مرضی کا نصاب مسلط کرنا بھی تعلیم پر حملے کے مترادف ہے، علامہ سید ساجد علی نقوی

راولپنڈی: سربراہ شیعہ علماء کونسل علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ تعلیم سب کےلئے نعرہ بہت عمدہ مگر آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا، تعلیم پر حملہ صرف بیرونی سطح پر نہیں بلکہ نصاب تعلیم کی تدوین کے ذریعے بھی کئے جاتے ہیں، تعلیمی نصاب میں من مانی اور مرضی کا نصاب مسلط کرنا بھی حملوں کے مترادف ہے، عصری تقاضوں، علاقائی و ملی عوامل پر مشتمل نصاب تعلیم انتہائی اہمیت کا حامل ہے،عالمی و ملکی سطح پر تمام نصابی مضامین کو مشترکات پر مبنی کرکے نظام تعلیم کو بہتر اور تنازعات سے بچایا جاسکتاہے، پاکستان میں تعلیم کےلئے مختص کردہ بجٹ انتہائی کم ہے۔ بشمول پاکستان دنیا میں کروڑوں بچے زیور تعلیم سے محروم ہیں جس سے مقامی حکومتوں کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں کی عدم توجہی بھی شامل ہے، دن تو منایا جارہاہے مگر جنگ زدہ علاقوں شام، افغانستان، یمن، لیبیا ،افریقہ اور میانمار میں آ ج بھی کروڑوں بچے جہالت کے گھپ اندھیرو ں میں ڈوبے علم کی روشنی کے منتظر ہیں، حالیہ سیلاب نے پاکستان میں بھی جہاں دیگر کئی شعبوں کو متاثر کیا وہیں تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

  Click to listen highlighted text! راولپنڈی: سربراہ شیعہ علماء کونسل علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ تعلیم سب کےلئے نعرہ بہت عمدہ مگر آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا، تعلیم پر حملہ صرف بیرونی سطح پر نہیں بلکہ نصاب تعلیم کی تدوین کے ذریعے بھی کئے جاتے ہیں، تعلیمی نصاب میں من مانی اور مرضی کا نصاب مسلط کرنا بھی حملوں کے مترادف ہے، عصری تقاضوں، علاقائی و ملی عوامل پر مشتمل نصاب تعلیم انتہائی اہمیت کا حامل ہے،عالمی و ملکی سطح پر تمام نصابی مضامین کو مشترکات پر مبنی کرکے نظام تعلیم کو بہتر اور تنازعات سے بچایا جاسکتاہے، پاکستان میں تعلیم کےلئے مختص کردہ بجٹ انتہائی کم ہے۔ بشمول پاکستان دنیا میں کروڑوں بچے زیور تعلیم سے محروم ہیں جس سے مقامی حکومتوں کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں کی عدم توجہی بھی شامل ہے، دن تو منایا جارہاہے مگر جنگ زدہ علاقوں شام، افغانستان، یمن، لیبیا ،افریقہ اور میانمار میں آ ج بھی کروڑوں بچے جہالت کے گھپ اندھیرو ں میں ڈوبے علم کی روشنی کے منتظر ہیں، حالیہ سیلاب نے پاکستان میں بھی جہاں دیگر کئی شعبوں کو متاثر کیا وہیں تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