫِ فقهِ جعفریه کے قائد علامہ عارف الحسینی کو نمازِ فجر وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔* یه خبر نہیں بلکہ ایک خوفناک دھماکہ تھا۔ میں فوراً مدرسہ آیت الله الحکیم پہنچا اور اِس جانسوز خبر کی تصدیق کی۔ وہاں اور دوست بھی موجود تھے، ہم سب اُسی وقت پشاور کے لئے نکل گئے اور تقریباً 2 بجے شہید کے مدرسہ معارف الاسلامیہ (بعد میں نام مدرسہ شہید عارف حسین الحسینی رکھ دیا گیا تھا) پہنچے۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ شہید کی میّت امام بارگاه اخوندزاده اخوند آباد میں موحود ہے، اِسی دوران شہید کے گاؤں پیواڑ سے تقریباً دس ڈبل کیبن گاڑیوں کا قافلہ بھی آن پہنچا اور ہم سب دوست بھی اِسی قافلہ کے ساتھ محلہ اخوند آباد کے لئے روانہ ہوگئے۔ امام بارگاه اخونزاده میں شہید کی میت غسل و کفن کے بعد برف کے حصار میں رکھی گئی تھی۔ “وہی مطمئین اور پُرسکون اور رعب دار چهره۔” ہم اپنے آنسو نہ روک سکے اور زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ شام تک اعلان کیا گیا کہ تمام عزادارِ قائدِ شہید ایک احتجاجی جلوس کی شکل میں مدرسہ معارف الاسلامیہ میں چلے جائیں، کیونکہ شہید کی میت بھی اُسی مدرسہ میں منتقل کی جا رہی ہے۔ یه جلوس تقریباً 5 بجے روانہ ہوا اور تمام راستے نعره بازی کرتا ہوا منزل پر پہنچا۔ چونکه اعلٰی قیادت کی طرف سے کسی بھی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ سے سختی سے منع کیا گیا تھا، اِس لئے شرکاءِ جلوس پُرامن لیکن انتہائی غم و غصہ کی حالت میں تھے۔ جلوس تقریباً مغرب کے قریب منزل پر پہنچا۔ اِس سے پہلے نمازِ جنازه اُسی دن شام کو کروانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن جب امام خمینی رحمۃُ اللهِ علیہ نے اپنے نمائندهِ خصوصی آیت الله جنتی کو شہید کی تشیعِ جنازه میں بھیجنے کا اعلان فرمایا تو جنازه اگلے دِن شام کو کروانے کا فیصلہ کیا گیا اور لوگوں کو مدرسہ معارف الاسلامیہ روانہ کیا گیا، کیونکہ امام بارگاه اخوندزاده میں زیاده گنجائش نہیں تھی۔ رات بھر گریہ و ماتم کا سلسلہ جاری رہا اور کچھ مومنین جن کو جهاں جگہ ملی سو گئے۔ رات بھر پاکستان بھر سے مومنین کی جوق در جوق آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ شہید کا جنازه مدرسہ کے ایک کمره میں رکھا گیا تھا، جس میں اے سی لگا ہوا تھا اور برآمدے میں ایک شیشہ دار کھڑکی تھی، جهاں سے مومنین شہید کا آخری دیدار کر رہے تھے۔ مدرسہ کے چند طلاب سے ملاقات ہوئی، جن سے واقعه کے متعلق بات چیت ہوئی۔ اِن کے مطابق شہید نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد تلاوت و دُعاؤں میں مشغول ہوگئے اور پھر وضو تازه کرنے کے لئے واش روم گئے، واش روم سے فارغ ہونے کے بعد سیڑھیوں سے نیچے آرهے تھے کہ بدبخت اور شقی القلب نے فائر کیا، جو کہ شہید کی سانس کی نالی کو چیرتا ہوا نکل گیا، اتفاق سے آپ کا گارڈ اور ڈرائیور اُس وقت موجود نہیں تھے، بلکہ کسی مہمان کو چھوڑنے گئے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے فوری طور پر ہسپتال نہیں پہنچایا جا سکا۔ شہید کے گارڈ ضامن حسین نے دِل برداشتہ ہو کر خود پر فائر کر دیا، لیکن خوش قسمتی سے زندگی بچ گئی۔ یہاں اپنی بات روک کر ایک اہم اور ضروری واقعہ بتانا چاہوں گا۔ قائدِ شہید شہادت سے 2 دن پہلے ہی پیواڑ سے پشاور پہنچے تھے اور آج 5 اگست کو ہی تنظیمی دورے پر ملتان روانہ ہونا تھا۔ پیواڑ میں شہید ایک تنظیمی میٹنگ میں مصروف تھے کہ آپ کے بہنوئی آگئے اور شہید کو باہر بلایا۔ آپ کے بہنوئی نے کہا کہ آپ کی بہن نے پیغام دیا ہے کہ آپ پشاور نہ جائیں، کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ پر تین کتے(یا سؤر) حملہ آور ہوگئے ہیں اور آپ کو شہید کر دیا گیا ہے، میرا دِل پریشان ہے، شہید بہن کا خواب سُن کر لمحہ بھر کیلئے چپ کر گئے، پھر بولے کہ بہن کو بولو کہ میرا پشاور جانا ضروری ہے، بس آپ دُعا کریں۔ تحریک کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ شہید کو اُن کے مدرسہ کے صحن میں ہی دفنایا حائے اور یه بات حکومت اور باز بااثر حلقوں کو پسند نہیں تھی، کیونکہ وه دیکھ رہے تھے کہ شپید کی قبر پشاور میں کربلاء سے کم نه ہوگی اور پشاور تشیعِ پاکستان کا مرکزِ انقلاب بن جائے گا۔ چنانچه باز بااثر حلقوں نے قائدِ شہید کے بھائی کے ﺫریعے سے شہید کی والده محترمہ تک رسائی حاصل کی اور پورا زور لگایا کہ تدفین پشاور میں نہ ہو، بلکہ اُن کے آبائی گاؤں پیواڑ میں ہونی چاہیئے۔ اتفاق سے اِس کے لئے شہید کی کوئی وصیت بھی موجود نہ تھی۔ اِس طرح عظمت و انقلاب کے اِس عظیم پیکر کو پشاور میں دفن نہ ہونے دیا بلکہ پاره چنار کے ایک گاؤں پیواڑ جو کہ شہید کا آبائی گاؤں تھا، میں دفن کیا گیا۔ رات بھر تدفین کے حوالے سے مسلسل کوششیں جاری رہیں، جس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا، اِس کے علاوه تحریک، ISO ،IO اور کچھ ﺫیلی تنظیموں کی آپس میں جلوسِ جنازه اور باقی انتظامات کے لئے میٹگز جاری رہیں۔ رات کو کسی وقت بجلی بند ہوگئی اور پورا پشاور تاریکی میں ڈوب گیا۔ میں اُس وقت مدرسہ کی چھت پر سو ریا تھا۔ جو واقعہ سنانے جا رہا ہوں، اُس کا میں خود چشم دید گواه تو نہیں ہوں، لیکن ایک قابلِ اعتماد دوست نے صبح مجھے بتایا کہ رات کو تو عجیب معجزه ہوا ہے، استفسار پر اُس دوست نے بتایا کہ جب رات بجلی بند ہوئی تو ہم پریشان ہو گئے کہ کہیں گرمی کی شدت کی وجہ سے میت کو نقصان نہ پہنچے،(اں دنوں پشاور میں شدید حبس اور گھٹن تھی) لیکن جب ہم شہید کے کمره میں گئے تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ کمرے کا اے سی بجلی کی بندش کے باوجود اُسی طرح چل ریا ہے۔ صبح میں نے قائدِ شہید کی زیارت کی اور کاموں میں مشغول ہوگئے۔ نمائندهِ امام خمینی آیت الله جنتی کا انتظار ہو رہا تھا، جو کسی لمحہ بھی پہنچ سکتے تھے۔ مدرسہ معارف الاسلامیه کا درمیانی حصہ، برآمدے اور طلاب کے رہائشی کمرے مومنین سے بھرے ہوئے تھے اور مومنین کی تعداد میں مسلسل اِضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ صحیح وقت تو یاد نہیں، لیکن ایک سے دو بجے کا وقت ہوگا که اچانک بلند آواز میں نعْروں کی آوازیں بلند ہوئیں اور لوگ مرکزی دروازه کی طرف دیوانہ وار بھاگنے لگے، ہم لوگ چونکہ کسی نہ کسی ڈیوٹی پر مامور تھے، اِس لئے اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر ہی موجود رہے۔ میں نعروں کی آواز سے مرکزی گزرگاه کی طرف متوجہ ہوا “اور یہی وه لمحہ تھا کہ زمین زور زور سے ہلنے لگی اور مدرسہ کی عمارت جھولنے لگی” کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے، “جیسے ہی آیت الله جنتی کے پاؤں نے مدرسہ کی زمین کو چھؤوا، پورا پشاور زلزلے کے شدید جھٹکوں سے لرز اُٹھا” میرے لئے یہ ایک عجیب سماں اور عجیب منظر تھا۔ خداوندِ جبار و قهار اِس عظیم ظلم کے خلاف اپنی نشانیاں دکھا رہا تھا۔ آیت الله جنتی مومنین کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دے ریے تھے اور تعزیت وصول کر رہے تھے۔ بُت شکن، مردِ حکیم ولی فقیہ آیت الله العُظمیٰ امام روح الله خمینی کے نمائنده آیت الله جنتی جب شہید قائد کے کمره میں داخل ہوئے اور شہید کو اِن الفاظ میں سلام کیا: “اسلامُ علیک یا ایهاّ شهیدِ مظلوم” بس پھر آنکھوں نے جو منظر دیکھا: *شہید کی داہنی آنکھ ہلکی سی کھُلی اور آنکھ سے آنسو نکل کر رخسار سے ہوتا ہوا ریشِ مبارک میں گم ہوگیا۔” اِس منظر کا میں خود تو مشاہده نہ کرسکا، لیکن اُس وقت شدید گریہ ہوا اور جوں جوں بات پھیلتی گئی، گریہ و ماتم میں شدت آتی گئی۔ آیت الله جنتی میّت کے پاس کچھ دیر بیٹھے رہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے اُس وقت کے سربراه ولی خان صاحب بھی تعزیت کے لئے آئے اور امریکہ اور ضیاء الحق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور قائدِ شہید کی شہادت کو قومی سانحہ اور المیہ قرار دیا۔ شام تقریباً 4 بجے تمام مومنین کو جلوس کی شکل میں جناح باغ جانے کا کہا گیا۔ یہ جلوس انتہائی پُرشکوه تھا، سب سے آگے امریکہ کا بہت بڑا پرچم زمین پر گھسیٹا جا ریا تھا، اِس کے پیچھے علماء کی صف تھی۔ اِس پورے انتظام کو ISO کے نوجوان اور کچھ مقامی لوگ کنٹرول کر رہے تھے۔ جلوس میں ضیاء الحق، حکومت، امریکہ، روس اور اسرائیل کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے جا رہے تھے، یه جلوس تقریباً 6 بجے جناح باغ پہنچا، جہاں پہلے سے ہی ایک جمِ غفیر جمع تھا۔ شہید کا جسد مقدس جلوس کے درمیان سے ہی ایمبولینس پر گزارا گیا تھا، جو پولیس موبائلوں کی معیّت میں تھا۔ اچانک سامنے سے ایک زبردست حکومتی پروٹوکول نظر آیا، پتہ چلا کہ جنرل ضیاءالحق بھی شہید کی نمازِ جنازه میں شرکت کے لئے آیا ہے، نوجوان مشتعل ہوگئے اور آگے بڑهنے لگے اور جنرل ضیاء کے خلاف شدید نعره بازی کی۔ مولانا افتخار حسین نقوی نے مائیک پر آکر سب کو صبر کی تلقین کی اور واپس صفوں میں آنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اگر دُشمن بھی گھر میں آجائے تو احترام لازم ہے۔ آیت الله جنتی نے مختصر خطاب میں امام خمینی کا وه پیغام پہنچایا، جس میں کہا تھا کہ “میں اپنے ایک عظیم فرزند سے محروم ہوگیا ہوں” اِس کے بعد آیت الله جنتی نے نمازِ جنازه پڑهائی، جس کے بعد شہید کی میت کو ہیلی کاپٹر کے ﺫریعے شہید کے آبائی گاؤں پیواڑ لے جایا گیا، میت کے ساتھ جانے والوں میں علامہ ساجد نقوی، مولانا افتخار نقوی، مولانا عابد الحسینی، مولانا جواد ہادی اور کچھ اور عمائدین شامل تھے۔ باقی مومنین زمینی راستے سے پیواڑ پہنچے، جہاں شہید کی دوسری نمازِ جنازه ادا کی گئی۔ پیواڑ شہید کی میت پہنچنے پر والہانہ استقبال کیا گیا، کچھ انقلابی نوجوانوں نے میّت پر ہاتھ رکھ کر قسم اُٹھائی کہ ہم آپ کے خون کے ایک ایک قطرے کا انتقام لیں گے۔

تحریر: ابو ردا

05 اگست 1988ء روزِ جمعۃ المبارک کی صبح، چونکہ اُن دنوں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے دِن ہوا کرتی تھی، میں شہر راولپنڈی والے گھر پر تھا۔ آج کی رات نمازِ فجر سے کچھ دیر قبل میرے کمره میں لگا ایک فریم اچانک سے گر گیا۔ وه ایک فریم تھا، جس میں لائٹ جلتی تھی اور امام خمینی اور اُس وقت کے ایران کے صدر ہاشمی رفسنجانی کی تصویریں تھیں، جس کے گرنے کی آواز سے میری آنکھ کھُل گئی اور دِل میں عجیب سا انجانا سا خوف پیدا ہوگیا، جیسے کچھ بُرا ہونے والا ہے۔ 10 بجے میں ناشتہ کر رہا تھا اور 10 بجے کی خبریں ٹی وی پر چل رہی تھیں کہ اچانک خبر چلی کہ “تحریک نفاﺫِ فقهِ جعفریه کے قائد علامہ عارف الحسینی کو نمازِ فجر وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔*

یه خبر نہیں بلکہ ایک خوفناک دھماکہ تھا۔ میں فوراً مدرسہ آیت الله الحکیم پہنچا اور اِس جانسوز خبر کی تصدیق کی۔ وہاں اور دوست بھی موجود تھے، ہم سب اُسی وقت پشاور کے لئے نکل گئے اور تقریباً 2 بجے شہید کے مدرسہ معارف الاسلامیہ (بعد میں نام مدرسہ شہید عارف حسین الحسینی رکھ دیا گیا تھا) پہنچے۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ شہید کی میّت امام بارگاه اخوندزاده اخوند آباد میں موحود ہے، اِسی دوران شہید کے گاؤں پیواڑ سے تقریباً دس ڈبل کیبن گاڑیوں کا قافلہ بھی آن پہنچا اور ہم سب دوست بھی اِسی قافلہ کے ساتھ محلہ اخوند آباد کے لئے روانہ ہوگئے۔ امام بارگاه اخونزاده میں شہید کی میت غسل و کفن کے بعد برف کے حصار میں رکھی گئی تھی۔ “وہی مطمئین اور پُرسکون اور رعب دار چهره۔” ہم اپنے آنسو نہ روک سکے اور زار و قطار رونا شروع کر دیا۔

