حکومت تسلیم نہ کی تو دشمنی کے دروازے کھلے ہیں، طالبان کا امریکا کو دو ٹوک پیغام

  Click to listen highlighted text! کابل : طالبان نے امریکا کو دو ٹوک پیغام میں کہا ہے کہ ہمیں تسلیم نہ کیا تو دشمنی کے دروازے کھلے ہیں۔ طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ اگر امریکانے طالبان حکومت کو تسلیم نہ کیا تو اس کے ساتھ دشمنی کے دروازے کھلے رہیں گے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکا طالبان کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا تو طالبان اسے دھمکیاں دیتے رہیں گے۔ افغانستان میں کوئی دہشت گرد تنظیم یا گروپ نہیں ہے جس سے امریکی مفادات کو خطرہ ہو۔ ہم امریکا کے ساتھ دوحہ معاہدے کے پابند ہیں لیکن امریکا پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ہمیں ان سے وعدہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا کہ ہم کسی تنظیم یا گروہ کو اپنی سرزمین کوان کے مفادات کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ہم نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنی سرزمین کے اندر سے ان کے خلاف کوئی خطرہ پیدا نہیں ہونے دیا۔‘حقانی کا ماننا ہے کہ طالبان کے خلاف تمام مغربی اقدامات کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا، ان کے ساتھ غیر سرکاری بات چیت کرتا ہے اور مغربی ممالک کو ان کے ساتھ روابط کی اجازت نہیں دیتا اور یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ افغانستان میں باقاعدہ فوج کے قیام اور اس میں سابق فوجیوں اور افسروں کی بھرتی کے بارے میں سراج نے کہا کہ سابق فوجیوں کے تقویٰ اور مہارت کی بنیاد پر ہم انہیں اپنی فوج کی صفوں میں جگہ دیں گے۔

کابل : طالبان نے امریکا کو دو ٹوک پیغام میں کہا ہے کہ ہمیں تسلیم نہ کیا تو دشمنی کے دروازے کھلے ہیں۔ طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ اگر امریکانے طالبان حکومت کو تسلیم نہ کیا تو اس کے ساتھ دشمنی کے دروازے کھلے رہیں گے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکا طالبان کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا تو طالبان اسے دھمکیاں دیتے رہیں گے۔ افغانستان میں کوئی دہشت گرد تنظیم یا گروپ نہیں ہے جس سے امریکی مفادات کو خطرہ ہو۔ ہم امریکا کے ساتھ دوحہ معاہدے کے پابند ہیں لیکن امریکا پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ہمیں ان سے وعدہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا کہ ہم کسی تنظیم یا گروہ کو اپنی سرزمین کوان کے مفادات کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ہم نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنی سرزمین کے اندر سے ان کے خلاف کوئی خطرہ پیدا نہیں ہونے دیا۔‘حقانی کا ماننا ہے کہ طالبان کے خلاف تمام مغربی اقدامات کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا، ان کے ساتھ غیر سرکاری بات چیت کرتا ہے اور مغربی ممالک کو ان کے ساتھ روابط کی اجازت نہیں دیتا اور یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ افغانستان میں باقاعدہ فوج کے قیام اور اس میں سابق فوجیوں اور افسروں کی بھرتی کے بارے میں سراج نے کہا کہ سابق فوجیوں کے تقویٰ اور مہارت کی بنیاد پر ہم انہیں اپنی فوج کی صفوں میں جگہ دیں گے۔