افغانستان میں داعش، چند حقائق

  Click to listen highlighted text! تحریر: ثاقب اکبر جب سے افغانستان میں طالبان کا اقتدار قائم ہوا ہے، داعش کی فعالیت اور کارروائیوں میں نسبتاً اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کی رائے میں اس وقت طالبان کو سب سے زیادہ خطرہ داعش ہی سے ہے۔ ماضی میں طالبان حکومت کے مقابلے میں شمالی اتحاد قائم تھا اور افغانستان کے شمال کے کچھ علاقوں پر ان کا اقتدار بھی قائم تھا، لیکن چند ماہ قبل احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی قیادت میں وادی پنج شیر میں جو مزاحمت معرض وجود میں آئی، طالبان کی اس کے خلاف فوجی کامیابی کے بعد اب اصولی طور پر کوئی قابل ذکر مزاحمت ان کی طرف سے باقی نہیں رہی۔ مزاحمت کا عنوان ان کے لیے اب داعش ہی ہے۔ افغانستان میں داعش کا قیامداعش اصولی طور پر تو ’’دولت اسلامیہ عراق و شام‘‘ کا مخفف ہے، لیکن اس کا دعویٰ ایک ایسی ’’عالمی اسلامی تحریک‘‘ کا ہے، جس کا مقصد پوری دنیا میں ’’اسلامی حکومت‘‘ کا قیام ہے۔ البتہ وہ ہر جگہ پر داعش کے عنوان سے معروف ہے۔ مختصراً اسے ’’دولت اسلامیہ‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے مختلف چیپٹرز ہیں، جنھیں ولایت کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں تاریخی اصطلاحوں سے کام لیتے ہوئے اس نے ’’ولایت خراسان‘‘ کے نام سے بھی ایک مسلح گروہ قائم کر رکھا ہے، جو اصولی طور پر ایران کے ایک حصے کے علاوہ افغانستان، مرکزی ایشیاء اور پاکستان پر محیط کہا جاتا تھا۔ اس خطے میں اس تحریک نے اس وقت سر اٹھایا، جب پاکستانی طالبان کے سابق اہم کمانڈروں نے پاکستان کی سابقہ خیبر ایجنسی کی تیراہ وادی میں 2014ء کے اواخر میں اس کی بنیاد رکھی۔ البتہ اس کو زیادہ حمایت اورکزئی ایجنسی میں حاصل ہوئی، جس پر اس کا کچھ عرصہ اقتدار بھی قائم رہا۔ تاہم اس کا نام 2015ء کے اوائل میں سامنے آیا۔ اس میں القاعدہ کے بہت سے اراکین نے بھی شمولیت اختیار کرلی۔ پاکستان میں اس کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد اس کا زیادہ تر اثر و رسوخ افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں رہا جس کا مرکزی شہر جلال آباد ہے۔ رواں برس ستمبر سے نومبر کے درمیان دولت اسلامیہ نے کابل، کنڑ، پروان، ننگرہار، قندوز اور قندھار میں حملے کیے ہیں۔ اس لیے یہ عموماً سمجھا جاتا ہے کہ داعش افغانستان کے شمال اور مشرق میں موجود ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کی سرحدیں داعش سے غیر محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں داعش کی نئی شاخیںمئی 2019 میں ’’دولت اسلامیہ‘‘ نے ’’ولایت ہند‘‘ کے نام سے اپنی نئی شاخ کا اعلان کیا اور اس کے پانچ روز بعد پاکستان میں بھی ’’ولایت خراسان‘‘ سے جدا کرکے ’’ولایت پاکستان‘‘ کے عنوان سے اس کی شاخ قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان میں نئی شاخ کے قیام کے بعد 15 مئی کو جاری کیے جانے والے دولت اسلامیہ کے اعلامیوں میں کہا گیا کہ ولایت پاکستان نے 13 مئی کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک پولیس افسر کو ہلاک کیا ہے۔ نیز اس نے کوئٹہ میں پاکستانی طالبان کے ایک مخالف شدت پسند کو ہلاک کرنے کی بھی ذمہ داری قبول کی۔ البتہ داعش کی کارروائیاں پاکستان میں نئی نہیں ہیں۔ 