شام تک اعلان کیا گیا کہ تمام عزادارِ قائدِ شہید ایک احتجاجی جلوس کی شکل میں مدرسہ معارف الاسلامیہ میں چلے جائیں، کیونکہ شہید کی میت بھی اُسی مدرسہ میں منتقل کی جا رہی ہے۔ یه جلوس تقریباً 5 بجے روانہ ہوا اور تمام راستے نعره بازی کرتا ہوا منزل پر پہنچا۔ چونکه اعلٰی قیادت کی طرف سے کسی بھی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ سے سختی سے منع کیا گیا تھا، اِس لئے شرکاءِ جلوس پُرامن لیکن انتہائی غم و غصہ کی حالت میں تھے۔ جلوس تقریباً مغرب کے قریب منزل پر پہنچا۔ اِس سے پہلے نمازِ جنازه اُسی دن شام کو کروانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن جب امام خمینی رحمۃُ اللهِ علیہ نے اپنے نمائندهِ خصوصی آیت الله جنتی کو شہید کی تشیعِ جنازه میں بھیجنے کا اعلان فرمایا تو جنازه اگلے دِن شام کو کروانے کا فیصلہ کیا گیا اور لوگوں کو مدرسہ معارف الاسلامیہ روانہ کیا گیا، کیونکہ امام بارگاه اخوندزاده میں زیاده گنجائش نہیں تھی۔

رات بھر گریہ و ماتم کا سلسلہ جاری رہا اور کچھ مومنین جن کو جهاں جگہ ملی سو گئے۔ رات بھر پاکستان بھر سے مومنین کی جوق در جوق آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ شہید کا جنازه مدرسہ کے ایک کمره میں رکھا گیا تھا، جس میں اے سی لگا ہوا تھا اور برآمدے میں ایک شیشہ دار کھڑکی تھی، جهاں سے مومنین شہید کا آخری دیدار کر رہے تھے۔ مدرسہ کے چند طلاب سے ملاقات ہوئی، جن سے واقعه کے متعلق بات چیت ہوئی۔ اِن کے مطابق شہید نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد تلاوت و دُعاؤں میں مشغول ہوگئے اور پھر وضو تازه کرنے کے لئے واش روم گئے، واش روم سے فارغ ہونے کے بعد سیڑھیوں سے نیچے آرهے تھے کہ بدبخت اور شقی القلب نے فائر کیا، جو کہ شہید کی سانس کی نالی کو چیرتا ہوا نکل گیا، اتفاق سے آپ کا گارڈ اور ڈرائیور اُس وقت موجود نہیں تھے، بلکہ کسی مہمان کو چھوڑنے گئے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے فوری طور پر ہسپتال نہیں پہنچایا جا سکا۔

شہید کے گارڈ ضامن حسین نے دِل برداشتہ ہو کر خود پر فائر کر دیا، لیکن خوش قسمتی سے زندگی بچ گئی۔ یہاں اپنی بات روک کر ایک اہم اور ضروری واقعہ بتانا چاہوں گا۔ قائدِ شہید شہادت سے 2 دن پہلے ہی پیواڑ سے پشاور پہنچے تھے اور آج 5 اگست کو ہی تنظیمی دورے پر ملتان روانہ ہونا تھا۔ پیواڑ میں شہید ایک تنظیمی میٹنگ میں مصروف تھے کہ آپ کے بہنوئی آگئے اور شہید کو باہر بلایا۔ آپ کے بہنوئی نے کہا کہ آپ کی بہن نے پیغام دیا ہے کہ آپ پشاور نہ جائیں، کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ پر تین کتے(یا سؤر) حملہ آور ہوگئے ہیں اور آپ کو شہید کر دیا گیا ہے، میرا دِل پریشان ہے، شہید بہن کا خواب سُن کر لمحہ بھر کیلئے چپ کر گئے، پھر بولے کہ بہن کو بولو کہ میرا پشاور جانا ضروری ہے، بس آپ دُعا کریں۔

