امام حسین ؑ دین اسلام کو بچانے والے

  Click to listen highlighted text! قتل حسینؑ اصل میں مرگ یزید ہےاسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد!پیغمبر آخر الزمان حضرت محمدمصطفی(ص) نے چودہ سوسال قبل دنیا کو دین اسلام سے متعارف کرایا۔ آپ نے اور آپ کے اہل بیت اطہار ؑ نے اس دین کی نشرواشاعت اور حفاظت جس انداز سے کی، اس کی مثال نہیں ملتی، مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا تک کا سفر ان قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے، جب دنیا تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی اور اس میں بسنے والے غفلت کی نیند میں تھے۔ استعمار اور ظلم نے لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کردیا تھا۔ تو ایسے میں حضرت امام حسین ؑنے اپنے مقدس خون سے دیا روشن کرکے سوئی ہوئی انسانیت کو بیدار کیا اور جہالت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی انسانیت کو آزاد کرایا۔فرزند رسول امام مظلوم نے پیکر عزم و ہمت بن کر میدان کربلا میں جہاد کا وہ عملی نمونہ پیش کیا جو کہ آج پندرھویں صدی کے انسان کو جھنجھوڑ کر کہہ رہا ہے کہ اے مظلومو! یہ نہ سوچو کہ تم کمزور ہو، اس لئے کہ میری شہادت مظلوم کے لئے راہ نجات ہے، پیغام حریت (آزادی) ہے اور ظلم کے خلاف احتجاج کرنے کا ایک طریقہ معین کرتی ہے ، دنیائے اسلام کی تاریخ میں سانحہ کربلا کی نوعیت کا کوئی واقعہ نہیں ملتا، 61 ہجری میں پیش آنے والا یہ واقعہ وہ سانحہ ہے جس کے ذریعے خاندان رسالت نے عالم انسانیت کے لئے ایک نہایت عظیم درسگاہ کا اہتمام کیا تھا ، دس محرم 61 ھ کو امام مظلوم ؑ نے اپنی شہادت سے عین قبل ایک صدا بلند کی”کوئی ہے جو ہماری مدد کرے۔“ لیکن جب کوئی مدد کے لئے آگے نہیں بڑھا، تو آپؑ نے بے اختیار فرمایا: اگر میرے نانا محمد(ص) کا دین میرے قتل کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا تو اے تلوارو آئو اور مجھ پر ٹوٹ پڑو، اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سید الشہداءؑ کا مدد کے لئے پکارنا اپنی حفاظت کے لئے نہیں تھا بلکہ بلکتی ہوئی انسانیت اور سسکتی ہوئی شریعت کی حفاظت اور اسے حیات ابدی (ہمیشہ رہنے والی) بخشنے کے لئے تھا، شاید یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا سے لے کر اب تک اسلام کی حفاظت و حمایت کے لئے یہی سوچ کر اگر قدم اٹھایا گیا کہ ”ہر روزعاشورہ ہے اور ہر زمین کربلا ہے۔“ تو وہ قدم ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوا، اسی لئے مولانا محمد علی جوہر کا کہنا بجا ہے کہ ”اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔“کربلا محض ایک تاریخی واقعہ ہی نہیں بلکہ ایک تحریک بھی ہے، اس لئے کہ امام حسین ؑ نے بیعت یزید سے انکار محض ذاتی اور انفرادی حد تک نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا: مجھ جیسا حسین ؑ تجھ جیسے یزید کی بیعت نہیں کر سکتا، اس طرح یہ مسئلہ حضرت امام حسین ؑ اور یزید کا مسئلہ بننے کی بجائے حسینیت اور یزیدیت کا ابدی(ہمیشہ رہنے والا) مسئلہ بن گیا:حسین ؑ ایک شخص کا نام ہے اور حسینیت حسین ؑ کا وہ عظیم الشان کردار ہے، جس کا عظیم المثال مظاہرہ دنیا کے سامنے کربلا کے میدان میں ہوا، جہاں امام حسین ؑ لوگوں کو بتاتے رہے:” ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔“امام حسین ؑ مکہ سے روانگی کے وقت اور راستہ میں لوگوں کو یہ بتاتے رہے کہ ہم حکومت یا ریاست کی خاطر یا مال غنیمت کی لالچ میں نہیں جارہے ہیں بلکہ ایک عظیم مقصد کے لئے جارہے ہیں ، جو کہ معاشرے کی اصلاح ہے۔آج جب کہ پھر انسانیت کی کشتی صہیونیت کے طوفان میں پھنس رہی ہے، ظلم بڑھتا جارہا ہے ، باطل کا سیلاب بڑھتا چلا آرہا ہے، دنیا پرستی، فرقہ واریت ، بے حیائی اور دیگر جاہلانہ تعصبات پوری طاقت کے ساتھ دنیا کو اپنے چنگل میں دبوچ رہے ہیں ، خود غرضی اور نفس پرستی آزادی کے مدمقابل ہے، طاقتور کمزور کو دبا رہا ہے، انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں ، ایسے نازک حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئے جوش اور ولولے کے ساتھ مقصد امام حسین ؑ کو سمجھتے ہوئے زندہ عزم اور جوان ارادوں کے ساتھ حسینیت کے بھولے ہوئے سبق کو دہرائیں اور امام حسین ؑ نے آزادی، مساوات اور اخوت کی جو آواز بلند کی تھی، اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔دوستو! ایام عزا میں ہمیں امام حسین ؑ کے پیغام کو سمجھنا چاہیے، ہمیں اسلام کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور اس راہ میں صبر و استقامت سے کام لینا چاہیے۔


قتل حسینؑ اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد!
