اقبال کا تصورِ عقل و عشق

  Click to listen highlighted text! تحریر: سویرا بتول اقبال ہمارے قومی اور ملی شاعر ہیں۔ وہ عظمتِ انسان کے مبلغ ہیں، جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعے فلسفہ حیات دیا۔ وہ فلسفہ مسلسل عمل اور پہیم جدوجہد کا ہے، یعنی وہ ایک فلسفی بھی ہیں اور شاعر بھی۔ اقبال کے فلسفہ حیات کی بنیاد میں جو تصورات ہیں، خودی کا تصور اِن میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے، جس سے مراد ذات کی تعمير اور استحکام ہے۔ جب خودی مستحکم ہو تو بندہ غیر کے آگے نہ ہاتھ پھیلاتا ہے اور نہ جھکتا ہے اور وہ اپنی دنیا آپ پیدا کرتا ہے۔ خودی کی تعمیر میں عقل بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے مگر عقل چونکہ محدود ہے اور عشق کا جذبہ اِس کی راہیں روشن کرکے بندے کو خدا کے قریب کر دیتا ہے۔ خودی کیا ہے رازِ درونِ حیات خودی کیا ہے بیداری کاٸنات اگر یہ پیکرِ خاکی خودی سے ہے خالی فقط نیام ہے تو زرنگار و بے شمشیر خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغِ فساں لا الہ الا اللہ خودی کا تصور ہو یا مردِ مومن کا تصور، عظمتِ آدم کا بیان ہو یا ملتِ اسلامیہ کی بیداری اور سرفرازی کا ذکر، مغربی تہذیب و تمدن اور علم و دانش پر تنقید ہو یا علوم و فنون کی روح کی بات، سب میں عشق کا جذبہ کارفرما نظر آتا ہے۔ عقل و دل یا عقل و عشق کا موازنہ اقبال کی شاعری کا ایک نمایاں رنگ ہے۔ وہ عقل کے مخالف تو نہیں مگر عقل کو حقائق اشیاء کے سمجھنے کے لیے ناقص قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ عمل و دانش کا منبع عقل ہی ہے مگر عقل ایک حد تک ہی انسان کی رہنمائی کرسکتی ہے۔ اقبال کا ایک مشہور شعر ہے: بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشاٸے لبِ بام ابھی وہ لالہ کے پھول کا رنگ تو دیکھ سکتی ہے مگر اِس کی حقيقت کو نہیں پا سکتی۔ عقل شک و شبہ میں مبتلا کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں: عشق تمام مصطفیٰﷺ، عقل تمام بو لہب اسی کو معیار بنا کر وہ مغربی افکار اور مغربی تہذیب پر سخت تنقید کرتے ہیں کہ یہ تہذیب روحانیت سے عاری ہے۔ لطف یہ ہے کہ عشق کا لازمی نتیجہ بے تابی اور اضطراب ہے، لیکن دل کو اسی میں مزہ ملتا ہے: ایں حرفِ نشاط آور می گویم و می رقصم از عشق دل آساٸید با ایں ہمہ بے تابی علم اور عقل انسان کو منزل کے قریب تو پہنچا سکتے ہیں لیکن بغیر عشق کی مدد کے منزل کو طے نہیں کراسکتے۔ عشق عقل سے زیادہ صاحبِ ادراک ہے: زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعلِ راہ کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحبِ ادراک بغیر نورِ عشق کے، علم و عقل کی مدد سے دین و تمدن کی جو توجیہ کی جاٸے گی، وہ حقيقت پر کبھی بھی حاوی نہیں ہوسکتی۔ عقل تصورات کا بت کدہ بنا سکتی ہے لیکن زندگی کی صحیح رہبری نہیں کرسکتی: عقل و د ونگاہ کا مرشد اولیں ہے عشق عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدہ تصورات عقل کی عیاری اور عشق کی سادگی و اخلاص کو اس طرح ظاہر کیا ہے: عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم اقبال کو عقل سے شکایت ہے کہ وہ ظن و تخمین کی ایسی پابند ہو جاتی ہے کہ اُس میں تخلیقی استعداد اور قوتِ عمل مفقود ہو جاتی ہے، لیکن عقل بھی ذوق نگہ سے بالکل محروم نہیں ہے: عقل ہم عشق است و از ذوقِ نظر بیگانہ نیست لیکن ایں بے چارا آں جراتِ رندانہ نیست اُن لوگوں کی طرف جو اپنی دنیاوی عقل پر ناز کرتے ہیں، انہوں نے یوں اشارہ کیا ہے: حکیم میری نواٶں کا راز کیا جانے دراٸے عقل ہیں اہل جنوں کی تدبیریں روحانی ترقی جسے اقبال حیاتِ انسانی کا اصل مقصود گردانتے ہیں، عشق کی رہبری کی محتاج ہے اور اس میں اقبال عقل و علم کو بے دست و پا خیال کرتے ہیں، خود انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ: خرد نے مجھ کو عطا کی نظرِ حکیمانہ سکھاٸی عشق نے مجھ کو حدیث ِرندانہ ان تفصيلات سے اقبال کے تصور عقل و عشق کا پتہ چلتا ہے۔ وہ اگرچہ عشق کو عقل پر فوقیت دیتے ہیں، تاہم عقل کی اہمیت سے انکاری نہیں۔ اقبال کے تصورِ عشق کو ہم صرف تصوف و وجدان کے ذریعے درک کرسکتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق محض اضطراری کیفیت، ہیجان جنسی، حواس باختہ از خود رفتگی، فنا آمادگی یا محدود کو لامحدود میں گم کر دینے کا نام نہیں بلکہ اِن کے یہاں عشق نام ہے ایک عالمگیر قوتِ حیات کا، جذبہ عمل سے سرشاری کا، حصولِ مقصد کے لیے بے پناہ لگن کا اور عزم و آرزو سے آراستہ جہدِ مسلسل کا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کا تصورِ عشق روایتی تصور سے قطعی منفرد اور ہٹ کر ہے۔ مومن از عشق است و عشق از مومن است عشق را ناممکن ما ممکن است

