ایران آذربائیجان، مسئلہ کیا ہے؟

  Click to listen highlighted text! تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس وطن عزیز کے نصاب کے کئی مسائل ہیں، ان میں سے ایک اہم ترین مسئلہ جغرافیہ کا لازمی نہ ہونا بھی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عموماً ہم اس میں کورے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا مطالعہ پاکستان فقط انڈیا کے اردگرد گھومتا رہتا ہے، امت مسلمہ کا تذکرہ بھی او آئی سی کے تعارف اور چند دیگر چیزوں تک محدود ہے۔ اسلامی ممالک کے تعارف میں بھی سعودیہ، ترکی اور ایران سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ جب مسلم ممالک کے درمیان مسائل پیدا ہوتے ہیں تو ہم درست تجزیہ نہیں کر پاتے اور جذبات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک بات تو قارئین کو معلوم ہی ہوگی کہ بین الاقوامی تعلقات میں جذبات کی کوئی گنجائش نہیں، جذبات تو چھوڑیں اب نظریات کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ بین الاقوامی تعلقات میں قومیں مفادات کو ہی مدنظر رکھتی ہیں اور اسی کے ساتھ ہی تعلقات کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک وقت میں ہندوستان سوویت یونین کا تحادی تھا اور ہم امریکی بلاک کا اعلانیہ حصہ تھے۔ پچھلے کچھ عرصے میں چیزیں الٹ پلٹ ہو رہی ہیں، اب انڈیا اور امریکہ اتحادی ہیں اور ہم چین و روس کے قریب ہو چکے ہیں۔ آذر بائیجان کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آذربائیجان بنیادی طور پر ایران کا علاقہ تھا، جس پر روس نے قبضہ کر لیا تھا۔ پھر ایک معاہدے کے تحت موجودہ آذربائیجان روس کے قبضے میں چلا گیا اور باقی آذربائیجان ایران کا حصہ رہا۔ ایران میں موجود آذری آبادی آذربائیجان کی آبادی سے دوگنا زیادہ ہے۔ آذری لوگ ایران کا متحرک حصہ ہیں اور اپنی محنت و ذہانت کی بنیاد پر ایران کی معیشت میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب روس نے خطے کی دیگر ریاستوں کی طرح آذربائیجان کو چھوڑا تو اسی وقت آرمینیا اور آذربائیجان میں نوگورنو کاراخ میں جنگ شروع ہوگئی۔ آرمینیا نے طاقت کے زور پر بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ سمجھے جانے والے نوگورنو کاراخ پر قبضہ کر لیا۔ بڑی تعداد میں آذری عوام کو وہاں سے نکال دیا گیا اور علاقے کی مسلم شناخت کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ اس جنگ میں اسلامی جمہوری ایران آذری عوام کے ساتھ تھا۔ آذربائیجان نے مسلسل اس علاقے کو حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی اور ایک سال پہلے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں آذربائیجان نے یہ علاقہ واپس حاصل کر لیا۔ یہ مذاکرات روس میں ہوئے اور یہ طے پایا کہ ڈیڑھ ہزار روسی فوجی علاقے کا امن قائم کرنے کے لیے موجود رہیں گے۔ یہاں تک کی صورتحال تک تو دنیا بھر کے مسلمان ممالک نے آذربائیجان کی حمایت کی یا کسی نے بھی مخالفت نہیں کی۔ آذر بائیجان نے آرمینیا سے لڑنے کے لیے ایک فوجی طاقت جمع کی ہے، اس میں بھی مسئلہ نہیں ہے، اس میں اسے ترکی اور اسرائیل کی مدد حاصل رہی، آذربائیجان بڑی تیزی سے صیہونی ریاست کی گود میں جا رہا ہے۔ ایران اور آذربائیجان کا 765 کلومیٹر طویل بارڈر ہے، اب صیہونی ریاست ایران کے اس بارڈر پر آموجود ہوئی ہے۔ یہ بات ایران کیا، کسی بھی پرامن ملک کو قبول نہیں ہے کہ ایک قابض اور توسیع پسند ریاست کے ایجنٹ اس کے بارڈرز تک پہنچ جائیں۔ پچھلے چند سال کے واقعات کو دیکھا جائے تو بہت سے ایرانی سائنسدان تہران اور دیگر مقامات پر شہید کیے گئے ہیں۔ اس کے لیے بڑا اور بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا ہے اور اتنی بڑی مشینری بارڈر کے ذریعے ہی منتقل کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اسلامی جمہوریہ ایران میں اس حوالے سے حساسیت پائی جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اپنا علاقہ حاصل کر لینے کے بعد آذربائیجان خطے میں امن کے لیے کوشاں ہوتا، مگر اس نے صیہونیت کو جگہ دے کر علاقے میں اپنا کردار اور حیثیت مشکوک کرلی ہے۔ ایرانی سامان پر ٹیکس کی وصولی بھی شروع کر دی ہے، یعنی ایک طرح سے ایران کا راستہ روکنے کی کوشش ہے۔ ایران نے آذربائیجان بارڈر کے نزدیک عسکری مشقیں شروع کی ہیں، جس پر آذربائیجان نے غیر ضروری ردعمل دیا، اس کی ضرورت نہیں تھی کہ ملک کا صدر بارڈر پر جائے اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کی جائیں۔ آذربائیجان کے صدر نے کہا کہ اس وقت اور ہمارے ہی بارڈر پر جنگی مشقیں کیوں کی جا رہی ہیں۔؟ اتفاق کی بات ہے، خود پہلے کہا کہ یہ ہر ملک اپنا فیصلہ ہوتا ہے کہ اپنی حدود میں جب چاہے جنگی مشقیں کرسکتا ہے۔ جب ایسا ہی ہے تو ایرانی مشقیں تو ان صیہونی عناصر کے لیے ہیں، جو خطے کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں، آپ کو اس سے گھبرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ آپ کا ایران کے ساتھ کوئی براہ راست جھگڑا ہی نہیں ہے۔ لگ یوں رہا ہے کہ آذربائیجان کے صدر خود ساختہ خوف کا شکار ہیں کہ کہیں آذربائیجان میں مذہبی بیداری نہ آجائے، کیونکہ اس صورت میں انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے، اس لیے وہ ہمیشہ ترک قوم پرستی پر ہی زور دیتے ہیں۔ ویسے پاکستان نے آرمینیا کو آج تک تسلیم نہیں کیا اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ آذربائیجان ترک زبان ملک ہے بلکہ اس لیے کہ آذربائیجان ایک مسلمان ملک ہے اور اس کے خلاف ہم کسی جارحیت کو قبول نہیں کرتے۔ آذر بائیجان کو انہی بنیادوں پر فلسطینی بھائیوں کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔ جس طرح آرمینیا نے ظلم و جبر سے آذربائیجان کی زمین ہتھیا لی تھی، اس سے کہیں زیادہ جابرانہ انداز میں اسرائیل نے فلسطینی زمینوں کو ہڑپ کر لیا ہے۔ جب تک خطے میں صیہونی موجود رہیں گے، ان کی نحوست سے امن نہیں آئے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ آذر بائیجان خود کو اسرائیل سے الگ کرے اور تجارتی معاملات کو مذاکرات سے حل کرے، تاکہ خطے کا امن بحال ہو، ورنہ صیہونی ریاست مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کی پالیسی کے بعد شیعہ کو شیعہ سے لڑانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