2017ء میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کے مزار پر ہونے والے حملے میں 90 زائرین شہید ہوئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ رواں سال جنوری کے آغاز میں صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کم از کم 10 کان کنوں کو اغوا کرنے کے بعد بے رحمی سے قتل کیا گیا، اس کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بعض واقعات کو داعش سے جوڑا جاتا ہے، تاہم کشمیر کی حریت پسند تنظیموں نے داعش کو مسترد کر دیا ہے اور اسے ایک انتہاء پسند اور شدت پسند تنظیم قرار دیا ہے، جو آزادی کے مقاصد کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ داعش اپنے آپ کو ایک عالمی تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے جبکہ کشمیر میں داخلی طور پر حریت کی تحریک جاری ہے اور کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کو دنیا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتی ہے۔ داعش اور طالبان کے مابین فرقدولت اسلامیہ خراسان اور طالبان کے مابین بھی ایک فرق یہ ہے کہ طالبان اپنے آپ کو ایک عالمی مظہر کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے آپ کو افغانستان کی ایک اسلامی تحریک یا امارت اسلامیہ افغانستان کے عنوان سے پیش کرتے ہیں۔ دونوں کے مابین ایک اور فرق جو زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آرہا ہے، وہ داعش کا سلفی مسلک سے وابستہ ہونا ہے، جبکہ طالبان اپنے آپ کو حنفی مسلک سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ مسالک کا اختلافبی بی سی نے اپنی مختلف رپورٹوں میں اس موضوع کو بہت نمایاں جگہ دی ہے۔ ایک محقق عبدالسید کے حوالے سے ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان میں اکثریت سلفی مسلک سے تعلق رکھنے والے افغانوں کی ہے، جو حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والے طالبان کی بالادستی کے مخالف ہیں۔ مختلف ذرائع کی رپورٹس کے مطابق طالبان نے اقتدار حاصل کرتے ہی افغانستان میں سلفی مسلک کی ان مساجد اور مدارس کے خلاف اقدامات کیے ہیں، جو کہ ماضی میں کسی نہ کسی صورت داعش کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ ان میں سلفی مکتب فکر کے بعض بااثر رہنماء بھی شامل ہیں، جن کے شاگرد یا ان سے وابستہ رہنے والے افغانستان میں نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان کا حصہ بن گئے تھے۔ عبدالسید نے بتایا کہ گذشتہ دو دہائیوں میں افغانستان میں سلفی مسلک کابل سمیت مشرقی اور شمالی صوبوں خصوصاً کنڑ اور ننگرہار میں تیزی سے پھیل چکا ہے۔ صوبہ ننگرہار ہی داعش کے قیام کے بعد کئی برسوں تک اس کا مضبوط گڑھ رہا ہے، جہاں سے اس تنظیم نے افغان طالبان کی قوت کا تقریباً خاتمہ کر دیا تھا۔ ان اقدامات کے بعد افغانستان کے سلفی رہنماؤں نے اس خطرے کا مسلسل اظہار کیا کہ اگر طالبان کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کے مسلک کے خلاف اقدامات بند نہیں کیے جاتے اور اس پر طالبان کی مرکزی قیادت کی یوں ہی خاموشی رہتی ہے تو یقیناً سلفی نوجوان طالبان کے خلاف انتقاماً دوبارہ داعش کا حصہ بن سکتے ہیں۔ عبدالسید کا یہ بھی کہنا ہے کہ داعش مذہبی حوالے سے طالبان سے بھی زیادہ شدت پسند مذہبی نظریات کے پیروکار ہے اور اس میں بیشتر طالبان کے سابق انتہاء پسند حامی ہیں، جو موجودہ طالبان کو اپنی بنیادی مذہبی پالیسیوں سے منحرف قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ داعش کے رکن جنگجوئوں کے مارے یا پکڑے جانے کے بعد دولت اسلامیہ کابل سے نئی بھرتیاں کر رہی ہے۔ یہ نیٹ ورک تجربہ کار، پڑھے لکھ اور انتہائی کٹر سلفی جنگجوئوں پر مشتمل ہے۔ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ داعش طالبان سے بھی زیادہ سخت گیر ہیں۔ شام، عراق اور افغانستان میں داعش کے اقدامات کہیں زیادہ وحشیانہ اور خوفناک رہے ہیں۔ وہ طالبان کو بھی واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک طالبان مرتد ہوچکے ہیں اور وہ اسلامی حکومت کے قیام کے مقصد سے منحرف ہوگئے ہیں، لہٰذا ان سے ’’جہاد‘‘ واجب ہوچکا ہے۔ جو تحریریں، ویڈیوز اور آڈیوز داعش کی طرف سے سامنے آرہی ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ افغان طالبان کی طرف سے تمام مذہبی گروہوں کے ساتھ رواداری کے اعلانات اور تعامل کو انحراف و ارتداد ہی کی دلیل قرر دیتے ہیں۔ وہ تصوف کی طرف میلان رکھنے والوں، اہل سنت بریلوی، مجددی اور صوفی کہلانے والوں کو بھی قابل گردن زدنی سمجھتے ہیں۔ شیعوں کے تو خلاف وہ کئی ایک قاتلانہ حملے کرچکے ہیں۔ وہ واضح طور پر وحدت الوجود یا وحدت الشہود کا نظریہ رکھنے والوں کو بھی گمراہ اور واجب القتل سمجھتے ہیں۔ ان حالات میں افغانستان کے ان گروہوں کے ساتھ طالبان کے مثبت رویئے نے انھیں مزید موجودہ حکومت کے قریب کر دیا ہے یا کم از کم وہ ذہنی اور عملی طور پر داعش سے خاصے دور ہوچکے ہیں۔ پاکستان، افغان طالبان اور ٹی ٹی پیان سارے حقائق سے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ داعش کے حوالے سے پاکستان اور طالبان ایک پیج پر ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایرانی بھی شدت سے داعش کے خلاف ہیں۔ داعش نے دنیا بھر میں عام طور پر اور افغانستان میں خاص طور پر جس طرح سے شیعوں کے قتل عام میں کردار ادا کیا ہے، اس کے پیش نظر شیعہ بھی داعش کو اپنا جانی دشمن سمجھتے ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور طالبان کے ساتھ افغانستان کے شیعہ اور ایران بھی داعش کے حوالے سے آپس میں ہم آہنگ ہیں۔ افغانستان میں ’’فاطمیون ‘‘ کا ایک گروہ موجود ہے، جو شام میں داعش کے خلاف نبردآزما رہا ہے۔ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک بھی داعش کے خطرے کو محسوس کرتے ہیں اور اس کا خاتمہ ضروری قرار دیتے ہیں۔ پاکستان نے تقریباً ایک ماہ پہلے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا جو سلسلہ شروع کیا، اس کے پس منظر میں ان حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ افغان طالبان اور پاکستان دونوں یہ چاہتے ہیں کہ مسلح گروہ اور افراد داعش سے دوری اختیار کریں۔ داعش میں شامل افغان موجودہ طالبان حکومت کو تسلیم کریں اور پاکستانی طالبان پاکستان کے آئین کی بالادستی کو تسلیم کریں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں داعش، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان امریکہ اور نیٹو کی افواج کے خلاف ہم فکر رہے ہیں اور بعض کارروائیوں میں متعدد عناصر نے مل کر حصہ لیا ہے، لیکن اب صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔ ان بدلے ہوئے حالات میں افغان طالبان اور پاکستان مل کر ٹی ٹی پی سے جو مذاکرات کر رہے ہیں، اس کا ایک بڑا مقصد داعش کو کمزور کرنا ہے۔ نیز افغانستان اور پاکستان کو داخلی طور پر محفوظ اور مستحکم بنانا ہے۔ ٹی ٹی پی کے کئی دھڑے اور اہم کمانڈر حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے بعض عناصر نے داعش میں شمولیت اختیار کی ہے، لیکن موجودہ حالات میں زیادہ تر پاکستانی اور افغان طالبان خصوصاً حنفی مسلک رکھنے والے طالبان کا رجحان امارات اسلامیہ کی طرف ہوچکا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور ادارے بھی اس صورت حال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اس وقت کو اس مقصد کے لیے غنیمت جانتے ہیں کہ افغان طالبان کے تعاون سے ٹی ٹی پی کے ساتھ معاملات کو طے کر لیا جائے۔ یاد رہے کہ ہم نے یہاں پر بعض مذہبی اصطلاحیں افغانستان کے پس منظر میں استعمال کی ہیں، وگرنہ ہم مسلمانوں کے تمام گروہوں میں محبت اور اخوت کے حامی ہیں اور اسے ہی قرآن و سنت کا تقاضا سمجھتے ہیں۔