تحریک کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ شہید کو اُن کے مدرسہ کے صحن میں ہی دفنایا حائے اور یه بات حکومت اور باز بااثر حلقوں کو پسند نہیں تھی، کیونکہ وه دیکھ رہے تھے کہ شپید کی قبر پشاور میں کربلاء سے کم نه ہوگی اور پشاور تشیعِ پاکستان کا مرکزِ انقلاب بن جائے گا۔ چنانچه باز بااثر حلقوں نے قائدِ شہید کے بھائی کے ﺫریعے سے شہید کی والده محترمہ تک رسائی حاصل کی اور پورا زور لگایا کہ تدفین پشاور میں نہ ہو، بلکہ اُن کے آبائی گاؤں پیواڑ میں ہونی چاہیئے۔ اتفاق سے اِس کے لئے شہید کی کوئی وصیت بھی موجود نہ تھی۔ اِس طرح عظمت و انقلاب کے اِس عظیم پیکر کو پشاور میں دفن نہ ہونے دیا بلکہ پاره چنار کے ایک گاؤں پیواڑ جو کہ شہید کا آبائی گاؤں تھا، میں دفن کیا گیا۔ رات بھر تدفین کے حوالے سے مسلسل کوششیں جاری رہیں، جس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا، اِس کے علاوه تحریک، ISO ،IO اور کچھ ﺫیلی تنظیموں کی آپس میں جلوسِ جنازه اور باقی انتظامات کے لئے میٹگز جاری رہیں۔

رات کو کسی وقت بجلی بند ہوگئی اور پورا پشاور تاریکی میں ڈوب گیا۔ میں اُس وقت مدرسہ کی چھت پر سو ریا تھا۔ جو واقعہ سنانے جا رہا ہوں، اُس کا میں خود چشم دید گواه تو نہیں ہوں، لیکن ایک قابلِ اعتماد دوست نے صبح مجھے بتایا کہ رات کو تو عجیب معجزه ہوا ہے، استفسار پر اُس دوست نے بتایا کہ جب رات بجلی بند ہوئی تو ہم پریشان ہو گئے کہ کہیں گرمی کی شدت کی وجہ سے میت کو نقصان نہ پہنچے،(اں دنوں پشاور میں شدید حبس اور گھٹن تھی) لیکن جب ہم شہید کے کمره میں گئے تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ کمرے کا اے سی بجلی کی بندش کے باوجود اُسی طرح چل ریا ہے۔ صبح میں نے قائدِ شہید کی زیارت کی اور کاموں میں مشغول ہوگئے۔ نمائندهِ امام خمینی آیت الله جنتی کا انتظار ہو رہا تھا، جو کسی لمحہ بھی پہنچ سکتے تھے۔ مدرسہ معارف الاسلامیه کا درمیانی حصہ، برآمدے اور طلاب کے رہائشی کمرے مومنین سے بھرے ہوئے تھے اور مومنین کی تعداد میں مسلسل اِضافہ ہوتا جا رہا تھا۔

صحیح وقت تو یاد نہیں، لیکن ایک سے دو بجے کا وقت ہوگا که اچانک بلند آواز میں نعْروں کی آوازیں بلند ہوئیں اور لوگ مرکزی دروازه کی طرف دیوانہ وار بھاگنے لگے، ہم لوگ چونکہ کسی نہ کسی ڈیوٹی پر مامور تھے، اِس لئے اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر ہی موجود رہے۔ میں نعروں کی آواز سے مرکزی گزرگاه کی طرف متوجہ ہوا “اور یہی وه لمحہ تھا کہ زمین زور زور سے ہلنے لگی اور مدرسہ کی عمارت جھولنے لگی” کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے، “جیسے ہی آیت الله جنتی کے پاؤں نے مدرسہ کی زمین کو چھؤوا، پورا پشاور زلزلے کے شدید جھٹکوں سے لرز اُٹھا” میرے لئے یہ ایک عجیب سماں اور عجیب منظر تھا۔ خداوندِ جبار و قهار اِس عظیم ظلم کے خلاف اپنی نشانیاں دکھا رہا تھا۔

