ایران: جامد ایندھن سے چلنے والے خلائی راکٹ انجن کا کامیاب تجربہ

  Click to listen highlighted text! تہران : ایرانی ماہرین نے پہلی بار جامد ایندھن سے چلنے والے خلائی راکٹ انجن کا کامیاب تجربہ کرلیا۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایئرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادہ نے قم میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جامد ایندھن سے چلنے والے ملک کے پہلے خلائی راکٹ انجن کا یہ تجربہ گزشتہ ہفتے کیا گیا۔ پچھلے دوسال کے دوران ایران نے جو راکٹ خلا میں بھیجے تھے، ان میں سیّال ایندھن استعمال کیا گیا تھا لیکن اب کم خرچ راکٹ انجنوں کے ذریعے بڑی تعداد میں مصنوعی سیارچے خلا میں بھیجے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نئے ایرانی خلائی راکٹوں کا ڈھانچہ، غیر دھاتی کمپوزٹ مادوں سے تیار گیا ہے ۔ نئے ایرانی راکٹوں کا پروپیلر بھی غیر متحرک قسم کا ہے جو راکٹ کی طاقت میں اضافے اور اخراجات میں کمی کا باعث ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اب تک دنیا کے صرف چار ملکوں کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبے میں ایران کی ترقی و پیشرفت کا سلسلہ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور آج ہم خلائی شعبے کی ترقی میں اس سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں سائنسدانوں کے قتل، دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے ہماری صلاحتیوں اور توانائیوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد امریکی فوجیوں کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ ایران نے اپنی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ہماری فضائی برتری کا خاتمہ کر دیا ہے جبکہ اس سے پہلے ایٹلانٹک کونسل فار ویسٹ کے سربراہ نے بھی کہا تھا کہ خلیج فارس کے ارد گرد موجود امریکی بحری بیڑے بھی 2020 میں ایران کو میزائل تجربات اور عین الاسد چھاؤنی پر حملے کرنے سے باز نہیں رکھ سکے۔

تہران : ایرانی ماہرین نے پہلی بار جامد ایندھن سے چلنے والے خلائی راکٹ انجن کا کامیاب تجربہ کرلیا۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایئرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادہ نے قم میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جامد ایندھن سے چلنے والے ملک کے پہلے خلائی راکٹ انجن کا یہ تجربہ گزشتہ ہفتے کیا گیا۔ پچھلے دوسال کے دوران ایران نے جو راکٹ خلا میں بھیجے تھے، ان میں سیّال ایندھن استعمال کیا گیا تھا لیکن اب کم خرچ راکٹ انجنوں کے ذریعے بڑی تعداد میں مصنوعی سیارچے خلا میں بھیجے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نئے ایرانی خلائی راکٹوں کا ڈھانچہ، غیر دھاتی کمپوزٹ مادوں سے تیار گیا ہے ۔ نئے ایرانی راکٹوں کا پروپیلر بھی غیر متحرک قسم کا ہے جو راکٹ کی طاقت میں اضافے اور اخراجات میں کمی کا باعث ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اب تک دنیا کے صرف چار ملکوں کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلائی شعبے میں ایران کی ترقی و پیشرفت کا سلسلہ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور آج ہم خلائی شعبے کی ترقی میں اس سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں سائنسدانوں کے قتل، دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے ہماری صلاحتیوں اور توانائیوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد امریکی فوجیوں کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ ایران نے اپنی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ہماری فضائی برتری کا خاتمہ کر دیا ہے جبکہ اس سے پہلے ایٹلانٹک کونسل فار ویسٹ کے سربراہ نے بھی کہا تھا کہ خلیج فارس کے ارد گرد موجود امریکی بحری بیڑے بھی 2020 میں ایران کو میزائل تجربات اور عین الاسد چھاؤنی پر حملے کرنے سے باز نہیں رکھ سکے۔