تحریر: سویرا بتول

اقبال ہمارے قومی اور ملی شاعر ہیں۔ وہ عظمتِ انسان کے مبلغ ہیں، جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعے فلسفہ حیات دیا۔ وہ فلسفہ مسلسل عمل اور پہیم جدوجہد کا ہے، یعنی وہ ایک فلسفی بھی ہیں اور شاعر بھی۔ اقبال کے فلسفہ حیات کی بنیاد میں جو تصورات ہیں، خودی کا تصور اِن میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے، جس سے مراد ذات کی تعمير اور استحکام ہے۔ جب خودی مستحکم ہو تو بندہ غیر کے آگے نہ ہاتھ پھیلاتا ہے اور نہ جھکتا ہے اور وہ اپنی دنیا آپ پیدا کرتا ہے۔ خودی کی تعمیر میں عقل بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے مگر عقل چونکہ محدود ہے اور عشق کا جذبہ اِس کی راہیں روشن کرکے بندے کو خدا کے قریب کر دیتا ہے۔
خودی کیا ہے رازِ درونِ حیات
خودی کیا ہے بیداری کاٸنات
اگر یہ پیکرِ خاکی خودی سے ہے خالی
فقط نیام ہے تو زرنگار و بے شمشیر
خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغِ فساں لا الہ الا اللہ

خودی کا تصور ہو یا مردِ مومن کا تصور، عظمتِ آدم کا بیان ہو یا ملتِ اسلامیہ کی بیداری اور سرفرازی کا ذکر، مغربی تہذیب و تمدن اور علم و دانش پر تنقید ہو یا علوم و فنون کی روح کی بات، سب میں عشق کا جذبہ کارفرما نظر آتا ہے۔ عقل و دل یا عقل و عشق کا موازنہ اقبال کی شاعری کا ایک نمایاں رنگ ہے۔ وہ عقل کے مخالف تو نہیں مگر عقل کو حقائق اشیاء کے سمجھنے کے لیے ناقص قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ عمل و دانش کا منبع عقل ہی ہے مگر عقل ایک حد تک ہی انسان کی رہنمائی کرسکتی ہے۔ اقبال کا ایک مشہور شعر ہے:
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشاٸے لبِ بام ابھی
وہ لالہ کے پھول کا رنگ تو دیکھ سکتی ہے مگر اِس کی حقيقت کو نہیں پا سکتی۔ عقل شک و شبہ میں مبتلا کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں:
عشق تمام مصطفیٰﷺ، عقل تمام بو لہب

