آذربائیجان میں اسرائیل کا بڑھتا اثر و رسوخ، وجوہات اور نتائج

  Click to listen highlighted text! تحریر: مجتبیٰ شاہسونی غاصب صہیونی رژیم کے اشتعال آمیز اقدامات، بیرونی قوتوں کی مداخلت اور دہشت گرد عناصر کی موجودگی نے قفقاز خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ ایک طرف اسرائیل آذربائیجان کی سرزمین پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جاسوسی سرگرمیاں انجام دینے کا خواہاں ہے تو دوسری طرف آذربائیجان تکفیری دہشت گرد عناصر کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ آذربائیجان میں موجود قدرتی تیل اور گیس کے وسیع ذخائر اور ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد وہ اسباب ہیں، جن کی وجہ سے اسرائیل اس ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے، تاکہ اسے ایران کے خلاف جاسوسی اور تخریبی سرگرمیوں میں آسانی میسر ہو جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف اسرائیل کے اثر و رسوخ میں اضافہ آذربائیجان کے قومی مفادات کے حق میں نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں آذربائیجان خطے کیلئے خطرہ تصور کیا جائے گا۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کا شمار ان حکومتوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے آذربائیجان کی آزادی کے بعد اسے سب سے پہلے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔ دوسری طرف آذربائیجان نے بھی اکثر اسلامی ممالک کے برعکس اسرائیل سے قریبی اور دوستانہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ اس وقت غاصب صہیونی رژیم نے آذربائیجان میں اقتصادی، انرجی، انٹیلی جنس اور فوجی شعبوں میں بہت زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر رکھا ہے۔ اگرچہ حالیہ چند سالوں میں آذربائیجان کو پیش آنے والے چیلنجز کی اکثریت اس کے اندرونی معاملات میں صہیونی حکمرانوں کی بے جا مداخلت رہی ہے۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے آذربائیجان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں: 1)۔ اسلامی مزاحمتی بلاک خاص طور پر ایران کو کنٹرول کرنا ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اس کے نتیجے میں خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک تشکیل پا جانے کے بعد غاصب صہیونی رژیم نے ہمیشہ ایران کو اپنا اصلی ترین دشمن قرار دیا ہے اور اس کے ہمسایہ ممالک میں اپنی جاسوسی سرگرمیوں کا زمینہ فراہم کیا ہے۔ اس وقت اسلامی مزاحمتی بلاک مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں تک پہنچ چکا ہے، لہذا صہیونی حکمرانوں نے بھی ایران کو کنٹرول کرنے کی کوششیں زیادہ تیز کر دی ہیں۔ یوں صہیونی رژیم نے ایران کے ہمسایہ ممالک میں اپنا سکیورٹی اور انٹیلی جنس اثر و رسوخ بڑھانے کو پہلی ترجیح قرار دے رکھا ہے۔ لہذا آذربائیجان میں موجودگی اسرائیل کیلئے بہت زیادہ اہم ہے، خاص طور پر اس وقت جب آذربائیجان نے اسے ایران کے خلاف جاسوسی سرگرمیوں کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔ 2)۔ خطے میں کشیدگی پیدا کرکے عالمی رائے عامہ کی توجہ فلسطین سے ہٹانا غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے آذربائیجان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک اور سبب دنیا کے مختلف حصوں میں کشیدگی پیدا کرکے عالمی رائے عامہ کی توجہ مسئلہ فلسطین اور مقبوضہ فلسطین میں جاری اپنے مظالم سے ہٹانا ہے۔ اس کی واضح مثال حال ہی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ اسرائیل ایران کی سرحدوں کے قریب بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرکے اس کی توجہ شام، لبنان اور یمن سے ہٹانا چاہتا ہے۔ 3)۔ ایران اور روس پر دباو ڈالنا آذربائیجان میں اسرائیل کی جانب سے اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کی ایک اور وجہ ایران اور روس پر دباو ڈال کر انہیں اس خطے میں مصروف کرنا ہے۔ اس مقصد میں امریکہ بھی صہیونی رژیم کے ساتھ ہے۔ اسی طرح اسرائیل آذربائیجان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر مختلف قسم کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اہداف خطے کے یہودیوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا، ایران کو ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کرنا، اسلامی ملک آذربائیجان میں ثقافتی اثر و رسوخ بڑھانا، قفقاز خطے کے ممالک میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانا، اس ملک کے اقتصادی اور سیاسی ماہرین کو جذب کرنا، ایران کی شمالی سرحدوں پر امریکہ اور ترکی نواز عناصر سے فائدہ اٹھانا، آذربائیجان سے فوجی تعاون اور خطے میں جاسوسی سرگرمیاں انجام دینے پر مشتمل ہیں۔ دوسری طرف آذربائیجان بھی غاصب صہیونی رژیم سے دوستانہ تعلقات فروغ دے کر بعض مقاصد حاصل کرنے کے درپے ہے۔ یہ ملک آزادی کے بعد اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں بہت زیادہ کمزور تھا اور اس کمزوری کو دور کرنے کیلئے طاقتور دوستوں کی تلاش میں تھا۔ لہذا اسرائیل سے تعلقات استوار کرتے وقت آذربائیجان کے بنیادی اہداف صہیونی رژیم کے ذریعے امریکہ اور یورپی ممالک سے قریبی تعلقات استوار کرنا، اپنے ملک میں یہودی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرنا، اسرائیل کے زیر اثر یہودی لابی کی طاقت سے فائدہ اٹھانا، جدید ٹیکنالوجی کا حصول، قرہ باغ تنازعہ حل کرنے میں مدد حاصل کرنا اور ملکی صنعت کو ترقی دینے پر مشتمل تھے۔ لیکن ان تعلقات کا نتیجہ صہیونی حکمرانوں کی جانب سے آذربائیجان کے قدرتی ذخائر کی لوٹ مار، آذربائیجان کی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کیلئے استعمال کرنے، آذربائیجان میں مغربی کلچر کو فروغ دینے اور آذربائیجان میں اسلام مخالف اور سیکولر افکار کی ترویج کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔

تحریر: مجتبیٰ شاہسونی

غاصب صہیونی رژیم کے اشتعال آمیز اقدامات، بیرونی قوتوں کی مداخلت اور دہشت گرد عناصر کی موجودگی نے قفقاز خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ ایک طرف اسرائیل آذربائیجان کی سرزمین پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جاسوسی سرگرمیاں انجام دینے کا خواہاں ہے تو دوسری طرف آذربائیجان تکفیری دہشت گرد عناصر کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ آذربائیجان میں موجود قدرتی تیل اور گیس کے وسیع ذخائر اور ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد وہ اسباب ہیں، جن کی وجہ سے اسرائیل اس ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے، تاکہ اسے ایران کے خلاف جاسوسی اور تخریبی سرگرمیوں میں آسانی میسر ہو جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف اسرائیل کے اثر و رسوخ میں اضافہ آذربائیجان کے قومی مفادات کے حق میں نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں آذربائیجان خطے کیلئے خطرہ تصور کیا جائے گا۔

اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کا شمار ان حکومتوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے آذربائیجان کی آزادی کے بعد اسے سب سے پہلے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔ دوسری طرف آذربائیجان نے بھی اکثر اسلامی ممالک کے برعکس اسرائیل سے قریبی اور دوستانہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ اس وقت غاصب صہیونی رژیم نے آذربائیجان میں اقتصادی، انرجی، انٹیلی جنس اور فوجی شعبوں میں بہت زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر رکھا ہے۔ اگرچہ حالیہ چند سالوں میں آذربائیجان کو پیش آنے والے چیلنجز کی اکثریت اس کے اندرونی معاملات میں صہیونی حکمرانوں کی بے جا مداخلت رہی ہے۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے آذربائیجان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:

1)۔ اسلامی مزاحمتی بلاک خاص طور پر ایران کو کنٹرول کرنا
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اس کے نتیجے میں خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک تشکیل پا جانے کے بعد غاصب صہیونی رژیم نے ہمیشہ ایران کو اپنا اصلی ترین دشمن قرار دیا ہے اور اس کے ہمسایہ ممالک میں اپنی جاسوسی سرگرمیوں کا زمینہ فراہم کیا ہے۔ اس وقت اسلامی مزاحمتی بلاک مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں تک پہنچ چکا ہے، لہذا صہیونی حکمرانوں نے بھی ایران کو کنٹرول کرنے کی کوششیں زیادہ تیز کر دی ہیں۔ یوں صہیونی رژیم نے ایران کے ہمسایہ ممالک میں اپنا سکیورٹی اور انٹیلی جنس اثر و رسوخ بڑھانے کو پہلی ترجیح قرار دے رکھا ہے۔ لہذا آذربائیجان میں موجودگی اسرائیل کیلئے بہت زیادہ اہم ہے، خاص طور پر اس وقت جب آذربائیجان نے اسے ایران کے خلاف جاسوسی سرگرمیوں کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔

2)۔ خطے میں کشیدگی پیدا کرکے عالمی رائے عامہ کی توجہ فلسطین سے ہٹانا
غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے آذربائیجان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک اور سبب دنیا کے مختلف حصوں میں کشیدگی پیدا کرکے عالمی رائے عامہ کی توجہ مسئلہ فلسطین اور مقبوضہ فلسطین میں جاری اپنے مظالم سے ہٹانا ہے۔ اس کی واضح مثال حال ہی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ اسرائیل ایران کی سرحدوں کے قریب بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرکے اس کی توجہ شام، لبنان اور یمن سے ہٹانا چاہتا ہے۔

3)۔ ایران اور روس پر دباو ڈالنا
آذربائیجان میں اسرائیل کی جانب سے اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کی ایک اور وجہ ایران اور روس پر دباو ڈال کر انہیں اس خطے میں مصروف کرنا ہے۔ اس مقصد میں امریکہ بھی صہیونی رژیم کے ساتھ ہے۔ اسی طرح اسرائیل آذربائیجان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر مختلف قسم کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اہداف خطے کے یہودیوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا، ایران کو ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کرنا، اسلامی ملک آذربائیجان میں ثقافتی اثر و رسوخ بڑھانا، قفقاز خطے کے ممالک میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانا، اس ملک کے اقتصادی اور سیاسی ماہرین کو جذب کرنا، ایران کی شمالی سرحدوں پر امریکہ اور ترکی نواز عناصر سے فائدہ اٹھانا، آذربائیجان سے فوجی تعاون اور خطے میں جاسوسی سرگرمیاں انجام دینے پر مشتمل ہیں۔

دوسری طرف آذربائیجان بھی غاصب صہیونی رژیم سے دوستانہ تعلقات فروغ دے کر بعض مقاصد حاصل کرنے کے درپے ہے۔ یہ ملک آزادی کے بعد اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں بہت زیادہ کمزور تھا اور اس کمزوری کو دور کرنے کیلئے طاقتور دوستوں کی تلاش میں تھا۔ لہذا اسرائیل سے تعلقات استوار کرتے وقت آذربائیجان کے بنیادی اہداف صہیونی رژیم کے ذریعے امریکہ اور یورپی ممالک سے قریبی تعلقات استوار کرنا، اپنے ملک میں یہودی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرنا، اسرائیل کے زیر اثر یہودی لابی کی طاقت سے فائدہ اٹھانا، جدید ٹیکنالوجی کا حصول، قرہ باغ تنازعہ حل کرنے میں مدد حاصل کرنا اور ملکی صنعت کو ترقی دینے پر مشتمل تھے۔ لیکن ان تعلقات کا نتیجہ صہیونی حکمرانوں کی جانب سے آذربائیجان کے قدرتی ذخائر کی لوٹ مار، آذربائیجان کی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کیلئے استعمال کرنے، آذربائیجان میں مغربی کلچر کو فروغ دینے اور آذربائیجان میں اسلام مخالف اور سیکولر افکار کی ترویج کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