وطن عزیز کے نصاب کے کئی مسائل ہیں، ان میں سے ایک اہم ترین مسئلہ جغرافیہ کا لازمی نہ ہونا بھی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عموماً ہم اس میں کورے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا مطالعہ پاکستان فقط انڈیا کے اردگرد گھومتا رہتا ہے، امت مسلمہ کا تذکرہ بھی او آئی سی کے تعارف اور چند دیگر چیزوں تک محدود ہے۔ اسلامی ممالک کے تعارف میں بھی سعودیہ، ترکی اور ایران سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ جب مسلم ممالک کے درمیان مسائل پیدا ہوتے ہیں تو ہم درست تجزیہ نہیں کر پاتے اور جذبات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک بات تو قارئین کو معلوم ہی ہوگی کہ بین الاقوامی تعلقات میں جذبات کی کوئی گنجائش نہیں، جذبات تو چھوڑیں اب نظریات کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ بین الاقوامی تعلقات میں قومیں مفادات کو ہی مدنظر رکھتی ہیں اور اسی کے ساتھ ہی تعلقات کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک وقت میں ہندوستان سوویت یونین کا تحادی تھا اور ہم امریکی بلاک کا اعلانیہ حصہ تھے۔ پچھلے کچھ عرصے میں چیزیں الٹ پلٹ ہو رہی ہیں، اب انڈیا اور امریکہ اتحادی ہیں اور ہم چین و روس کے قریب ہو چکے ہیں۔

آذر بائیجان کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آذربائیجان بنیادی طور پر ایران کا علاقہ تھا، جس پر روس نے قبضہ کر لیا تھا۔ پھر ایک معاہدے کے تحت موجودہ آذربائیجان روس کے قبضے میں چلا گیا اور باقی آذربائیجان ایران کا حصہ رہا۔ ایران میں موجود آذری آبادی آذربائیجان کی آبادی سے دوگنا زیادہ ہے۔ آذری لوگ ایران کا متحرک حصہ ہیں اور اپنی محنت و ذہانت کی بنیاد پر ایران کی معیشت میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب روس نے خطے کی دیگر ریاستوں کی طرح آذربائیجان کو چھوڑا تو اسی وقت آرمینیا اور آذربائیجان میں نوگورنو کاراخ میں جنگ شروع ہوگئی۔ آرمینیا نے طاقت کے زور پر بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ سمجھے جانے والے نوگورنو کاراخ پر قبضہ کر لیا۔ بڑی تعداد میں آذری عوام کو وہاں سے نکال دیا گیا اور علاقے کی مسلم شناخت کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