آیت الله جنتی مومنین کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دے ریے تھے اور تعزیت وصول کر رہے تھے۔ بُت شکن، مردِ حکیم ولی فقیہ آیت الله العُظمیٰ امام روح الله خمینی کے نمائنده آیت الله جنتی جب شہید قائد کے کمره میں داخل ہوئے اور شہید کو اِن الفاظ میں سلام کیا: “اسلامُ علیک یا ایهاّ شهیدِ مظلوم” بس پھر آنکھوں نے جو منظر دیکھا: *شہید کی داہنی آنکھ ہلکی سی کھُلی اور آنکھ سے آنسو نکل کر رخسار سے ہوتا ہوا ریشِ مبارک میں گم ہوگیا۔” اِس منظر کا میں خود تو مشاہده نہ کرسکا، لیکن اُس وقت شدید گریہ ہوا اور جوں جوں بات پھیلتی گئی، گریہ و ماتم میں شدت آتی گئی۔ آیت الله جنتی میّت کے پاس کچھ دیر بیٹھے رہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے اُس وقت کے سربراه ولی خان صاحب بھی تعزیت کے لئے آئے اور امریکہ اور ضیاء الحق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور قائدِ شہید کی شہادت کو قومی سانحہ اور المیہ قرار دیا۔

شام تقریباً 4 بجے تمام مومنین کو جلوس کی شکل میں جناح باغ جانے کا کہا گیا۔ یہ جلوس انتہائی پُرشکوه تھا، سب سے آگے امریکہ کا بہت بڑا پرچم زمین پر گھسیٹا جا ریا تھا، اِس کے پیچھے علماء کی صف تھی۔ اِس پورے انتظام کو ISO کے نوجوان اور کچھ مقامی لوگ کنٹرول کر رہے تھے۔ جلوس میں ضیاء الحق، حکومت، امریکہ، روس اور اسرائیل کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے جا رہے تھے، یه جلوس تقریباً 6 بجے جناح باغ پہنچا، جہاں پہلے سے ہی ایک جمِ غفیر جمع تھا۔ شہید کا جسد مقدس جلوس کے درمیان سے ہی ایمبولینس پر گزارا گیا تھا، جو پولیس موبائلوں کی معیّت میں تھا۔ اچانک سامنے سے ایک زبردست حکومتی پروٹوکول نظر آیا، پتہ چلا کہ جنرل ضیاءالحق بھی شہید کی نمازِ جنازه میں شرکت کے لئے آیا ہے، نوجوان مشتعل ہوگئے اور آگے بڑهنے لگے اور جنرل ضیاء کے خلاف شدید نعره بازی کی۔ مولانا افتخار حسین نقوی نے مائیک پر آکر سب کو صبر کی تلقین کی اور واپس صفوں میں آنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اگر دُشمن بھی گھر میں آجائے تو احترام لازم ہے۔

آیت الله جنتی نے مختصر خطاب میں امام خمینی کا وه پیغام پہنچایا، جس میں کہا تھا کہ “میں اپنے ایک عظیم فرزند سے محروم ہوگیا ہوں” اِس کے بعد آیت الله جنتی نے نمازِ جنازه پڑهائی، جس کے بعد شہید کی میت کو ہیلی کاپٹر کے ﺫریعے شہید کے آبائی گاؤں پیواڑ لے جایا گیا، میت کے ساتھ جانے والوں میں علامہ ساجد نقوی، مولانا افتخار نقوی، مولانا عابد الحسینی، مولانا جواد ہادی اور کچھ اور عمائدین شامل تھے۔ باقی مومنین زمینی راستے سے پیواڑ پہنچے، جہاں شہید کی دوسری نمازِ جنازه ادا کی گئی۔ پیواڑ شہید کی میت پہنچنے پر والہانہ استقبال کیا گیا، کچھ انقلابی نوجوانوں نے میّت پر ہاتھ رکھ کر قسم اُٹھائی کہ ہم آپ کے خون کے ایک ایک قطرے کا انتقام لیں گے۔