اسی کو معیار بنا کر وہ مغربی افکار اور مغربی تہذیب پر سخت تنقید کرتے ہیں کہ یہ تہذیب روحانیت سے عاری ہے۔ لطف یہ ہے کہ عشق کا لازمی نتیجہ بے تابی اور اضطراب ہے، لیکن دل کو اسی میں مزہ ملتا ہے:
ایں حرفِ نشاط آور می گویم و می رقصم
از عشق دل آساٸید با ایں ہمہ بے تابی
علم اور عقل انسان کو منزل کے قریب تو پہنچا سکتے ہیں لیکن بغیر عشق کی مدد کے منزل کو طے نہیں کراسکتے۔ عشق عقل سے زیادہ صاحبِ ادراک ہے:
زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعلِ راہ
کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحبِ ادراک

بغیر نورِ عشق کے، علم و عقل کی مدد سے دین و تمدن کی جو توجیہ کی جاٸے گی، وہ حقيقت پر کبھی بھی حاوی نہیں ہوسکتی۔ عقل تصورات کا بت کدہ بنا سکتی ہے لیکن زندگی کی صحیح رہبری نہیں کرسکتی:
عقل و د ونگاہ کا مرشد اولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدہ تصورات
عقل کی عیاری اور عشق کی سادگی و اخلاص کو اس طرح ظاہر کیا ہے:
عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم
اقبال کو عقل سے شکایت ہے کہ وہ ظن و تخمین کی ایسی پابند ہو جاتی ہے کہ اُس میں تخلیقی استعداد اور قوتِ عمل مفقود ہو جاتی ہے، لیکن عقل بھی ذوق نگہ سے بالکل محروم نہیں ہے:
عقل ہم عشق است و از ذوقِ نظر بیگانہ نیست
لیکن ایں بے چارا آں جراتِ رندانہ نیست

اُن لوگوں کی طرف جو اپنی دنیاوی عقل پر ناز کرتے ہیں، انہوں نے یوں اشارہ کیا ہے:
حکیم میری نواٶں کا راز کیا جانے
دراٸے عقل ہیں اہل جنوں کی تدبیریں
روحانی ترقی جسے اقبال حیاتِ انسانی کا اصل مقصود گردانتے ہیں، عشق کی رہبری کی محتاج ہے اور اس میں اقبال عقل و علم کو بے دست و پا خیال کرتے ہیں، خود انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ:
خرد نے مجھ کو عطا کی نظرِ حکیمانہ
سکھاٸی عشق نے مجھ کو حدیث ِرندانہ

ان تفصيلات سے اقبال کے تصور عقل و عشق کا پتہ چلتا ہے۔ وہ اگرچہ عشق کو عقل پر فوقیت دیتے ہیں، تاہم عقل کی اہمیت سے انکاری نہیں۔ اقبال کے تصورِ عشق کو ہم صرف تصوف و وجدان کے ذریعے درک کرسکتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق محض اضطراری کیفیت، ہیجان جنسی، حواس باختہ از خود رفتگی، فنا آمادگی یا محدود کو لامحدود میں گم کر دینے کا نام نہیں بلکہ اِن کے یہاں عشق نام ہے ایک عالمگیر قوتِ حیات کا، جذبہ عمل سے سرشاری کا، حصولِ مقصد کے لیے بے پناہ لگن کا اور عزم و آرزو سے آراستہ جہدِ مسلسل کا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کا تصورِ عشق روایتی تصور سے قطعی منفرد اور ہٹ کر ہے۔
مومن از عشق است و عشق از مومن است
عشق را ناممکن ما ممکن است