عزاداری میں انتظامیہ کی مداخلت بند نہ ہوئی تو اربعین پر لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، علمائے کرام

کراچی : کراچی میں شیعہ علمائے کرام نے نشترپارک کے مرکز پر قبضے کی کوشش اور اداروں کی عزاداری کے پروگراموں میں مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ قوم کے تمام افراد عزاداری کی حفاظت کیلئے تیار رہیں۔ شیعہ علما کونسل کے زیر اہتمام علما کا نمائندہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں شہر کے جید و مشہور علما ، مدرسین اور مدارس کے مہتمم حضرات سمیت قومیات سے تعلق رکھنے والے علما نے شرکت کی۔ اجلاس میں عزاداری امام حسین ؑ خصوصاً چہلم سید الشہدا علیہ السلام کی راہ میں موجود رکاوٹوں اور مسائل کو زیر بحث لایا گیا۔ اجلاس میں شریک علما نے واضح انداز میں اپنا دوٹوک مؤقف پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ علمائے کرام ہر مشکل وقت میں ملک و قوم کے ساتھ ہیں۔ بدترین دہشت گردی کا زمانہ ہو یا زلزلہ و سیلاب زدگان کی مدد یا ملک و قوم کو درپیش چیلنجز اور تمام حالات میں علما ہمیشہ عوام کے ساتھ ان کے دکھ درد میں شریک رہے ہیں۔ سازش کے تحت مکتب تشیع کے عقائد کو خراب کرنے کیلئے عزاداری میں ملحدانہ و غلو آمیز نظریات کی آمیزش کی جارہی ہے ۔جس میں ایک طرف شیعہ عقائد کو مسخ کرکے پیش کیا جائے گا تو دوسری طرف فرقہ واریت کو ہوا دی جائے گی۔اب اس کے نئے مرحلے کی جانب دشمن کی سازشوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ کراچی کی عزاداری کو ایک خاص مقام و مرکزیت حاصل ہے ۔اب اس مرکزی عزاداری کے خلاف نیز اس مرکز کو توڑنے کے عمل کی گھناؤنی سازش کو علمائے کرام نے بے نقاب کر دیا ہے۔ علمائے کرام نو، دس محرم اور چہلم کے دن مرکزی مجلس و عزاداری کا انتظام و اہتمام کرنے والی پاک محرم ایسوسی ایشن کو ہی اس کام کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ادارے کے جنرل سیکریٹری اور روح رواں محترم سرور علی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ اور ناروا سلوک کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی ادارے اور انتظامیہ اپنے اپنے دائرہ کار اور حدود میں رہتے ہوئے عزاداری امام حسین ؑ کو منظم کرنے کا کام کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں کہ جس سے عزاداری میں خلل واقع ہو۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عزاداران امام حسین ؑ مرکزی مجلس عزا و جلوس میں بھر پور شرکت کریں۔ چہلم کا جلوس اپنی تمام تر روایات کے تحت نشتر پارک سے برآمد ہو گا اور نماز دوران مرکزی جلوس، سبیلیں، کیمپ اور میڈیکل کیمپ وغیرہ اسی انداز سے لگائے جائیں گے جس طرح ماضی میں لگائے جاتے رہے ہیں ۔ 20 صفر تک اگر انتظامیہ اورمتعلقہ اداروں کی جانب سے معاملات میں بہتری و سنجیدگی نظر نہیں آئی اور انتظامیہ کے خود ساختہ مسائل و بحران کو صحیح ، قانونی اور منطقی انداز سے بہتر طور پر ختم نہیں کیا جاتا تو علمائے کرام روز اربعین امام حسین ؑ کو جلوس عزا میں اپنے آئندہ لائحہ عمل کا قوم کے سامنے اعلان کریں گے۔ اجلاس میں علامہ شبیر میثمی، علامہ شیخ محمد سلیم، علامہ ناظر تقوی اور دیگر شریک ہوئے۔

  Click to listen highlighted text! کراچی : کراچی میں شیعہ علمائے کرام نے نشترپارک کے مرکز پر قبضے کی کوشش اور اداروں کی عزاداری کے پروگراموں میں مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ قوم کے تمام افراد عزاداری کی حفاظت کیلئے تیار رہیں۔ شیعہ علما کونسل کے زیر اہتمام علما کا نمائندہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں شہر کے جید و مشہور علما ، مدرسین اور مدارس کے مہتمم حضرات سمیت قومیات سے تعلق رکھنے والے علما نے شرکت کی۔ اجلاس میں عزاداری امام حسین ؑ خصوصاً چہلم سید الشہدا علیہ السلام کی راہ میں موجود رکاوٹوں اور مسائل کو زیر بحث لایا گیا۔ اجلاس میں شریک علما نے واضح انداز میں اپنا دوٹوک مؤقف پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ علمائے کرام ہر مشکل وقت میں ملک و قوم کے ساتھ ہیں۔ بدترین دہشت گردی کا زمانہ ہو یا زلزلہ و سیلاب زدگان کی مدد یا ملک و قوم کو درپیش چیلنجز اور تمام حالات میں علما ہمیشہ عوام کے ساتھ ان کے دکھ درد میں شریک رہے ہیں۔ سازش کے تحت مکتب تشیع کے عقائد کو خراب کرنے کیلئے عزاداری میں ملحدانہ و غلو آمیز نظریات کی آمیزش کی جارہی ہے ۔جس میں ایک طرف شیعہ عقائد کو مسخ کرکے پیش کیا جائے گا تو دوسری طرف فرقہ واریت کو ہوا دی جائے گی۔اب اس کے نئے مرحلے کی جانب دشمن کی سازشوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ کراچی کی عزاداری کو ایک خاص مقام و مرکزیت حاصل ہے ۔اب اس مرکزی عزاداری کے خلاف نیز اس مرکز کو توڑنے کے عمل کی گھناؤنی سازش کو علمائے کرام نے بے نقاب کر دیا ہے۔ علمائے کرام نو، دس محرم اور چہلم کے دن مرکزی مجلس و عزاداری کا انتظام و اہتمام کرنے والی پاک محرم ایسوسی ایشن کو ہی اس کام کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ادارے کے جنرل سیکریٹری اور روح رواں محترم سرور علی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ اور ناروا سلوک کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی ادارے اور انتظامیہ اپنے اپنے دائرہ کار اور حدود میں رہتے ہوئے عزاداری امام حسین ؑ کو منظم کرنے کا کام کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں کہ جس سے عزاداری میں خلل واقع ہو۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عزاداران امام حسین ؑ مرکزی مجلس عزا و جلوس میں بھر پور شرکت کریں۔ چہلم کا جلوس اپنی تمام تر روایات کے تحت نشتر پارک سے برآمد ہو گا اور نماز دوران مرکزی جلوس، سبیلیں، کیمپ اور میڈیکل کیمپ وغیرہ اسی انداز سے لگائے جائیں گے جس طرح ماضی میں لگائے جاتے رہے ہیں ۔ 20 صفر تک اگر انتظامیہ اورمتعلقہ اداروں کی جانب سے معاملات میں بہتری و سنجیدگی نظر نہیں آئی اور انتظامیہ کے خود ساختہ مسائل و بحران کو صحیح ، قانونی اور منطقی انداز سے بہتر طور پر ختم نہیں کیا جاتا تو علمائے کرام روز اربعین امام حسین ؑ کو جلوس عزا میں اپنے آئندہ لائحہ عمل کا قوم کے سامنے اعلان کریں گے۔ اجلاس میں علامہ شبیر میثمی، علامہ شیخ محمد سلیم، علامہ ناظر تقوی اور دیگر شریک ہوئے۔