پیغمبر آخر الزمان حضرت محمدمصطفی(ص) نے چودہ سوسال قبل دنیا کو دین اسلام سے متعارف کرایا۔ آپ نے اور آپ کے اہل بیت اطہار ؑ نے اس دین کی نشرواشاعت اور حفاظت جس انداز سے کی، اس کی مثال نہیں ملتی، مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا تک کا سفر ان قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے، جب دنیا تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی اور اس میں بسنے والے غفلت کی نیند میں تھے۔ استعمار اور ظلم نے لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کردیا تھا۔ تو ایسے میں حضرت امام حسین ؑنے اپنے مقدس خون سے دیا روشن کرکے سوئی ہوئی انسانیت کو بیدار کیا اور جہالت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی انسانیت کو آزاد کرایا۔
فرزند رسول امام مظلوم نے پیکر عزم و ہمت بن کر میدان کربلا میں جہاد کا وہ عملی نمونہ پیش کیا جو کہ آج پندرھویں صدی کے انسان کو جھنجھوڑ کر کہہ رہا ہے کہ اے مظلومو! یہ نہ سوچو کہ تم کمزور ہو، اس لئے کہ میری شہادت مظلوم کے لئے راہ نجات ہے، پیغام حریت (آزادی) ہے اور ظلم کے خلاف احتجاج کرنے کا ایک طریقہ معین کرتی ہے ، دنیائے اسلام کی تاریخ میں سانحہ کربلا کی نوعیت کا کوئی واقعہ نہیں ملتا، 61 ہجری میں پیش آنے والا یہ واقعہ وہ سانحہ ہے جس کے ذریعے خاندان رسالت نے عالم انسانیت کے لئے ایک نہایت عظیم درسگاہ کا اہتمام کیا تھا ، دس محرم 61 ھ کو امام مظلوم ؑ نے اپنی شہادت سے عین قبل ایک صدا بلند کی”کوئی ہے جو ہماری مدد کرے۔“ لیکن جب کوئی مدد کے لئے آگے نہیں بڑھا، تو آپؑ نے بے اختیار فرمایا: اگر میرے نانا محمد(ص) کا دین میرے قتل کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا تو اے تلوارو آئو اور مجھ پر ٹوٹ پڑو، اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سید الشہداءؑ کا مدد کے لئے پکارنا اپنی حفاظت کے لئے نہیں تھا بلکہ بلکتی ہوئی انسانیت اور سسکتی ہوئی شریعت کی حفاظت اور اسے حیات ابدی (ہمیشہ رہنے والی) بخشنے کے لئے تھا، شاید یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا سے لے کر اب تک اسلام کی حفاظت و حمایت کے لئے یہی سوچ کر اگر قدم اٹھایا گیا کہ ”ہر روزعاشورہ ہے اور ہر زمین کربلا ہے۔“ تو وہ قدم ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوا، اسی لئے مولانا محمد علی جوہر کا کہنا بجا ہے کہ ”اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔“
کربلا محض ایک تاریخی واقعہ ہی نہیں بلکہ ایک تحریک بھی ہے، اس لئے کہ امام حسین ؑ نے بیعت یزید سے انکار محض ذاتی اور انفرادی حد تک نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا: مجھ جیسا حسین ؑ تجھ جیسے یزید کی بیعت نہیں کر سکتا، اس طرح یہ مسئلہ حضرت امام حسین ؑ اور یزید کا مسئلہ بننے کی بجائے حسینیت اور یزیدیت کا ابدی(ہمیشہ رہنے والا) مسئلہ بن گیا:
حسین ؑ ایک شخص کا نام ہے اور حسینیت حسین ؑ کا وہ عظیم الشان کردار ہے، جس کا عظیم المثال مظاہرہ دنیا کے سامنے کربلا کے میدان میں ہوا، جہاں امام حسین ؑ لوگوں کو بتاتے رہے:
” ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔“
امام حسین ؑ مکہ سے روانگی کے وقت اور راستہ میں لوگوں کو یہ بتاتے رہے کہ ہم حکومت یا ریاست کی خاطر یا مال غنیمت کی لالچ میں نہیں جارہے ہیں بلکہ ایک عظیم مقصد کے لئے جارہے ہیں ، جو کہ معاشرے کی اصلاح ہے۔
آج جب کہ پھر انسانیت کی کشتی صہیونیت کے طوفان میں پھنس رہی ہے، ظلم بڑھتا جارہا ہے ، باطل کا سیلاب بڑھتا چلا آرہا ہے، دنیا پرستی، فرقہ واریت ، بے حیائی اور دیگر جاہلانہ تعصبات پوری طاقت کے ساتھ دنیا کو اپنے چنگل میں دبوچ رہے ہیں ، خود غرضی اور نفس پرستی آزادی کے مدمقابل ہے، طاقتور کمزور کو دبا رہا ہے، انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں ، ایسے نازک حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئے جوش اور ولولے کے ساتھ مقصد امام حسین ؑ کو سمجھتے ہوئے زندہ عزم اور جوان ارادوں کے ساتھ حسینیت کے بھولے ہوئے سبق کو دہرائیں اور امام حسین ؑ نے آزادی، مساوات اور اخوت کی جو آواز بلند کی تھی، اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔
دوستو! ایام عزا میں ہمیں امام حسین ؑ کے پیغام کو سمجھنا چاہیے، ہمیں اسلام کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور اس راہ میں صبر و استقامت سے کام لینا چاہیے۔