تحریر: ثاقب اکبر

جب سے افغانستان میں طالبان کا اقتدار قائم ہوا ہے، داعش کی فعالیت اور کارروائیوں میں نسبتاً اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کی رائے میں اس وقت طالبان کو سب سے زیادہ خطرہ داعش ہی سے ہے۔ ماضی میں طالبان حکومت کے مقابلے میں شمالی اتحاد قائم تھا اور افغانستان کے شمال کے کچھ علاقوں پر ان کا اقتدار بھی قائم تھا، لیکن چند ماہ قبل احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی قیادت میں وادی پنج شیر میں جو مزاحمت معرض وجود میں آئی، طالبان کی اس کے خلاف فوجی کامیابی کے بعد اب اصولی طور پر کوئی قابل ذکر مزاحمت ان کی طرف سے باقی نہیں رہی۔ مزاحمت کا عنوان ان کے لیے اب داعش ہی ہے۔

افغانستان میں داعش کا قیام
داعش اصولی طور پر تو ’’دولت اسلامیہ عراق و شام‘‘ کا مخفف ہے، لیکن اس کا دعویٰ ایک ایسی ’’عالمی اسلامی تحریک‘‘ کا ہے، جس کا مقصد پوری دنیا میں ’’اسلامی حکومت‘‘ کا قیام ہے۔ البتہ وہ ہر جگہ پر داعش کے عنوان سے معروف ہے۔ مختصراً اسے ’’دولت اسلامیہ‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے مختلف چیپٹرز ہیں، جنھیں ولایت کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں تاریخی اصطلاحوں سے کام لیتے ہوئے اس نے ’’ولایت خراسان‘‘ کے نام سے بھی ایک مسلح گروہ قائم کر رکھا ہے، جو اصولی طور پر ایران کے ایک حصے کے علاوہ افغانستان، مرکزی ایشیاء اور پاکستان پر محیط کہا جاتا تھا۔ اس خطے میں اس تحریک نے اس وقت سر اٹھایا، جب پاکستانی طالبان کے سابق اہم کمانڈروں نے پاکستان کی سابقہ خیبر ایجنسی کی تیراہ وادی میں 2014ء کے اواخر میں اس کی بنیاد رکھی۔

البتہ اس کو زیادہ حمایت اورکزئی ایجنسی میں حاصل ہوئی، جس پر اس کا کچھ عرصہ اقتدار بھی قائم رہا۔ تاہم اس کا نام 2015ء کے اوائل میں سامنے آیا۔ اس میں القاعدہ کے بہت سے اراکین نے بھی شمولیت اختیار کرلی۔ پاکستان میں اس کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد اس کا زیادہ تر اثر و رسوخ افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں رہا جس کا مرکزی شہر جلال آباد ہے۔ رواں برس ستمبر سے نومبر کے درمیان دولت اسلامیہ نے کابل، کنڑ، پروان، ننگرہار، قندوز اور قندھار میں حملے کیے ہیں۔ اس لیے یہ عموماً سمجھا جاتا ہے کہ داعش افغانستان کے شمال اور مشرق میں موجود ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کی سرحدیں داعش سے غیر محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں داعش کی نئی شاخیں
مئی 2019 میں ’’دولت اسلامیہ‘‘ نے ’’ولایت ہند‘‘ کے نام سے اپنی نئی شاخ کا اعلان کیا اور اس کے پانچ روز بعد پاکستان میں بھی ’’ولایت خراسان‘‘ سے جدا کرکے ’’ولایت پاکستان‘‘ کے عنوان سے اس کی شاخ قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان میں نئی شاخ کے قیام کے بعد 15 مئی کو جاری کیے جانے والے دولت اسلامیہ کے اعلامیوں میں کہا گیا کہ ولایت پاکستان نے 13 مئی کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک پولیس افسر کو ہلاک کیا ہے۔ نیز اس نے کوئٹہ میں پاکستانی طالبان کے ایک مخالف شدت پسند کو ہلاک کرنے کی بھی ذمہ داری قبول کی۔ البتہ داعش کی کارروائیاں پاکستان میں نئی نہیں ہیں۔ 2017ء میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کے مزار پر ہونے والے حملے میں 90 زائرین شہید ہوئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