یاد رہے کہ اس جنگ میں اسلامی جمہوری ایران آذری عوام کے ساتھ تھا۔ آذربائیجان نے مسلسل اس علاقے کو حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی اور ایک سال پہلے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں آذربائیجان نے یہ علاقہ واپس حاصل کر لیا۔ یہ مذاکرات روس میں ہوئے اور یہ طے پایا کہ ڈیڑھ ہزار روسی فوجی علاقے کا امن قائم کرنے کے لیے موجود رہیں گے۔ یہاں تک کی صورتحال تک تو دنیا بھر کے مسلمان ممالک نے آذربائیجان کی حمایت کی یا کسی نے بھی مخالفت نہیں کی۔ آذر بائیجان نے آرمینیا سے لڑنے کے لیے ایک فوجی طاقت جمع کی ہے، اس میں بھی مسئلہ نہیں ہے، اس میں اسے ترکی اور اسرائیل کی مدد حاصل رہی، آذربائیجان بڑی تیزی سے صیہونی ریاست کی گود میں جا رہا ہے۔ ایران اور آذربائیجان کا 765 کلومیٹر طویل بارڈر ہے، اب صیہونی ریاست ایران کے اس بارڈر پر آموجود ہوئی ہے۔

یہ بات ایران کیا، کسی بھی پرامن ملک کو قبول نہیں ہے کہ ایک قابض اور توسیع پسند ریاست کے ایجنٹ اس کے بارڈرز تک پہنچ جائیں۔ پچھلے چند سال کے واقعات کو دیکھا جائے تو بہت سے ایرانی سائنسدان تہران اور دیگر مقامات پر شہید کیے گئے ہیں۔ اس کے لیے بڑا اور بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا ہے اور اتنی بڑی مشینری بارڈر کے ذریعے ہی منتقل کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اسلامی جمہوریہ ایران میں اس حوالے سے حساسیت پائی جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اپنا علاقہ حاصل کر لینے کے بعد آذربائیجان خطے میں امن کے لیے کوشاں ہوتا، مگر اس نے صیہونیت کو جگہ دے کر علاقے میں اپنا کردار اور حیثیت مشکوک کرلی ہے۔ ایرانی سامان پر ٹیکس کی وصولی بھی شروع کر دی ہے، یعنی ایک طرح سے ایران کا راستہ روکنے کی کوشش ہے۔

ایران نے آذربائیجان بارڈر کے نزدیک عسکری مشقیں شروع کی ہیں، جس پر آذربائیجان نے غیر ضروری ردعمل دیا، اس کی ضرورت نہیں تھی کہ ملک کا صدر بارڈر پر جائے اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کی جائیں۔ آذربائیجان کے صدر نے کہا کہ اس وقت اور ہمارے ہی بارڈر پر جنگی مشقیں کیوں کی جا رہی ہیں۔؟ اتفاق کی بات ہے، خود پہلے کہا کہ یہ ہر ملک اپنا فیصلہ ہوتا ہے کہ اپنی حدود میں جب چاہے جنگی مشقیں کرسکتا ہے۔ جب ایسا ہی ہے تو ایرانی مشقیں تو ان صیہونی عناصر کے لیے ہیں، جو خطے کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں، آپ کو اس سے گھبرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ آپ کا ایران کے ساتھ کوئی براہ راست جھگڑا ہی نہیں ہے۔ لگ یوں رہا ہے کہ آذربائیجان کے صدر خود ساختہ خوف کا شکار ہیں کہ کہیں آذربائیجان میں مذہبی بیداری نہ آجائے، کیونکہ اس صورت میں انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے، اس لیے وہ ہمیشہ ترک قوم پرستی پر ہی زور دیتے ہیں۔

ویسے پاکستان نے آرمینیا کو آج تک تسلیم نہیں کیا اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ آذربائیجان ترک زبان ملک ہے بلکہ اس لیے کہ آذربائیجان ایک مسلمان ملک ہے اور اس کے خلاف ہم کسی جارحیت کو قبول نہیں کرتے۔ آذر بائیجان کو انہی بنیادوں پر فلسطینی بھائیوں کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔ جس طرح آرمینیا نے ظلم و جبر سے آذربائیجان کی زمین ہتھیا لی تھی، اس سے کہیں زیادہ جابرانہ انداز میں اسرائیل نے فلسطینی زمینوں کو ہڑپ کر لیا ہے۔ جب تک خطے میں صیہونی موجود رہیں گے، ان کی نحوست سے امن نہیں آئے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ آذر بائیجان خود کو اسرائیل سے الگ کرے اور تجارتی معاملات کو مذاکرات سے حل کرے، تاکہ خطے کا امن بحال ہو، ورنہ صیہونی ریاست مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کی پالیسی کے بعد شیعہ کو شیعہ سے لڑانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