رواں سال جنوری کے آغاز میں صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کم از کم 10 کان کنوں کو اغوا کرنے کے بعد بے رحمی سے قتل کیا گیا، اس کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بعض واقعات کو داعش سے جوڑا جاتا ہے، تاہم کشمیر کی حریت پسند تنظیموں نے داعش کو مسترد کر دیا ہے اور اسے ایک انتہاء پسند اور شدت پسند تنظیم قرار دیا ہے، جو آزادی کے مقاصد کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ داعش اپنے آپ کو ایک عالمی تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے جبکہ کشمیر میں داخلی طور پر حریت کی تحریک جاری ہے اور کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کو دنیا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتی ہے۔

داعش اور طالبان کے مابین فرق
دولت اسلامیہ خراسان اور طالبان کے مابین بھی ایک فرق یہ ہے کہ طالبان اپنے آپ کو ایک عالمی مظہر کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے آپ کو افغانستان کی ایک اسلامی تحریک یا امارت اسلامیہ افغانستان کے عنوان سے پیش کرتے ہیں۔ دونوں کے مابین ایک اور فرق جو زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آرہا ہے، وہ داعش کا سلفی مسلک سے وابستہ ہونا ہے، جبکہ طالبان اپنے آپ کو حنفی مسلک سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔

مسالک کا اختلاف
بی بی سی نے اپنی مختلف رپورٹوں میں اس موضوع کو بہت نمایاں جگہ دی ہے۔ ایک محقق عبدالسید کے حوالے سے ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان میں اکثریت سلفی مسلک سے تعلق رکھنے والے افغانوں کی ہے، جو حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والے طالبان کی بالادستی کے مخالف ہیں۔ مختلف ذرائع کی رپورٹس کے مطابق طالبان نے اقتدار حاصل کرتے ہی افغانستان میں سلفی مسلک کی ان مساجد اور مدارس کے خلاف اقدامات کیے ہیں، جو کہ ماضی میں کسی نہ کسی صورت داعش کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ ان میں سلفی مکتب فکر کے بعض بااثر رہنماء بھی شامل ہیں، جن کے شاگرد یا ان سے وابستہ رہنے والے افغانستان میں نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان کا حصہ بن گئے تھے۔

عبدالسید نے بتایا کہ گذشتہ دو دہائیوں میں افغانستان میں سلفی مسلک کابل سمیت مشرقی اور شمالی صوبوں خصوصاً کنڑ اور ننگرہار میں تیزی سے پھیل چکا ہے۔ صوبہ ننگرہار ہی داعش کے قیام کے بعد کئی برسوں تک اس کا مضبوط گڑھ رہا ہے، جہاں سے اس تنظیم نے افغان طالبان کی قوت کا تقریباً خاتمہ کر دیا تھا۔ ان اقدامات کے بعد افغانستان کے سلفی رہنماؤں نے اس خطرے کا مسلسل اظہار کیا کہ اگر طالبان کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کے مسلک کے خلاف اقدامات بند نہیں کیے جاتے اور اس پر طالبان کی مرکزی قیادت کی یوں ہی خاموشی رہتی ہے تو یقیناً سلفی نوجوان طالبان کے خلاف انتقاماً دوبارہ داعش کا حصہ بن سکتے ہیں۔ عبدالسید کا یہ بھی کہنا ہے کہ داعش مذہبی حوالے سے طالبان سے بھی زیادہ شدت پسند مذہبی نظریات کے پیروکار ہے اور اس میں بیشتر طالبان کے سابق انتہاء پسند حامی ہیں، جو موجودہ طالبان کو اپنی بنیادی مذہبی پالیسیوں سے منحرف قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ داعش کے رکن جنگجوئوں کے مارے یا پکڑے جانے کے بعد دولت اسلامیہ کابل سے نئی بھرتیاں کر رہی ہے۔ یہ نیٹ ورک تجربہ کار، پڑھے لکھ اور انتہائی کٹر سلفی جنگجوئوں پر مشتمل ہے۔

عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ داعش طالبان سے بھی زیادہ سخت گیر ہیں۔ شام، عراق اور افغانستان میں داعش کے اقدامات کہیں زیادہ وحشیانہ اور خوفناک رہے ہیں۔ وہ طالبان کو بھی واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک طالبان مرتد ہوچکے ہیں اور وہ اسلامی حکومت کے قیام کے مقصد سے منحرف ہوگئے ہیں، لہٰذا ان سے ’’جہاد‘‘ واجب ہوچکا ہے۔ جو تحریریں، ویڈیوز اور آڈیوز داعش کی طرف سے سامنے آرہی ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ افغان طالبان کی طرف سے تمام مذہبی گروہوں کے ساتھ رواداری کے اعلانات اور تعامل کو انحراف و ارتداد ہی کی دلیل قرر دیتے ہیں۔ وہ تصوف کی طرف میلان رکھنے والوں، اہل سنت بریلوی، مجددی اور صوفی کہلانے والوں کو بھی قابل گردن زدنی سمجھتے ہیں۔ شیعوں کے تو خلاف وہ کئی ایک قاتلانہ حملے کرچکے ہیں۔ وہ واضح طور پر وحدت الوجود یا وحدت الشہود کا نظریہ رکھنے والوں کو بھی گمراہ اور واجب القتل سمجھتے ہیں۔ ان حالات میں افغانستان کے ان گروہوں کے ساتھ طالبان کے مثبت رویئے نے انھیں مزید موجودہ حکومت کے قریب کر دیا ہے یا کم از کم وہ ذہنی اور عملی طور پر داعش سے خاصے دور ہوچکے ہیں۔

پاکستان، افغان طالبان اور ٹی ٹی پی
ان سارے حقائق سے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ داعش کے حوالے سے پاکستان اور طالبان ایک پیج پر ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایرانی بھی شدت سے داعش کے خلاف ہیں۔ داعش نے دنیا بھر میں عام طور پر اور افغانستان میں خاص طور پر جس طرح سے شیعوں کے قتل عام میں کردار ادا کیا ہے، اس کے پیش نظر شیعہ بھی داعش کو اپنا جانی دشمن سمجھتے ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور طالبان کے ساتھ افغانستان کے شیعہ اور ایران بھی داعش کے حوالے سے آپس میں ہم آہنگ ہیں۔ افغانستان میں ’’فاطمیون ‘‘ کا ایک گروہ موجود ہے، جو شام میں داعش کے خلاف نبردآزما رہا ہے۔ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک بھی داعش کے خطرے کو محسوس کرتے ہیں اور اس کا خاتمہ ضروری قرار دیتے ہیں۔

پاکستان نے تقریباً ایک ماہ پہلے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا جو سلسلہ شروع کیا، اس کے پس منظر میں ان حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ افغان طالبان اور پاکستان دونوں یہ چاہتے ہیں کہ مسلح گروہ اور افراد داعش سے دوری اختیار کریں۔ داعش میں شامل افغان موجودہ طالبان حکومت کو تسلیم کریں اور پاکستانی طالبان پاکستان کے آئین کی بالادستی کو تسلیم کریں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں داعش، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان امریکہ اور نیٹو کی افواج کے خلاف ہم فکر رہے ہیں اور بعض کارروائیوں میں متعدد عناصر نے مل کر حصہ لیا ہے، لیکن اب صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔ ان بدلے ہوئے حالات میں افغان طالبان اور پاکستان مل کر ٹی ٹی پی سے جو مذاکرات کر رہے ہیں، اس کا ایک بڑا مقصد داعش کو کمزور کرنا ہے۔ نیز افغانستان اور پاکستان کو داخلی طور پر محفوظ اور مستحکم بنانا ہے۔

ٹی ٹی پی کے کئی دھڑے اور اہم کمانڈر حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے بعض عناصر نے داعش میں شمولیت اختیار کی ہے، لیکن موجودہ حالات میں زیادہ تر پاکستانی اور افغان طالبان خصوصاً حنفی مسلک رکھنے والے طالبان کا رجحان امارات اسلامیہ کی طرف ہوچکا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور ادارے بھی اس صورت حال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اس وقت کو اس مقصد کے لیے غنیمت جانتے ہیں کہ افغان طالبان کے تعاون سے ٹی ٹی پی کے ساتھ معاملات کو طے کر لیا جائے۔ یاد رہے کہ ہم نے یہاں پر بعض مذہبی اصطلاحیں افغانستان کے پس منظر میں استعمال کی ہیں، وگرنہ ہم مسلمانوں کے تمام گروہوں میں محبت اور اخوت کے حامی ہیں اور اسے ہی قرآن و سنت کا تقاضا سمجھتے ہیں۔